eBooks

2,841 Results Found
ڈیپریشن کا علاج

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Knowledge

By Al Noor Softs

ڈپریشن ایک ایسا خطرناک مرض ہے۔ جو نہ صرف انسان کی جسمانی و نفسیاتی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ آپ کے سونے جاگنے، کھانے پینے حتیٰ کہ سوچنے تک پر اثر انداز ہوتا ہے۔آج کے زمانے میں یہ مرض اس قدر عام ہو چکا ہے کہ شاید ہی دنیا کا کوئی شخص اس سے محفوظ بچا ہو۔ مردوں کے مقابلے میں خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔معاشرے کے بڑھتے ہوئے مسائل ،کم آمدنی اور زائد اخراجات، گھریلو پریشانیاں اور ملک کے بگڑتے ہوئے حالات نے انسان کو ڈپریشن کا شکار بنا دیا ہے۔ہر روز ہمیں کسی نہ کسی ایسی صورت حال سے گزرنا پڑتا ہے جس سے ہم مزید الجھنوں، ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ زیر نظر رسالہ بعنوان’’ڈیپریشن کا علاج‘‘ ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ﷾ (مصنف کتب کثیرہ) کی فیس بک پر ڈیپریشن کے موضوع پر پبلش شدہ تحریروں کا مجموعہ ہے ۔ موصوف نے اپنے بعض دوستوں کے اصرار پر فیس بک پر نشر شدہ تحریروں میں کچھ اضافہ وایڈٹینگ کر کے اسے ایک کتابچہ کی صورت میں مرتب کردیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام تدریسی ، تحقیقی وتصنیفی کاوشوں کو شرفِ قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

سیکس سائیکالوجی اور سوسائٹی

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Knowledge

By Al Noor Softs

جنسی تعلیم سے مراد عمر کے ساتھ ساتھ بچوں میں جو جسمانی اور ذہنی تبدیلیاں آتی ہیں، ان سے متعلق مسائل سے آگاہی اور ان نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے دینی اور سائنسی معلومات فراہم کرنا ہے. والدین کے لیے یہ تربیت جب ہی ممکن ہے جب وہ اس کی ضرورت محسوس کریں اور انہیں خود ان مسائل سے آگاہی ہو اور اولاد ایک دوست کی مانند ان کے اس طرح قریب ہو کہ ان سے ہر موضوع پر بات کی جا سکے. زیر نظر رسالہ’’ سیکس سائیکالوجی اور سوسائٹی ‘‘معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ﷾(مصنف کتب کثیرہ،اسسٹنٹ پروفیسر کامساٹس یونیورسٹی،لاہور) کی کاوش ہے ۔ یہ کتابچہ موصوف کی ان پوسٹوں پر مشتمل ہے جو پہلےفیس بک ٹائم لائن اور پیج پر شیئر کی گئی تھیں۔ یہ تحریریں مختلف اوقات میں نوجوانوں کے اس موضوع پر کیےگیے سوالات کےجواب میں لکھی تھیں اب انہی تحریروں کو تہذیب وتنقیح اور بعض اضافوں کے ساتھ ایک کتابچے کی صورت میں کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیاگیا ہے اللہ تعالیٰ ڈاکٹر حافظ زبیر ﷾ کی تحقیقی وتصنیفی ،تبلیغی وتدریسی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے ان علم وعمل میں مزید خیر وبرکت فرمائے ۔(م۔ا)

