eBooks
2,841 Results Found
قلم کے آنسو جلد اول
Authors: محمد طاہر نقاش
In Knowledge
اللہ تعالی نے انسان کی فطرت ہی کچھ ایسی بنائی ہےکہ قصے، واقعات اور داستانیں اس پر فورا اثر انداز ہوتی ہیں جبکہ فلسفیانہ موشگافیاں ہزاروں میں سے چند ایک کی طبیعت کو تو راس آ سکتی ہیں لیکن عام انسان کے طبیعت وفطرت عموما اس سے گریزاں ہی رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی اس فطرت کو سامنے رکھتے ہوئےقرآن مجید میں بے شمار قصے اور واقعات بیان کئے ہیں۔نبی کریم ﷺنے اپنے فرمودات میں پہلی قوموں کے متعدد واقعات بیان کئے ہیں۔ان سچے قصوں کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان اچھے کردار کو اپنانے کی کوشش کرتا ہے اور برے کردار سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔زیر تبصرہ کتاب" قلم کے آنسو " جماعت الدعوہ پاکستان کے مرکزی رہنما اور پاکستان کے معروف کالم نگار محترم جناب طاہر نقاش صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے جماعت کے ہفتہ وار چھپنے والے اخبار غزوہ میں تعاقب کے نام سے چھپنے والے اپنے کالمز کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔اللہ تعالی نے موصوف کو رواں قلم اور شستہ تحریر کی صلاحیتوں سے نوازا ہے۔آپ نے اپنے ان کالمز میں معاشرتی مسائل کی نشاندہی کی ہے اور ان کالمز کو پڑھ کر بے شمار لوگوں نے اپنی اصلاح کی اور سیدھے راستے پر چلنا شروع کردیا۔آپ کے یہ کالم قارئین غزوہ میں انتہائی مقبول ومعروف تھے۔ ان کالمز کی اسی مقبولیت کی بناء پر انہیں ایک جگہ جمع کردیا گیاہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
دنیا کی سب سے خوش نصیب عورت
Authors: محمد طاہر نقاش
اس عارضی دنیا میں مختلف ممالک میں مختلف قوموں میں خوش نصیبی کے معیار مختلف ہیں ۔ کوئی دولت کی فروانی کو خوش نصیبی کی علامت جانتا ہے تو کوئی سامان تعیش کوٹھی، کار، بنگلہ، زمینوں وغیرہ کو اورکوئی اونچےحسب ونسب کو تو کوئی اعلیٰ وممتاز کلیدی عہدوں کےمل جانے کو خوشی نصیبی کا باعث سمجھتا ہے ۔کوئی عورت خاوند کی محبوبہ بن جانے کو او رکوئی زیادہ تعداد میں بیٹوں کےملنے اورمستقبل میں اپنے دست وبازوں بننے کواپنی خوش قسمتی کی ضامن سمجھتی ہے۔کوئی اپنے عارضی اور چند روزہ حسن کواپنی خوش نصیبی کاباعث سمجھتی ہے او رکوئی اعلیٰ عصری تعلیم کی ڈگری کو اپنی خوش نصیبی کا سبب گردانتی ہے.... ایسے ہی اور بہت سے معیارات ہیں دنیا کےمختلف حصوں میں جن کو خوش نصیبی کا ضامن اور سبب جانا جاتا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’دنیا کی سب سے خوش نصیب عورت‘‘ ڈاکٹر عائض القرنی کی مشہور عربی کتاب ’’ اسعد المرأة فی العالم‘‘ کا اردو ترجمہ ہے۔یہ کتاب قرآن وحدیث کی روشی میں عورت کو دنیا کی سب سے خوش نصیب عورت بننے کے گن اور گر سکھاتی ہے۔ اسلام ، مرد وعورت دونوں کوایسی راہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے جس پر چل کر وہ دنیا وآخرت میں خوش وسلامتی کےساتھ زندگی بسر کرسکتے ہیں۔اس کتاب میں مصنف نے عورتوں سے خطاب کیاہے اور بتایا ہے کہ کیسے دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کر کے ایک عورت خوش وخرم رہ سکتی ہے او راسی طرح اس عورت کے گھر کے لوگ بھی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے عورت اپنے منفی پہلوؤں سے ابھر کر مثبت کواجاگر کر سکتی ہے۔ انسان کے سوچ اور جذبات کی بگاڑ کئی مصائب وپریشانیوں کو دعوت دیتی ہے ۔اس کتاب میں قرآن وحدیث کی روشنی میں میں عورت کی سوچ کی اصلاح کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اس کے جذبات کوایک صحیح سمت دکھائی گئی ہے۔ یہ کتاب اپنے موضوع میں اس قدر اہم ہےکہ اس کتاب کو ہرمدرسہ ، اکیڈمی ، کالج یونیورسٹی میں بطور نصاب شامل کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوراسے خواتین اسلام کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
