eBooks
2,841 Results Found
کلمہ توحید کا فکری پہلو
Authors: محمد بن عبد الوہاب
ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم ﷺنے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ حق باری تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور جُملہ اوصاف و کمال میں یکتا و بے مثال ہے۔ اس کا کوئی ساتھی یا شریک نہیں۔ کوئی اس کا ہم پلہ یا ہم مرتبہ نہیں۔ صرف وہی با اختیار ہے۔ اس کے کاموں میں نہ کوئی دخل دے سکتا ہے، نہ اسے کسی قسم کی امداد کی ضرورت ہے۔ حتیٰ کہ اس کی نہ اولاد ہے اور نہ ہی وہ کسی سے پیدا ہواہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ اَللّٰہُ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ ڏ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ کہو کہ وہ (ذات پاک ہے جس کا نام) اللہ (ہے) ایک ہے۔معبود برحق جو بےنیاز ہے۔نہ کسی کا باپ ہے۔ اور نہ کسی کا بیٹا۔ اور کوئی اس کا ہمسر نہیں۔(سورۃالاخلاص)علامہ جرجانی توحید کی تعریف اس طرح بیان کرتے ہیں :توحید تین چیزوں کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی پہچان اس کی وحدانیت کا اقرار اور اس سے تمام شریکوں کی نفی کرنا۔ (التعریفات73) توحید کا تقاضا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق صرف اللہ تعالیٰ ہی کیلئے خاص رکھے جائیں۔ زیر تبصرہ کتاب" کلمہ توحید کا فکری پہلو" امام التوحید شیخ محمد بن عبد الوھاب کی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم عبد الجبار سلفی صاحب نے حاصل کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مترجم دونوں کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
مختصر سیرت الرسول
Authors: محمد بن عبد الوہاب
سیرت النبی ﷺ بنی نوعِ انسان کےلیے ہدایت اور روشنی کا وہ مینار ہے ، جس سے گم گشتہ راہ انسانوں کو ہدایت ملتی ہے خاتم الانبیاء کی سیرت پاک ہمارے لیے اسوۂ حسنہ قرار دی گئی ہے ۔حضور پاک ﷺ کی پاکیزہ اور مقدس سیرت اس وقت بھی ان انسانوں کے لیے ہدایت کاباعث بنی جو انسانیت سے دور زندگی اور حیوانیت کے دلدادہ ہو چکے تھے۔ آج بھی اس پڑھے لکھے،علم وآگہی اور سائنس کے زمانے میں رشد وہدایت کے متلاشیوں کے لیے تسکین وطمانیت ِ قلب کا سامان مہیا کرتی اور ان کی علمی تشنگیوں کو بھجاتی ہے ۔حضور اکرمﷺ کی سیرت ِ پاک کی جامعیت کایہ پہلو کس قدر تابناک ہے کہ آنحضرتﷺ کی سیرت پاک نے5 لاکھ انسانوں کی سیرتوں کو ہمیشہ کےلیے محفوظ کردیا ۔اسماء الرجال کا فن اس کے ثبوت کےلیے کافی ہے۔اس عظیم ترقی کے دور میں کسی نبی کی ولادت اور وفات کی تاریخ وثوق اور قطعیت سےنہیں بتائی جاسکتی لیکن نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی کے ایک ایک لمحہ کو نہ صرف بیان کیا جاسکتا ہے بلکہ آپﷺ کی ہر بات کےلیے سلسلۂ اسناد بھی پیش کیا جا سکتاہے ۔امام الانبیاء ﷺ کی سیرت پاک کے موضوع پر دنیا بھر کی زبانوں میں بے شمار کتابیں لکھیں گئیں ہیں اور لکھی جارہی ہیں اور لکھی جائیں گی۔یہ بھی حضور ِاکرمﷺ کی سیرت کااعجاز ہے کہ اگر دنیابھر کےجمیع قسم کے انسانوں کی سوانح عمریاں اکٹھی کی جائیں توبھی حضورِ اکرمﷺ کی سوانح حیات ان سب پر بھاری ہوگی۔