eBooks

2,841 Results Found
اسلام انسانی حقوق کا پاسبان

Authors: سید جلال الدین انصر عمری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

حقوق ِانسانی کے سلسلہ میں اسلام کا تصور بہت ہی واضح اور اس کا کردار بالکل نمایاں ہے ۔ اس نے فرد اور جماعت اور مختلف سطح کے افراد اور طبقات کے حقوق کا تعین کیا اور عملاً یہ حقوق فراہم کیے ۔ جن افراد اور طبقات کے حقوق ضائع ہور ہے تھے ان کی نصرت وحمایت میں کھڑا ہوا اور جو لوگ ان حقوق پر دست درازی کر رہے تھے ان پر سخت تنقید کی اور انہیں دنیا اورآخرت کی وعید سنائی ،معاشرہ کو ان کے ساتھ بہتر سلوک کی تعلیم وترغیب دی۔ قرآن مجید انسانی حقوق کی ان کوششوں کی اساس ہے اور احادیث میں ان کی قولی وعملی تشریح موجود ہے ۔قرآن وحدیث کا اندازِ بحث ونظر مروجہ قانونی کتابوں کا سا نہیں ہے۔کسی حق کو جاننے کےلیے پورے قرآن اور ذخیرۂ حدیث کودیکھنا چاہیے۔ فقہاء کرام او رماہر ین شریعت نے تفصیل سے اس پر غور کیا ہے اور حقوق کےتعین کی اپنے دور کےحالات وظروف کے لحاظ سے کوشش کی ہے ۔ اسلامی قانون کے سمجھنےمیں اس سے بڑی مدد ملتی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’اسلام انسانی حقوق کا پاسبان‘‘انڈیا کے ممتاز عالم دین محترم مولانا سید جلال الدین عمری ﷾ کی تصنیف ہے ۔موصوف ایک جید عالم دین ،بہترین خطیب، اورممتاز مصنف کی حیثیت سےمعروف ہیں ۔ قرآن وسنت کا گہرا علم رکھتے ہیں ۔ موضوع کا تنوع،اسلوب کی انفرادیت، طرزِ استدلال کی ندرت اور زبان وبیان کی شگفتگی ان کی نمایاں خصوصیات ہیں ۔موصوف مختلف موضوعات پر دودرجن سےزائد کتب کےمصنف ہیں ۔کتاب ہذا میں مصنف نے بڑے عالمانہ انداز میں انسانی حقوق اور اس کےتاریخی پس منظر کا معروضی مطالعہ کر کے اس کے بنیادی تصورات کو واضح کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا )

عورت اسلامی معاشرہ میں

Authors: سید جلال الدین انصر عمری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ظہور اسلام سے قبل کتاب ہستی کے ہر صفحے پر عورت کا نام حقارت اور ذلت سے لکھا گیا ہے ۔اقوام عالم اور ان کے ادیان نے عورت کی خاطر خواہ قدر ومنزلت نہ کی اور عورت کا وجود تمام عالم پر ایک مکروہ دھبہ تصور کیا جاتا تھا ہر جگہ صنف نازک مردوں کے ظلم وستم کا شکار رہیں۔انسانی تمدن کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کی متمدن ترین اقوام نے بھی عورت کو ایک غیر مفید بلکہ مخل تمدن عنصر سمجھ کر میدان عمل سے ہٹا دیا تھا ۔یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو عزت واحترام دیا اور اس کے حقوق کی نگہداشت پر زور دیا۔زیر نظر کتاب میں قدیم وجدید مذاہب اور تہذیبوں میں عورت کی حیثیت کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اسلام نے عورت کو کس قدر اعلی مرتبے پر فائز کیا ہے ۔اسلامی معاشرہ میں عورت کے حقیقی دائرہ کار،عورت کی تعلیم وتربیت اور مختلف اقتصادی ومعاشی امور کے حوالے سے عورت کے کردار کو بھی زیر بحث لایا گیا ہے۔علاو ہ ازیں عورت سے متعلقہ اسلامی احکام کی وضاحت اور ان کی حکمتوں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔اپنے موضوع پر یہ ایک منفرد کتاب ہے ۔(ط۔ا)

