eBooks

2,841 Results Found
علماء کا مقام اور ان کی ذمہ داریاں

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Knowledge

By Al Noor Softs

امت مسلمہ کی قیادت کا فریضہ ہمیشہ علماء کرام نے انجام دیا ہے او رہر دور میں اللہ تعالی نے ایسے علماء پیدافرمائے ہیں جنہوں نے امت کو خطرات سےنکالا ہے اوراس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو پار لگانے کی کوشش کی ہے ۔ اسلامی تاریخ ایسے افراد سے روشن ہے جنہوں نے حالات کو سمجھا اور اللہ کے بندوں کو اللہ سے جوڑنے کے لیے اور ان کو صحیح رخ پر لانے کے لیے ہر طرح کی قربانیاں دیں جو اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے ۔مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی شخصیت بھی ان ہی علمائے ربانیین او ر مجددین ومصلحین کے طلائی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس نے پورے عالم اسلام میں مسلمانوں کے ہر طبقہ کو راہنما خطوط دیئے ہیں اورپیش آنے والے خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ مولانا ابو الحسن ندوی نے حالات کی روشنی میں علماء کےلیے ان کے کام کی نوعیت واضح فرمائی اور ان کی زندگی کا مقصد او ران کا مرکز عمل بتایا ہے او ردعوت الی اللہ اور اشاعت ِعلمِ دین کی طرف ان کو خاص طور پر متوجہ کیا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی موضوع پر مولاناکے مختلف مضامین اورتقریروں کا چوتھا مجموعہ ہے جوعلماء کے مقام اور ان کی ذمہ داریوں کے متعلق ہے جس میں مولانا نے درج ذیل اہم موضوعات پر مفصل گفتگو کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولانا ندوی کی اشاعت دین حنیف کے سلسلے میں تمام مساعی کو قبول فرمائے او ر اس کتاب کے نفع کو عام فرمائے ۔(آمین)(م۔ا)

نظام تعلیم مغربی رجحانات اور اس میں تبدیلی کی ضرورت

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Arguments

By Al Noor Softs

تعلیم کا مسئلہ ہر ملک کےلیے ایک بنیادی حیثیت رکھتاہے ۔کسی بھی ملک یا قوم کی ترقی کے لیے یہ ایسی شاہ کلید ہے ،جس سے سارے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ۔مسلمانوں نے جب تک اس حقیقت کو فراموش نہیں کیا وہ دنیا کے منظرنامہ پر چھائے رہے اور انہوں نے دنیا کو علم کی روشنی سے بھر دیا ، لیکن جب مسلمانوں کی غفلت کے نتیجے میں پوری دنیا اخلاقی بحران کاشکار ہوگئ تو عالم اسلام خاص طور پر اس سے متاثر ہوا۔اس کی سب سےبڑی وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی بنیاد ہی فراموش کردی اور یورپ کے نظام تعلیم کو اختیار کرلیاجس نے پورے عالم اسلام کو متاثر کیا۔ خود اسلامی ملکوں میں پڑھنے والوں کا حال یہ ہے وہ جب اپنی اپنی یونیورسٹیوں سے پڑھ کرنکلتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے وہ یورپ کے پروردہ ہیں جس کے نتیجہ میں اسلامی ملکوں میں ایک کشمکش کی فضا پید ا ہوگئی ہے۔مفکر اسلام مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ﷫ نے اپنی تقریروں او رتحریر وں میں اسلامی ملکوں میں ذہنی کشمکش کا بنیادی سبب مسلمانوں میں رائج یورپی نظام تعلیم کو قرار دیا اوراز سرنو پورا نظام تعلیم وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اس کوعالم اسلام کا سب سے بڑا چیلنچ قرار دیا۔ زیر نظر کتاب بھی مولانااابو الحسن علی ندوی کی اس موضوع پر اہم تقاریر ومضامین کا مجموعہ ہے جس میں مولانانے اسلامی ملکوں میں نظام تعلیم کی اہمیت اور وہاں کی قیادت، نظام تعلیم وتربیت کا معاشرہ اور اس کے رجحانات ،نظام تعلیم وتربیت کی بنیادیں،نصاب تعلیم ۔جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی بحث کی ہےاللہ تعالی مولانا کے درجات بلند فرمائے۔(آمین)(م۔ا)