اسلامائزیشن آف سائنس

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلام اور سائنس کے موضوع پر مختلف بیانیے اس وقت موجود ہیں ان میں ایک بیانیہ حسن عسکری صاحب کا ہے ۔حسن عسکری صاحب کے بیانیے نے انصاری مکتب فکر سے وابستہ بہت سے اہل فکر ودانش کو متاثر کیا ہے۔ ان حضرات کی تحریریں ماہنامہ’’الساحل‘‘ کراچی میں پبلش ہوتی رہی ہیں۔ خالد جامعی صاحب نے خاص طور اس موضوع پر کافی کچھ لکھا ہے اور لکھتے رہتے ہیں۔معروف مذہبی سکالر ڈاکٹر حافظ محمد زبیر ﷾(مصنف کتب کثیرہ،اسسٹنٹ پروفیسر کامساٹس یونیورسٹی،لاہور) نے زیر نظر کتابچہ بعنوان’’ اسلامائزیشن آف سائنس‘‘ میں اس موضوع کے متعلق چند ایک معروف بیانیوں کو موضوع بحث بنایا ہے۔ اس کتابچے میں سب سے زیادہ زیر بحث حسن عسکری صاحب کا بیانیہ رہا ہے۔ڈاکٹرحافظ زبیر صاحب کو حسن عسکری صاحب اور ان کے متبعین کے نقطہ نظر سے بالکل بھی اتفاق نہیں ہے لیکن ڈاکٹر زبیر صاحب کے نزدیک ان کی تحریریں اس اعتبار سے قابل ستائش ہیں کہ کسی نے اس موضوع پر کھل کر اظہار خیال تو کیا ہے اور ایک بیانیہ تو پیش کیا ہے۔نیزسائنس اور ٹیکنالوجی کے حوالے سے جو نقطہ نظر انصاری مکتب فکر سے وابستہ حضرات پیش کر رہے ہیں، اس میں اضافی سچائی (relative truth) موجود ہے اگرچہ وہ کل حقیقت نہیں ہے۔ اگر یہ حضرات اسے حقیقت کے مطالعے کے لیے ایک زاویے کے طور پیش کریں تو بات پھر بھی چل جائے لیکن جب وہ اسے کل حقیقت بنا کر پیش کرتے ہیں تو پھر بات بگڑ جاتی ہے اور ایک ایسی فکر سامنے آتی ہے جو عدم توازن کا شکار لگتی ہے۔ ڈاکٹر زبیر صاحب کا یہ کتابچہ اسی حوالے سے اس حسن عسکری اور انصاری مکتب فکر سے وابستہ حضرات کے بیانیے پر ایک نقد ہے۔ صاحب کتابچہ کا ان حضرات کے بیانیے سے بنیادی اختلاف یہ ہےکہ سائنس فی نفسہ شر نہیں ہے بلکہ اس کا استعمال اسے خیر اور شر بنا دیتا ہے جبکہ ان حضرات کا اصرار یہ ہے کہ سائنس فی نفسہ شر ہے۔ زیر نظر کتابچہ اس موضوع پر ڈاکٹر زبیر صاحب کی فیس بک کی تحریروں کا مجموعہ ہے۔ جنہیں حافظ زبیر ﷾ نے تہذیب وتصحیح اور حک واضافے کے ساتھ شائع کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ڈاکٹر حافظ زبیر ﷾ کی تحقیقی وتصنیفی ،تبلیغی وتدریسی اور صحافتی خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے ان علم وعمل میں مزید خیر وبرکت فرمائے ۔(م۔ا)

