eBooks

2,841 Results Found
تفہیم الاسلام اشاعت خاص (قاری عبد الوکیل صدیقی )

Authors: مختلف اہل علم

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قاری عبد الوکیل خانپوری ﷫ (1955۔2013ء)رفیع المرتبت عالم دین اور جماعت اہل حدیث کا عظیم سرمایہ تھے۔ اصلاً وہ ہری پوری ضلع ہزارہ کے رہنے والے تھے۔ تحصیل علم کے بعد تقریبا 1975ءمیں خانپور تشریف لائے اور پھر خانپوری کا لا حقہ ہی ان کے نام کا حصہ بن گیا ایک چھوٹی سی مسجد اہل حدیث سے اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تفسیر، حدیث اور فقہی مسائل سے ان کو آگاہی تھی، توحید ، سنت ، اتباع رسولؐ فضائل صحابہ ؓ اور جماعت اہل حدیث کے امتیازی مسائل پر انہیں عبور حاصل تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کو علم و حکمت سے بھی خواب نوازا تھا، دل میں اشاعتِ دین کا جذبہ تھا، اخلاص و للھٰیت کی دولت سے مالا مال تھے، گفتگو کا سلیقہ اور اپنی بات کو لوگوں کو سمجھانے کا فن جانتے تھے۔ جس دور میں انہوں نے خانپور کو اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا محور بنایا تو اس علاقے میں احناف کے معروف عالمِ دین مولانا عبد اﷲ درخواستی کا بڑا اثر و رسوخ تھا لیکن پھر مولانا قاری عبد الوکیل ﷫کے توحید و سنت پر مبنی و عظ و تقاریر سے متاثر ہو کر لوگ جو ق در جوق مسلک اہل حدیث پر عمل پیرا ہو تے گئے۔ قاری صاحب نے مسلک اہل حدیث کے فروغ میں خانپور اور اس کے گردونواح میں بڑا کام کیا اور انہوں نے اس مشن میں اپنی عمر کھپادی اور آج خانپور کے علاقے میں ان کی اس تبلیغی مساعی کے نشان واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ خانپور میں سالانہ اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد قاری صاحب کا بہت بڑا کارنامہ تھا جس میں ملک اور بیرون ملک سے علمائے کرام کو دعوت دی جاتی اور عوام ان علمائے کرام کے مواعظ عالیہ سے متاثر ہو کر توحید و سنت کی دولت سے اپنے دامن بھرتے۔ اس کانفرنس کے اس علاقے میں بڑے اچھے اثرات مرتب ہو ئے۔ 1989 میں قاری صاحب نے جامعہ محمدیہ کے نام سے خانپور میں ایک عظیم الشان ادارہ قائم کیا۔ جس کا سنگ اساسی فضیلۃ الشیخ عبد اﷲ بن السبیل رحمۃ اﷲ علیہ نے رکھا تھا۔ اب تک اس سے کئی نامی علماء اور خطیب پیدا ہو چکے ہیں جو دعوت و تبلیغ کے میدان میں سر گرم عمل ہیں۔ ۔ مارچ2011 ء میں انہوں نے خانپور سے سہ ماہی نداء الا یمان جاری کیا۔ بلاشبہ قاری عبد الوکیل صدیقی ﷫ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ جماعت کے اس عظیم عالم دین نے یکم مارچ2013 کی صبح لاہور کے ایک ہسپتال میں اٹھاون سال کی عمر میں وفات پائی اور رات کو ہری پوری ہزارہ میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کی اقتداء میں ان کی نما زجنازہ ادا کی گئی۔ اﷲ تعالیٰ قاری صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ (آمین) زیر تبصرہ ’’مجلہ تفہیم الاسلام‘‘ کی اشاعت خاص قاری عبد الوکیل صدیقی ﷫ کی سوانح حیات ،تذکرہ ، افکار وآثار پر مشتمل مختلف اہل علم کے مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے ۔(م۔ا)

