eBooks

2,841 Results Found
سرمایہ دارانہ نظام انشورنس اور اسلام کا نظام کفالت عامہ

Authors: ڈاکٹر نور محمد غفاری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

عہدجدید کو عہدِ معاشیات کے نام سے موسوم کرنا غلط نہ ہوگا۔ ان معنوں میں کہ عصرِ حاضر میں جتنے انقلابات ممالکِ عالم میں رونما ہوئے اکثر وبیشتر ان کی اساس معاشی تھی۔ فوڈلزم کا نظام شکست وریخت کا شکار ہوا۔ بادشاہتیں رخصت ہوئیں اور ذرائع معاش میں وسعت پیدا ہوئی۔ نئی ایجادات ہوئیں‘ سائنس نے ترقی کی‘ کارخانے قائم ہوئے‘ رسل ورسائل ابلاغ عامہ کے سلسلے وسعت پذیر ہوئے‘ برسوں کے سفر منٹوں میں طے ہونے لگے۔ لا سلکی ذرائع ظاہر ہوئے پھر الیکڑانک کا دور آ گیا اور آپ پوری دنیا ایک کنبہ کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان تمام ترقیات کو سرمایہ درانہ نظام نے جنم دیا اور بھر پور تحفظ فراہم کیا لیکن اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ سرمایہ درانہ نظام در اصل ظالم ترین استحصالی نظام ہے جس نے طبقات جنم دیے اور صرف افراد ہی کو نہیں بلکہ ملکوں کو جبر واستحصال کا شکار بنایا۔۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں سرمایہ درانہ نظام انشورنس اور اسلام کے نظام کفالت عامہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔یہ کتاب نہایت مفید اور جامع انداز میں لکھی گئی ہے۔اس میں آٹھ ابواب ہیں۔پہلے میں انشورنس کا مفہوم‘ اس کا طریقۂ کار‘ اس کی شرائط‘اس کی اہمیت‘ اس کی اقسام اور اس کی جائز صورتوں کی وضاحت کی گئی ہے۔دوسرے میں موجودہ نظام انشورنس کے مفاسد‘تیسرے میں اسلام کے نظام کفالت عامہ کو‘ چوتھے میں کفالت عامہ کے تنظیمی ڈھانچے کو‘پانچویں میں کفالت عامہ کے ذرائع آمدن کو‘ اور اس کے بعد والے تمام ابواب میں مختلف طرز سے کفالت عامہ کے طریق کار کو بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ سرمایہ درانہ نظام انشورنس اور اسلام کا نظام کفالت عامہ ‘‘ ڈاکٹر نور محمد غفاری کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )

اسلام کا قانون تجارت

Authors: ڈاکٹر نور محمد غفاری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام میں جس طرح عبادات وفرائض میں زور دیاگیا ہے ۔ اسی طرح اس دین نے کسبِ حلال اورطلب معاش کو بھی اہمیت دی ہے ۔ لہذاہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘۔کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے۔ ان میں معاشی زندگی کے مسائل او ران کے حل کو خصوصی اہمیت کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔نبی کریم ﷺ نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا او رآپ کے اکثر وبیشتر صحابہ کرام کا محبوب مشغلہ تجارت تھا۔ امت مسلمہ کے لیے حضو ر ﷺ کی حیات طیبہ میں اسوہ حسنہ موجود ہے اورآپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کی پاک زندگیاں ہمارے لیے معیار حق ہیں۔ اس یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ اکل حلال اور کسبِ معاش کاعمل آج کے دور میں بھی تجارت کےذریعے پوراکیا جاسکتاہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا قانونِ تجارت‘‘ ماہر معاشیات جناب ڈاکٹر نور محمد غفاری کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں تجارت کے تمام قدیم قوانین کا جائزہ لیا ہے او ردورِ جدید میں جو نئے مسائل پیدا ہوئے ہیں انہیں قدیم فقہی جزئیات کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اردو زبان میں قانون تجارت کے موضوع پر مفید ترین کوشش ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےلیےنفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

