eBooks
2,841 Results Found
نماز با جماعت کی اہمیت بے نمازی کا شرعی حکم
Authors: مختلف اہل علم
نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ ایک عربی رسالہ ’’ثلاث رسائل فی الصلاۃ ‘‘ کا ترجمہ ہے اس میں نماز باجماعت کی اہمیت پر شیخ ابن باز ،بے نمازی کا شرعی حکم کے متعلق شیخ صالح العثیمین اور دوران نماز چند غلطیوں کی نشاندہی از شیخ عبد اللہ بن عبد الرحمٰن الجبرین کی عربی تحریروں کا ترجمہ شامل ہے ۔ ان تینوں عربی رسائل کو اردو قالب میں اسرار الحق عبید اللہ نے ڈھالا ہے ۔(م۔ا)
پندرہ روزہ جریدہ ترجمان دہلی دسمبر 2015ء
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراشخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ اور صحابہ کرام کی مقدس جماعت ہی وہ پاکیزہ جماعت ہے جس کی تعدیل قرآن نے بیان کی ہے ۔ متعدد آیات میں ان کے فضائل ومناقب پر زور دیا ہے اوران کے اوصاف حمیدہ کو ’’اسوہ‘‘ کی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔ اوران کی راہ سے انحراف کو غیر سبیل المؤمنین کی اتباع سے تعبیر کیا ہے ۔ الغرض ہر جہت سے صحابہ کرا م کی عدالت وثقاہت پر اعتماد کرنے پر زور دیا ہے۔ اور علماء امت نے قرآن وحدیث کےساتھ تعامل ِ صحابہؓ کو بھی شرعی حیثیت سے پیش کیا ہے ۔اور محدثین نے ’’الصحابۃ کلہم عدول‘‘ کے قاعدہ کےتحت رواۃ حدیث پر جرح وتعدیل کا آغاز تابعین سے کیا ہے۔اگر صحابہ پر کسی پہلو سے تنقید جائز ہوتی توکوئی وجہ نہ تھی کہ محدثین اس سے صرفِ نظر کرتے یاتغافل کشی سے کام لیتے۔ لہذا تمام صحابہ کرام کی شخصیت ،کردار، سیرت اور عدالت بے غبار ہے اور قیامت تک بے غبار رہی گئی ۔ لیکن مخالفین اسلام نے جب کتاب وسنت کو مشکوک بنانے کے لیے سازشیں کیں تو انہوں نے سب سے پہلے صحابہ کرامؓ ہی کو ہدف تنقید بنانا ضروری سمجھا۔ ان کے کردار کوبد نما کرنے کےلیے ہر قسم کےاتہام تراشنے سے دریغ نہ کیا۔قرآن وسنت کے مقابلہ میں تاریخی وادبی کتابوں سے چھان بین کر کے تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی سعئ ناکام کی تو محدثین اور علمائے امت نے مستشرقین کے اعتراضات کے جوابات اور دفاع صحابہ کے سلسلے میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ زیر تبصرہ رسالہ"ترجمان دھلی"مسلک اہلحدیث کا داعی اور مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند کا نقیب ہے اور اس کی یہ خاص اشاعت عدالت صحابہ کے عنوان پر ہے۔اس میں متعدد اہل علم کے مقالات جمع ہیں جن میں عدالت صحابہ سے متعلق مباحث سپرد قلم کیے گئے ہیں۔ان مباحث سے عدالت صحابہ سے متعلق اکثر شبہات کا ازالہ ہوجاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس رسالے میں مقالات لکھنے والے تمام علماء کرام کی اس کا وشوں کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور اہل اسلام کے دلوں میں صحابہ کی عظمت ومحبت پیدا فرمائے۔ آمین(راسخ)
300 سوال و جواب برائے میاں بیوی
Authors: مختلف اہل علم
