eBooks

2,841 Results Found
اصلی اھلسنت ( عبد الغفور اثری)

Authors: عبد الغفور اثری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت ہے اس وقت سے یہ جماعت ہے، اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔ اصحاب اہل حدیث، اہل حدیث، اہل سنت یہ سب مترادف لفظ ہیں، اہل یا اصحاب کے معنی " والے" اب اس کے نسبت حدیث کی طرف کردیں تو معنی ہونگے، " حدیث والے" اور قرآن کو بھی اللہ نے حدیث کہا ہے جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے- اب یہ بات اچھی طرح واضح ہوگئی کہ اسلام سے مراد" قرآن و حدیث" ہے اور قرآن و حدیث سے مراد اسلام ہے- اور مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے ،بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔لیکن بعض متعصب دیو بندی اور بریلوی صاحبان بزعم خود اپنے آپ کو اہل سنت قرار دے کر اہل حدیثوں کو اہل سنت سے خارج کر دیتے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب " اصلی اھلسنت "جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین محترم مولانا عبد الغفور اثری صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے دلائل وشواہد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث ہی اصلی اہل سنت ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

رضا خانی اشتہار پر ایک نظر

Authors: عبد الغفور اثری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز تراویح کی رکعات کی تعداد کے بارے میں اہل علم کے ہاں اختلاف پایا جاتاہے،بعض آٹھ کے قائل ہیں تو بعض بیس کے قائل وفاعل ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم کی صحیح روایت کے مطابق نماز تراویح کی رکعات کی تعداد آٹھ ہے۔سیدناابوسلمہ نے سیدہ عائشہؓ سے پوچھا :حضورﷺ کا قیام رمضان کتنا تھا۔ سیدہ عائشہؓ نے فرمایا ‘ رمضان ہو یا غیر رمضان آپ گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔اس حدیث مبارکہ سے صراحت کے ساتھ ثابت ہوتا ہے کہ نماز تراویح کی رکعات کی مسنون تعداد آٹھ ہے۔لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس حوالے سے عامۃ الناس میں غلط فہمی پیدا کرتے رہتے ہیں،اور انہیں اپنے تقلیدی مذہب پر چلانے کے لئے کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ایسے لوگوں میں سے ایک مولوی ضیاء اللہ قادری مدیر اعلی ماہنامہ طیبہ ہیں جنہوں نے کچھ عرصہ قبل ایک اشتہار شائع کیا اور اس میں متعدد لغویات کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ نبی کریم اور صحابہ کرام بیس رکعات نماز تراویح پڑھا کرتے تھے ،اور اس کے ساتھ اہل حدیث علماء کو بڑے تکبر بھرے انداز سے چیلنج کیا کہ اس کا جواب دیا جائے۔چنانچہ علماء حق میں سے مولانا عبد الغفور اثری ﷫ نے اپنی یہ کتاب (رضا خانی اشتہار پر ایک نظر) لکھ کر اس کا جواب دینے کا بیڑہ اٹھایا اور ایسا مسکت ومدلل جواب دیا کہ مخالفین انگشت بدندان رہ گئے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول ومنظر فرمائے ۔ آمین ۔ (راسخ)

تحفہ رمضان

Authors: عبد الغفور اثری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

رمضان المبارک اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے ممتاز ہے ۔رمضان المبارک وہی وہ مہینہ ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں اللہ تعالی جنت کے دروازے کھول دیتا ہے او رجہنم کے دروازے بند کردیتا ہے اور شیطان کوجکڑ دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کے بندے کو اس طر ح گمراہ نہ کرسکے جس طرح عام دنوں میں کرتا ہے اور یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور سب سے زیاد ہ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی کا انعام عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی جانے والی عبادات ( روزہ ،قیام ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت لیلۃ القدر وغیرہ )کی بڑی فضیلت بیان کی ہے ۔ کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے کتاب الصیام کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے ۔ اور کئی علماء اور اہل علم نے رمضان المبارک کے احکام ومسائل وفضائل کے حوالے سے کتب تصنیف کی ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ رمضان ‘‘مولانا عبد الغفور اثری ﷫ کے سیالکوٹ کی ایک مسجد میں رمضان المبارک میں دیئے گئے دروس کا مجموعہ ہے جس میں انہو ں ماہ رمضان کے فضائل وبرکات ،صوم رمضان کی فرضیت، قیام رمضان ، شب قدرآخری عشرہ میں عبادت اور نفلی روزوں کی فضیلت کو بڑے احسن انداز میں دلائل کےساتھ بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی مساعی جمیلہ کوقبول فرمائےاور تمام اہل اسلام کو رمضان المبارک کی تعظیم اور قدر کی توفیق عطافرمائے (آمین)(م۔ا)