اسلام کا قانون محاصل

Authors: ڈاکٹر نور محمد غفاری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اسلام نے ریاست کا جو تصور پیش کیا ہے وہ نہ تو آمرانہ ہے اور نہ ہی موجودہ زمانے کی مغربی جمہوریت کی مطابق جمہوری۔اسلام کے عطا کردہ تصور ریاست کے بارے میں زیادہ سے زیادہ اگر ہم کچھ کہہ سکتے ہیں تو وہ یہ کہ اسلام ایک فلاحی ، شورائی، اور عادلانہ نظام حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔اسلام کے نزدیک امام رعایا کی دنیوی اور مادی فلاح کا نگران اور اخلاقی و دینی اقدار کا محافظ ہوتا ہے اور وہ ہر وقت خلق خدا کی بہبود کی فکر میں لگا رہتا ہے۔اس وقت دنیا میں دو معاشی نظام اپنی مصنوعی اور غیر فطری بیساکھیوں کے سہارے چل رہے ہیں۔ایک مغرب کا سرمایہ داری نظام ہے ،جس پر آج کل انحطاط واضطراب کا رعشہ طاری ہے۔دوسرا مشرق کا اشتراکی نظام ہے، جو تمام کی مشترکہ ملکیت کا علمبردار ہے۔ایک مادہ پرستی میں جنون کی حد تک تمام انسانی اور اخلاقی قدروں کو پھلانگ چکا ہے تو دوسرا معاشرہ پرستی اور اجتماعی ملکیت کا دلدادہ ہے۔لیکن رحم دلی،انسان دوستی اور انسانی ہمدردی کی روح ان دونوں میں ہی مفقود ہے۔دونوں کا ہدف دنیوی مفاد اور مادی ترقی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔اس کے برعکس اسلام ایک متوسط اور منصفانہ معاشی نظریہ پیش کرتا ہے،وہ سب سے پہلے دلوں میں خدا پرستی،انسان دوستی اور رحم دلی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " اسلام کا قانون محاصل "محترم مولانا ڈاکٹر نور محمد غفاری صاحب کی تصنیف ہے،جس میں انہوں نے اسلام کے اسی عظیم الشان معاشی نظام کی خوبیوں کو بیان کیا ہے اور اسلامی حکومت کے عادلانہ نظام مثلا زکوۃ، عشر، غنیمت اور مال فے جیسے محاصل پر روشنی ڈالی ہے۔یہ اپنے موضوع ایک انتہائی مفید اور شاندار کتاب ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین(راسخ)

تقدیر کا عقیدہ

Authors: محمد ابو الخیر اسدی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

’’تقدیر‘‘ کائنات میں ہونے والے تغیرات کے متعلق اللہ کی طرف سے لگائے گئے اندزاے کا نام ہے، یہ تغیرات پہلے سے اللہ تعالی کے علم میں ہوتے ہیں، اور حکمتِ الہی کے عین مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ یعنی اس بات کی تصدیق کرنا کہ خیر وشر اللہ کی قضاء وقدر سے ہے اور یہ کہ اللہ سبحانہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، کوئی چیز اس کے ارادے کے بغیر نہیں ہوتی اور کوئی چیز اس کی مشیئت سے خارج نہیں ہے،اللہ تعالیٰ نے ’’نوشتہ تقدیر‘‘ کو انتہائی پوشیدہ اور صیغہ راز میں رکھا ہے،چنانچہ جس چیز کا پہلے سےاندازہ ٹھہرایا جا چکا ہے،اس کے رونما ہونے کے بعد ہی اس کا علم ہوتا ہے۔ نبی ﷺ نے عمل کرنے کا حکم دیا ہے اور عمل کو چھوڑ کر صرف تقدیر ہی پر بھروسا کرنے سے منع فرمایا ہے۔ تقدیر پر ایمان چار امور پر مشتمل ہے جس کی تفصیلات کتب حدیث وعقیدہ میں موجود ہیں ۔علامہ ابو الخیر اسدی رحمہ اللہ نےزیر نظر مختصر رسالہ’’ تقدیر کا عقیدہ ‘‘ میں تقدیر کا مفہوم ،تقدیر پر کفار اور مشرکین کا اعتراض،افعال پر استطاعت کی بحث،انسان کا فعل اور علم الٰہی،علم الٰہی کےساتھ بندوں کے افعال کی تطبیق اورتقدیر کی غلط تعبیر کےضرر کو بیان کیا ہے۔(م۔ا)

تعلیم امام اعظم

Authors: محمد ابو الخیر اسدی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