حضور پاکﷺ کی سیرت کا یہ وہ کمال ہے جواس آسمان کےنیچے کسی بھی انسان کو حاصل نہیں۔اسی کمال کی طرف’’ورفعنا لک ذکر‘‘ کہہ کر اللہ تعالیٰ نےاشارہ فرمایا! زیرتبصرہ کتاب ’’مختصر سیرۃ الرسولﷺ‘‘ اسی مذکو رہ سلسلہ کی ایک کڑی ہے جو کہ شیخ الاسلام امام محمدبن عبد الوہاب کے صاحبزادے شیخ عبد اللہ کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب نبی کریم ﷺ کی سیرت پاک پر ایجاز واختصار کےساتھ نہایت جامع اورمدلل کتاب ہے ۔1979ء میں شیخ ابراہیم بن علی الناصر کےتعاون سے پاکستان میں پہلی بار جامعہ علوم اثریہ، جہلم نے اس کتاب کو عربی میں شائع کیا اور پاکستان بھر کےعلماء اور طلباء میں مفت تقسیم کیا گیا ۔اس کی جامعیت وافادیت کا تقاضہ تھا کہ اردو دان حضرات کوبھی اس سےروشناش کرایا جائے ۔چنانچہ افادۂ عام اور اردودان حضرات کے علم ومطالعہ کےپیش نظر استاذ الاستاتذہ شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد اسحاقنےاس کا سلیس اردو ترجمہ کیا اور اس کی تسوید وتصحیح کا فریضہ مولانا اکرام اللہ ساجد کیلانی (سابق مدیر معاون ماہنامہ محدث،لاہور ) نےانجام دیا ہے ۔25 سال قبل اس اردو ایڈیشن کو بھی شیخ ابراہیم بن علی الناصر کے خرچ پر جامعہ علوم اثریہ ،جہلم نے شائع کرکے مفت تقسیم کیا ۔اللہ تعالیٰ اس کو قارئین کےلیے رشد وہدایت اور مصنف ،مترجم،ناشر اور انتظام کنندگان کے لیے اس کوآخرت میں ذریعۂ نجات بنائے (آمین)م۔ا
شرک کا مرتکب کافر ہے
Authors: محمد بن عبد الوہاب
In Arguments
شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔ آپ نے متعدد کتب تصنیف فرمائیں اور شرک وبدعات کے خلاف میدان کارزار میں کارہائے نمایاں سر انجام دئیے۔آپ نے خالصتا کتاب وسنت کی دعوت کو عام کیا اور لوگوں کو شرک وبدعات سے دور کرنے کے لئے کتب لکھیں۔آپ کی من جملہ کتب میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (شرک کا مرتکب کافر ہے) ہے۔جو آپ کی عربی کتاب (کشف الشبہات فی التوحید) کا اردو ترجمہ ہے۔ترجمہ کرنے کی سعادت محترم ابو بکر صدیق سلفی نے حاصل کی ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی یہ ایک بہترین کتاب ہے۔ان کتابوں کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اپنی کتب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،ان کتب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
کتاب التوحید
Authors: محمد بن عبد الوہاب
In Arguments
شیخ الاسلام ،مجدد العصر محمد بن عبد الوہاب کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔آپ ایک متبحر عالم دین،قرآن وحدیث اور متعدد علوم وفنون میں یگانہ روز گار تھے۔آپ نے اپنی ذہانت وفطانت اور دینی علوم پر استدراک کے باعث اپنے زمانے کے بڑے بڑے علماء دین کو متاثر کیا اور انہیں اپنا ہم خیال بنایا۔آپ نے قرآن وسنت کی توضیحات کے ساتھ ساتھ شرک وبدعات کے خلاف علمی وعملی دونوں میدانوں میں زبر دست جہاد کیا۔آپ متعدد کتب کے مصنف ہیں۔جن میں سے ایک زیر تبصرہ یہ کتاب (کتاب التوحید) ہے۔مسائل توحید پر یہ آپ کی بہترین کتابوں میں سے ایک ہے،اور سند وقبولیت کے اعتبار سے اس کا درجہ بہت بلند ہے۔ایک طویل مدت سے دنیائے علم میں اس کی اشاعت جاری ہے اور اب تک عرب وعجم میں کروڑوں بے راہروں کو ہدایت کا راستہ دکھانے اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر توحید کی روشنی میں لانے کا فریضہ ادا کر چکی ہے۔