منصب نبوت اور اس کے عالی مقام حاملین

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Darse Nizami

By Al Noor Softs

اس کائنات میں خدا کے بھیجے ہوئے انبیاء انسانیت کے کامل نمونوں کی صورت میں موجود رہے ہیں۔جن کی زندگیاں محبت الہٰی میں گندھی ہوئی تھیں۔ دنیاوی جاہ و حشمت ان کے سامنے پرکاہ سے بڑھ کر نہیں تھی۔ اپنے رب کے حکم کی تعمیل ان کا مقصد زندگی تھا۔ پیش نظر کتاب میں مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نےانہیں عالی مقام کے حاملین کو موضوع بحث بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انبیاء ہی کا کارنامہ ہے کہ معاشرہ میں خیر کی محبت اور شر سے نفرت کا جذبہ پیدا کر کے انہوں نے احسانات عظیم کیے۔ مصنف نے متعدد عناوین کے تحت انبیاء کی امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے نبوت کے زیر اثر پروان چڑھنے والے مزاج اور طریقہ فکر کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔تاکہ علمائے کرام، جو وارثین انبیاء کی صورت میں اصلاح معاشرہ کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں وہ اس سلسلہ میں نبوی طریقہ کار سے حظ اٹھائیں۔ مولانا نے اخیر میں ختم نبوت کی ضرورت و اہمیت کو موضوع سخن بناتے ہوئے موجودہ معاشرے پر اس کے اثرات سے متعلق بھی نہایت قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے۔

معرکہ ایمان ومادیت

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

زیر مطالعہ کتاب ’معرکہ ایمان و مادیت‘ میں سورۃ کہف کو موضوع سخن بنایا گیا ہے۔ اس سورۃ کا اکثر حصہ قص پر مشتمل ہے۔ جس میں 1۔ اصحاب کہف کا قصہ 2۔ دو باغ والوں کا قصہ 3۔ حضرت موسیٰ و خضر ؑ کا قصہ اور 4۔ ذو القرنین کا قصہ شامل ہے۔ یہ قصے جو اپنے اسلوب بیان اور سیاق و سباق کے لحاظ سے جدا ہیں، مقصد اور روح کے لحاظ سےایک ہیں اور اس روح نے ان کو معنوی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کر دیا ہے اور ایک لڑی میں منسلک کر دیا ہے۔ کہ ان میں ایمان و مادیت کے مابین کشمکش نظر آتی ہے۔ مولانا ابوالحسن ندوی جو ایک صاحب طرز قلم کار اور متعدد خوبیوں کے حامل شخص ہیں، انہوں نے سورہ کہف کا تفصیلی تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے ۔ اس کے لیے انہوں نے تفسیر قرآن، حدیث، قدیم تاریخ اور حالات حاضرہ کی روشنی میں عبر و نصائح کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے۔