امام ابو حنیفہ﷫ بغیر کسی اختلاف کے معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ ہے۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں امام ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے ۔آپ نسلاً عجمی تھے آپ کی پیدائش کوفہ میں 80ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ اما م موصوف کو صحابہ کرام سے شرف ملاقات اور کبار تابعین سے استفادہ کا اعزار حاصل ہے آپ اپنے دور میں تقویٰ وپرہیزگاری اور دیانتداری میں بہت معروف تھے اور خلافت عباسیہ میں متعدد عہدوں پر فائز رہے ۔ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا لہٰذاتجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلیٰ علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔ زیر نظرکتابچہ ’’ تعلیم امام اعظم‘‘علامہ محمد ابو الخیر اسدی رحمہ اللہ کی تحریر ہے ۔انہوں نے اس رسالے میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا عقیدہ انکی اپنی روایت کردہ حدیثوں او راقوال کی روشنی میں لکھاہے تاکہ قارئین کو معلوم ہوسکے کہ اس دور میں خالص حنفی کون ہیں اور جعلی کون ہیں ۔(م۔ا)

ام الکتاب میں اللہ کا تعارف

Authors: محمد ابو الخیر اسدی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

ہم مختلف لوگوں سے سنتے ہيں جو اللہ تعالیٰ کا تعارف ان کی اپنی عقل وسمجھ کے مطابق کرتے ہيں، اور بعض مسلمان انہی نظريات اور افکار سے متاثر ہو جاتے ہيں۔ اللہ تعالی کے تعارف کو سمجھنے اور اس کے متعلق علم حاصل کرنے کا سب سے بہترين ذريعہ خود اللہ رب العالمين، قران مجيد اور رسول اللہﷺ کا اللہ تعالیٰ کے متعلق تعارف کروانا ہے، جسے صحابہ ؓ کے فہم کے مطابق سمجھنا چاہيے۔ اللہ تعالیٰ جو اس کائنات کا خالق، مالک اور مدبر ہے قرآن کو نازل فرمايا تاکہ ہم اپنی زندگی کو بامعنیٰ بنائيں اور آخرت ميں کامياب ہوں، اگر ہم قران مجيد پر کھلے دل اور دماغ سے غور کريں گے تو ہميں اللہ تعالیٰ کا حقيقی تعارف حاصل ہو سکے گا جس کے ذريعہ ہم اللہ تعالیٰ کے حقوق کو سمجھ سکیں گے اور اس کی خالص بندگی کرنے ميں ہميں مدد ملےگی جيسے کے اس کی عبادت کرنے کا حق ہے۔ لفظ ’’ اللہ ‘‘يہ اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، جو صرف اللہ ہی کے ليے خاص ہے کوئی اور ذات اللہ تعالیٰ کے علاوہ اس نام سے موسوم نہیں ہو سکتی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس فرماتے ہیں کہ لفظ "اللہ" کا معنی يہ ہے کہ "وہ اوصاف کاملہ اور صفات جامعہ کى مالک ذات جو ساری مخلوق کی عبادت کى اکىلى حقدار اور مستحق ہے"۔ اللہ تعالی کا يہ نام قرآن کريم میں سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے تمام افعال میں یکتا اور اکیلا ہے اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق، مالک اور مدبر ہےاور ساری کائنات کا نظام وہی چلا رہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے: سب تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب(پالنے والا) ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے ناموں اور صفات میں اکیلا ،منفرد اور جداہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’’اور اچھے اچھے نام اللہ ہی کے لیے ہیں سو ان ناموں سے اللہ ہی کو موسوم کیا کرو اور ایسے لوگوں سے تعلق بھی نہ رکھو جو اس کے ناموں میں کج روی کرتے ہیں، ان لوگوں کو ان کے کئے کی ضرور سزا ملے گی۔ (الأعراف: 180) اللہ تعالیٰ کاصحیح تعارف حاصل کرنے کابہترین ذریعہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن مجید، احادیث صحیحہ اور آسمان وزمین موجود اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ ام الکتاب میں اللہ کا تعارف‘‘علامہ ابو الخیر اسدی﷫ کی تصنیف ہےجس میں انہوں نے سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کاتعارف پیش کیا ہے۔ کیونکہ اس سورت میں معرفت الٰہیہ، رسالت، آخرت کواجمال کے طورپر بیان کیاگیا ہے۔ باقی سارے قرآن میں ان تینوں اصولوں کی تفصیل کے ساتھ تشریح کی گئی ہے۔ (م۔ا)