اس کتاب کی تدوین وتالیف کا عظیم مقصد شیخ الاسلام محمد بن عبد الوہاب کے پیش نظر یہ تھا کہ دنیائے اسلام کو اسلام کی اصل تعلیمات سے روشناس کروایا جائے ،اور وہ عقائد ورسم ورواج،جن کی تنسیخ کے متعلق قرآن وسنت اور آثار صحابہ سے ثبوت فراہم ہوتا ہے ،دلائل وبراہین سے قطعیت کے ساتھ ان کو رد کر دیا جائے۔اور صرف ان واضح احکامات پر ایمان وعمل کی اساس قائم کی جائے جو مسلمانوں کے لئے فلاح و خیر اور نجات اخروی کا باعث ہوں۔چنانچہ انہوں نے اس کتاب میں ان تمام مسائل پر مدلل گفتگو کی ہے اور کسی قسم کے تعصب وعناد کے بغیر بہت ہی سادہ ودلنشیں پیرائے میں قرآن وحدیث کا نچوڑ نکال دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اہل حق ،جو گروہی مفاد اور مذہبی تعصب نہیں رکھتے ہیں ،اس کتاب کے پیش کردہ حقائق سے استفادہ کر کے اصل اسلامی تعلیمات یعنی کتاب وسنت کا راستہ اختیار کرتے رہے ہیں ،اور ان شاء اللہ آئندہ بھی یہ افادی حیثیت مسلم رہے گی۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان تمام خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
الجامع الفرید ، مسائل الجاہلیہ
Authors: محمد بن عبد الوہاب
In Arguments
ہر مسلمان کو اس بات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کہ مومن اور مشرک کے درمیان حد فاصل کلمہ توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے۔شریعت اسلامیہ اسی کلمہ توحید کی تشریح اور تفسیر ہے۔اللہ تعالی نے جہاں کچھ اعمال کو بجا لانے کا حکم دیا ہے ،وہاں کچھ ایسے افعال اور عقائد کا بھی تذکرہ فرمایا ہے کہ ان کے ہوتے ہوئے کوئی بھی عمل بارگاہ الہی میں قبول نہیں ہوتا ہے۔اللہ تعالی نے جن امور سے منع فرمایا ہے ،ان کی تفصیلات قرآن مجید میں ،اور نبی کریم نے جن امور سے منع فرمایا ہے ان کی تفصیلات احادیث نبویہ میں موجود ہیں۔124 مسائل ایسے تھے جو نبی کریم اور مشرکین مکہ کے درمیان متنازعہ فیہ تھے۔اور یہ ایسے اصولی مسائل ہیں جن کا ہر مسلمان کے علم میں آنا انتہائی ضروری ہے ،کیونکہ ان میں اور اسلامی تعلیمات میں مشرق ومغرب کی دوری ہے۔ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔مجدد الدعوہ شیخ الاسلام امام محمد بن عبد الوھاب نے ان تمام مسائل کو اس کتابچے میں جمع فرما دیا ہے،تاکہ ہر مسلمان ان سے آگاہ ہوجائے اور اپنے ایمان کو محفوظ رکھ سکے۔موضوع کی افادیت کو سامنے رکھتے معروف عالم دین مولانا عطاء الرحمن ثاقب نے اس کا اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کے آسانی پیدا کردی ہے۔اللہ تعالی ان تمام حضرات کی محنتوں کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
مختصر زادالمعاد
Authors: محمد بن عبد الوہاب
In Arguments
