eBooks

2,841 Results Found
تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کے اسباب

Authors: عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

تقویٰ کا مطلب ہے پیرہیز گاری ، نیکی اور ہدایت کی راہ۔ تقویٰ دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہو جانے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک کاموں کی طرف اس کو بے تاہانہ تڑپ ہوتی ہے۔ ۔ اللہ تعالیٰ کو تقوی پسند ہے۔ ذات پات یا قومیت وغیرہ کی اس کی نگاہ میں کوئی وقعت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے قابل عزت و احترام وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ ۔ تقویٰ دینداری اور راہ ہدایت پر چلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ بزرگانِ دین کا اولین وصف تقویٰ رہا ہے۔ قرآن پاک متقی لوگوں کی ہدایت کے لیے ہے۔افعال و اقوال کے عواقب پر غوروخوض کرنا تقویٰ کو فروغ دیتا ہے۔اور روزہ تقویٰ حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ روزے، خدا ترسی کی طاقت انسان کے اندر محکم کر دیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی عزت اور عظمت اس کے دل میں ایسی جاگزیں ہو جاتی ہے کہ کوئی جذبہ اس پر غالب نہیں آتا اور یہ ظاہر ہے کہ ایک مسلمان اللہ کے حکم کی وجہ سے حرام ناجائزاور گندی عادتیں چھوڑ دے گا اور ان کے ارتکاب کی کبھی جرات نہ کرے گا۔ تقویٰ اصل میں وہ صفت عالیہ ہے جو تعمیر سیرت و کردار میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ عبادات ہوں یا اعمال و معاملات۔ اسلام کی ہر تعلیم کا مقصود و فلسفہ، روحِ تقویٰ کے مرہون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث میں متعدد مقامات پر تقویٰ اختیار کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ خوفِ الٰہی کی بنیاد پر حضرت انسان کا اپنے دامن کا صغائر و کبائر گناہوں کی آلودگی سے پاک صاف رکھنے کا نام تقویٰ ہے۔اور اللہ اور اس کے رسول اکرم ﷺ کی نافرمانی کاہر کام گناہ کہلاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تقویٰ کے ثمرات اور سعادت مند زندگی کےاسباب ‘‘ عربی کےدو مختلف رسالوں کااردو ترجمہ ہے پہلا رسالہ ’’من ثمرات التقویٰ شیخ صالح العثمین کا ہے۔ اس میں انہوں نےپہلے تقویٰ کی اہمیت بیان کی تقویٰ، کےمتعلق سلف صالحین کی وصیتوں کا تذکرہ کیا اور علمائے سلف کے اقوال کی روشنی میں تقویٰ کامفہوم واضح کیا ہے۔ اس کےبعد انہوں نےزیادہ ترقرآنی آیات کی روشنی میں تقویٰ کے معاشی، معاشرتی، اخلاقی، دینی دنیا وی اوراخروی چھیالیس ثمرات ذکر کیے ہیں۔اس کتاب کا دوسرا حصہ شیخ عبدالرحمٰن ناصر السعدی﷫ کے تحریر کردہ عربی رسالہ ’’ الوسائل المفیدہ للحیاۃ السعیدۃ‘‘ کاترجمہ ہے۔ ا اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے اور ہمیں تقوی ٰ اختیار کرنے اور گناہوں سے بچنے کی توفیق دے (آمین) (م۔ ا)

اسلامی ضابطہ حیات

Authors: عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام ایک کامل اور اکمل دین ہے جواپنے ماننے والوں کوصرف مخصوص عقائد ونظریات کو اپنانے ہی کی دعوت نہیں دیتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر یہ دین مسلمانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام کی یہ روشن اور واضح تعلیمات اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن مجید او رنبی کریم ﷺ کی صحیح احادیث کی شکل میں مسلمانوں کے پاس محفوظ ہیں۔ انہی دوچشموں سے قیامت تک مسلمان سیراب ہوتے رہے ہیں گے اور اپنے علم کی پیاس بجھاتے رہیں گے۔زیر نظر کتاب ’’اسلامی ضابطۂ حیات‘‘عالمِ عرب کے مشہور مصنف ومفسرِ قرآن علامہ عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی﷫ کی عربی کتاب منہج السالکین وتوضیح الفقہ فی الدین کا اردو ترجمہ ہے ۔یہ کتاب قرآن وحدیث کی تعلیمات کو آسان فہم انداز میں عام مسلمانوں تک پہنچانے کی ایک کوشش ہے ۔اس کتاب میں مصنف موصوف نے طہارت،نماز، روزہ، زکوٰۃ، اور حج جیسی اہم عبادات کے مسنون طریقہ کار اور اہم مسائل کے ساتھ ساتھ جائز وناجائز کاروبار،حلال وحرام ،کھانے ،نکاح وطلاق، جنازہ ، وراثت اور شرعی حدود وغیرہ کے مسائل کو نہایت اختصار کے ساتھ بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کو دین کا صحیح علم سیکھنے اور پھر اس پر عمل کرکے دنیا و آخرت کی بھلائیاں سمیٹنے کی توفیق بخشے او راس کتاب کے مصنف،مترجم، ناشر اورمعاونین کے لیے اسے ذریعہ نجات بنائے ۔ (آمین)(م۔ا)