حسن عقیدہ
Authors: محمد طاہر نقاش
اعمالِ صالحہ کی قبولیت کامدار عقائد صحیحہ پر ہے اگر عقیدہ کتاب وسنت کے عین مطابق ہے تو دیگر اعمال درجہ قبولیت تک پہنچ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انبیاء ورسل کو عام انسانوں کی فوز وفلاح اور رشد وہدایت کے لیے مبعوث فرمایا تو انہوں نے سب سےپہلے عقیدۂتوحید کی دعوت پیش کی کیونکہ اسلام کی اولین اساس و بنیاد توحید ہی ہے عقیدہ کاحسن ہی جو انسان کو کامیاب و کامران بناکر اللہ کی رضامندی او رخوشی کاسرٹیفکیٹ فراہم کرتا ہے ۔اگر عقیدہ قرآن وحدیث کے مطابق ہوگا تو قیامت کے دن کامیاب ہوکر حضرت انسان جنت کا حقدار کہلائےگا،اوراگر عقیدہ خراب ہوگا تو جہنم میں جانے سے اسے کوئی چیز نہ روک سکے گی۔زیر نظر کتاب بھی عقیدہ کی اصلاح کے لیے ایک اہم کتاب ہے جوکہ عرب کے نامور عالمِ دین فضلیۃ الشیخ محمد بن جمیل زینو﷾کی سوال وجواب کے انداز میں عربی تصنیف کا ترجمہ ہے اردو ترجمہ کی سعادت دار الابلاغ کے مدیر جناب طاہر نقاش ﷾ نے حاصل کی ہے اور اسے طبا عت کے اعلی معیار پر شائع کیا ہے ترجمہ انتہائی عام فہم اور سلیس ہے اللہ اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔(م۔ا)
انمول موتی
Authors: محمد طاہر نقاش
بڑے لوگوں کی بعض باتیں ان کے تجربے کی ترجمان اور ان کی زندگی کا نچوڑ ہوتی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’انمول موتی‘ میں ایسے لوگوں کی ان قیمتی باتوں کو جمع کیا گیا ہے جو ہماری زندگیوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ مشہور کہاوتیں، ضرب الامثال اور اقوال زریں کو بھی کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ جن لوگوں کے اقوال و ارشادات کو اس کتاب میں جگہ دی گئی ہے ان میں نبی کریمﷺ، صحابہ کرام، مسلم دانشور، سیاستدان اور بہت سارے مغربی مفکرین وغیرہ شامل ہیں۔ مغرب کی ایسی مثبت چیزیں جو اسلام سے متصادم نہیں ہیں ان کو لینے سے اسلام ہمیں منع نہیں کرتا۔ کیونکہ حکمت ایک مومن کی گمشدہ متاع ہے وہ جہاں سے بھی ملے اسے لے لینا چاہیے۔ محمد طاہر نقاش صاحب وقتاً فوقتاً بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے کتب شائع کرتے رہتے ہیں یہ کتاب بھی ان کتب میں ایک اچھا اضافہ ہے جو بچوں کے ساتھ ساتھ بڑوں کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔(ع۔م)
حیرت کی انتہا
Authors: محمد طاہر نقاش
In Arguments
دنیا میں ایسے بہت سے عجوبے رونما ہو چکے ہیں، اور بہت سی ایسی عجیب و غریب حقیقتیں منکشف ہو چکی ہیں کہ جن کو انسانی عقل تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن آخر کار حضرت انسان کو ان حقائق کو تسلیم کیے بغیر چارہ کار نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ ایسا ہو چکا ہوتا ہے اور اب بھی ہو رہا ہوتا ہے اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی ان ناقابل یقین سچائیوں کو ماننا پڑتا ہے۔ زیر مطالعہ کتاب ’حیرت کی انتہا‘ میں ایسے بہت سے محیر العقول واقعات و حقائق بیان کیے گئے ہیں جو انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیں گے۔ ان معلومات کے مطالعے سے نوجوان ذہنوں کو مہمیز لگتی ہے، فکر کی دنیا پر ایک نئی کھڑکی کھلتی ہے اور اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی کائنات میں دلچسپی بڑھتی ہے۔ آپ کو ان صفحات پر دنیا کے دوسرے ملکوں اور معاشروں کے ساتھ ساتھ پاکستان بھی نظر آئے گا۔ کتاب کے مرتبین طاہر نقاش اور نثار احمد میاں ہیں۔ کتاب میں موجود معلومات اور خبروں کے ماخذ کا کوئی اشارہ نہیں دیا اگر ان کا ماخذ بھی ساتھ ساتھ درج کر دیا جاتا تو کتاب کی افادیت میں اضافہ ہو جاتا۔ ویسے یہ معلومات اس قدر پرتکلف اور حیرت ناک ہیں کہ کتاب کو شروع کرنے کے بعد ختم کیے بغیر بند کرنے کو جی نہیں چاہتا۔(ع۔م)