روایت اور جدیدیت

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Knowledge

By Al Noor Softs

"روایت اور جدیدیت" چند تحریروں کا مجموعہ ہے جو پہلے پہل فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کی گئی تھیں۔ بعض دوستوں کا تقاضا تھا کہ انہیں ایک کتابچے کی صورت جمع کر دیا جائے تو اس غرض سے ان تحریروں کو ضروری ایڈیٹنگ اور کچھ اضافوں کے بعد ایک کتابچے کی صورت جمع کیا گیا ہے کہ جسے فیس بک اور واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا جا سکتا ہے۔ اس کتابچے کا شان نزول یہ ہے کہ ہمارے ایک قریبی دوست جناب مراد علوی صاحب جو اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں شعبہ سیاسیات میں زیر تعلیم ہیں اور دین کا بہت ہی درد رکھنے والے طالب علم ہیں، کچھ عرصہ سے فکر اہل حدیث اور علمائے اہل حدیث پر گاہے بگاہے کچھ پوسٹیں لگا رہے تھے۔ خیر اہل حدیث علماء سے اختلاف یا ان پر نقد تو کوئی ایسا ایشو نہیں ہے کہ جس پر کوئی جوابی بیانیہ تیار کیا جائے کہ کسی بھی مسلک کے علماء ہوں، ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور ان پر نقد بھی ہو سکتا ہے لیکن فکر اہل حدیث ہماری نظر میں ایک ایسی شیء ہے کہ جس پر نقد کا جواب دینا ہم ایک دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اور فکر اہل حدیث سے ہماری مراد کتاب وسنت کی طرف رجوع کی دعوت ہے جو کہ خود کتاب وسنت ہی کی دعوت ہے۔ مراد علوی صاحب کی اس تحریر میں رجوع الی القرآن کی ہر تحریک کو مارٹن لوتھر کی تحریک کا تاثر قرار دیا گیا تھا اور کچھ ایسا ہی موقف جناب حسن عسکری صاحب ؒ نے اپنی کتاب "جدیدیت" میں بھی پیش کیا ہے کہ جس کا تفصیل سے رد ہم نے اپنے کتابچے "اسلامائزیشن آف سائنس" میں کیا ہے۔ فیس بک پر ہی ڈاکٹر زاہد صدیق مغل صاحب نے بھی اس بحث میں حصہ لیا اور ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کی تحریک رجوع الی القرآن کو روایت ہی کا تسلسل سمجھتے ہیں البتہ اہل حدیث کے بارے ان کا کہنا تھا کہ ان میں جدیدیت ہے۔ تو اس کے جواب میں ہمارا کہنا یہ تھا کہ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ کو روایت پسند ہونے کا تمغہ صرف اس لیے دیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو نیم مقلد کہتے تھے جبکہ فقہ، کلام اور تصوف کی تینوں روایات کے بارے جو سختی اور رد ان کے بیانات میں موجود ہے، اہل حدیث کے ہاں عام طور نہیں ملتی۔ تو اہل حدیث کو بعض فکری احناف کی طرف سے صرف اور صرف مسلکی تعصب میں جدیدیت کا نمائندہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ بھی وہی نعرہ لگاتے ہیں یعنی رجوع الی القرآن جو اہل حدیث نے لگایا ہے یعنی رجوع الی الکتاب والسنۃ۔ ڈاکٹر اسرار احمد ؒ نے تو فقہ کو دور ملوکیت کی پروردہ ، علم کلام کو قوالی اور مروجہ تصوف کو بدعت قرار دیا ہے۔ اب لوگ پڑھیں تو معلوم ہو کہ کس کا کیا موقف رہا ہے۔ تو اہل حدیث کو جدیدیت کا نمائندہ قرار دینا یہ مسلکی تعصب کا شاخسانہ ہے۔ اور مسلکی تعصب، مسلکی تعصب ہی کو جنم دیتا ہے۔ بہرحال اس کتابچے میں ہم نے بہت اچھے سے کتاب وسنت کی روایت کے ساتھ ساتھ فقہ، کلام اور تصوف کی روایتوں کے بارے فکر اہل حدیث کا موقف بیان کر دیا ہے۔ اور یہ وہی موقف ہے جو ائمہ اربعہ کا تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو خیر القرون میں رائج تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو صحابہ وتابعین کا تھا۔ اور یہ وہی موقف ہے جو سلف صالحین کا تھا کہ روایت دو قسم پر ہے؛ ایک کتاب وسنت کی اور یہی اصل روایت ہے اور اس کی تو غیر مشروط اطاعت کی جائے گی اور اہل حدیث اس کے پورے طور قائل ہیں۔ اور رہی فقہ، کلام اور تصوف کی روایت تو اس کے ساتھ ہمیں تمسک اختیار کرنا ہے لیکن اس کی اصلاح کی پوزیشن لیتے ہوئے نہ کہ تقلیدی جمود کی کہ جس کا نتیجہ روایت پسندی نہیں بلکہ روایت پرستی ہے۔ ( ڈاکٹر حافظ محمد زبیر )

