eBooks

2,841 Results Found
اذکار مصائب

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Arguments

By Al Noor Softs

دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مصائب اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے۔ ایک مومن شخص کو مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کا علاج اور ان سےنجات دعاؤں کے ذریعے سے کرنا چاہیے ۔ زیر نظر کتاب’’ اذکار مصائب‘‘محترم جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے۔ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں حسب ذیل چار عنوانوں کے ضمن میں تفصیلات پیش کی ہیں۔مصیبتوں سے بچانے میں دعا کی فادیت ، مصیبتوں سے محفوظ کرنے والی پندرہ دعائیں ،مصیبتوں کے دور کرنے میں دعا کی اہمیت ، مصیبتوں سے نجات دلوانے والی سولہ دعائیں۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا)

فضل الباری فی تکمیل صحیح البخاری (صحیح بخاری کے آخری باب کی شرح)

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

امام بخاری ﷫ کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔یہی وجہ ہےکہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب الله صحیح البخاری۔بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث نے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔اردو زبان میں بھی صحیح بخاری کے متعدد تراجم ،فوائد اور شروحات موجود ہیں جن میں علامہ وحید الزمان اور مولانا داؤد راز رحمہما اللہ کے تراجم وفوائد اور صحیح بخاری کی نئی اردو شرح ’’ہدایۃ القاری ‘‘ از شیخ الحدیث حافظ عبد الستار حماد حفظہ اللہ بڑی اہم شروح ہیں ۔بعض اہل علم نےصحیح بخاری کے مختلف ابواب کی الگ سے بھی شرح کی ہے۔ جیسے صحیح بخاری کی ’’کتاب التوحید‘‘ کی اردو وعربی زبان میں الگ سے شروحات موجود ہیں ۔ ہرسال صحیح بخاری کی اختتامی تقریب کے موقع نامور شیوخ الحدیث صحیح بخاری کی آخری حدیث پر دروس بھی ارشاد فرماتے ہیں ۔یہ دروس مرتب ہوکر افادۂ عام کےلیے رسائل وجرائد میں بھی شائع ہوتے ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’ فضل الباری فی تکمیل صحیح البخاری صحیح بخاری کےآخری باب کی شرح‘‘شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر﷫ کے برادرگرامی محترم پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ (مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے امام بخاری رحمہ اللہ کے حالات زندگی،سیرت امام بخاری رحمہ اللہ کے حوالے سے 32 دروس وفوائد، صحیح بخاری اور اس کی قدر ومنزلت،صحیح بخاری کےآخری باب کے عنوان کے تحت قدرے تفصیلی شرح،آخری حدیث کےراوی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کےمتعلق 14 باتیں،آخری حدیث کی تفصیلی شرح اور تسبیح وتحمید کی شان وعظمت کے متعلق 23باتیں فاضلانہ وعالمانہ انداز میں پیش کی ہیں۔شاید یہ صحیح بخاری کےآخری باب کی الگ سے مرتب شدہ پہلی تفصیلی شرح ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر فضل الٰہی حفظہ اللہ کی تحقیقی وتصنیفی،تبلیغی وتدریسی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں صحت وعافیت والی زندگی دے ۔آمین (م۔ا)