اسلام دینِ فطرت اور ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس طرح اس میں دیگر شعبہ ہائے حیات کی راہنمائی اور سعادت کے لیے واضح احکامات او رروشن تعلیمات موجود ہیں اسی طرح ازدواجی زندگی اور مرد وعورت کے باہمی تعلقات کےمتعلق بھی اس میں نہایت صریح اورمنصفانہ ہدایات بیان کی گئی ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکر ایک شادی شدہ جوڑا خوش کن اورپُر لطف زندگی کا آغاز کر سکتاہے۔ کیونکہ یہ تعلیمات کسی انسانی فکر وارتقاء اورجدوجہد کانتیجہ نہیں بلکہ خالق کائنات کی طرف سے نازل کردہ ہیں۔ جس نے مرد وعورت کے پیدا کیا اور ان کی فلاح و کامرانی کے لیے یہ ہدایات بیان فرمائیں۔ اکثر لوگ ازدواجی راحت و سکون کے حریص او رخواہشمند ہوتے ہیں لیکن اپنے خود ساختہ غلط طرزِ عمل اور قوانینِ شرعیہ سے غفلت کی بنا پر طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کاشکار ہو کر اپنا سکون واطمینان غارت کرلیتے ہیں جس سے نہ صرف بذات خود وہ بلکہ ان کےاہل عیال اور کئی ایک خاندان پریشانیوں کا شکار ہوتے جاتے ہیں۔ ان ازدواجی مصائب اور خانگی مشکلات کے کئی اسباب و وسائل ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’300 سوال وجواب برائےمیاں بیوی‘‘ میں قرآن مجید اورصحیح احادیث کے پیش ِ نظر عالم ِ اسلام کے جید علماء اور نامور مفتیان کرام کے فتاویٰ کو جمع کیاگیا ہے۔ جس میں ازدواجی زندگی کے متعلقہ مسائل کاشافی حل اور ہرمشکل کا علاج موجود ہے۔ اس مجموعہ کی خصیوصیت یہ ہے کہ اس میں خالصتاً کتاب وسنت کی نصوص کو محل استدلال بنایا گیا ہے اور انہی کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کاجواب دیا گیا ہے۔ نیز اس مجموعے میں ازدواجی زندگی کےہر گوشے سے متعلقہ مختلف اور متنوع احکام ومسائل کو یکجا کردیا گیا ہے۔ لہٰذا ہر کوئی خواہ مرد ہو یا عورت اس سے استفادہ کرسکتاہے۔ ان اہم فتاویٰ جات کو عربی زبان سے اردو میں منتقل کافریضہ حافظ عبد اللہ سلیم ﷾ نے انجام دیا ہے۔ تاکہ اردو خواں حضرات بھی اس کتاب سے مستفید ہوسکیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کےناشر اورجملہ معاونین کی اس خدمت کو قبول فرمائے اوران کےلیے توشۂ آخرت بنائے۔ (آمین) (م۔ا)
سہ ماہی مجلہ بحر العلوم (قاری عبد الخالق رحمانی کی شخصیت پر)
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
مولانا عبد الخالق رحمانی کا کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا۔ ان کے والد محترم استاد العلماء مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی نامور عالم دین، مدرس اور مصنف تھے۔ مولانا عبد الخالق رحمانی 25 نومبر1925ء بروز بدھ کھنڈیلہ ضلع جے پور، بھارت میں پیدا ہوئے۔ موصوف کی عصری تعلیم مڈل تھی۔ دینی تعلیم کا آغاز حفظ قرآن مجید کیا۔ بعد ازاں دین اسلام کی ابتدائی کتابیں اپنے والد محترم سے مدرسہ مصباح العلوم، کھنڈیلہ میں پڑھیں۔ اس کے بعد دارالحدیث رحمانیہ ،دہلی میں علوم عالیہ وآالیہ کی تحصیل کی۔ وہاں سے فراغت کے بعد 8 برس تک مدرسہ قاسم العلوم آگرہ میں تدریس فرمائی اورشیخ الحدیث کے منصب پر فائز رہے۔ اس کے بعد درس و تدریس کو خیر آباد کہ ذریعہ معاش کے لیے تجارت شروع کی اور اس سلسلہ میں کئی شہروں کے سفر کیے۔ آپ جہاں اور جس شہر میں جاتے تجارت کےساتھ ساتھ وعظ وتبلیغ درس و افتاء کاسلسلہ جاری رہتا۔ مولانا عبد الخالق رحمانی علم وفضل کے اعتبار سے جامع الکمالات تھے۔ تمام علوم اسلامیہ ودینیہ میں ان کو یکساں قدرت حاصل تھی۔قدرت کی طرف سے اچھے دل ودماغ لے کر پیدا ہوئے تھے۔ ٹھوس اور قیمتی مطالعہ ان کا سرمایہ علم تھا۔ تفسیر اور حدیث نبوی اوراس کے ساتھ علوم متعلقات حدیث پر ان کی گہری نظر تھی۔ معرفت حدیث اور حدیث کے علل و اسقام کی تمیز میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ موصوف نے 81سال کی عمر میں 3دسمبر 2006ء کو کراچی میں رحلت فرمائی۔ زیر نظرکتاب در اصل جامعہ بحر العلوم السلفیہ سندھ کے سہ ماہی مجلہ ’’بحر العلوم ‘‘کی مولانا قاری عبد الخالق رحمانی کے حالات اور علمی خدمات اور سوانح حیات پر پہلی ضخیم وعظیم کاوش ہے۔ جس میں مولانا موصوف کے متعلق نامور علماء اور اہل قلم کے مضامین اور اور تاثرات کو مدیر مجلہ جناب افتخار احمد تاج الدین الازہر ی ﷾ او ران کے رفقاء نے بڑی محنت سے جمع کرکے پیش کیا ہے۔ محترم مدیر نے اس رسالے کو سات ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ محترم افتخار صاحب اس سے قبل شیخ العرب والعجم سید بدیع الدین شاہ راشدی اور محدث العصر مولانا سید محب اللہ شاہ راشدی کےحالات زندگی، علمی خدمات پر بھی مجلہ بحر العلوم کے ضخیم نمبر شائع کرچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ان کی کاوشوں کوقبول فرمائے۔ (آمین) (م۔ا)
پاکستان میں تعلیم آغا خان کے حوالے
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
تعلیم صرف تدریسِ عام کا ہی نام نہیں ہے ۔تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس کےذریعہ ایک فرد اور ایک قوم خود آگہی حاصل کرتی ہے اور یہ عمل اس قوم کو تشکیل دینے والے افراد کے احساس وشعور کونکھارنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔یہ نئی نسل کی وہ تعلیم وتربیت ہے جو اسے زندگی گزارنے کے طریقوں کاشعور دیتی ہے اور اس میں زندگی کے مقاصد وفرائض کا احساس پیداکرتی ہے ۔ تعلیم سے ہی ایک قوم اپنے ثقافتی وذہنی اور فکری ورثے کوآئندہ نسلوں تک پہنچاتی اور ان میں زندگی کے ان مقاصد سے لگاؤ پیدا کرتی ہے جنہیں اس نے اختیار کیا ہے۔ تعلیم ایک ذہنی وجسمانی اور اخلاقی تربیت ہے اور اس کامقصد اونچے درجے کےایسے تہذیب یافتہ مرد اور عورتیں پیدا کرنا ہے جواچھے انسانوں کی حیثیت سے اور کسی ریاست میں بطور ذمہ دارشہری اپنے فرائض انجام دینے کے اہل ہوں۔ لیکن وطن عزیز میں تعلیمی نظام کو غیروں کے ہاتھ دے کر تعلیم سے اسلامی روح کو نکال دیاگیا ہے ۔