ازدواجی زندگی مسائل اور حل

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

بلاشبہ ہماری سوسائٹی میں اس وقت خاندان کا ادارہ بری طرح سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ سال بھر میں اتنی شادیاں نہیں ہوتیں کہ جتنی طلاقیں یا علیحدگیاں ہو جاتی ہیں ۔ شوہر کو بیوی سے شکایات ہیں اور بیوی کو شوہر سے۔ شوہر کا کہنا ہے کہ بیوی اس کے حقوق ادا نہیں کرتی تو بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر اس کے حقو ق ادا نہیں کر رہا ۔ میاں بیوی دونوں ایک دوسرے کے بارے میں نفرت اور غصے کے جذبات سے بھرے ہوئے ہیں اور انہی کیفیات کے ساتھ یا تو علیحدہ ہو جاتے ہیں یا پھر کڑھ کڑھ کر اور سڑ سڑ کر زندگی کے دن گزارتے رہتے ہیں۔ ایسے میں نہ صرف وہ خود نفسیاتی مریض بن جاتے ہے بلکہ روز روز کے لڑائی جھگڑے دیکھ کر اولاد میں بھی ایبنارمل ایٹی چیوڈ پروان چڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ تو یہ وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے کہ مذہب اور نفسیات کی روشنی میں میاں بیوی کے مسائل اور ان کے حل کو ڈسکس کیا جائے۔ اور اس بارےبڑے بڑے شہروں میں ایونٹ کمپلیکسز یا شادی ہالز میں ایک روزہ میریٹل لائف ورکشاپس کروائی جائیں کہ جن میں بکھرے ہوئے خاندانوں (broken families) یا وہ جو ٹوٹنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، کے ایشوز کو ایڈریس کیا جائے اور مذہب اور سائیکالوجی کی روشنی میں ان کی رہنمائی کی جائے۔ بہرحال یہ کام تو کسی ادارے کے کرنے کا ہے لیکن جو میں کر سکتا تھا، وہ یہ کہ اس بارے کئی ایک فیملیز کی کاؤنسلنگ کا موقع ملا اور اس کے نتیجے میں “ ازدواجی زندگی: مسائل اور حل” کے عنوان سے ایک مختصر تحریر مرتب کر دی ہے کہ جس سے میاں بیوی کو اپنے مسائل سمجھنے اور انہیں حل کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ اور کتاب جلد ختم کرنے کی بجائے لفظوں پر غور کر کر کے مطالعہ کریں کہ بعض مقامات پر بات گہری ہے، اس سے باہمی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ یہ کتابچہ دراصل میری ان تحریروں کا مجموعہ ہے جو ازدواجی زندگی کے مسائل اور حل کے حوالے سے میری دو کتابوں “صالح اور مصلح” اور “مکالمہ” میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان تحریروں کی اہمیت کے پیش نظر انہیں اب علیحدہ کتابچے کی صورت میں پبلش کیا جا رہا ہے۔ ہر شادی شدہ کو اور جس کی شادی قریب ہے، اس کتابچے کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے، بہت فائدہ ہو گا،ان شاء اللہ۔ [ڈاکٹر حافظ محمد زبیر]

آسان دین

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عرصہ ہوا کہ فیس بک پر آسان دین کے عنوان سے ایک سلسلہ ہائے مضامین مکمل کیا تھا کہ بہت سے دوستوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان مضامین کو یکجا کر کے کسی کتابچے کی صورت شائع کر دیا جائے تو اسی غرض سے یہ کتابچہ مرتب کیا گیا ہے۔ اور مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ آسان دین کے نام سے اس کتابچے میں جو کچھ میں نے لکھا ہے یہ تصویر کا ایک رخ ہے، مکمل تصویر نہیں ہے۔ لیکن یہ تصویر کا وہ رخ ضرور ہے کہ جسے مذہبی حلقوں کی طرف سے لوگوں کے سامنے پیش نہیں کیا گیا لہذا مجھے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ تصویر کے اس رخ کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تا کہ دین کی سخت گیری کا جو روایتی تصور اس وقت سوسائٹی میں عام ہو چکا ہے، اس میں اعتدال پیدا ہو۔ اللہ عزوجل ہم سب کی علمی کاوشوں کو شرف قبولیت عطا فرمائے، آمین۔(م۔ا)