اعمال کی قبولیت

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

آخر ت میں دوزخ سے بچنے کے لئے اللہ کے بندوں کودنیامیں جوکام کرناہے وہی دین اسلام ہے۔ یعنی زندگی کے ہر معاملہ میں اپنے پیدا کرنے اور پرورش کرنے والے کے احکام وہدایات کی اطاعت وفرمانبرداری کرناہے۔انسان کےاعمال صالح اسی وقت اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول ہیں جب انہیں اللہ ورسول ﷺ کی دی ہوئی تعلیمات کےمطابق کیا جائے ۔کیونکہ کتنے ہی کام ایسے ہیں ، جو کرنے یا دیکھنے والوں یا دونوں ہی قسم کے لوگوں کی نگاہ میں نہایت پسندیدہ ہوتے ہیں ، لیکن رب ذوالجلال کے ہاں رائی کے ذرے کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے۔ علاوہ ازیں کتنے ہی قدر وقیمت والے اعمال ان کےکرنے والوں کی دیگر کرتوتوں کی بنا پر بے وقعت اور بے حیثیت قرار پاتے ہیں۔ زیر نظر کتاب’’ اعمال کی قبولیت ‘‘ پروفیسرڈاکٹر فضل الٰہی ﷾(مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے اس کتاب میں حسب ذیل پانچ سوالات سے متلق گفتگو کی ہے۔1۔قبولیت اعمال کی اہمیت کیا ہے ؟2۔قبولیت اعمال کی شرائط کیا ہیں؟3۔قبولیت کی شرائط ہونے کے باوجود اعمال کو اکارت کرنے والے کام کیا ہیں ؟4۔مقبول اعمال کو برباد کرنےوالے گناہ کون سے ہیں ؟5۔قبولیت میں رکاوٹوں کو دور کرنے کی تدبیریں کیا ہیں ؟ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تمام تحقیقی وتصنیفی،تدریسی ودعوتی جہود کوقبول فرمائے اور انہیں امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے ۔(م۔ا)

مصیبتوں سے کیسے نمٹیں ؟

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Arguments

By Al Noor Softs

دنیا دارالامتحان ہے اس میں انسانوں کو آزمایا جاتا ہے ۔آزمائش سے کسی مومن کوبھی مفر نہیں۔ اسے اس جہاں میں طرح طرح کی مصائب اور پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑتاہے۔ قسم قسم کےہموم وغموم اس پر حملہ آور ہوتے ہیں ۔اور یہ تمام مصائب وآلام بیماری اور تکالیف سب کچھ منجانب اللہ ہیں اس پر ایمان ویقین رکھنا ایک مومن کے عقیدے کا حصہ ہے کیوں کہ اچھی اور بری تقدیر کا مالک ومختار صر ف اللہ کی ذات ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سےجنہیں چاہتا ہے انہیں آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے تاکہ وہ اطاعت پرمضبوط ہوکر نیکی کے کاموں میں جلدی کریں اور جوآزمائش انہیں پہنچی ہے ۔اس پر وہ صبر کریں تاکہ انہیں بغیر حساب اجروثواب دیا جائے ۔ اور یقیناً اللہ کی سنت کا بھی یہی تقاضا ہےکہ وہ اپنے نیک بندوں کوآزماتا رہے تاکہ وہ ناپاک کوپاک سےنیک کو بد سے اور سچے کوجھوٹے سے جدا کردے ۔ لیکن جہاں تک ان کے اسباب کا تعلق ہے تو وہ سراسر انسان کے اپنے کئے دھرے کا نتیجہ سمجھنا چاہیے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جوکچھ تمہیں مصائب پہنچتے ہیں وہ تمہارے ہی کردار کا نتیجہ ہیں جبکہ تمہارے بے شمار گناہوں کو معاف کردیا جاتا ہے ‘‘ دنیا میں غم ومسرت اور رنج وراحت جوڑا جوڑا ہیں ان دونوں موقعوں پر انسان کو ضبط نفس اور اپنے آپ پر قابو پانے کی ضرورت ہے یعنی نفس پر اتنا قابو ہوکہ مسرت وخوشی کے نشہ میں اس میں فخر وغرور پیدا نہ ہو اور غم وتکلیف میں وہ اداس اور بدل نہ ہو۔دنیاوی زندگی کے اندر انسان کوپہنچنے والی مصیبتوں میں کافر اور مومن دونوں برابر ہیں مگر مومن اس لحاظ سے کافر سےممتاز ہےکہ وہ اس تکلیف پر صبرکرکے اللہ تعالیٰ کےاجر وثواب اور اس کےقرب کاحق دار بن جاتا ہے۔اور حالات واقعات اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ مومنوں کوپہنچنے والی سختیاں تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں جبکہ کافروں کوپہنچنے والی سختیاں ،تکلیفیں اور پریشانیاں اور نوعیت کی ہوتی ہیں۔مصائب، مشکلات ، پریشانیوں اور غموں کے علاج اور ان سےنجات سےمتعلق کئی کتب چھپ چکی ہیں ہرایک کتاب کی اپنی افادیت ہے زیر تبصرہ کتا ب’’مصیبتوں سے کیسے نمٹیں؟ ‘‘ محترم جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے کتاب وسنت اور سلف وصالحین کی سیرت کی روشنی میں درج ذیل سوالات کے جوابات دنیے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ • مصیبتیں کیوں آتی ہیں ؟ • مصیبتوں کے آنے سے پہلے کیا کریں؟ • مصیبتیں آنے کے بعد کیا کریں؟ مصیبتوں کے ختم ہوجانے کے بعد کیا کریں؟ (م۔ا)