ماہنامہ ترجمان الحدیث لاہور ( علامہ احسان الٰہی شہید نمبر )

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

شہید ملت علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔علامہ صاحب ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ بچپن ہی سے بڑے ذہین او ر فطین ثابت ہوئے۔درس نظامی کی تکمیل کے بعد حصول تعلیم کےلیے آپ مدینہ یونیورسٹی تشریف لے گئے وہاں شیخ ناصر الدین البانی ،شیخ ابن باز ،شیخ شنقیطی وغیرہم جیسے کبار اہل علم سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ مدینہ یونیورسٹی میں شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی ،حافظ عبد الرحمن مدنی ،ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہم اللہ آپ کے ہم کلاس رہے ۔علامہ صاحب وہاں سے سند فراغت حاصل کرکے وطنِ عزیز میں واپس تشریف لے آئے اور زندگی بھر اسلام کی دعوت وتبلیغ ،نفاذ اسلام کی جدوجہد ، فرق باطلہ کارد او رمسلک حق اہل حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ آپ پر صحیح معنوں میں اہلحدیثیت کا رنگ نمایاں تھا۔آپ ایک تاریخ ساز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میدان خطابت کےشہسوار تھے ۔شیخ الحدیث مولانا حافظ اسماعیل سلفی ؒ نے آپ کو مولانا سید دائود غزنوی ؒ کی اور اہلحدیثوں کی قدیم تاریخ ساز مسجد ’’جامع مسجد چینیانوالی اہلحدیث ‘‘ کی مسند میں لا کر کھڑا کر دیا۔ آپ 16کتابوں کے مصنف بھی تھے ۔ علامہ شہید ؒ مسلک اہلحدیث کے ماتھے کا جھومر تھے۔ ۔ علامہ صاحب ؒ نے قادیانیت ، شیعیت فتنے کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ آپ نےتصنیف وتالیف اور تحریر کے علاوہ جمعۃ المبارک کےخطبات اور تاریخ ساز اجتماعات میں بھی قادنیت و شیعیت کے پرخچے اُڑانے شروع کر دئیے۔آپ نے تحریک نظام مصطفی ٰ،تحریک استقلال، تحریک ختم بنوت ،سقوط ڈھاکہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کا شمار مرکزی قائدین میں ہونے لگا۔ ۔ اسی طرح جب جنرل ضیا ء نے 90 دن کا کہہ کر 11سال تک اقتدار پر قبضہ جمائے رکھا تو اس نے 5 شرعی حدود کا نفاز کیا لیکن عملاکسی کو عملی جا مہ نہیں پہنا یا ۔تو علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒ ضیا ء الحق کی آمرانہ اور منافقانہ پالیسیوں کیخلاف گرجتے رہے۔ آپ نے اہلحدیث نوجوانوں اور علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم جمع کرنا شروع کیا۔ نفاذ اسلام اور اسلام کی سر بلندی ،محمد عربی ﷺ کی عظمت کے لیے ملک بھر میں تاریخ ساز جلسے کر کے اہلحدیثوں کو پوری دنیا میں روشناس کر وا دیا۔ 23 مارچ1987کو قلعہ لچھمن سنگھ راوی روڈ لاہورمیں ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ کے عنوان سے جمعیت و اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے سے مولانا محمد خان نجیب شہیدؒ ، مولانا عبد الخالق قدوسی شہید،علامہ حبیب الرحمن یزدانی شہیدؒ کے علاوہ دیگر علما ئے کرام نے خطاب کیا ۔ جن کے بعد آپ کا خطاب شروع ہوا تو ایک ہولناک دھماکہ ہوا۔مولانا محمد خان نجیب ،مولانا عبدالخالق قُدوسی ،علامہ حبیب الرحمن یزدانی موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے جبکہ علامہ صاحب ؒ شدید زخمی حالت میں میو ہسپتال داخل ہوئے ۔اسی اثناء میں شاہ فہد مرحوم نے اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے آپ کو سعودی عرب علاج کیلئے بلوا لیا ۔یہاں پر آپ کا علاج سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض کے ملٹری ہسپتال میں ہوتا رہا لیکن ہو تا وہی جو اللہ کو منظور ہوتا ہے عالم ِاسلام کے عظیم مجاہدِ ملت30مارچ1987 کی درمیانی شب کو شہادت جیسےعظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔ آپ کی نمازِ جنازہ ریاض میں آپ کے شفیق اُستاد شیخ ابن باز ﷫نے پڑھائی اور جنت البقیع میں سیدنا امام مالک ؒ کے پہلو میں سپرد خاک کیاگیا۔علامہ مرحوم نے نومبر1969ء کو ایک علمی وتحقیقی مجلہ ماہنامہ کا اجراء کیا جو مارچ 1987ء تک باقاعدگی کے ساتھ علامہ شہید کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔موصوف کی شہادت سے تعطل کاشکار ہوگیا تھا۔ایک سال بعد پروفسیر ساجد میر ﷾ کی ادارت میں دوبارہ ترجمان الحدیث کی اشاعت شروع ہوئی۔ زیرنظر مجلہ ترجمان الحدیث (مارچ ۔اپریل1988ء) پروفسیر ساجدمیر ﷾ کی ادارت میں شائع ہونے والا پہلا شمارہ ہےجوکہ شہدائے اہل حدیث (شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ، مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید،مولانا عبد الخالق قدوسی شہید اور مولانا محمد خاں نجیب شہید) کےتذکرے وسوانح حیات وخدمات کے سلسلے میں ملک کے نامور کالم نگاروں ،سوانح نگار وں کےرشحات قلم کےعلاوہ شہداءکےعزیرواقارب،دوست احباب کے تاثرات وغیرہ پر مشتمل ہے۔اس اشاعت ِخاص کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔حصہ اول شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ،حصہ دوم مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید ، حصہ سوم مولاناقدوسی شہیداور حصہ چہارم محمد خاں نجیب شہید کے متعلق ہے۔اللہ تعالیٰ تمام شہدائے اہل حدیث کی شہادتوں کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا )

