eBooks
2,841 Results Found
شرح حدیث جبریل ( تصحیح شدہ جدید ایڈیشن )
Authors: عبد المحسن العباد
یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔(ف۔ر)
من اطیب فی علم المصطلح ( جدید ایڈیشن )
Authors: عبد المحسن العباد
جس طرح عربی زبان کو جاننے کے لیے گرائمر کا سمجھنا ازحد ضروری ہے اسی طرح حدیث شریف میں مہارت حاصل کرنے کےلیے اصول حدیث میں دسترس رکھانا لازمی ہے ۔اصول حدیث سے مراد ایسے معلوم قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ایسا ضروری علم ہے جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔انہی کتب اصول حدیث میں سب سے زیادہ مختصر ، جامع اور آسان ترین زیر تبصرہ کتاب ’’ من اطیب المنح فی علم المصطلح‘‘ ہے ۔یہ کتاب مدینہ یونیورسٹی کے پروفیسرشیخ عبد المحسن العباد اور عبد الکریم المرام کی مرتب شدہ ہے اصول حدیث میں اس سے مختصر، جامع اور آسان کوئی کتاب نہیں ہےیہی وجہ کہ یہ بڑے بڑے جامعات کے نصاب میں بھی شامل ہے ۔اس کتاب کو پڑھ کر اصول حدیث کی وافر معلومات سے آگاہی ہوجاتی ہے ۔اسی اہمیت کے پیش نظر جناب مولانا عبد المنان راسخ﷾ اور مولانا محفوظ اعوان ﷾ نے نہایت محنت سے اس کا بہترین آسان وسلیس اردوترجمہ کیا ہے ۔ (م۔ا)
من اطیب المنح فی علم المصطلح
Authors: عبد المحسن العباد
علم حدیث سے مراد ایسے قاعدوں اور ضابطوں کا علم ہے جن کے ذریعے سے کسی بھی حدیث کے راوی یا متن کے حالات کی اتنی معرفت حاصل ہوجائے کہ آیا راوی یا اس کی حدیث قبول کی جاسکتی ہے یا نہیں۔اور علم اصولِ حدیث ایک ضروری علم ہے ۔جس کے بغیر حدیث کی معرفت ممکن نہیں احادیث نبویہ کا مبارک علم پڑہنے پڑھانے میں بہت سی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں جن سے طالب علم کواگاہ ہونا از حدضرورری ہے تاکہ وہ اس علم میں کما حقہ درک حاصل کر سکے ، ورنہ اس کے فہم وتفہیم میں بہت سے الجھنیں پید اہوتی ہیں۔جس طرح گرائمر کے بغیر عربی زبان سمجھنا دشوار ہے بعینہٖ علم حدیث میں مہارت تامہ ، اصول حدیث میں کماحقہ دسترس رکھے بغیر ناممکن ہے ۔ اس موضوع پر ائمہ فن وعلماء حدیث نے مختصر ومطول بہت سے کتابیں تصنیف فرمائی ہیں۔ان میں سے سب سےمختصر ، جامع اور آسان شیخ عبد الکریم مراد ،شیخ عبد المحسن العباد کی مرتب شدہ زیر تبصرہ کتاب ’’ من اطیب فی علم المصطلح‘‘ ہے یہ کتاب اپنی افادیت واہمیت کے باعث مدینہ یونیورسٹی اور پاک وہند کے اہم مدارس میں شامل نصاب ہے ۔یہ چونکہ عربی زبان میں ہے جس عام آدمی مستفید نہیں ہوسکتا تھا۔اسی ضرورت کے پیش نظر محترم مولانا خاور رشید بٹ ﷾(مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ودارالعلوم المحمدیہ ،لاہور ) نے اسے اردو قالب میں ڈھالا ہے ۔مترجم موصوف نے عربی عبارت کو مد نظر رکھتے ہوئے بے حد آسان اور عام فہم وبامحاورہ ترجمہ کا التزام کیا ہے اور ہر بحث سے پہلے مفردات باب کے نام سے مشکل الفاظ کے معانی وصیغے حل کیے ہیں،طلباء کےلیے مشقی سوالات مختلف انداز میں ترتیب دیئے گئے ہیں تاکہ طلبہ اسے آسانی سے سمجھ سکیں۔(م۔ا)