رزق اور اس کی دعائیں

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزدی سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا باطل گمان یہ ہے ہےکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی پابندی رزق میں کمی کا سبب ہے اس سے زیادہ تعجب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ بظاہر دین دار لوگ بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معاشی خوشی حالی اور آسودگی کے حصول کےلیے کسی حد تک اسلامی تعلیمات سے چشم پوشی کرنا ضروری ہے۔ یہ نادان لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ کائنات کے مالک وخالق اللہ جل جلالہ کے نازل کردہ دین میں جہاں اُخروی معاملات میں رشد وہدایت کا ر فرما ہے وہاں اس میں دنیوی امور میں بھی انسانوں کی راہنمائی کی گئی ہے جس طرح اس دین کا مقصد آخرت میں انسانوں کیو سرفراز وسربلند کرنا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ دین اس لیے بھی نازل فرمایا ہے کہ انسانیت اس دین سے وابستہ ہو کر دنیا میں بھی خوش بختی اور سعادت مندی کی زندگی بسر کرے ۔کسبِ معاش کے معاملے میں اللہ تعالیٰ او ران کےرسول کریم ﷺ نے بنی نوع انسان کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کےاسباب کو خوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے۔ اگر انسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھ کر مضبوطی سے تھام لے اور صحیح انداز میں ان سے استفادہ کرے تو اللہ مالک الملک جو ’’الرزاق ذو القوۃ المتین‘‘ ہیں لوگوں کےلیے ہر جانب سےرزق کے دروازے کھول دیں گے۔ آسمان سے ان پر خیر وبرکات نازل فرمادیں گے اور زمین سے ان کے لیے گوناگوں اور بیش بہا نعمتیں اگلوائیں گے۔ اللہ تعالیٰ رزق کےعطا کرنے میں کسی سبب کےمحتاج نہیں، لیکن انہوں نے اپنی حکمت سے حصولِ رزق کے کچھ معنوی ومادی اسباب بنارکھے ہیں۔ انہی معنوی اسباب میں سے ایک نہایت موثر، انتہائی زور دار او ربہت بڑی قوت والا سبب دعا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رزق اور اس کی دعائیں ‘‘شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر مصنف کتب کثیرہ محترم جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے قرآن وسنت کی روشنی میں رب کریم کے رزاق ہونے اور حضرات انبیاء﷩ اور امام الانبیاءﷺ کی رزق طلب کرنے کے حوالے سے کچھ باتوں اور دعاؤں کو حسن ترتیب سے مرتب مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور ڈاکٹر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)