شادی کی جاہلانہ رسمیں

Authors: محمد ابو الخیر اسدی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ہمارا معاشرہ اسلامی ہونے کے باوجود غیر اسلامی رسوم ورواج میں بری طرح جکڑچکا ہے،اور ہندو تہذیب کے ساتھ ایک طویل عرصہ تک رہنے کے سبب متعدد ہندوانہ رسوم ورواجات کو اپنا چکا ہے۔کہیں شادی بیاہ پر رسمیں تو کہیں بچے کی ولادت پر رسمیں،کہیں موسمیاتی رسمیں تو کہیں کفن ودفن کی رسمیں۔الغرض ہر طرف رسمیں ہی رسمیں نظر آتی ہیں۔اسلامی تہذیب وثقافت کا کہیں نام ونشان نہیں ملتا ہے۔ الا ما شاء اللہ۔انہیں رسوم ورواج میں سے شادی کے موقعوں پر ادا کی جانے والی رسوم ہیں،جس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ کوئی دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ان رسوم ورواج میں اسلامی تعلیمات کا خوب دل کھول استخفاف کیا جاتا اور غیر شرعی افعال سر انجام دیئے جاتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی کی جاہلانہ رسمیں"مولانا علامہ ابو الخیر اسدی صاحب کی تصنیف ہے۔ جس میں انہوں نے شادی بیاہ کے مواقع پر کی جانے والی رسوم ورواجات پر روشنی ڈ الی ہے کہ یہ کیسے اسلامی معاشرے کا حصہ بنیں اور مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

تاریخ حدیث ایم اے علوم اسلامیہ ( کوڈ 4556 یونٹ 1 تا 18)

Authors: پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

In History

By Al Noor Softs

نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حدیث کو محفوظ کرنے کے لیے احادیث نبویہ کو زبانی یاد کرنے اوراسے لکھنے کی ہدایات فرمائیں ۔ اسی لیے مسلمانوں نے نہ صرف قرآن کی حفاظت کا اہتمام کیا بلکہ حدیث کی حفاظت کے لئے بھی ناقابل فراموش خدمات انجام دیں، ائمہ محدثین نے بھی حفظِ احادیث اور کتابتِ حدیث کےذریعے حفاظت ِحدیث کا عظیم کارنامہ انجام دیا۔امام بخاری رحمہ اللہ نے جس طرح اپنی صحیح کی ترتیب وتبویب میں انتہائی محنت اور عرق ریزی سے کام لیا اسی طرح’’تاریخ ‘‘ کو بھی انہماک اور اہتمام کے ساتھ مرتب کیا۔ زیر نظرکتاب ’’ تاریخ حدیث یونٹ اتا18(کوڈ4556) ‘‘ڈاکٹر علی اصغر چشتی کی تصنیف ہے۔یہ کتا ب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے ایم اے علوم اسلامیہ کے طلبہ وطالبات کے ’’ تخصص فی الحدیث ‘‘ کورس کے لیے مرتب کی گئی ہے اس کورس کے ابتدائی نویونٹ تاریخ حدیث،طبقاتِ رواۃِ حدیث، تاریخ حدیث کی اہمیت اور علماء رجال پرمشتمل ہیں۔ جبکہ دوسرے حصہ میں برصغیر میں علم حدیث ،تحریک استشراق ومستشرقین، فتنہ انکار حدیث اور پاکستان میں علم حدیث کے موضوعات پر بحث کی گئی ہے ۔ (م۔ا)

قواعد و مصطلحات حدیث برائے ایم اے علوم اسلامیہ ( یونٹ 1 تا 18) کوڈ 4555

Authors: پروفیسر ڈاکٹر علی اصغر چشتی

In Knowledge

By Al Noor Softs

علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف کیں ہیں۔ زیر نظرکتاب ’’ قوعد ومصطلحات حدیث یونٹ اتا18(کوڈ4555) ‘‘ڈاکٹر علی اصغر چشتی، ڈاکٹر سہیل حسن، محمد شریف شاکر، معین ہاشمی ،ڈاکٹر تاج الدین الازہری کی مشترکہ تصنیف ہے۔یہ کتا ب علامہ اقبال اوپنی یونیورسٹی کے ایم اے علوم اسلامیہ کے طلبہ وطالبات کے ’’ تخصص فی الحدیث ‘‘ کورس کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ مرتبین نے قواعد ومصطلحات حدیث کورس کی ترتیب وتدوین میں اہم بنیادی موضوعات کو شامل کر نے کی بھر پور کوشش کی ہے۔(م۔ا)