بنیادی عقائد
Authors: عبد المحسن العباد
امام عبداللہ ابو محمد بن ابی زید القیروانی کا شمار چوتھی صدی ہجری کے محدثین و فقہا میں ہوتا ہے، آپ نے ’الرسالہ‘ کے نام سےایک مبسوط کتاب تالیف فرمائی۔ اور اس کتاب پر ایک جامع مقدمہ تحریر فرمایا۔ جو اگرچہ بہت مختصر ہے لیکن اس میں علوم و معارف اورمعانی و مطالب کا ایک بحر زخار موجزن ہے۔ بہ بات مبنی برحقیقت ہے کہ امام صاحب نے اصول و فروع کے حوالے سے ان چند سطور کے کوزے میں دریا بند کردیا ہے۔ اس مختصر مقدمہ کو وقت کے عظیم محدث، سابق وائس چانسلر مدینہ یونیورسٹی فضیلۃالشیخ عبدالمحسن بن حمد العباد نےایک نہایت نفیس اور لطیف شرح کے ساتھ مزین فرمایا ہے۔ آپ عصر حاضر میں منہج سلف صالحین کےامین و محافظ تصور کیے جاتے ہیں۔ تحریر و تقریر میں بہت نمایاں اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ اس کتاب میں شیخ موصوف نے ہر مسئلہ پر قرآن و حدیث کا انبار لگا دیاہے، نیز جا بجا ائمہ سلف کے ذکر سے کتاب کی اہمیت و افادیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ یہ کتاب اصول وفروع کا ایک حسین امتزاج ہونے کے ساتھ ساتھ، تمام مسائل عقیدہ کو کتاب وسنت، اقوال سلف صالحین کی روشنی میں پیش کرنے کا گرانقدر مجموعہ ہے۔(ع۔م)
علماء نجد پر رفاعی کے اعتراضات کی دینی و شرعی حیثیت
Authors: عبد المحسن العباد
In Arguments
کویت کی اہم سیاسی شخصیت سیدہاشم الرفاعی مذہبی طور پر تصوف کے شیدائی اور بدعات وخرافات کے رسیا، ہیں، دورہ پاکستان پر اپنے ہم مشرب ماہنامہ اہلسنت گجرات کو انٹرویو دیتے ہوئے کویت و سعودیہ کے علماء پر سوقیانہ زبان میں خوب دشنام طرازی فرمائی ۔ اور حرمین شریفین کو شرک و بدعات سے پاک رکھنے کے "جرم" میں بے جا تنقید فرمائی۔ جس کا مسکت جواب علمی وقار اور تہذیب و شرافت کے اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فاضل مصنف سابق چانسلر و وائس چانسلر جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ نے دیا ہے۔ جس کا ترجمہ اس کتاب کی صورت میں آپ ملاحظہ کر رہے ہیں۔ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں دو گروہوں کی طرف سے علمائے نجد و حجاز کے متعلق دو متضاد پروپیگنڈے کئے جا رہے ہیں۔ ایک گروہ تو انہیں گستاخ رسول (ﷺ)، آثار صحابہ کا احترام نہ کرنے والے، اولیاء کو نہ ماننے والے وغیرہ قرار دیتا ہے تو دوسرے گروہ کے اسلاف انہیں کافر، گمراہ، گمراہ گر، فاسق اور باغی قرار دیتے رہے۔ جبکہ ان کے اخلاف آج شاید پٹرو ڈالر کی کرامت دیکھنے کے بعد انہی علماء کو مقلدین کی صف میں کھڑا دکھانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب علمائے نجد و حجاز کے عقائد و اعمال کی وضاحت پر مشتمل ان مکاتب فکر کی جانب سے کئے جانے والے پروپیگنڈا کا بھرپور و شافی جواب ہے۔