دعوت اہل حدیث ( ختم نبوت نمبر )

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا اوراسلام کو بحیثیت دین بھی مکمل کردیا اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے یہی وہ عقید ہ جس پر قرون اولیٰ سے آج تک تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ کہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں قرآن مجید سے یہ عقیدہ واضح طور سے ثابت ہے کہ کسی طرح کا کوئی نبی یا رسول اب قیامت تک نہیں آسکتا جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ماکان محمد ابا احد من رجالکم وولکن رسول الله وخاتم النبین (الاحزاب:40) ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘‘ حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس میں مسلمانوں میں کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نہیں ۔برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا مرزا قادیانی نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے خود لکھا کہ میں نے انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں اس نے جنوری 1891ء میں اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہا۔قادیانی فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے علمائے اہل حدیث نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں اور اس وقت بھی دے رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں مرزا قادیانی نے جیسے ہی پر پرزے نکالنے شروع کیے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے کھڑے کردیئے جنہوں نے اسے ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے اس کا جھنڈ ا معروف سلفی عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی ﷫ نے اٹھایا پھر مولانا ثناء اللہ امرتسری ،قاضی سلیمان منصورپور ی،مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،حافظ عبد القادر روپڑی ، حافظ محمد گوندلوی ،علامہ احسان الٰہی ظہیر﷭ وغیرہ کے علاوہ بے شمار علماء ختم نبوت کی چوکیداری کےلیے اپنے اپنے وقت پر میدان عمل میں اترتے رہے ۔موجودین میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ڈاکٹر بہاء الدین ﷾ کی خدمات سب سے نمایاں ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے اور انہیں صحت وتندرستی سے نوازے ۔(آمین)اور اسی طرح اہل حدیث صحافت کی بھی نمایاں خدمات ہیں ۔دعوت اہل حدیث،سندھ، اور ضیائے حدیث،لاہور کی اشاعت خاص قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ ’’دعوت اہل حدیث ختم نبوت نمبر‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جوکہ رد قادیانیت کے سلسلے میں جید علمائے اہل حدیث کے 30 علمی وتحقیقی مضامین ومقالات پر مشتمل ہے۔جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں قادیانیت کی حقیقت کو خوب واضح کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کےایڈیٹر حافظ عبد الحمید گوندل ﷾ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے بڑی محنت سے معروف علماءکرام سے مضامین حاصل کرکے ان کو گیارہ مختلف موضوعات میں تقسیم کیا اور حسن طباعت سے آراستہ کیا ۔(م۔ا)