تہذیب واخلاق سےعاری طاقت کے نشے میں چور حکمرانوں نے تعلیم کے نام پر بربادی کاکھیل کھیلا۔حکومت پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں سیکڑوں ملین ڈالر پاکستان میں سیکولر نظام تعلیم رائج کرنے کےلیے آغاخاں بورڈ کو دئیے۔جن کےعقائدہندوانہ اور مشرکانہ ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’پاکستان میں تعلیم آغاخان کے حوالے ‘‘میں اسی بات کو اجاگر کیا گیا ہےکہ حکمرانوں کے تعلیمی نظام کو ہندو انہ اور مشرکانہ عقائد کے حامل لوگوں کے حوالے کرنے اور نصاب تعلیم میں اسلامیات کو نکالنے کا کیا پس منظر اور مقاصد تھے اور اس کے ہماری پاکستانی قوم پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔(م۔ا)
مجلہ المنہاج اشاعت خاص تحفظ دیار حرمین شریفین
Authors: مختلف اہل علم
بلادِ حرمین شریفین بے شمار عظمتوں ، برکتوں اور فضیلتوں کے حامل ہیں ۔ تمام مسلمانوں کےدینی وروحانی مرکزہیں اور حرم مکی مسلمانوں کا قبلہ امت کی وحدت کی علامت اوراتحاد واتفاق کا مظہر ہے۔ پوری دنیا کےمسلمان نمازوں کی ادائیگی کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرتے ہیں اوراس کے علاوہ دیگر اسلامی شعائر وعبادات حج او رعمرہ بھی یہاں ادا ہوتے ہیں ۔ دنیا کے تمام شہروں میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سب سے افضل ہیں اور فضیلت کی وجہ مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کا ہونا جبکہ مدینہ منورہ میں روضہ رسول ﷺ کا ہونا ہے۔ان دونوں کی حرمت قرآن و حدیث میں بیان کی گئی ہے۔سعودی حکومت کی حرمین شریفین کے تحفظ اور دنیا بھر میں دین اسلام کی نشر واشاعت ، تبلیغ کے لیے خدمات لائق تحسین ہیں ۔ لہذا سعودی عرب کا دفاع اور حرمین شریفین کا تحفظ عالمِ اسلام کے مسلمانوں کابھی دینی فریضہ ہے ۔ کیونکہ سعودی عرب میں حرمین شریفین امتِ مسلمہ کےروحانی مرکز ہیں ۔گزشتہ ایام میں سعودی عرب اور یمن کے مسئلہ میں کفر کے اماموں نے یمن کے حوثی باغیوں کی پشت پنائی کی اور ان کے ذریعہ مبارک سرزمین یمن کے حالات کو تباہ وبرباد کیا ان کا اصل ہدف بلاد حرمین شریفین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حاکم سعودی عرب شاہ سلمان بن عبدالعزیز ﷾ کوحکیمانہ وبصیرانہ فیصلہ کرنے کی توفیق بخشی۔ انہوں نے ’’عاصفۃ الحزم‘‘ آپریشن کےذریعہ ان سرکش باغیوں کا بروقت علاج کیا اوران کی قوت کوپاش پاش کر کے رکھ دیا جس سے باغیوں کے پشت پناہیوں کی آنکھیں گھل گئیں کہ ابھی حرمین کےپاسبان زندہ ہیں ۔بلاد حرمین شریفین سے محبت رکھنے والے عالمِ اسلام کے مسلمانوں نے بھی سعودی عرب کے دفاع اور حرمین کے تحفظ کے لیے مثالی کردار ادا کیا۔پاکستان میں بھی حرمین شریفین کےتحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تحریک شروع کی گئی اس تحریک میں بالعموم تمام دینی اور سیاسی جماعتوں نےبھر پور حصہ لیا ۔اور اسی طر ح پاکستان کی تمام اہل حدیث جماعتوں نے حرمین شریفین کے تحفظ ودفاع میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کیا ۔ اس خالص دینی مسئلہ کو فرقہ وارانہ اورمتنازعہ بنانے کی سازش کوناکام بنایا ہے اور پاکستان کےتمام مسلمانوں کوایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے حرمین شریفین اور سعودی عرب کے دفاع کا عہد وپیمان کیا ۔ پورے ملک میں سیمینارز،جلسوں اور ریلیوں کی شکل میں مسلمانوں کوبیدار کیا اورآلِ سعود کےموقف کی تائید کی اور سرکش باغیوں کی مذمت بیان کی گئی۔ اوراسی طرح تمام اہل حدیث جماعتوں کےرسائل وجرائد اور مجلات بھی قلمی وتحریری جہاد میں برابر کےشریک رہے۔ بعض رسائل اوراخبار نے اشاعت خاص کااہتما کیا۔ جن میں ہفت روزہ ’اہل حدیث ‘لاہور ، ’اسوۂ حسنہ‘ ،کراچی ’ نوید ضاء ‘گوجرانوالہ اور مجلہ ’ المنہاج ‘ملتان قابل ذکر ہیں ۔اور جماعت الدعوۃ پاکستان کے اشاعتی ادارے ’دار الاندلس،لاہور نے تو اس سلسلے میں دو کتابیں بھی شائع کیں۔ زیر تبصرہ مجلہ ’’مجلہ المنہاج ‘‘کا تحفظ دیار حرمین شریفین کےسلسلے 164 صفحات پر مشتمل خاص نمبر ہے۔اس اشاعت ِخاص میں مختلف اہل علم وقلم کےمضامین شاملِ اشاعت ہیں ۔ جن میں علامہ سینٹر ساجد میر، مولانا محمد اسحاق بھٹی، مولانا عبد اللہ ناصررحمانی ، راناشفیق خاں پسروری، محمد رمضان یوسف سلفی، عبد الرشید عراقی، عطامحمد جنجوعہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اللہ تعالیٰ مجلہ منہاج کی تمام انتظامیہ کی اس قابل قدر کاوش کو قبول فرمائے اور اسے قارئین کےدلوں میں حرمین شریفین کےساتھ عقیدت ومحبت پیدا کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ ا)
اسلامی آداب
Authors: مختلف اہل علم
ہر انسان فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں ۔ اگر بچے کی شروع سے اچھی تربیت کی جائے اس میں حق ، نیکی اور خیر کو ترجیح دینے کا جذبہ پیدا کیا جائے تو یہ کام اس کی عادت میں شامل ہو جاتے ہیں ۔ پھر اس میں حلم ، حوصلہ ، صبر،تحمل، بردبار ، کرم شجاعت اور عدل و احسان جیسے اخلاق حسنہ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس اگر بچے کی تربیت مناسب انداز سے نہ کی جائے تو وہ بری عادت کا شکار ہو جاتا ہے ۔ وہ خیانت، جھوٹ، بےصبری، لالچ، زیادتی اور سختی جیسے اخلاق سیئہ کا شکار ہو جاتا ہے ۔ چناچہ اسلامی تعلیمات کے گزارنے کے لیے اوراپنی زندگی میں اسلام پرعمل کرنے کے لیے ہمیں ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ ﷺ کی زندگی پرعمل پیرا ہونا ہوگا ۔ اپنے بچوں اور اپنے سامنے حضور کی حیات مبارکہ کو ماڈل بنانا ہو گا ۔ آپ ﷺ نے ہمارے لئے زندگی کے ہرشعبہ میں اعلیٰ اور مثالی نمونے چھوڑے ہیں ۔ اور اس کے علاوہ آپ ﷺ کے بہترین فرمودات بھی موجود ہیں ۔ جن پر عمل کر کے ہم اپنی زندگیوں کو ایک جنت کا نمونہ بنا سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’اسلامی آداب‘‘حافظ نذر احمد کےقائم کردہ ادارہ تعلیم القرآن خط وکتابت سکول کی جناب سے تیارہ کردہ دس اسباق پر مشتمل ایک تعارفی خط وکتاب کورس ہے ۔اس میں مرتبین نے سلام ،صفائی اور طہارت ،صحت اور حفظان صحت ، کھانے پینے ، عیادت ، لباس ، نشت وبرخاست ،ملاقات اور گفتگو اور مجلس کےآداب کو اختصار کے ساتھ قرآنی آیات اوراحادیث نبویہ کی روشنی میں بیان کیا ہے۔قارئین کی آسانی کےلیے ہر بحث کےبعد اس کاخلاصہ بھی تحریر کردیا ہے ۔(م۔ا)