تعلق کی سائنس

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

"تعلق کی سائنس" چند تحریروں کا مجموعہ ہے جو پہلے پہل فیس بک ٹائم لائن پر شیئر کی تھیں تو بہت سے دوستوں کا تقاضا تھا کہ انہیں ایک کتابچے کی صورت جمع کر دیا جائے تو اس غرض سے ان دس تحریروں کو ایڈیٹنگ اور حک واضافے کے بعد ایک کتابچے میں جمع کیا گیا ہے۔ فیس بک کا اپنا ایک مزاج ہے لہذا بہت سی چیزیں وہاں لکھنے میں چل جاتی ہیں لیکن کتابی صورت میں انہیں بیان کرنا مناسب نہیں ہوتا لہذا میں جب بھی فیس بک کی تحریروں کو کتابی صورت میں شائع کرتا ہوں تو ان کی کافی کچھ ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ تعلق پر گفتگو کرنے سے پہلے تعلق کی فلاسفی کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی تناظر میں اگر ہم گفتگو کریں تو ایک لفظ میں تعلق کی فلاسفی "آزمائش/امتحان" ہے۔ اللہ عزوجل نے تعلق کو ہماری آزمائش/امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ آزمائش/امتحان کو آپ تعلق سے کسی صورت جدا نہیں کر سکتے، کسی بھی تعلق سے۔ یہ دونوں یعنی تعلق اور آزمائش/امتحان آپس میں لازم وملزوم ہیں کہ جہاں تعلق ہے وہاں آزمائش/امتحان لازما ہے۔ تو انسانی تعلق راحت بھی ہے اور اذیت بھی۔ محبت بھی اس کی ایک جہت ہے اور نفرت بھی اس کا لازمہ ہے۔ اور دونوں صورتوں میں ہی یہ آزمائش ہے، کبھی محبت کی صورت میں تو کبھی نفرت کی صورت میں۔ کبھی پروردگار ہمیں محبت سے آزماتے ہیں اور کبھی نفرت سے۔ اور دونوں قسم کے جذبات میں اعتدال پر رہنا ہی آزمائش/امتحان میں کامیابی ہے اور یہی اعتدال انسان سے مطلوب ہے۔اس کتاب میں تعلق کی فلاسفی، اصول، اہمیت وضرورت، وجوہات اور اقسام، عشق، محبت، ہم جنس سے تعلق وغیرہ جیسے مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ [ڈاکٹر حافظ محمد زبیر]

مکالمہ جلد۔1

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Knowledge

By Al Noor Softs

راقم کی یہ کوشش رہی ہے کہ روزانہ فیس پر کسی علمی، تحقیقی اور فکری مسئلے میں کوئی مختصر تحریر شیئر کر دی جائے۔ اس طرح تین سال کے عرصے میں کافی ساری تحریریں جمع ہو گئیں کہ جن میں سے اکثر تحریریں مختلف دوستوں کے سوالات کے جوابات میں تھیں۔ ان میں سے اکثر موضوعات اس قابل تھے کہ انہیں کتابی صورت دی جاتی تو ان تحریروں میں سے منتخب تحریروں کی تہذیب وتنقیح کے بعد انہیں “مکالمہ” کے عنوان سے ایک کتاب کی صورت میں جمع کیا گیا ہے۔ بعض دوستوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ میری فیس بک تحریریں کاپی کر کے اپنے پاس کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ وغیرہ میں محفوظ کر لیتے ہیں کہ وہ انہیں اچھی لگتی ہیں اور وہ دوسروں کو بھی فارورڈ کرتے رہتے ہیں۔ تو اس سے یہ احساس پیدا ہوا کہ خود سے ہی ان تحریروں کو جمع کر کے ایک کتابی صورت دے دی جائے۔ پھر یہ بھی ہوا کہ بعض ویب سائیٹس مثلاً “دلیل” وغیرہ پر بعض تحریریں کالموں کی صورت میں جب شائع ہوئیں تو بعض کالموں کے ویورز کی تعداد پچاس ہزار کو بھی پہنچ گئی اور ان کو شیئر کرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو گئی۔ تو اس سے بھی توجہ ہوئی کہ کچھ تحریروں میں جان ہے اور موضوع بھی اہم اور وقت کی ضرورت ہے لہذا انہیں شائع ہو جانا چاہیے۔ پس اسی پس منظر میں یہ تحریریں کتابی صورت میں جمع کی گئی ہیں کہ شاید اس سے اس احساس کو بھی تقویت ملے کہ فیس بک پر سب فضول کام نہیں ہو رہا، یا صرف وقت ہی ضائع نہیں ہو رہا بلکہ کچھ نہ کچھ کام کی بات بھی ہو رہی ہے۔ یہ کتاب دراصل مدارس سے فارغ التحصیل نوجوان محققین کے لیے مرتب کی گئی ہے اور اس کا مقصد مکالمہ کے اصول سکھلانا ہے کہ استدلال کیسے کرنا ہے؟ جن محققین کو اس کتاب میں پیش کیے گئے نتائج فکر وتحقیق سے اتفاق ہو توان کے لیے تو یہ مفید ہے ہی لیکن جنہیں نتائج سے اتفاق نہ بھی ہو تو اگر وہ ذہین ہوئے تو اس کتاب کے مطالعے سے ان میں استدلال کرنے کی صلاحیت پروان چڑھے گی جیسا کہ ابن رشد کی کتاب "بداية المجتهد" کا مقصد بھی ہے لیکن وہ فقہی کتاب ہے جبکہ یہ فکری تصنیف ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ درس نظامی کے علوم وفنون کا، استدلال واستنباط میں استعمال، نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ منطق کے حفاظ بھی روز مرہ مکالمے میں اس کے استعمال اور تطبیق کی تربیت نہیں رکھتے ہیں۔ تو اس کتاب کا ایک بڑا مقصد یہ ہے کہ روایتی علوم وفنون کی بنیادی مصطلحات اور ان کی تطبیق کی روشنی میں اپنے موقف کو ثابت کرنے کی تربیت پائی جائے۔ اب میرے خیال میں، میں اپنی کتاب کی کافی تعریفیں کر چکا ہوں اور آپ میں بھی اس کے پڑھنے کا اشتیاق بیدار ہو چکا ہو گا لہذا اتنا تعارف ہی کافی ہے۔ یہ کتاب تین جلدوں اور 17 ابواب پر مشتمل ہے اور فی الحال اس کی پہلی جلد پیش خدمت ہے۔