دعوت اہل حدیث ( ختم نبوت نمبر )

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا اوراسلام کو بحیثیت دین بھی مکمل کردیا اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے یہی وہ عقید ہ جس پر قرون اولیٰ سے آج تک تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ کہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں قرآن مجید سے یہ عقیدہ واضح طور سے ثابت ہے کہ کسی طرح کا کوئی نبی یا رسول اب قیامت تک نہیں آسکتا جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ماکان محمد ابا احد من رجالکم وولکن رسول الله وخاتم النبین (الاحزاب:40) ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘‘ حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس میں مسلمانوں میں کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نہیں ۔برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا مرزا قادیانی نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے خود لکھا کہ میں نے انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں اس نے جنوری 1891ء میں اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہا۔قادیانی فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے علمائے اہل حدیث نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں اور اس وقت بھی دے رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں مرزا قادیانی نے جیسے ہی پر پرزے نکالنے شروع کیے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے کھڑے کردیئے جنہوں نے اسے ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے اس کا جھنڈ ا معروف سلفی عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی ﷫ نے اٹھایا پھر مولانا ثناء اللہ امرتسری ،قاضی سلیمان منصورپور ی،مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،حافظ عبد القادر روپڑی ، حافظ محمد گوندلوی ،علامہ احسان الٰہی ظہیر﷭ وغیرہ کے علاوہ بے شمار علماء ختم نبوت کی چوکیداری کےلیے اپنے اپنے وقت پر میدان عمل میں اترتے رہے ۔موجودین میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ڈاکٹر بہاء الدین ﷾ کی خدمات سب سے نمایاں ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے اور انہیں صحت وتندرستی سے نوازے ۔(آمین)اور اسی طرح اہل حدیث صحافت کی بھی نمایاں خدمات ہیں ۔دعوت اہل حدیث،سندھ، اور ضیائے حدیث،لاہور کی اشاعت خاص قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ ’’دعوت اہل حدیث ختم نبوت نمبر‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جوکہ رد قادیانیت کے سلسلے میں جید علمائے اہل حدیث کے 30 علمی وتحقیقی مضامین ومقالات پر مشتمل ہے۔جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں قادیانیت کی حقیقت کو خوب واضح کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کےایڈیٹر حافظ عبد الحمید گوندل ﷾ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے بڑی محنت سے معروف علماءکرام سے مضامین حاصل کرکے ان کو گیارہ مختلف موضوعات میں تقسیم کیا اور حسن طباعت سے آراستہ کیا ۔(م۔ا)