مقالات قومی سیرت کانفرنس 2005ء ( برائے مرد)
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ، رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے اور دنیا جہان کے تمام انسانوں کے لیے مکمل اسوۂ حسنہ اور قابل اتباع ہیں ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال وزارت مذہبی امور کے زیر انتظام سیرت کانفرنس منعقد ہوتی ہے کا نفرنس میں خاص موضوع پر پیش کیے جانے والے مقالات کو کتابی صورت میں پیش کیا جاتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’ مقالات قومی سیرت کانفرنس 2005ء (برائے مرد) ‘‘قومی سیرت کانفرنس میں کانفرنس کے خاص موضوع’’عصر حاضر کے تقاضے اور ایک روشن خیال ،اعتدال پسند اسلامی معاشرے کی تشکیل وضرورت سیرت طیبہ کی روشنی میں ‘‘ے متعلق مختلف اہل قلم کی طرف سے پیش کیے جانے والے علمی وتحقیقی مقالات و خطبات کی کتابی صورت ہے حصہ (الف ) خطبات حصہ (ب ) تقاریر جبکہ حصہ (ج) مقالات سیرت پر مشتمل ہے ۔ وزارت مذہبی امور پاکستان نے اسے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے (م۔ا)
ماہنامہ محدث بنارس افتا نمبر ( جون تا اکتوبر 2015 )
Authors: مختلف اہل علم
اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سےمتعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کےجواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کےاندر بصیرت رکھنے والاشخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کاسلسلہ رسول ﷺکےمبارک دور سے چلا آرہا ہے ۔نبی کریم ﷺ نے اپنی زبان ر سالت سے سوال کرنے اور اس سوال کاجواب دینے کےادب آداب بھی سکھلائے ہیں ۔کتب فقہ وحدیث میں یہ بحثیں موجود ہیں او رباقاعدہ آداب المفتی والمستفتی کے نام سے کتب بھی لکھی گئیں ہیں ۔ اب عصر حاضر میں تو مفتی کورس بھی کروائے جاتے ہیں۔ ہر دور میں فتاووں کےاثرات دیر پار ہے ہیں ۔فتاوی کےاثرات کبھی کبھی تاریخ ساز ہوتے ہیں ۔ہندوستان میں شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے فتوےکاہی اثر تھا کہ سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید کی قیادت میں مجاہدوں کی ایک تحریک اٹھی جس نےملک کو انگریزی استبداد سےنجات دلانے کےلیے کمر کس لی اور اس کی راہ کی صعوبتیں براداشت کرتے ہوئے 1831ء میں جام شہادت نوش کیا ۔ یہ اس فتویٰ کااثر تھا کہ ہندوستانیوں میں قومی شعور پیدا ہوا، ان میں آزادی کا احساس جاگا اور 1857ء میں انگریزوں کےخلاف ایک فیصلہ کن جنگ چھیڑ دی۔ہندوستان میں آزادی کےبعد افتا کافریضہ کافی اہمیت اختیار کرگیا۔