سيرت دينی موضوعات ميں سے ايک اہم تر موضوع ہے جس ميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذاتی اور شرعی زندگی کامطالعہ کيا جاتا ہے۔ايک مسلمان ہونے کے ناطے ہماری يہ بنيادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہميں اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي ذات، حالات، شمائل اور سيرت سے واقفيت ہونی چاہيے۔ ہر دور ميں اہل علم نے سيرت پر کتابيں لکھی ہيں۔امام محمد بن اسحاق (متوفی152ھ) کی کتاب سيرت ابن اسحاق اس موضوع پر پہلی جامع ترين کتاب شمار ہوتی ہے اگرچہ امام محمد بن اسحاق سے پہلے صحابہ وتابعين ميں سے 40 افراد کے نام ملتے ہيں جنہوں نے سيرت کے متفرق ومتنوع پہلوؤں پر جزوی بحثيں کي ہيں۔اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کي سيرت پر مختلف اعتبارات سے کام ہوا ہے جن ميں ايک اہم پہلو سيرت کا فقہی اور حکيمانہ پہلو بھی ہے يعنی فقہی اعتبار سے سيرت کو مرتب کرنا اور اللہ کے رسول صلی اللہ عليہ وسلم کے اعمال و افعال کی حکمتيں بيان کرنا۔ امام ابن القيم (متوفی 751ھ)کی کتاب ’زاد المعاد‘ سيرت کے انہی دو پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے مرتب کي گئی ہے۔بعض اہل علم نے ’زاد المعاد‘ کو فلسفہ سيرت کی کتاب بھی کہا ہے جبکہ بعض اہل علم کا کہنا يہ ہے کہ امام صاحب کي يہ کتاب ’عملی سيرت‘ کی ايک کتاب ہے۔ امام ابن القيم کی اس کتاب کا ايک خوبصورت اختصار شيخ محمد بن عبدا لوہاب ؒ نے ’مختصر زاد المعاد‘ کے نام سے کيا ہے جسے سعيد احمد قمر الزمان ندوی نے اردو ترجمہ کی صورت دی ہے۔ امام ابن القيم ؒ کی اس کتاب ميں بعض بہت ہی نادر اور قيمتی و علمی نکات بھی منقول ہو ئے ہيں جو ان کے روحانی مقام ومرتبہ پر شاہد ہيں خاص طور پر ص 350 پر نظر بد کے علاج کي بحث ارواح کی خصوصيات کے بارے عمدہ بحث کی گئی ہے۔ بلاشبہ امام صاحب کی يہ کتاب سيرت کے فقہی،علمی، حکيمانہ اور فلسفيانہ پہلوؤں کو محيط ہونے کے ساتھ ساتھ سيرت کا ايک مستند مصدر وماخذ بھی ہے جس کا اختصار افادہ عام کے ليے شيخ محمد بن عبد الوہاب ؒ نے کياہے۔
عفیفہ کائنات سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ
Authors: محمد ادریس فاروقی
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ ، حضرت ابوبکر صدیق کی صاحبزادی تھیں۔ والدہ کا نام زینب تھا۔ ان کا نام عائشہ لقب صدیقہ اور کنیت ام عبد اللہ تھی۔ حضور ﷺ نے سن 11 نبوی میں سیدہ عائشہ ؓ سے نکاح کیا اور 1 ہجری میں ان کی رخصتی ہوئی۔ آپ حضور ﷺ کی سب سے کم عمر زوجہ مطہرہ تھیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے ساتھ نو برس گذارے۔ام الموٴمنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاوہ خوش قسمت ترین عورت ہیں کہ جن کو حضور کی زوجہ محترمہ اور ”ام الموٴمنین“ ہونے کا شرف اور ازواج مطہرات میں ممتاز حیثیت حاصل ہے۔قرآن و حدیث اور تاریخ کے اوراق آپ کے فضائل و مناقب سے بھرے پڑے ہیں۔ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہاسے شادی سے قبل حضور نے خواب میں دیکھا کہ ایک فرشتہ ریشم کے کپڑے میں کوئی چیز لپیٹ کر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے… پوچھا کیا ہے؟ جواب دیا کہ آپ کی بیوی ہے، آپ نے کھول کہ دیکھا تو حضرت عائشہ ہیں۔صحیح بخاری میں حضرت ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا " مردوں میں سے تو بہت تکمیل کے درجے کو پہنچے مگر عورتوں میں صرف مریم دختر عمران، آسیہ زوجہ فرعون ہی تکمیل پر پہنچی اور عائشہ کو تمام عورتوں پر ایسی فضیلت ہے جیسے ثرید کو تمام کھانوں پر ۔