اموال زکاۃ کی سرمایہ کاری

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام کے نظام معیشت کی بنیادی خصوصیت انفرادی ملکیت کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ دولت کی زیادہ سے زیادہ تقسیم اور اس کو ارتکاز سے بچانا ہے،اس کی ایک عملی مثال زکوۃ کا نظام ہے۔زکوۃ کو واجب قرار دیا جانا ایک طرف اس بات کی دلیل ہے کہ سرمایہ دار خود اپنی دولت کا مالک ہےاور وہ جائز راستوں میں اسے خرچ کر سکتا ہے۔دوسری طرف اس سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ انسان کی دولت میں سماج کے غریب لوگوں کا بھی حق ہے ۔یہ حق متعین طور پر اڑھائی فیصد سے لیکر بیس فیصد تک ہے،جو مختلف اموال میں زکوۃ کی مقررہ شرح ہے،اور بطور نفل اپنی ضروریات کے بعد غرباء پر جتنا کرچ کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل مسلمان اس عظیم الشان فریضے کی ادائیگی سے سے بالکل لا پرواہ ہو چکے ہیں۔اور زکوۃ نکالنے کا اہتمام مفقود نظر آتا ہے۔اس پس منظر میں ایک رجحان یہ بھی ہے کہ اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری کی جائے تاکہ زیادہ عرصہ تک اور زیادہ سے زیادہ فقراء کو اس سے استفادہ کرنے کا موقع مل سکے۔موضوع کی اہمیت کے پیش نظر انڈیا کی اسلامک فقہ اکیڈمی نے دیگر موضوعات کی طرح اس پر بھی ایک سیمینار کا انعقاد کیا اور اس میں مختلف اہل علم نے مقالات پیش کئے اور اپنے موقف کا اظہار کیا۔یہ کتاب " اموال زکوۃ کی سرمایہ کاری " اس سیمینار میں پیش کئے گئے مقالات کے مجموعے پر مشتمل ہے،جسے ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی نے طبع کیا ہے۔یہ اہل علم اور طلباء کے لئے ایک گرانقدر علمی وتحقیقی تحفہ ہے۔تمام طالبان علم کو چاہئے کہ وہ اس خاص موضوع پر مطالعہ کے لئے اس کتاب کو ضرور پڑھیں۔(راسخ)