دیو آگئے
Authors: محمد طاہر نقاش
بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’اندلس کی شہزادی‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کے لیے اس کتاب میں اور بھی سچی تاریخی اسلامی تربیتی و منہجی کہانیاں ہیں جو بچوں کی تربیت میں اہم کردار ادا کریں گے۔ (ع۔م)
بادشاہ کا ہاتھ کاٹ دو
Authors: محمد طاہر نقاش
In Arguments
بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ اسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے محترم طاہر نقاش نے تاریخ کے سچے واقعات کو کہانی کے انداز میں بیان کرنے کاسلسلہ شروع کیا ہے۔ ’جب فرشتہ بھیس بدل آ گیا‘ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں ایک فرشتہ اندھے کا روپ دھار کر زمین پر آ جاتا ہے اور پھر وہ اور بھی روپ بدلتا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد واقعات شامل کتاب کیے گئے ہیں۔ یہ مفید تربیتی کہانیاں ننھے مجاہد اور بعض دوسرے رسائل و جرائد سے اخذ کی گئی ہیں۔ (ع۔م)
جب فرشتہ بھیس بدل کر آگیا
Authors: محمد طاہر نقاش
بچوں کے لیے عام طور پر ہمارے ہاں کہانیوں اور لطیفوں کی ایسی کتب مروج ہیں جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہوتی ہیں اور زیادہ تر کہانیوں میں پیسے اور دولت کی محبت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات اور کہانیاں بجائے بچوں کی تربیت کے ان کے اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ بچوں کےلیے ایسی کہانیاں مرتب کی جائیں جو ان کی دلچسپی کا بھی باعث ہوں اور ان کی بہتر تربیت بھی ہو سکے۔ ’فرشتہ اندھے کے روپ میں‘ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں بچوں کی تربیت کے لیے متعدد کہانیاں رقم کی گئی ہیں۔ ان کہانیوں میں موت کے پیچھے پیچھے، 100 جانوں کا قاتل، اللہ کی اونٹنی، بوڑھا بیٹا، اذان کیسے شروع ہوئی اور جب فرشتہ بھیس بدل کر آ گیاقابل ذکر ہیں۔اگر ہم بچوں کو ویڈیو گیمز اور کارٹونز کا رسیا بنانے کے بجائے اس قسم کی کتب کی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو اس کےبہت اچھے ثمرات جلد ہی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔(ع۔م)
اندلس کی شہزادی
Authors: محمد طاہر نقاش
In Knowledge
ادب کی ایک مایہ ناز قسم قصص اورکہانیاں ہیں۔ان کےذریعے انسانی ذہن کو بڑی حسن وخوبی اور احسن انداز کےساتھ تبدیل کیا جاسکتاہے۔یہ ادب کی ایک بہت پرانی قسم ہے۔بلکہ اگر کہاجائے تو بےجانہ ہوگا کہ آغاز انسانیت سے ہی اس پر توجہ دی گئی ہے۔ پھر اس سے بھی بھڑ کریہ ہےکہ اس صنف ادب کو بیان کرناہر انسان کے بس کی بات نہیں۔ایک کہانی کو سمجھنااو ر اس کےتمام واقعات کی کڑیوں کو باہم مربوط کرکےبیان کرنااوروہ بھی ایک ادبی چاشنی کےساتھ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ان معروضا ت سے بھڑ کر مزیدیہ ہےکہ ایک سچے تاریخی واقعےکو کہانی کا رنگ دےکر اس میں چاشنی بھی بھرنااور اس کی سچائی بھی متاثرنہ ہونےدینا یہ اس سے بھی مشکل فن ہے۔جناب طاہر نقاش صاحب کو اللہ تعالی نے اس میں بہت زیادہ مہارت عطافرمائی ہے۔انہوں نے اس کتاب میں اندلس کی ایک ایسی شہزادی کی داستان بیان کی ہےجو ایک گورنرکی بیٹی تھی اوربادشاہ وقت کی زیادتی کاشکارہوئی تھی ۔اس کے باپ نے یہ بدلہ لینے کے لیے مسلمانوں کو اس سلطنت پرحملہ کرنےکی دعوت دی تھی جس کی وجہ سے اندلس کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔مزید برآں اس کا اصل مقصد یہ ہےکہ مسلمان بچوں کو اپنی اسلامی تاریخ سے آگاہی ہو۔اور ان کےاندراسلامی تاریخ سے دلی وابستگی پیداہو۔اور وہ اس دورمیں غلط،جوٹھی اوربے بنیاد کہانیوں سے بھرےہوئے لٹریچرسےگریزاں رہیں۔(ع۔ح)