حضرت ابراہیم کی قربانی، تفسیر و دروس

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

قرآن کریم کاایک بہت بڑا حصہ انبیائے سابقین ﷩ او ردیگر لوگوں کے قصوں پر مشتمل ہے۔ بعض اہل علم کی رائے میں یہ حصہ قرآن کریم کے آٹھ پاروں کے برابر ہے۔ قرآنی قصوں کی اہمیت او رفائدہ کوواضح کرنے کےلیے یہ بذات خود ایک بہت بڑی شہادت ہے۔ علازہ ازیں اللہ تعالیٰ نےنبی کریم ﷺ کوحکم دیا کہ وہ لوگوں کوتدبر وتفکر پرآمادہ کرنے کےلیے ان کے روبروقصے بیان کریں۔قرآنی قصوں میں کتنے فوائد ہیں ! ان سے انسانی معاشروں میں ہمیشہ سے موجود سنن الٰہیہ سے آگاہی ہوتی ہے۔قرآنی قصے انسانیت کو اس بات کی خبر دیتے ہیں کہ انسانوں کےاعمالِ خیر سے کیا بہاریں آئیں او راعمال ِ شر کن بربادیوں کاسبب بنے۔ قرآنی قصے تاریخی نوادرات ہیں، جوانسانیت کو تاریخ سے فیض یاب ہونے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ اوران قصوں میں نبی کریم ﷺ اور آپ کے بعد امت کےلیے دلوں کی تسکین اور مضبوطی کاسامان ہے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں انبیائے کرام﷩کے واقعات بیان کرنے کامقصد خودان الفاظ میں واضح اور نمایا ں فرمایا ’’اے نبیﷺ جونبیوں کے واقعات ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں ان سے ہمارا مقصد آپ کے دل کو ڈھارس دینا ہے اور آپ کے پاس حق پہنچ چکا ہے اس میں مومنوں کے لیے بھی نصیحت وعبرت ہے۔‘‘ قرانی قصوں میں ایک اہم قصہ سیدنا ابراہیم ﷤ کابڑھاپے میں ملنے والے لخت جگر کودوڑ دھوپ کی عمر کوپہنچنے پر حکم الٰہی کی بجا آوری میں ذبح کرنے کا ارادہ کرنا ہے۔ سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ اللہ تعالی کے جلیل القدر پیغمبر تھے ۔قرآن مجید میں وضاحت سے حضرت ابراہیم ﷤ کا تذکرہ موجود ہے ۔قرآن مجید کی 25 سورتوں میں 69 دفعہ حضرت ابراہیم ﷤ کا اسم گرامی آیا ہے۔ اور ایک سورۃ کا نام بھی ابراہیم ہے۔ حضرت ابراہیم ﷤نے یک ایسے ماحول میں آنکھ کھولی جو شرک خرافات میں غرق اور جس گھر میں جنم لیا وہ بھی شرک وخرافات کا مرکز تھا بلکہ ان ساری خرافات کو حکومتِ وقت اورآپ کے والد کی معاونت اور سرپرستی حاصل تھی۔ جب حضرت ابراہیم ﷤ پربتوں کا باطل ہونا اور اللہ کی واحدانیت آشکار ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنے والد آزر کو اسلام کی تلقین کی اس کے بعد عوام کے سامنے اس دعوت کو عام کیا اور پھر بادشاہ وقت نمرود سےمناظرہ کیا اور وہ لاجواب ہوگیا ۔ اس کے باجود قوم قبولِ حق سے منحرف رہی حتیٰ کہ بادشاہ نے انہیں آگ میں جلانے کا حکم صادر کیا مگر اللہ نے آگ کوابراہیم﷤ کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا اور دشمن اپنے ناپاک اردادوں کے ساتھ ذلیل ورسوار ہوئے اور اللہ نے حضرت ابراہیم﷤کو کامیاب کیا۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابراہیم کی قربانی کاقصہ تفسیر ودروس‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر محترم مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہےیہ کتاب سیدنا ابراہیم ﷤کی واقعہ قربانی پر مشتمل تفصیلی کتاب ہے۔ڈاکٹر صاحب نےاس قصے کوسمجھنے سمجھانے اوراس میں موجود دروس اور عبرتوں سے فیض یاب ہونے اور دوسروں کوفیض کرنے کےلیے اس کتا ب کومرتب کیا ہے۔ انہوں نے اس قصے سےمتعلقہ آیات کی تفسیر اوران سے اخذ کردہ دروس اور عبرتوں کے تحریر کرنے میں معتمد تفسیروں سے استفادہ کیا ہے۔ اور ضعیف احادیث اوراسرائیلی روایات سے کلی طور پر اجنتاب کیا ہے کیوں کہ ثابت شدہ تھوڑی معلومات غیر ثابت شدہ زیادہ معلومات سے کہیں بہترہیں۔مصنف موصوف نے قصے سے متعلقہ آیات پندرہ حصوں میں تقسیم کی کیں ہیں او ر ہر حصے میں اس کی تفسیر اوراخذ کردہ دروس بیان کیے گئے ہیں۔ بیان کردہ دروس کی مجموعی تعداد بتیس ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب انتہائی جامع اور مستند ہے۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔(آمین) (م۔ا)