مضمون کتب خانہ اسکندریہ

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Knowledge

By Al Noor Softs

کتب خانہ اسکندریہ کی بنیادبطلیموسی فرمانروا سوتر اول نے اسکندریہ کے مقام پر رکھی ۔ اس کے بیٹے فیلاڈلفس کی علم پروی اور کتابوں سے دلچسپی نے کتب خانہ اسکندریہ کوجلد ہی اس قابل بنا دیا کہ ایتھنز کی علمی وثقافتی مرکزیت وہاں سمٹ آئی۔ اصحاب علم وفضل دور دور سے اس علمی مرکز کی طرف جوق در جوق کھنچے چلے آتے تھے۔کتب خانہ اسکندریہ کا قیام بھی نینوا کے کتب خانہ کی طرح شاہی سرپرستی میں عمل میں آیا۔ یہ کتب خانہ ایک کثیر المقاصد عجا ئب گھر میں قائم کیا گیا تھا جو رصدگاہ، ادارہ علم الابدان، ادارہ نشر و اشاعت اور کتب خانہ کی عمارت پر مشتمل تھا۔ مورخین کے نزدیک اس علمی ادارے کو دنیا کی سب سے پہلی جامعہ یا سائنسی اکادمی ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔کتب خانہ اسکندریہ میں کتابوں کا ذخیرہ زیادہ تعداد میں پیپرس اور جھلی کے رول یا پلندوں پر مشتمل تھا۔اس کتب خانے میں کتابوں کی تعداد میں 5 لاکھ سے متجاوز تھی ۔ مسلمانوں پر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا رہا ہے کہ اس کو مصرکی فتح کے وقت مسلمانوں نے نذرآتش کر دیاتھا جبکہ اس الزام کی تردید خود مستشرقین مثلاً ایڈورڈ گبن(Gibbon) اور قلپ کے ہٹی(P.K Hitti)وغیرہ نے بھی کی ہے، ان کی تحقیق کے مطابق یہ کتب خانہ ظہوراسلام سے 200 سال پہلے مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکا تھا۔ زیر کتاب بعنوان ’’ مضمون کتب خانہ اسکندریہ‘‘ معروف سیرت نگار شبلی نعمانی کی تحریر ہے۔انہوں نے اس تحریر میں اصول روایت ودرایت سے ثابت کیا ہےکہ کتب خانہ اسکندریہ کےجلانے کاالزام جو مسلمانوں پر لگایا جاتا ہے ہے وہ غلط ہے۔(م۔ا)