انسانی دنیا پر مسلمانوں کےعروج وزوال کا اثر

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Biography

By Al Noor Softs

جب نبی مکرمﷺ کا دنیا میں بعثت ہوئی اس وقت انسانیت پستی کی آخری حدوں سے بھی آخرتک پہنچ چکی تھی۔ شرک و بدعات، مظالم و عدم مساوات ان کی زندگی کا جزو لاینفک بن چکا تھا۔ لیکن رسول اللہﷺ نے ان کے عقائد و اخلاق اس طور سے سنوارے کہ کل کے راہزن آج کے راہبر بن چکےتھے۔ نبی کریمﷺ کی تشکیل کردہ اسلامی تہذیب نے دنیا کے تمام معاشروں پر نہایت گہرے اثرات ثبت کئے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا اور جہاد، تقویٰ و للہیت ایک اجنبی تصور بن گئے تو امت کا انحطاط وزوال شروع ہوا۔ زیر نظر کتاب میں ابوالحسن ندوی ؒ نے امت کے اسی عروج و زوال کو حکیمانہ اسلوب میں بیان کیا ہے۔ انہوں نے اسلام سے پہلے کی معاشرت کا تفصیلی تعارف کرواتے ہوئے اس کا محمدی معاشرے سے تقابلی جائزہ پیش کیا ہے۔ علاوہ بریں اس عروج کی خوش کن داستان کے بعد دنیا کی امامت و قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے کیسے جاتی رہی، زمام اقتدار کس طرح مادہ پرست یورپ کے ہاتھ میں آئی۔ اور ایسے میں مسلمانوں کا کیا ذمہ داریاں ہیں۔ ان تمام خیالات کو مولانا احسن انداز میں الفاظ کا زیور پہنایا ہے۔

دریائے کابل سے دریائے یرموک تک

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Biography

By Al Noor Softs

زیر مطالعہ کتاب’دریائے کابل سے دریائے یرموک تک‘ خطہ ارضی پر واقع چھ ممالک افغانستان، ایران، لبنان، شام، عراق اور اردن کی تہذیب وثقافت اور حالات و کیفیات اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ مکہ مکرمہ میں ’رابطہ عالم اسلامی‘ کے نام سے ایک ادارہ موجود ہے اس ادارے نے ایک وفد ان مذکورہ ممالک میں بھیجا۔ اس وفد کی قیادت محترم مصنف ابوالحسن ندوی نے کی۔ اس پروگرام کا مقصد مسلمانوں کے حالات و کیفیات، ان کے علمی و تہذیبی ادارے، اور ان کی ضرورتوں سے واقفیت حاصل کرنا اور وہاں کے باشندوں کو اس ادارے کے مقاصد سے آگاہ کرنا تھا۔ مولانا ابو الحسن ندوی نے اس دورے کی مکمل روداد سفر نامہ کے انداز میں قلمبند کر دی ہےجس سے ان ممالک کے حالات و حوادث کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ مصنف نے ان ممالک کی دینی، فکری، سیاسی واقتصادی صورتحال کی تصویر کشی کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری برتی ہے۔

ارکان اربعہ کتاب وسنت کی روشنی میں

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عبادات سے متعلق بیسیوں نہیں سیکڑوں کتب طباعت کے مراحل طے کر چکی ہیں جو افادہ عوام کا کام بہت کامیابی سے کر رہی ہیں۔ لیکن مولانا ابوالحسن ندوی نے زیر نظر کتاب ’ارکان اربعہ‘ میں جس ادبی پیرائے اور عصری اسلوب میں ارکان اسلام میں سے چار ارکان نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کی وضاحت کی ہے اور جس طرح ان کے مقاصد و اسرار کی جھلک دکھائی ہے یہ صرف انہی کا خاصہ ہے۔ محترم مصنف نے سب سے پہلے قرآن و حدیث کو سامنے رکھا، ان اراکین اربعہ کی حقیقت اور مقاصد و طریقہ کار کے بارے میں جو کچھ بیان ہوا ہے اس کا مطالعہ کیا پھر اس سلسلہ میں اَئمہ کرام کی کی گئی تشریحات کو سامنے رکھا پھر خدا تعالیٰ نے آپ پر ان ارکان کی حقیقتوں اور حکمتوں کے جو پہلو آشکار کئے ان کو قرطاس پر منتقل کرتے چلے گئے۔ اس کتاب میں وہ لوگ بھی کشش محسوس کریں گے جو متقدمین کے اسلوب کو قدیم خیال کرتے ہوئے ان کی فیوض و برکات سے محروم چلے آرہے ہیں۔ کتاب کی تیار ی میں شاہ ولی اللہ کی مشہور زمانہ کتاب ’حجۃ اللہ البالغہ‘ سے بھی کافی حد تک مدد لی گئی ہے۔ مصنف نے کتاب میں کسی جانبداری کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ کسی لگی لپٹی کے بغیر اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنایا ہے۔