ندائے یا محمد ﷺ کی تحقیق

Authors: عبد الغفور اثری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

برصغیر پاک و ہندمیں اکثریہ رواج پایا جاتا ہے کہ کئی مسلمان اپنی مسجدوں ، عمارتوں ، دفتروں، بسوں ،ٹرکوں ، ویگنوں، اور رکشوں ،کلینڈروں، اشتہارات وغیرہ پر بڑی عقیدت سے ایک طرف یا اللہ جل جلالہ اور دوسری طرف یا محمد ﷺ لکھتے ہیں اور اسے شعائر اسلام اور محبت رسول ﷺ کا نام دیتے ہیں اور جو شخص یامحمد ﷺ کہنے اور لکھنے کا انکار کرے تو اسے بے ادب اور گستاخِ رسول بلکہ بے ایمان تک قرار دے دیا جاتاہے حالانکہ صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے کہ رسول ﷺ کو ان کا نام لےکر (یا محمد کہہ کر) آواز دینی ،بلانا ، اورپکارنا وغیرہ نہ آپ ﷺ کی حیات مبارکہ میں جائز تھا اور نہ آپ ﷺ کے وفات کے بعد جائز ہے ۔زیر نظر کتاب’’ندائے یا محمد ﷺ کی تحقیق‘‘ از مولانا عبد الغفور اثری میں قرآن مجید کتب احادیث و تفاسیر وغیرہ سے دلائل کی روشنی میں یہ مسئلہ واضح کیا گیا ہے کہ نبی آخر الزماں امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ کا نام لے کر آواز دینی بلانا اور پکارنا وغیرہ بالکل ممنوع وحرام ہے ۔ اللہ تعالی فاضل مؤلف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اس کتا ب کو عوام الناس کے عقید ہ کی اصلا ح کاذریعہ بنا ئے (آمین) ( م۔ا)

السلام علیکم

Authors: عبد الغفور اثری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دنیا کی ہر مہذب قوم میں یہ رسم پا ئی جاتی ہے کہ جب وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملتے ہیں، توچند مخصوص الفاظ کسی خاص انداز سے ادا کرتے ہیں۔ان کے یہ الفاظ و انداز ان کا ملی وقومی شعار بن جاتا ہے۔جیسے ہندو رام رام،سکھ جئے گرو، اور انگریز گڈ مورننگ،گڈ مون اور گڈ ایوننگ وغیرہ جیسے الفاظ ادا کرتے ہیں۔اسلام نے بھی طرز ملاقات کے آداب کو بیان کرتے ہو ئے باہمی ملاقات کرتے وقت(السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ) جیسے عظیم الشان الفاظ کہنے کاحکم دیا ہے۔ ان سے بہتر کوئی دعائیہ کلمات نہیں ہیں۔کیونکہ ان میں دنیا وآخرتدونوں جہانوں کی کامیابی کے راز مضمر ہیں،اور یہ محبت و دعا گوئی کا بہترین اظہار ہیں۔ چونکہ سلام کے احکام ومسائل سے آگاہ ہونا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے ،چنانچہ فاضل مؤلف مولانا عبد الغفور اثری نے خالصتا اصلاحی جذبہ سے سرشار ہو کر نہایت عرق ریزی،تحقیق اور مستند دلائل کے ساتھ نہایت سلجھے ہوئے اسلوب میں یہ کتابچہ مرتب فرمایا ہے ،جو اپنے موضوع ایک منفرد کاوش ہے،اور مطالعہ کے لائق ہے۔اللہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔(راسخ)

قرآنی آیات کا جواب

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قرأت قرآن کے وقت اور دوران نماز بعض جگہوں پہ مقتدی قرآن کی بعض آیات کا جواب دیتے ہیں ، اور بعض جگہ یہ عمل نہیں پایا جاتا ہے ۔ اس وجہ سے لوگوں میں یہ بات جاننے کی فکر رہتی ہے کہ صحیح کیا ہے ؟ قرآنی آیات کا جواب دیا جائے گا یا نہیں دیا جائے گا؟ اور احادیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب دوران نماز آیت رحمت پڑھتے تو اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتے اور جب آیت عذاب پڑھتے تو جہنم سے پناہ مانگتے ، کیا اس حدیث کے پیش نظر سامعین پر ضروری ہے کہ بعض قرآنی آیات کا جواب دیں جیسا کہ ہمارے ہاں نماز با جماعت میں امام جب سبح اسم ربک الاعلیٰ پڑھتا ہے تو مقتدی بآواز بلند سبحان ربی الاعلیٰ کہتے ہیں، اسی طرح کچھ دیگر آیات کا بھی مقتدی حضرات جواب دیتے ہیں۔ان تمام مسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات کے لئے مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ نے زیرنظر کتاب ’’قرآنی آیات کا جواب ، نماز اور غیر نماز میں‘‘ مرتب کی ہے۔اس میں انہوں نے قرآنی آیات کے جواب سے متعلق وارد تمام صحیح روایات یکجا کر کے انہیں دو اقسام میں تقسیم کیا ہے ، پہلی قسم ان روایات کی ہے جن میں عمومی طور پر جواب دینے کی بات ہے۔اور دوسری قسم ان روایات کی ہے جن میں خاص خاص آیات کے جواب میں مخصوص کلمات کہنے کی بات ہے نیز ہر روایت کے ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کس کا تعلق دوران نماز سے ہے اور کس کا تعلق غیر نماز کی حالت سے ہے۔ مقتدی کے لئے جواب دینے کے حکم پر الگ سے مفصل بحث موجود ہے (م۔ا)