اورنگ زیب عالمگیر

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Arguments

By Al Noor Softs

اورنگزیب عالمگیر3 نومبر ،1618ء کو مالوہ کی سرحد پر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ ارجمند بانو بیگم تھیں۔ جو ممتاز محل کے نام سے مشہور تھیں۔ اورنگ زیب کی عمر دو سال کی تھی کہ شاہجہان نے اپنے باپ جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی۔ اورنگزیب عالم گیر پہلے بادشاہ ہیں جنھوں نے قرآن شریف حفظ کیا اور فارسی مضمون نویسی میں نام پیدا کیا۔ اس کے علاوہ گھڑ سواری ، تیراندازی ، اور فنون سپہ گری میں بھی کمال حاصل کیا۔ سترہ برس کی عمر میں 1636ء دکن کے صوبیدار مقرر ہوے۔ اس دوران میں اس نے کئی بغاوتوں کو فرو کیا۔ اور چند نئے علاقے فتح کیے۔ بلخ کے ازبکوں کی سرکوبی جس جوانمردی سے کی اس کی مثال تاریخ عالم میں مشکل سے ملے گی۔ان کا دورِ حکومت 1658ء تا 1707ء ہےاورنگزیب ابوالمظفر محی الدین کے لقب سے تخت پر بیٹھا اس نے ہندوؤں اور مسلمانوں کی فضول رسمیں ختم کیں اور فحاشی کا انسداد کیا اور خوبصورت مقبروں کی تعمیر و آرائش ممنوع قرار دی۔ قوال ، نجومی ، شاعر موقوف کر دئیے گئے۔ شراب ، افیون اور بھنگ بند کردی ۔ درشن جھروکا کی رسم ختم کی اور بادشاہ کو سلام کرنے کا اسلامی طریقہ رائج کیا۔ سجدہ کرنا اور ہاتھ اٹھانا موقوف ہوا۔ سکوں پر کلمہ لکھنے کا دستور بھی ختم ہوا۔ کھانے کی جنسوں پر ہرقسم کے محصول ہٹا دیے۔ 1665ء میں آسام ، کوچ بہار اور چٹاگانگ فتح کیے اور پرتگیزی اور فرنگی بحری قزاقوں کا خاتمہ کیا۔ عالمگیر احمد نگر میں بیمار ہوا اور 3 مارچ، 1707ء کو نوے برس کی عمر میں فوت ہوا۔ وصیت کے مطابق اسے خلد آباد میں دفن کیا گیا۔ ۔ اورنگ زیب بڑا متقی ، پرہیز گار ،مدبر اور اعلیٰ درجے کا منتظم تھا۔ خزانے سے ذاتی خرچ کے لیے ایک پائی بھی نہ لی۔ قرآن مجید لکھ کر ٹوپیاں سی کر گزارا کرتا تھا۔ سلجھا ہوا ادیب تھا۔ اُس کے خطوط رقعات عالمگیر کے نام سے مرتب ہوئے۔ اس کے حکم پر نظام سلطنت چلانے کیلیے ایک مجموعہ فتاوی تصنیف کیا گیا جسے تاریخ میں فتاوی عالمگیری کے نام سے یادکیا جاتا ہے ۔ فتاویٰ عالمگیری فقہ حنفی میں ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’اورنگ زیب عالمگیر‘‘ علامہ شبلی نعمانی اور ڈاکٹر اوم پرکاش پرشادکے دومضامین کا مجموعہ ہے ۔علامہ شبلی نعمانی نے اپنے مضمون میں مضبوط دلائل کےذریعے اورنگ زیب کی شخصیت پر لگائے جانے والے الزامات کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔اور ڈاکٹر اوم پرکاش ہے اورنگ زیب کوان کی مسلم شناخت سے ہٹ کر ایک ایسے حکمران کے روپ میں دکھایا ہے ۔ جو ہندو مسلم سب کا شہنشاہ تھا۔ جس نے اپنی رعایا کی بہتری کے لیےحتی المقدور کوشش کی ۔(م۔ا)