شرح حدیث جبریل
Authors: عبد المحسن العباد
یہ کتاب دراصل الشیخ عبدالمحسن العباد کی تالیف ہے۔ جسے اردو ترجمہ کے قالب میں محقق العصر الشیخ الحافظ زبیر علی زئی نے ڈھالا ہے۔ یہ دراصل حدیث جبریل، کہ جس میں اسلام، ایمان اور احسان کا بیان ہے اور جس کے آخر میں نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے یہ جبریل تھے جو تمہارے پاس تمہارا دین سکھانے آئے تھے، کی مستقل شرح ہے۔ علماء کی ایک جماعت سے اس حدیث کی بڑی شان منقول ہے۔ یہ حدیث ظاہری و باطنی عبادات کی تمام شروط کی شرح پر مشتمل ہے۔ نیز اس حدیث میں علوم، آداب اور لطائف کی اقسام جمع ہیں۔ بعض علماء تو اس حدیث کو ام السنۃ کی طرح کہتے ہیں یعنی سنت کی ماں۔ کیونکہ اس نے علم سنت کے بنیادی جملے اکٹھے کر لئے ہیں۔
کتاب اللہ کے صحیح فیصلے
Authors: اکبر شاہ خاں نجیب آبادی
قرآن مجید وہ عظیم الشان کتاب ہے ،جسے اللہ تعالی کا کلام ہونے کا شرف حاصل ہے۔اس کو پڑھنا باعث اجر وثواب اور اس پر عمل کرنا باعث نجات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔جو قوم اسے تھام لیتی ہے وہ رفعت وبلندی کے اعلی ترین مقام پر فائز ہو جاتی ہے،اور جو اسے پس پشت ڈال دیتی ہے ،وہ ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتی ہے۔یہ کتاب مبین انسانیت کے لئے دستور حیات اور ضابطہ زندگی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ انسانیت کو راہ راست پر لانے والی ،بھٹکے ہووں کو صراط مستقیم پر چلانے والی ،قعر مذلت میں گرے ہووں کو اوج ثریا پر لے جانے والے ،اور شیطان کی بندگی کرنے والوں کو رحمن کی بندگی سکھلانے والی ہے۔اہل علم نے عامۃ الناس کے لئے قرآن فہمی کے الگ الگ ،متنوع اور منفرد قسم کے اسالیب اختیار کئے ہیں ،تاکہ مخلوق خدا اپنے معبود حقیقی کے کلام سے آگاہ ہو کر اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزار سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ کتاب اللہ کے صحیح فیصلے ‘‘ محترم اکبر شاہ نجیب آبادی صاحب کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے قرآن مجید میں وارد احکام اور کتاب اللہ مراد قرآن میں وارد تمام صحیح فیصلوں کو یکجاجمع فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالی مولفین کو اس کاوش پر جزائے خیر عطا فرمائے،ہمیں قرآنی برکات سے استفادہ کرنے کی توفیق دے۔آمین(رفیق الرحمن)
مقدمہ تاریخ ہند موسوم بہ نظام سلطنت جلد۔2
Authors: اکبر شاہ خاں نجیب آبادی
In History