المرتضیٰ

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

زیر تبصرہ کتاب چوتھے خلیفۃ الاسلام حضرت علی المرتضیٰ ؓکی سیرت پر لکھی گئی ہے۔ جس کے متعلق مصنف کا کہنا ہے کہ ان شخصیات میں جن کے حقوق نہ صرف یہ کہ ادا نہیں ہوئے بلکہ ان کے حق میں شدید بے انصافی روا رکھی گئی، حضرت علی بن ابی طالب ؓکی بلند و محبوب شخصیت بھی ہے، مخصوص حالات، خاص قسم کے عقائد اور چند نفسیاتی اسباب کی بنا پر ان کی سیرت پر بہت گہرے اور دبیز پردے پڑ گئے ہیں، ارباب بحث و تحقیق تو الگ رہے، خود وہ لوگ جو ان کی عظمت کے گن گاتے ہیں، اور ان کے نام پر اپنے عقائد کی عمارت تعمیر کیے ہوئے ہیں، انھوں نے بھی اکثر اوقات ان کی سیرت کا مطالعہ معروضی و تحقیقی انداز میں نہیں کیا اور پورے ماحول اور ان کے عہد کے تقاضوں اور دشواریوں کو سامنے رکھ کر امانت و غیر جانبداری کے ساتھ پیش نہیں کیا۔ کتاب کے مصنف مولانا سید ابو الحسن علی ندوی نے کتاب مرتب کرتے ہوئے مکمل غیر جانبداری کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے حضرت علی ؓکی پیدائش سے لے کر وفات تک کے تمام تر حالات و واقعات اور مختلف ادوار میں ان کا کردار کسی لگی لپٹی کے بغیر بیان کر دیا ہے۔ اپنے موضوع پر یہ کتاب نہایت مفید اور لائق مطالعہ ہے۔ جس کے عربی، اردو اور انگریزی زبان میں متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔(ع۔م)

تحقیق وانصاف کی عدالت میں ایک مظلوم مصلح کا مقدمہ

Authors: سید ابو الحسن علی ندوی

In Biography

By Al Noor Softs

تاریخ گزرے ہوئے زمانے کو اور افراد کوزندہ رکھتی ہے اور مستقبل اس گزری ہوئی تاریخ کی روشنی میں استوار کیا جاتا ہے اس لیے عام طور پر تاریخ کو بڑی احتیاط سے محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ بعد والے زمانےمیں گزرے ہوئے دور کی غلط تشہیر نہ ہو جائے-اسی چیز کی ایک مثال سید احمد شہید ؒ تعالی ہے کہ ہندوستان میں ان کے ساتھیوں اورحالات کی موجودگی کے باوجود ان کی تاریخی حیثیت کو یوں بیان کیا گیا کہ جیسے بہت پرانے ادوار کوکھنگالنے کی کوشش کی گئی ہو-برطانوی مؤرخین نے جس چشم پوشی کا اظہار کیا سو کیا کئی عرب مؤ رخین نے بھی تحقیق کیے بغیر ان واقعات کی روشنی میں سید احمد شہید کی تاریخ کو رقم کر دیا-جب یہ صورت حال ابو الحسن علی ندوی نے دیکھی تو انہوں نے اصل حقائق سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی اور تاریخ کے اس پہلو کو سچائی کے ذریعے بیضائی بخشی-انہوں نے عربی میں ایک رسالہ لکھا جس کا نام الأمام الذی لم یوف حقہ من الإنصاف والاعتراف رکھا اور اس کی افادیت کے پیش نظر اس کا اردو ترجمہ سيد محمدالحسنی سے خود کروایا اور اس کا نام'تحقیق وانصاف کی عدالت میں ایک مظلوم مصلح کا مقدمہ'خود ہی تجویزفرمایا-