الغزالی

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Arguments

By Al Noor Softs

امام محمد ابو حامد الغزالی اسلام کے مشہور مفکر اور متکلم تھے۔ 450ھ میں طوس میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم طوس و نیشا پور میں حاصل کی ۔نیشا پور سے وزیر سلاجقہ نظام الملک طوسی کے دربار میں پہنچے اور 484ھ میں مدرسہ بغداد میں مدرس کی حیثیت سے مامور ہوئے۔ جب نظام الملک اور ملک شاہ کو باطنی فدائیوں نے قتل کردیا تو انہوں نے باطنیہ، اسماعیلیہ اور امامیہ مذاہب کے خلاف متعدد کتابیں لکھیں ۔ اس وقت وہ زیادہ تر فلسفہ کے مطالعہ میں مصروف رہے جس کی وجہ سے عقائد مذہبی سے بالکل منحرف ہو چکے تھے۔ ان کا یہ دور کئی سال تک قائم رہا۔ لیکن آخر کار جب علوم ظاہری سے ان کی تشفی نہ ہوئی تو تصوف کی طرف مائل ہوئے اور پھر خدا ،رسول ، حشر و نشر تمام باتوں کے قائل ہوگئے۔488ھ میں بغداد چھوڑ کر تلاش حق میں نکل پڑے اور مختلف ممالک کا دورہ کیے۔ یہاں تک کہ ان میں ایک کیفیت سکونی پیدا ہوگئی اور اشعری نے جس فلسفہ مذہب کی ابتدا کی تھی۔ انہوں نے اسے انجام تک پہنچا دیا۔ ان کی کتاب’’ المنقذ من الضلال‘‘ ان کے تجربات کی آئینہ دار ہے۔ اسی زمانہ میں سیاسی انقلابات نے ان کے ذہن کو بہت متاثر کیا اور یہ دو سال تک شام میں گوشہ نشین رہے۔ پھر حج کرنے چلے گئے ۔ اور آخر عمر طوس میں گوشہ نشینی میں گزاری۔امام غزالی نے بیسیوں کتب تصنیف کیں جن میں مشہور تصانیف احیاء العلوم، تحافتہ الفلاسفہ، کیمیائے سعادت اور مکاشفتہ القلوب ہیں۔ ان کا انتقال 505ھ کو طوس میں ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب’’الغزالی ‘‘ہندوستان کے معروف سیرت نگار علامہ شبلی نعمانی کی تصنیف ہے انہوں اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے حصے میں علم کلام کی ابتداء اس کی مختلف شاخیں، عہد بعہد کی تبدیلیاں اور ترقیاں۔ دوسرے حصے میں علم کلام نےاثبات اورابطال فلسلفہ کے متعلق کیا کیا اور کس حد تک کامیابی حاصل کی۔ اور تیسرے حصے میں ائمہ علام کلام کی سوانح عمریاں اس میں امام غزالی کے تفصیلی حالات قلم بند کیے ہیں ۔اور چوتھے حصے میں جدیدعلم کلام کو بیان کیا ہے ۔(م۔ا)

مختصر سیرت النبی ﷺ

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اردو کی سب سے زیادہ مایہ ناز کتاب سیرت النبیﷺ جو علامہ شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی مشترکہ کاوش ہے۔سات ضخیم جلدوں پر مشتمل یہ کتاب نہ صرف اردو زبان بلکہ دنیا بھر کی مختلف زبانوں میں لکھی جانے والی بہترین کتب سیرت میں شمار کی جاتی ہے۔اس کی تالیف اولاً علامہ شبلی نعمانی نے شروع کی، انہوں نے پہلی دو جلدیں لکھیں تھیں کہ 1914ء ان کا انتقال ہو گیا ۔ وفات سے قبل انہوں نے اپنے شاگرد رشید سید سلیمان ندوی ﷫ کووصیت کی تھی کہ وہ اس کام کی تکمیل کریں۔چنانچہ باقی پانچ جلدیں سوم تاہفتم سید سلیمان ندوی نےمکمل کی تھیں۔سیرت النبی ﷺ کی پہلی جلد شبلی نعمانی کی وفات کے چار سال بعد 1918ء میں شائع ہوئی اور آخری جلد سید سلیمان ندوی وفات کےبعدہوئی۔پاک وہند میں اس کتاب کے کئی ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں اور مسلسل شائع ہورہے ہیں۔انگریزی سمیت کئی غیر ملکی زبانوں میں اس کے تراجم بھی ہوچکے ہیں۔اس کتاب میں واقعات کی تفتیش وتلاش اور مسائل ونظریات کی بحث وتحقیق پر بڑی محنت وکاوش اور دیدہ ریزی کی گئی ہے ۔یہ کتاب سات بڑی جلدوں میں ہے اورایک عام آدمی کے لیے اس کامطالعہ اس تیز رفتا ر اورمصروفیت کے دور میں بہت مشکل ہے۔ لہذا جناب محمد رفیق چودہری صاحب اس ضرورت کے پیش نظر زیرنظر کتاب ’’مختصر سیرت النبی ﷺ‘‘ میں سیرت النبی کی ساتوں جلدوں کا خلاصہ ایک جلد میں پیش کیا ہے۔تاکہ زیادہ ضروری مواد اورمعلومات کوایک عام قاری کم وقت میں حاصل کرسکے ۔اس اختصار میں تمام عبارت اور پورا متن اصل مصنفین یعنی شبلی نعمانی اور سید سلیمان ندوی کا ہے ۔رفیق چودہری صاحب نے زیادہ اہم مضامین کا انتخاب کر کے ان کو مناسب تصنیفی ترتیب دی ہےتاکہ قاری کو کتاب میں کہیں خلا محسوس نہ ہو اورکم سے کم وقت میں سیرت النبیﷺ کے اہم مضامین پر اس کی نظر رہے ۔رفیق چودہری صاحب نے اختصار کے ساتھ ساتھ اس کام میں دومعمولی اور مناسب تبدیلیاں کی ہیں۔قرآنی آیات کےحوالے جو پہلے رکوع کی شکل میں تھے اب سورۃ اور آیات کے نمبر کی صورت میں دے دئیے ہیں اور تمام اردو ہندسوں کوانگریزی ہندسوں میں بدل دیا ہے۔(م۔ا)