رویت ہلال فقہ اسلامی کی روشنی میں

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔روزہ شروع کرنےاور عید منانے کے مسئلے میں شریعت مطہرہ نے جو معیار مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ چاند دیکھ کرعید منائی جائے او رچاند دیکھ کر ہی روزہ کی ابتداء کی جائے ۔اور اگر گرد وغبار اور ابر باراں کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو رواں مہینے کےتیس دن مکمل کر لیے جائیں بالخصوص شعبان اوررمضان المبارک کے ۔ مذکورہ قاعدہ کلیہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے خو اہ وہ عربی ہو یا عجمی ۔دور حاضر ہو یا دور ماضی ۔ایک وقت تک مسلمان اس اصول وقاعدہ کے پابند رہےمگر پھر آہستہ آہستہ فقہائے دین و ائمہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کی دینی خدمات کے نتیجے میں امت مسلمہ مختلف آراء میں بٹ گئی ۔اس سلسلے میں دو رائے پائی جاتی ہیں ۔ایک نقطۂ نظر کےمطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں ہے اور ایک جگہ کی رؤیت پوری دنیا کے لیے ہے۔اور دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کے نزدیک اختلاف مطالع معتبر ہے لہٰذا ہر علاقہ کی رؤیت اس علاقہ کے لیے معتبر ہوگی ۔ قرآن وحدیث کے دلائل وبراہین کے مطابق اختلافِ مطالع معتبر ہونے کی رائے راجح ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور تیز رفتار سیاسی تبدیلیوں،معاشی انقلابات اور وسائل و ذرائع کی ایجادات کا ہے،اس لئے اس عہد میں مسائل بھی زیادہ پیش آتے ہیں، چنانچہ ماضی قریب میں مختلف اسلامی ممالک میں اس مقصد کے لئے فقہ اکیڈمیوں کا قیام عمل میں آیا، جدید مسائل کو حل کرنے میں ان کی خدمات بہت ہی عظیم الشان اور قابل تحسین ہیں، اس سلسلہ کی ایک کڑی اسلامک فقہ اکیڈمی ( انڈیا) بھی ہے۔یہ اکیڈمی مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی کوششوں سے 1989ء میں قائم ہوئی ۔مختلف موضوعات پر اب تک بیسیوں کتب شائع کرچکی ہے بالخصوص جدیدفقہی مسائل (کلوننگ،انشورنش، اعضاء کی پیوندکاری ،انٹرنیٹ،مشینی ذبیحہ وغیرہ ) پر کتب کی اشاعت اورموسوعہ فقہیہ کویتیہ کا اردو ترجمہ لائق تحسین ہے۔ موسوعہ کی بارہ جلدیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں ۔ ایفا پبلی کیشنز (اسلامک فقہ اکیڈمی ،انڈیا) اگرچہ مسلکِ احناف کا ترجمان ادارہ ہے لیکن علمی افادیت کے پیشِ نظر اور کچھ احباب کی فرمائش پر جدید فقہی موضوعا ت پرمشتمل اکیڈمی کی بعض مطبوعات کو کتاب وسنت ویب سائٹ پر پبلش کیا جا رہا ہے جن کےساتھ ادارہ کا کلّی اتفاق ضروری نہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’رویتِ ہلال فقہ اسلامی کی روشنی میں‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی کی طبع شدہ ہے جو رویتِ ہلال کے موضوع پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے ساتویں سیمینار (منعقدہ 30 ؍دسمبر 1994ء دار العلوم ماٹلی والا گجرات) میں تقریبا 30 علمائے کرام کی طرف سے پیش کئے گے مقالات کا مجموعہ ہے۔ کتاب کے شروع میں رویتِ ہلال کے حوالے سے ایک اہم سوالنامہ بھی شاملِ اشاعت ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام اہل اسلام کو کتاب وسنت پر صحیح طور پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔اس سلسلے میں ویب سائٹ پر مو جود کتب ’’مسئلہ رؤیت ہلال اور 12 اسلامی مہینے‘‘ از حافظ صلاح الدین یوسف، ’’حقیقت اختلاف مطالع ومسئلہ رؤیت ہلال‘‘ از مولانا عبد الوکیل ناصر اور ماہنامہ محدث مارچ 1999ء کا مطالعہ مفید ہوگا۔(م۔ا)