وجود باری تعالیٰ۔ فلسفہ، سائنس اور مذہب کی روشنی میں

Authors: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر

In Faith and belief

By Al Noor Softs

وجود باری تعالی فلسفہ، سائنس اور مذہب تینوں کا موضوع رہا ہے۔ عام طور اصطلاح میں اُس علم کو الہیات (Theology) کا نام دیا جاتا ہےکہ جس میں خدا کے بارے بحث کی گئی ہو۔ اس کتاب میں ہم نے فلسفہ ومنطق، سائنس وکلام اور مذہب وروایت کی روشنی میں وجود باری تعالی کے بارے میں بحث کی ہے۔ وجود باری تعالی کے بارے بڑے نظریات (mega theories) چار ہیں۔ نظریہ فیض، نظریہ عرفان،نظریہ ارتقاء اور نظریہ تخلیق۔ یہ واضح رہے کہ چوتھے نقطہ نظر کو ہم محض اس کی تھیورائزیشن کے عمل کی وجہ سے تھیوری کہہ رہے ہیں کہ اب اس عنوان سے نیچرل اور سوشل سائنسز میں بہت سا علمی اور تحقیقی کام منظم اور مربوط نظریے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے جبکہ حقیقت کے اعتبار سے یہ محض تھیوری نہیں بلکہ امر واقعی ہے۔ پہلا اور دوسرا نقطہ نظر فلاسفہ کا ہے کہ جو افلاطونی، نوافلاطونی، مشائین، اشراقین، عرفانیہ اور حکمت متعالیہ میں منقسم ہیں۔ افلاطونی اور مشائین کے علاوہ بقیہ کے ساتھ صوفی ہونے کا ٹیگ بھی لگا ہوا ہے دراں حالانکہ یہ صوفی کی بجائے دراصل افلاطونی، مشائی اور نوافلاطونی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی گروہ وجود باری تعالی کے مسئلے میں متقدمین اور محققین صوفیاء پر اعتماد نہیں کر رہا بلکہ صحیح معنوں میں افلاطون (348-424 ق م)، ارسطو (348-424 ق م)اور فلاطینوس (205-270ء) کے رستے پر ہیں۔ تیسرا نقطہ نظر دہریوں اور منکرین خدا (Atheists) کا ہے کہ نیچرل سائنسز کے رستے ماہرین حیاتیات (Biologists) اور ماہرین طبیعیات (Physicists) کی ایک جماعت نے اس نظریے کو اختیار کیا ہے۔ وجود کے بارے یہ موقف نظریاتی فزکس اور نظریاتی بائیالوجی کے ماہرین کے ہاں معروف ہے۔ چوتھا نقطہ نظر صحابہ، تابعین، تبع تابعین، ائمہ اربعہ، محدثین عظام، متقدمین صوفیاء اور متکلمین رحمہم اللہ کا ہے۔ دوسرے نقطہ نظر نے صرف خالق کے وجود کو حقیقت جبکہ تیسرے نے صرف مخلوق کو حقیقت جانا۔ اور پہلے اور چوتھے نقطہ نظر میں خالق اور مخلوق دونوں کا وجود الگ الگ حقیقت ہیں۔ اس کتاب میں تین ابواب میں تینوں مکاتب فکر کےچاروں نقطہ ہائے نظر کا عقلی ونقلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