صدقۃ الفطر میں نقد و رقم دینے کا حکم

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

فطرانہ ایک زکاۃ یا صدقہ ہے جو رمضان المبارک کے روزے ختم ہونے پر واجب ہوتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کے روزہ کو لغو اور بے ہودگی سے پاک صاف کرنے اور مساکین کی خوراک کے لیے فطرانہ فرض کیا ، لہذا جس نے بھی نماز عید سے قبل ادا کر دیا تو یہ فطرانہ قبول ہو گا ، اور اگر کوئی نماز عید کے بعد ادا کرتا ہے تو اس کے لیے یہ ایک عام صدقہ ہو گا۔ فطرانہ کا مقصد دوران روزہ ہونے والی کمی و کوتاہی کی معافی، بے فائدہ اور فحش کلامی کی تطہیر اور عید کے دن باوقار طریقے سے مساکین کو در بدر ٹھوکریں کھانے سے بچانا ہے۔ زیر نظر کتابچہ ’’صدقۃ الفطر میں نقد و رقم دینے کا حکم ‘‘مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کا ’’ اہل السنۃ‘‘ کے خصوصی شمارہ میں مطبوع مضمون کی کتابی صورت ہے۔ صاحب مضمون نے اس میں اس بات کو ثابت کیا کہ احادیث میں منصوص اشیاء کے لیے دیگر خوراک یا نقدی و رقم بھی فطرانہ میں دینا جائز ہے بلکہ فطرانہ میں نقد و رقم دینا ائمہ سلف سے بھی ثابت ہے۔ (م۔ا)

تفہیم الفرائض ( جدید ایڈیشن )

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Knowledge

By Al Noor Softs

میراث کا تعلق حقوق العباد سے ہے جو شخص کسی کی میراث ہڑپ کر ے گا، قیامت کے روز اسے ایک ایک پائی کا حساب دینا ہوگا۔ اور میراث واحد علم ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجیدمیں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے،اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں میراث کی تفصیلات بتلانے کے بعد اس پر عمل کرنے کی صورت میں جنت کی بشارت دی ہے اور ان سے روگردانی کی صورت میں جہنم کی وعید سنائی ہے۔اس لیے نبی اکرمﷺ نےبھی صحابہ کواس علم کےطرف خصوصاً توجہ دلائی اور اسے دین کا نہایت ضروری جزء قرار دیا ۔صحابہ کرام میں سیدنا علی ، سیدنا عبد اللہ بن عباس،سیدنا عبد اللہ بن مسعود،سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہم کا علم الفراض کے ماہرین میں شمار ہوتا ہے ۔صحابہ کےبعد زمانےکی ضروریات نےدیگر علوم شرعیہ کی طرح اس علم کی تدوین پر بھی فقہاء کومتوجہ کیا۔ انہوں نے اسے فن کی اہمیت کے پش نظراس کے لیے خاص زبان اور اصلاحات وضع کیں اور اس کے ایک ایک شعبہ پر قرآن وسنت کی روشنی میں غوروفکر کر کے تفصیلی وجزئی قواعد مستخرج کیے۔اہل علم نے اس علم کے متعلق مستقل کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’تفہیم الفرائض‘‘انڈیا کے معروف عالم دین ابو لفوزان کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کی کاو ش ہے انہوں نےاس کتاب کو ایک مقدمہ اور چھ حصوں( وارثین، وارثین کے حصے ،تاصیل وتصحیح، مسائل فرائض کی قسمیں،تقسیم ترکہ) میں تقسیم کر کے اس میں علم میراث کو آسان بناکر پیش کیا ہے اور مسائل میراث کو رٹانے کی بجائے سمجھانے کی کوشش کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تبلیغی وتدریسی، تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

چار دن قربانی کتاب وسنت کی روشنی میں

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بهيمةالانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہﷺاور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔قربانی کرنے کے دنوں کی تعداد کے حوالے سے فقہاءکے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کرنے کے کل ایّام چار ہیں۔ یوم النحر(دس ذو الحجہ) اور ایام تشریق (یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔اور یہی مسلک راحج ہے ۔ زیر نظر کتاب’’چار دن قربانی کتاب وسنت کی روشنی میں ‘‘ ہندوستان کے معروف محقق عالم دین مولانا کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ )کی تالیف ہے، فاضل مصنف نے اس کتاب میں چار دن قربانی کرنے کی مشروعیت کو قرآنی آیات،احادیث صحیحہ،آثارسلف، اور قیاس ولغت کے مستند دلائل سے ثابت کیا ہے۔نیز اس موقف پر پیش کیے جانے والے اعتراضات کا بھی تفصیلی جواب دیا ہے اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ تین دن قربانی کا موقف دلائل کے اعتبار سے نہایت کمزور ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فرمائے ۔آمین (م۔ا)