سیرۃ النبی ﷺ از شبلی ( تخریج شدہ ایڈیشن ) حصہ 1

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Arguments

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصطلاح سے یاد کرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے ۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں ۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے ۔ ۔ شروع ہی سے رسول کریم ﷺکی سیرت طیبہ پر بے شمار کتابیں لکھیں جا رہی رہیں۔یہ ہر دلعزیز سیرتِ سرورِ کائنات کا موضوع گلشنِ سدابہار کی طرح ہے ۔جسے شاعرِ اسلام سیدنا حسان بن ثابت سے لے کر آج تک پوری اسلامی تاریخ میں آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کے جملہ گوشوں پر مسلسل کہااور لکھا گیا ہے او رمستقبل میں لکھا جاتا رہے گا۔اس کے باوجود یہ موضوع اتنا وسیع اور طویل ہے کہ اس پر مزید لکھنے کاتقاضا اور داعیہ موجود رہے گا۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ اردو زبان میں سرت النبی از شبلی نعمانی ،سیدسلیمان ندوی رحمہما اللہ ، رحمۃللعالمین از قاضی سلیمان منصور پوری اور مقابلہ سیرت نویسی میں دنیا بھر میں اول آنے والی کتاب الرحیق المختوم از مولانا صفی الرحمن مبارکپوری کو بہت قبول عام حاصل ہوا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت النبی ﷺ‘‘ برصغیر پاک وہند میں سیرت کےعنوان مشہور ومعروف کتاب ہے جسے علامہ شبلی نعمانی﷫ نے شروع کیا لیکن تکمیل سے قبل سے اپنے خالق حقیقی سے جاملے تو پھر علامہ سید سلیمان ندوی ﷫ نے مکمل کیا ہے ۔ یہ کتاب محسن ِ انسانیت کی سیرت پر نفرد اسلوب کی حامل ایک جامع کتاب ہے ۔ اس کتاب کی مقبولیت اور افادیت کے پیش نظر پاک وہند کے کئی ناشرین نےاسے شائع کیا ۔زیر تبصرہ نسخہ ’’مکتبہ اسلامیہ،لاہور ‘‘ کا طبع شدہ ہے اس اشاعت میں درج ذیل امور کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔قدیم نسخوں سےتقابل وموازنہ ، آیات قرآنیہ ، احادیث اورروایات کی مکمل تخریج،آیات واحادیث کی عبارت کو خاص طور پرنمایاں کیا ہے ۔نیز اس اشاعت میں ضیاء الدین اصلاحی کی اضافی توضیحات وتشریحات کےآخر میں (ض) لکھ واضح کر دیا ہے ۔تاکہ قارئین کوکسی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔علاوہ ازیں اس نسخہ کو ظاہر ی وباطنی حسن کا اعلیٰ شاہکار بنانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے۔اور کتاب کی تخریج وتصحیح ڈاکٹر محمد طیب،پرو فیسر حافظ محمد اصغر ، فضیلۃ الشیخ عمر دارز اور فضیلۃ الشیخ محمد ارشد کمال حفظہم اللہ نےبڑی محنت سے کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی طباعت میں تمام احباب کی محنت کو قبول فرمائے اور ان کےلیے نجات کا ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)