لیکن ہمارا دستور آئینِ اسلام کے شرعی قوانین سے قعطا میل نہیں کھاتا ۔ افتا کے نفاذ اور اس پر عمل کی آزادی بہت ہی محدود ہوچکی ہے ۔ حکومتی عدالتیں دار الافتا کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کرتی ہیں۔بر صغیر پاک وہند کےعدالتی نظام نے انصاف کےحصول کوبہت پچیدہ اوردشوار بنادیا ہے ۔پاک ہند میں دار الافتاء کی تعد اد عربی مدارس سے کم نہیں مگر افسوس کہ ان میں باہمی ربط اور ہم آہنگی نہیں ہے ۔ برصغیر پاک وہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی وتراجم کےساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہل حد یث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں ۔ زیر تبصرہ ماہنامہ ’’محدث بنارس‘‘ کاافتا نمبر ہے ۔ جس میں مجلہ کےمدیر مولانا ابو القاسم فاروقی اوران رفقا ءنے بڑی جدوجہد سے افتا کے موضوع پر پاک وہند کے 26 اہل علم کے مضامین جمع کر کے اس اشاعت خاص میں شامل کیے ہیں۔ان میں فتویٰ نویسی کی تاریخ ، مستفتی کےآداب، فتوی نویسی اور منہج سلف صالحین، عصر حاضر میں ،اسلام میں افتا کی اہمیت ، فتویٰ نویسی میں نواب صدیق حسن خاں کا مرتبہ ومقام وران کا طریقۂ استدلال وغیرہ جیسے اہم مضامین کےعلاوہ مفتیا ن جامعہ سلفیہ،بنارس، شعبہ دار الافتاء جامعہ سلفیہ ،بنارس عزائم اور منصوبے اور ہندوستان میں افتا کےموجود ہ اہل حدیث مراکزبڑے اہم مضامین ہیں ۔اس خاص نمبر میں شامل ایک مضمون بعنوان ’’علماء اہل حدیث کی اہم کتب فتاویٰ تعارف اور خصوصیات ازمولانا حافظ کلیم اللہ عمری مدنی میں میرے خیال کے مطابق علماء اہل حدیث کے فتاویٰ جات کے تعارف میں مکمل احاطہ نہیں کیاگیا۔کیونکہ اس میں پاکستان کے ممتاز مفتیان کرام کے کتب فتاوی ٰ ( فتاوی ٰ اہل حدیث از عبداللہ محدث روپڑی ،فتاویٰ علماء اہل حدیث از مولانا سعیدی ، فتاوی ٰ حصاریہ از مولاناعبد القادر حصاری ، فتاوی ثنائیہ مدنیہ از مولانا ثناء اللہ مدنی ، فتاویٰ اصحاب الحدیث از مولانا حافظ عبدالستار حماد، فتاوی محمد یہ از مفتی عبید اللہ عفیف ،آپ کے مسائل اور ان کا حل از مبشرربانی ،احکام ومسائل از مولاناعبد المنان نورپوری ، فتاوی ٰ راشدیہ از مولانا بدیع الدین شاہ راشدی اور مولانا زبیرعلی زئی کے فتاویٰ کے عرب شیوخ کے فتاویٰ جات کےتراجم کا بھی ذکر نہیں ہے۔اور کچھ ایسی کتب فتاویٰ کا تعارف پیش کیا ہے جن کا میرے علم کےمطابق وجود ہی نہیں ہے ۔جیسے فتاویٰ محمد اسحاق بھٹی لاہوری اور فتاویٰ صادق سیالکوٹی پاکستانی۔اس سلسلے میں اگر ماہنامہ محدث ،لاہور ،صحیفہ اہل حدیث ،کراچی، ہفت روزہ الاعتصام وغیرہ رسائل میں ڈاکٹر عبدالرؤف ظفر صاحب اور مولانا رمضان یوسف سلفی آف فیصل آباد کے علماء اہل حدیث کی کتب فتاویٰ کے تعارف پر مشتمل مضامین کو سامنے رکھا جاتا تو بہتر تھا ۔بحرحال مجموعی طور ماہنامہ محدث بنارس کے ذمہ داران کی اس موضوع پر یہ ایک منفرد کاوش ہے اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ (آمین) (م۔ا)