آپ ﷺکو حضرت عائشہ صدیقہ ؓ عنہا سے بہت محبت تھی، ایک مرتبہ حضرت عمرو ابن عاص نے حضور سے دریافت کیا کہ… آپ دنیا میں سب سے زیادہ کس کو محبوب رکھتے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ عائشہ ؓ عنہا کو، عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! مردوں کی نسبت سوال ہے! فرمایا کہ عائشہ کے والدابوبکر صدیق کو۔ام الموٴمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہا کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے کہ ان کے مبارک واسطہ سے امت کو دین کا بڑا حصہ نصیب ہوا۔حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو کبھی ایسی مشکل پیش نہ آئی جس کے بارے میں ہم نے حضرت عائشہ ؓ عنہا سے پوچھا اور ان سے اس کے بارے میں کوئی معلومات ہم کو نہ ملی ہوں۔ سیدہ عائشہ صدیقہ نے حضور ﷺ کے وصال 48 سال بعد 66 برس کی عمر میں 17 رمضان المبارک 58 ہجری میں وصال فرمایا۔سید عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زندگی خواتین اسلام کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ عفیفۂ کائنات سید عائشہ صدیقہ ؓ عنہا ‘‘ مولاناحکیم محمد ادریس فاروقی کی تصنیف ہے ۔انہوں نے اپنی ا س کتاب میں ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ عنہا کی تابناک سیرت کے درخشاں پہلو ، اخلاق وعادات اور ان کی دینی وعلمی خدمات کا شاندار تذکرہ کیا ہے ۔یہ کتاب معلومات افراء ہونے کے ساتھ ساتھ دلچسپ اور سبق آموزبھی ہے ۔کتاب ایک دفعہ پڑھنا شروع کردیں تو ختم کیے بغیر چھوڑنے کو جی نہیں چاہتا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو خواتین اسلام کےلیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)
ادب کس کا، کیوں اور کیسے
Authors: محمد ادریس فاروقی
ادب و آداب اور اخلاق کسی بھی قوم کا طرہ امتیاز ہے گو کہ دیگر اقوام یا مذاہب نے اخلاق و کردار اور ادب و آداب کو فروغ دینے میں ہی اپنی عافیت جانی مگر اس کا تمام تر سہرا اسلام ہی کے سر جاتا ہے جس نے ادب و آداب اور حسن اخلاق کو باقاعدہ رائج کیا اور اسے انسانیت کا اولین درجہ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات کی جاتی ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں زبان (یعنی اخلاق) سے پھیلا۔ حسنِ اخلاق اور ادب پر لاتعداد احادیث مبارکہ ہیں کہ چھوٹے ہوں یا بڑے‘ سب کے ساتھ کس طرح ادب سے پیش آنے کی تلقین اور ہدایت فرمائی گئی ادب اور اخلاق کسی معاشرے کی بنیادی حیثیت کا درجہ رکھتا ہے جو معاشرے کو بلند تر کر دینے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ادب سے عاری انسان اپنا مقام نہیں بنا سکتا۔ باادب بامراد اور بے ادب بے مراد ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ادب کس کاکیوں اور کیسے ‘‘ماہنامہ ضیا حدیث کے ایڈیٹر جنا ب نعمان فاروقی ﷾ کے والد گرامی محترم مولانا حکیم محمد ادریس فاروقی کے ماہنامہ ضیائے حدیث میں لکھے گئے قسط وار کالم ’’ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں‘‘ کی کتابی صورت ہے۔ اس کالم میں موصوف نے ادب الٰہی اور رسول اللہ ﷺ کے ادب پر لکھا یہی مضمون مولانا ادریس فاروقی کی زندگی کا آخری مضمون بن گیا۔ بعد ازاں موصوف کے صاحبزادے مولانا محترم نعمان فاروقی نے ان مضامین کوجمع کرکے انہیں مرتب کیا اوران پر مزید کام کیا، بہت سے مقامات پر اضافے کیے اور اسے ایک خوبصورت کتاب کی صورت میں عوام الناس کے استفادے کے لیے شائع کیا ہے۔ (م۔ا)
سیرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ ( جدید ایڈیشن )
Authors: محمد ادریس فاروقی
سیدہ خدیجہ مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے حضرت محمد ﷺ کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ ﷺکی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ ﷺکو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو نبی ﷺ نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ نبی ﷺ صرف پچیس سال کے تھے۔ سیدہ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی ﷺ کی ساری کی ساری اولاد سیدہ خدیجہ سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جوکہ ماریہ قبطیہ سے تھے جوکہ اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کےبڑے کی طرف سے نبیﷺکوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں۔سید ہ خدیجہ کی وفات کے بعد نبی ﷺ ان کو بہت یاد کرتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک دن حضور ﷺنے ان کے سامنے حضرت خدیجہ ؓکو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو حضرت عائشہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر حضرت عائشہ نے نبی ﷺ کو کہا کہ یا رسول اللہ ﷺآپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺنے فرمایا :’’ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ حضرت خدیجہ کی وفات ہجرت سے قبل عام الحزن کے سال ہوئی۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ سیرت خدیجہ الکبریٰ ‘ مسلم پبلی کیشنز کے مدیر مولانا حافظ نعمان فاروقی﷾ کے والد گرامی جناب حکیم محمدادریس فاروقی کی کاوش ہے انھوں نے اس کتاب میں سیدہ خدیجۃ الکبریٰ کی ولادت ،حسب ونسب،گھرانہ تربیت، جوانی ،شادی ،بیوگی،کاروبار ،رسول اکرم ﷺ سے نکاح آپ کی خدمت واطاعت، اخلاص وایثار سادگی حضورﷺ سے نکاح ،آپ کی خدمت واطاعت ،اخلاص و ایثار سادگی حضورﷺ کےاقربا ء سے حسن سلوک ، محصورین کی امداد،اسلام کی خدمت ، تبلیغی مساعی،زہد وعبادت ،فیاضی وکریمی ، اولاد کی تربیت حدیث کی خدمت اللہ اوراس کے رسول کی رضا جوئی، فضائل ومناقب اور بنات الرسول سیدہ زینب ، سیدہ رقیہ ،سید ام کلثوم،سید فاطمہ الزاہراء رضی اللہ عنھن کے مختصر حالات زندگی نہایت عمدگی اور جامعیت سے یکجا کر دئیے گئے ہیں ۔مصنف کا انداز تحریر سلیس اور دلکش ہے ۔ سیدہ خدیجہ الکبریٰ کی زندگی کے بہت سے گوشے بے نقاب کردیے گئے ہیں کہ جن کےمطالعہ سے قارئین کی دلچسپی نہ صرف برقرار رہتی ہے بلکہ اس میں دگرگوں اضافہ ہوتاہے ۔نیز اس کتاب میں ام المومنین خدیجۃالکبریٰؓ کی زندگی سے برآمد ہونے والے بہترین اسباق ہدیۂ قارئین کیے گئے ہیں جس کی بنا پر اس کا سبقاً سبقاً مطالعہ خواتین اسلام کے لیے بہت مفید اور نافع ثابت ہوسکتاہے۔الغرض یہ کتاب سید ہ خدیجہ الکبریٰ کی بابت معلومات کا خزانہ ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف وناشرین کی کاوش کوقبول فرمائے اور اسے خواتین اسلام کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین) (م۔ا)