بیٹی کی شان و عظمت

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نےدنیاکی ہر نعمت ہر انسان کوعطا نہیں کی بلکہ اس نے فرق رکھا ہے اور یہ فرق بھی اس کی تخلیق کا کمال ہے کسی کو اس نے صحت قابلِ رشک عطا کی کسی کو علم دوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا، کسی کودولت کم دی کسی کوزیادہ دی ،کسی کو بولنے کی صلاحیت غیرمعمولی عطا کی ، کسی کو کسی ہنر میں طاق بنایا، کسی کودین کی رغبت وشوق دوسروں کی نسبت زیادہ دیا کسی کو بیٹے دئیے، کسی کو بیٹیاں، کسی کو بیٹے بیٹیاں، کسی کو اولاد زیادہ دی ، کسی کوکم اور کسی کو دی ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر اولاد کی محبت اور خواہش رکھ دی ہے ۔ زندگی کی گہما گہمی اور رونق اولاد ہی کےذریعے قائم ہے۔ یہ اولاد ہی ہےجس کےلیے انسان نکاح کرتا ہے ،گھر بساتا ہے اور سامانِ زندگی حاصل کرتا ہے لیکن اولاد کے حصول میں انسان بے بس اور بے اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ نےاس نعمت کی عطا کا مکمل اختیار اپنےہاتھ میں رکھا ہے چاہے توکسی کو بیٹے اور بیٹیوں سے نوازے او رکسی کو صرف بیٹے دے او رچاہے توکسی صرف بیٹیاں دے دے توبیٹیوں کی پیدائش پر پریشانی کا اظہار نہیں کرناچاہیے کیونکہ بیٹیوں کی پیدائش پر افسردہ ہونا کافروں کی قابل مذمت صفات میں سے ہے۔امام احمد بن حنبل﷫ بیٹیوں کی ولادت پر فرمایا کرتے تھے کہ حضرات انبیاء ﷩ بیٹیوں کےباپ تھے ۔بیٹیوں کی بجائے صرف بیٹوں کی ولادت پرمبارک باد دینا طریقہ جاہلیت ہے ۔ دونوں کی ولادت پر مبارک باددی جائے یا دونوں موقعوں پر خاموشی اختیار کی جائے ۔آنحضرتﷺ نےبیٹیوں کو ناپسند کرنے سے منع فرمایا او رانہیں پیار کرنے والیاں اور بیش قیمت قرار دیا۔ اور نیک بیٹیاں اپنے والدین کےلیے ثواب وامید میں بیٹوں سے بہتر ہوتی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’بیٹی کی شان وعظمت‘‘ کی شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر محترم مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے تصنیف ہے اس کتا ب میں انہوں نے قرآ ن واحادیث کی روشنی میں بیٹی کی شان وعظمت کو بیان کرتے ہوئے اس بات کوواضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیٹیوں کاذکر بیٹوں سے پہلے فرمایا ہے اور اس سے یہ واضح کرنا مقصود تھا کہ تمہاری طرف سے نظر انداز کی ہوئی یہ حقیر قسم میرے نزدیک ذکر میں مقدم ہے او ران کی کمزوری کےپیش نظر ان کا خصوصی خیال رکھنے کی تاکید کی خاطر انہیں ذکر میں مقدم کیاگیاہے۔ اور بیٹیوں کی کفالت کا ثواب بیٹوں کی کفالت سے زیادہ ہے ۔اور تین بیٹیاں اپنے محسن باپ کے لیے دوزخ کی آگ کےمقابلہ میں رکاوٹ ہوں گی۔۔اگر کسی کی دوبیٹیاں ہوں، بلکہ صرف ایک بیٹی ہی ہو تو وہ بھی اپنے محسن باپ کےلیے جہنم کی آگ کےمقابلہ میں رکاوٹ ہوگی۔ اور بیٹیوں کو اپنی ذات پر ترجیح دینے والے والدین کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے وہ دوزخ کی آگ سے آزادی پاتے ہیں او راللہ رب العزت کی رحمت کے مستحق قرار پاتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے عورتوں کا وراثت میں حق جداگانہ طور پر بیان فرمایا تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ ذاتی حیثیت سے وراثت کا استحقاق رکھتی ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب انتہائی جامع ہے ۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے اور اس کتا ب کو تمام اہل اسلام کےلیے بیٹیوں کے مقام کوسمجھنے کاذریعہ بنائے۔ (آمین) (م۔ا)