کسی بھی قوم اور ملک کی تاریخ ہی اُن کی عزت وعظمت اور ان کی پہچان کا باعث ہوتی ہے۔ اگر کوئی ملک اپنی تاریخ نا رکھتاہو تو اسے عزت واحترام کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔قوموں اور ملکوں کی سیاسی تاریخ کی طرح تحریکوں اور جماعتوں کی دینی اور ثقافتی تاریخ بھی ہمیشہ بحث وتحقیق کی محتاج ہوتی ہے۔محققین کی زبان کھلوا کر نتائج اخذ کرنے‘ غلطیوں کی اصلاح کرنے اور محض دعوؤں کی تکذیب وتردید کے لیے پیہم کوششیں کرنی پڑتی ہیں‘ پھر مؤرخین بھی دقتِ نظر‘ رسوخِ بصیرت‘ قوتِ استنتاج اور علمی دیانت کا لحاظ رکھنے میں ایک سے نہیں ہوتے‘ بلکہ بسا اوقات کئی تاریخ دان غلط کو درست کے ساتھ ملا دیتے ہیں‘ واقعات سے اس چیز کی دلیل لیتے ہیں جس پر وہ دلالت ہی نہیں کرتے‘لیکن بعض محققین افراط وتفریط سے بچ کر درست بنیادوں پر تاریخ کی تدوین‘ غلطیوں کی اصلاح ‘ حق کو کار گاہِ شیشہ گری میں محفوظ رکھنے اور قابلِ ذکر چیز کو ذکر کرنے کے لیے اہم قدم اُٹھاتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں بھی تاریخ ہند کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔ اس میں مذہب‘ تمدن‘ اخلاق‘ نظام حکومت اور قوانین سلطنت پر محققانہ ومورخانہ بحث کی گئی ہے اور قدیم نظامات وقوانین جو ممالک روئے زمین اور اقوامِ عالم میں مروج رہے یکجا فراہم کیے گئے ہیں جن کے مطالعہ سے ہر شخص کی بصیرت ودانائی میں اضافہ اور نسل انسانی کی کامرانی ومقصدوری کا راستہ سامنے نظر آئے گا‘ اور جن چیزوں پر مؤلف نے زیادہ اہم سمجھا ہے اُن پر زیادہ زور اور استیفاء استفصاء کی شرط کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب سے ہر عام اور خاص فائدہ اُٹھا سکتا ہے اور اس کے مطالعے کے بعد کسی کو اس کے مطالعے پر افسوس نہیں ہوگا۔ یہ کتاب’’مصنفہ اکبر شاہ خان نجیب آبادی کی تحقیقی اور علمی کاوش ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین) (ح۔م۔ا)
امت محمدیہ زوال پذیر کیوں ؟
Authors: اکبر شاہ خاں نجیب آبادی
امت مسلمہ میں شعور کی بیداری اور اسلام کے صحیح تصور کی عملی تصویر اجاگر کرنے کے لیے قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت ایک لازمی امر ہے۔ اسی سلسلہ میں زیر تبصرہ کتاب وجود میں آئی ہے۔ جس میں نہایت واضح انداز میں امت مسلمہ کے زوال کے اسباب اور اس سے نکلنے کی راہیں متعین کی گئی ہیں۔ مؤلف نے اپنی علمی وسعت و ہمت کےمطابق اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا اور اصلاح کی سعی بلیغ کی ہے۔ پھر اس پر مستزاد یہ کہ فاضل نوجوان محترم طاہر نقاش صاحب نے اس کی مزید اصلاح کر کے کتاب کو چار چاند لگا دئیے ہیں۔ کتاب کی افادیت میں اس اعتبار سے اضافہ ہو جاتا ہے کہ اس پر نظر ثانی مولانا مبشر احمد ربانی نے کی ہے۔ اب تک یہ کتاب نایاب تھی اگرچہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے شائع ہوتی رہی۔ ’دار الابلاغ‘ کے اسٹیج سے اسے کتاب میں بیان کردہ موضوع کے حساب سے ’امت محمدیہ زوال پذیر کیوں ہوئی‘ کے نام سے شائع کیا جا رہا ہے۔ جس پر ’دار الابلاغ‘ مبارکباد کا مستحق ہے۔ کتاب کی افادیت کو دیکھتے ہوئے ہم اسے قارئین کتاب و سنت ڈاٹ کام کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔(ع۔م)