ماہنامہ مطلع الفجردسمبر1997ء اشاعت خاص مولانا عبد الرحمن کیلانی

Authors: مختلف اہل علم

In Biography

By Al Noor Softs

مولانا عبد الرحمن کیلانی﷫ کی شخصیت محتاجِ تعارف نہیں، انکی علمی و تحقیقی کتب ہی ان کا مکمل تعارف ہیں۔ موصوف جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا حق ادا کر دیتے ہیں، مولانا كيلانى اسلامى اور دينى ادب كے پختہ كارقلم كار تھے ۔کتب کے علاوہ ان کے بیسیوں علمی وتحقیقی مقالات ملک کے معروف علمی رسائل وجرائد(ماہنامہ محدث، ترجمان الحدیث ، سہ ماہی منہاج لاہور وغیرہ ) میں شائع ہوئے ان كى بيشتر تاليفات اہل علم وبصيرت سے خراج تحسين پا چکی ہیں۔مولانا کیلانی نےفوج کی سرکاری ملازمت سے استعفی کے بعد کتابت کو بطورِ پیشہ اختیار کیا۔ آپ عربی ،اردو کے بڑے عمدہ کاتب تھے۔١٩٤٧ء سے ١٩٦٥ء تک اردو کتابت کی اور اس وقت کے سب سے بہتر ادارے ، فیروز سنز سے منسلک رہے ۔١٩٦٥ء میں قرآن مجید کی کتابت شروع کی اور تاج کمپنی کے لئے کام کرتے رہے ۔تقریباپچاس قرآن کریم کی انہوں نے کتابت کی ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ ١٩٧٢ء میں حج کرنے گئے تو مکی سورتوں کی کتابت باب بلال(مسجد حرام ) میں بیٹھ کر اور مدنی سورتوں کی کتابت مسجد نبوی میں اصحاب صفہ کے چبوترہ پر بیٹھ کر کی ۔یہ وہی قرآن کریم ہے جو پاک وہند کے مسلمانوں کے لیے ان کے مانوس رسم الخط میں سعودی حکومت نے حمائل سائز میں چھاپا اور ہر سال لاکھوں کی تعداد میں چھپتا او رفری تقسیم ہوتا ہے یعنی پاکستان اور سعودی عرب میں مروجہ رسم قرآنی میں سب سے زیادہ چھپنے والے قرآن کی کتابت کی سعادت بھی آپ کو حاصل ہے ۔ تفسیر' تیسیر القرآن 'میں قرآن مجید کی اسی بابرکت کتابت کو ہی بطور متنِ قرآن شائع کیا گیا ہے کتابت کے سلسلہ میں موصوف نے خاندان کے بہت سے لوگوں کو کتابت سکھا کر باعزت رورگار پر لگایا۔١٩٨٠ء کے بعد جب انہیں فکر معاش سے قدرے آزادی نصیب ہوئی تو تصنیف وتالیف کی طرف متوجہ ہوئے ۔اس میدان میں بھی ماشاء اللہ علماء ومصنفین حضرات کی صف میں نمایاں خدمات انجام دیتے ہوئے تقریبا 15 کتب تصنیف کرنے کے علاوہ 'سبل السلام شرح بلوغ المرام ' اور امام شاطبی کی کتاب 'الموافقات 'کا ترجمہ بھی کیا۔ دو دفعہ قومی سیرت کانفرنس میں مقالہ پیش کر کے صدارتی ایوارڈ حاصل کیا۔آخری عمر میں تفسیر تیسیر القرآن لکھ رہے تھے اور انکی خواہش تھی کہ ا سکوخود طبع کروائیں مگر عمر نے وفانہ کی١٨دسمبر١٩٩٥ء کو باجماعت نمازِ عشاء ادا کرتے ہوئے حالتِ سجدہ میں اپنے خالق حقیقی جا ملے ۔ان کا ایک اورعلمی ودینی کارنامہ ''مدرسہ تدریس القرآن والحدیث للبنات'' لاہو ر ہے اس ادارے سےسیکڑوں کی تعداد میں لڑکیاں دینی علوم سے آراستہ ہوچکی ہیں ۔مولانا کیلانی  کا ادارہ محدث ،لاہور کے ساتھ ایک خاص تعلق تھا موصوف مدیر اعلیٰ محدث ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مدنی کےسسر جبکہ ڈاکٹر حافظ حسن مدنی وڈاکٹر حافظ انس نضر کے نانا تھے ۔مولانا کیلانی  کی وفات پر مختلف رسائل وجرائد میں ان کی حیات وخدمات پر کئی اہل علم اور کالم نگاروں کے مضامین شائع ہوئے بالخصوص ماہنامہ محدث جنوری،جولائی1996ء میں ام عبد الرب، حافظ صلاح الدین یوسف ،مولانا محمد رمضان سلفی (شیخ الحدیث جامعہ لاہور الاسلامیہ) ،مولانا عبد الوکیل علوی حظہم اللہ کے مولانا کیلانی  کی شخصیت اور حیات وخدمات کے متعلق قیمتی مضامین اور مولانا کیلانی کے علمی رسائل وجرائد میں شائع شدہ مضامین ومقالات کی لسٹ بھی شائع کی گئی تھی ۔زیرتبصرہ مجلہ ماہنامہ '' مطلع الفجر'' کی مولانا عبد الرحمن کیلانی ﷫(بانی مدرسہ تدریس القرآن والحدیث،للبنات ،مفسر قرآن ،خطاط قرآن ، مصنف کتب کثیرہ ،صدارتی ایوارڈ یافتہ ) کی حیات وخدمات پر اشاعت خاص ہے جو کہ ان کی شخصیت کے متعلق ان کی اولاد،عزیز واقارب کے علاوہ جید علمائے کرام کی تحریروں او رمقالات پر مشتمل ہے ۔اس اشاعت خاص میں مولانا کیلانی کی علمی ودینی اور تصنیفی خدمات اوران کی زندگی کے تمام گوشوں کواجاگر کیا گیا ہے ۔ ماہنامہ مطلع الفجر دار السلام کے کے ڈائریکٹر مولانا عبد المالک المجاہد ﷾ کی سر پرستی میں شائع ہوتا رہا ۔لیکن شاید اس اشاعت خاص کے بعد اس کی اشاعت بند ہوچکی ہے۔ واللہ اعلم (م۔ا)