آیت الکرسی کے فضائل و تفسیر

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Darse Nizami

By Al Noor Softs

آیت الکرسی بہت بڑی عظمت ورفعت والی آیت ہے اوراس بلندی اور برتری کا سبب اس میں بیان کردہ باتیں ہیں ۔ یہ رب العالمین کی توحید ان کی کبریائی بڑائی صفات پر مشتمل ہے۔قرآن کریم ہر آیت کریمہ عالی مرتبت اور عظیم القدر ہے لیکن ان میں سے عظیم ترین آیت ’’آیت الکرسی‘‘ ہے آیات قرآنیہ میں سےیہ واحد آیت کریمہ ہے جس کو آنحضرت ﷺ نے بطور وظیفہ کثرت سے تلاوت کیا ہے اور صحابہ کرام اور امت مسلمہ کو تلاوت کی بار بار تاکید فرمائی ہے ۔ مثلاً پانچ نمازوں کے بعد ،رات کوسوتے وقت ، اپنی مادی چیزوں کو جن وانس سے محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی طور تلاوت کی تعلیم عطا فرمائی ہے ۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس کو بطور وظیفہ اپنانے کی مقدور بھر کوشش کرے اور اس آیت کے فیوض وبرکات کوسمیٹنے کا اہتمام کرے ۔اور نبی کریم ﷺ کی متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے اس لیے کہ اس میں ذات باری تعالیٰ کی توحید اس کی عظمت اوراس کی صفات کا بیان ہے حضرت ابی بن کعبؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ: ’’آیۃ الکرسی قرآن کریم کی عظیم ترین آیت ہے‘‘اور حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ آیۃ الکرسی ایک چوتھائی قرآن ہے‘‘ ۔ زیرتبصرہ کتاب ’’آیت الکرسی کے فضائل وتفسیر‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر محترم مصنف کتب کثیرہ جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہےاس کتاب کو انہوں نے دو بحثوں میں تقسیم کیا ہے پہلی بحث آیت الکرسی کے فضائل اور دوسری بحث آیت االکرسی کی تفسیر کےمتعلق ہے ۔ مبحث اول کو پانچ عنوانات اور مبحث دوئم کو دس مستقل عنوانات کے تحت منفرد انداز میں بیان کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ موصوف کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کےلیے فائدہ مند بنائے (آمین) (م۔ا)