الفاروق

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Arguments

By Al Noor Softs

حضرت عمرفاروق ؓکے سوانح اور حالات تفصیل کےساتھ اور اس صحت کے ساتھ لکھے جاچکے جو تاریخی تصنیف کی صحت کی اخیری حد ہے دنیا میں اور جس قدر بڑے بڑے نامور گزرےہیں ان کی مفصل سوانح عمریاں پہلےسے موجود ہیں ۔اب آپ خود اس بات کا اندازہ لگالیں کہ تمام دنیا میں حضرت عمرفاروق ؓکا کوئی ہم پایہ گزرا ہے یا نہیں ۔؟ ’الفاروق ‘ جس میں حضرت عمرفاروق ؓکی ولادت سے وفات تک واقعات اور فتوحات ملکی کےحالات درج ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور مذہبی انتظامات اور علمی کمالات اور ذاتی اخلاق اور عادات کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے ۔ اس کتاب کی صحت میں کوئی کم کوشش نہیں کی گئی بحرحال کتاب کے آخر میں ایک غلط نامہ لگادیا گیا ہے جو کفارہ جرم کا کام دے سکتا ہے ۔

مقالات شبلی جلد1

Authors: علامہ شبلی نعمانی

In Knowledge

By Al Noor Softs

علامہ شبلی نعمانی اردو کے مایہ ناز علمی و ‌ادبی شخصیات میں سے ہیں۔ خصوصاً اردو سوانح نگاروں کی صف میں ان کی شخصیت سب سے قدآور ہے۔ مولانا شبلی نے مستقل تصنیفات کے علاوہ مختلف عنوانات پر سیکڑوں علمی و تاریخی و ادبی و سیاسی مضامین لکھے تھے جو اخبارات و رسائل کے صفحات میں منتشر تھے۔ اگرچہ مولانا مرحوم کے چند مضامین ’رسائل شبلی‘ اور ’مقالات شبلی‘ کے نام سے ان کی زندگی ہی میں شائع ہو چکے تھے، لیکن یہ دونوں مجموعے ناتمام ہیں اور صرف چند تاریخی و علمی مضامین پر مشتمل ہیں، مولانا کے تمام مضامین کو یکجا صورت میں پیش کرنے کے لیے ہندوستان کے مختلف رسائل و اخبارات مثلاً معارف علی گڑھ، دکن ریویو، انسٹیٹیوٹ گزٹ، تہذیب الاخلاق، الندوہ، مسلم گزٹ وغیرہ سے مولانا کے تحریر کردہ تمام مضامین استقصاء کے ساتھ نہایت تلاش و محنت سے جمع کیے گئے اور مختلف موضوع کے لحاظ سے الگ الگ ان کی تقسیم کی گئی اور ’مقالات شبلی‘ کے نام سے اشاعت کا انتظام کیا گیا۔ یہ اس سلسلے کی پہلی جلد ہے جس میں تاریخ ترتیب قرآن، اختلاف مصاحف اور قراءت، یورپ اور قرآن کے عدیم الصحۃ ہونے کا دعویٰ، مسائل فقہیہ پر زمانہ کی ضرورتوں کا اثر، عربوں کی صلح پسندی اور بے تعصبی، مسلمانوں کو غیر مذہب حکومت کا محکوم ہو کر کیوں رہنا چاہیے وغیرہ جیسے علمی و تحقیقی مقالات شامل ہیں۔ اگرچہ بہت سی جگہوں پر مضامین کے مندرجات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن مجموعی طور یہ علمی دستاویزات ہیں، عوام و خواص کے لیے ان سے مستفید ہونے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔(ع۔م)