حالت نشہ کی طلاق موجودہ حالات کے پس منظر میں

Authors: مختلف اہل علم

In Arguments

By Al Noor Softs

نکاح دراصل میاں بیوی کے درمیان وفاداری او رمحبت کے ساتھ زندگی گزرانے کا ایک عہدو پیمان ہوتا ہے ۔ نیز نسل نو کی تربیت کی ذمہ داری بھی نکاح کے ذریعہ میاں بیوی دونوں پر عائد ہوتی ہے لیکن اگر نکاح کے بعد میاں بیوی دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں ہی یہ محسوس کریں کہ ان کی ازدواجی زندگی سکون وا طمینان کے ساتھ بسر نہیں ہوسکتی او رایک دوسرے سے جدائی کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو اسلام انہیں ایسی بے سکونی وبے ا طمینانی او رنفرت کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ مرد کو طلاق او ر عورت کو خلع کاحق دے کرایک دوسرے سے جدائی اختیار کر لینے کی اجازت دیتا ہے ۔لیکن اس کے لیے بھی اسلام کی حدود قیود اور واضح تعلیمات موجود ہیں۔ طلاق کے مسائل میں سے ایک مسئلہ حالت نشہ کی طلاق ہے ۔طلاق چونکہ ایک نہایت اہم اور نازک معاملہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ پوری طرح غور وفکر کے بعد اس کا فیصلہ کیا جائے ،اور غوروفکر کے لیے ضروری ہے کہ انسان کی شعور ی کیفیت بحال ہو اسی لیے جب انسان عقل وشعور کو استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو تو اس حالت کی طلاق واقع نہیں ۔اسی بنا پر فقہاء کا اتفاق ہے کہ مجنون ،بے ہوش ،محوخواب ،نابالغ اور نشہ میں مبتلا ہونے والے شخص کی دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی ۔زیر نظر کتاب ''حالت نشہ کی طلاق موجود حالات کے پس منظر میں ''اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام بارہویں فقہی سیمنیار منعقدہ فروری 2000ء میں پیش کئے گئے علمی،فقہی اور تحقیقی مقالات ومقاقشات کا مجموعہ ہے جس میں حالت نشہ میں طلاق کے حوالے سے تقریبا 68 علماء نے مقالات پیش کئے ان میں سے بعض اہل علم حالتِ نشہ میں دی جانے والی طلاق کے واقع ہونے کے قائل ہیں او ربعض قائل نہیں ہیں ۔ لیکن راجح موقف یہ ہے کہ شدید غصے او رسخت نشہ میں جب انسان کی عقل پر پردہ پڑ جائے تو ایسی صورت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف میں ہےکہ حضرت ابن عباس ﷜ فرماتے ہیں کہ حالت نشہ میں موجود انسان او ر مجبور شخص کی طلاق جائز نہیں ہے ایسی طلاق واقع نہیں ہوتی (فتاوی اصحاب الحدیث :2؍307) لیکن ایسی صورت حال میں نشہ کی کیفیت (کم یا زیادہ) کا بغور جائزہ لینا ہوگا ۔ اللہ تمام اہل اسلام کو کتاب وسنت کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے (آمین) (م۔ا)