رزق کی کنجیاں ( جدید ایڈیشن )

Authors: ڈاکٹر فضل الٰہی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

دین اسلام میں حلال ذرائع سے کمائی جانے والی دولت کو معیوب قرار نہیں دیا گیا چاہے اس کی مقدار کتنی ہی ہو۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہےکہ دولت انسان کوبارگاہ ایزدی سے دورنہ کرے۔ فی زمانہ جہاں امت مسلمہ کو دیگر لا تعداد مسائل کا سامنا ہے وہیں امت کےسواد اعظم کو فکر معاش بری طرح لاحق ہے۔اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد کا باطل گمان یہ ہے ہےکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی پابندی رزق میں کمی کا سبب ہے اس سے زیادہ تعجب اور دکھ کی بات یہ ہے کہ کچھ بظاہر دین دار لوگ بھی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ معاشی خوشی حالی اور آسودگی کے حصول کےلیے کسی حد تک اسلامی تعلیمات سے چشم پوشی کرنا ضروری ہے ۔ یہ نادان لوگ اس حقیقت سے بے خبر ہیں کہ کائنات کے مالک وخالق اللہ جل جلالہ کے نازل کردہ دین میں جہاں اُخروی معاملات میں رشد وہدایت کا ر فرما ہے وہاں اس میں دنیوی امور میں بھی انسانوں کی راہنمائی کی گئی ہے جس طرح اس دین کا مقصد آخرت میں انسانوں کیو سرفراز وسربلند کرنا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے یہ دین اس لیے بھی نازل فرمایا ہے کہ انسانیت اس دین سے وابستہ ہو کر دنیا میں بھی خوش بختی اور سعادت مندی کی زندگی بسر کرے ۔کسبِ معاش کے معاملے میں اللہ تعالیٰ او ران کےرسول کریم ﷺ نے بنی نوع انسان کو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے نہیں چھوڑا بلکہ کتاب وسنت میں رزق کے حصول کےاسباب کو خوب وضاحت سے بیان کردیا گیا ہے ۔ اگر انسانیت ان اسباب کواچھی طرح سمجھ کر مضبوطی سے تھام لے اور صحیح انداز میں ان سے استفادہ کرے تو اللہ مالک الملک جو ’’الرزاق ذو القوۃ المتین‘‘ ہیں لوگوں کےلیے ہر جانب سےرزق کے دروازے کھول دیں گے۔آسمان سے ان پر خیر وبرکات نازل فرمادیں گے اور زمین سے ان کے لیے گوناگوں اور بیش بہا نعمتیں اگلوائیں گے ۔ پیش نظر کتاب ’’رزق کی کنجیاں جدید ایڈیشن‘‘ شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کے برادر مصنف کتب کثیرہ محترم جناب ڈاکٹر فضل الٰہی ﷾ کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں معاشی مسائل کا آزمودہ اور کار آمد حل نہایت شرح و بسط کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے اس کتاب میں قرآن و حدیث کے واضح براہین کی روشنی میں رزق کے حصول کے لیے تیس اسباب کو عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔موصوف نے اس میں وارد شدہ حادیث کو ان کےاصلی مراجع وماخذ سے براہ راست نقل کیا اور آیات واحادیث سے استدلال کرتے وقت کتب تفسیر اور شرح حدیث سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔اور حصول رزق کےشرعی اسباب کےبارے میں الجھاؤ دور کرنے کی غرض سے ان اسباب کے مفاہیم ومعانی علمائے امت کےاقوال کی روشنی میں بیان کیے ہیں۔یہ کتاب اگرچہ پہلے بھی ویب سائٹ پر موجود ہے لیکن اس ایڈیشن میں کچھ اضافہ جات کیے گئے ہیں ۔اس لیے نئے ایڈیشن کو بھی قارئین کے استفادہ لیے پبلش کیاگیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور ڈاکٹر صاحب کی تمام دعوتی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات قبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)