قرآنی احکام و مسائل

Authors: عبد الرحمٰن بن ناصر السعدی

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

قرآن مجید اہل اسلام کے دلوں کاسرور اوراہل دل کی آنکھوں کانور ہے آئمہ مجتہدین او رعلماء اسلام نے اس کتابِ دستور ومنشور کی تفسیر کے میدان میں فقید المثال کارنامے سرانجام دیے ہیں ۔مگر ہردو ر میں علمائے کرام نے اس میدان میں مزید کام کی گنجائش کو محسوس کیا اور مبسوط ومختصر تفاسیر پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔زیر نظر کتاب '' قرآنی احکام ومسائل ''الشیخ عبد الرحمن بن ناصر بن عبد اللہ السعدی ﷫ کی عربی تصنیف بعنوان'' فتح الرحيم الملك العلام فى علم العقائد والتوحيد والأخلاق والأحكام المستنبطة من القرآن'' کااردو ترجمہ ہے جس میں فاضل مؤلف نے علوم قرآن سے تین اہم علوم علم التوحید والعقائد،علم اخلاق واوصاف حمیدہ ،عبادات اور معاملات کے احکام کا علم پر اختصارکے ساتھ بحث کی ہے یہ کتاب طالبانِ علوم نبوت کے لیے گراں قدر علمی تحفہ ہے اللہ تعالی فاضل مصنف کے درجات بلند فرمائے اور ناشرین کتاب کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)

اہل حدیث اور احناف کے درمیان اختلاف کیوں ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ

Authors: محمد جونا گڑھی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

انسانی دنیا میں اختلاف کا پایا جانا ایک مسلمہ بات ہے ۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق میں ایک سنت۔ چنانچہ لوگ اپنے رنگ وزبان اور طبیعت وادراکات اور معارف وعقول اور شکل وصورت میں باہم مختلف ہیں ۔امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔علم الاختلاف سے مراد ان مسائل کا علم ہے جن میں اجتہاد جاری ہوتا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’اہل حدیث اوراحناف کے درمیان اختلاف کیوں؟ ایک حقیقت پسندانہ تجزیہ‘‘ خطیب الہند مولانا محمد جوناگڑھی﷫ کی تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے احناف کےاس دعوے ( فقہ حنفی کی کتابوں کاایک بھی مسئلہ خلافِ حدیث نہیں بلکہ یہ فقہ قرآن وحدیث کا مغز گودا اور عطر ہے ) کو غلط ثابت کیا ہےاور اس دعوے کی حقیقت سے مسلمانوں کوآگاہ کرنے کے علاوہ یہ بتایا ہے کہ فقہ میں سیکڑوں مسائل احادیث صحیحہ کےصریخ خلاف ہیں (م۔ا)

محمدیات

Authors: محمد جونا گڑھی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔دور حاضر میں ہر محاذ پر ملت کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے او راسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر آئے دن نعوذ باللہ پیغمبر اسلام کی ذات کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ تو یقینا ایسی صورت حال میں رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے واقعات کو دنیا میں عام کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ اسے پڑھ کر امت مسلمہ اپنے پیارے نبیﷺ کے خلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے آگا ہ ہوسکے اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ محمدیات‘‘ مولانا محمد صاحب جونا گڑھی کی ہے۔ جس میں انہوں نے فقہ حنفی کے (فاتحہ خلف الامام، فاتحہ خوانی اور دیگر بدعات کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمن)

ہدایت محمدی

Authors: محمد جونا گڑھی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے۔اسلام نے ہمیں زندگی کے تمام شعبوں کے بارے میں راہنمائی فراہم کی ہے۔عبادات ہوں یا معاملات،تجارت ہو یا سیاست،عدالت ہو یا قیادت ،اسلام نے ان تمام امور کے بارے میں مکمل تعلیمات فراہم کی ہیں۔اسلام کی یہی عالمگیریت اور روشن تعلیمات ہیں کہ جن کے سبب اسلام دنیا میں اس تیزی سے پھیلا کہ دنیا کی دوسرا کوئی بھی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات نہ صرف آخرت کی میں چین وسکون کی راہیں کھولتی ہیں ،بلکہ اس دنیوی زندگی میں اطمینان ،سکون اور ترقی کی ضامن ہیں۔اسلام کی اس بے پناہ مقبولیت کا ایک سبب مساوات ہے ،جس سے صدیوں سے درماندہ لوگوں کو نئی زندگی ملی اور وہ مظلوم طبقہ جو ظالموں کے رحم وکرم پر تھا اسے اسلام کے دامن محبت میں پناہ ملی۔لیکن بعد میں آنے والوں نے اسلام کی روشن تعلیمات کو چھوڑ کر اپنے علما کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دیا اور بہت ساری ایسی باتیں تحریر کر دیں جو قرآن وحدیث کے صریح مخالف ہیں۔انہی کتابوں میں سے ایک فقہ حنفی کی معروف ترین کتاب ہدایہ ہے، جس میں متعدد مسائل قرآن وحدیث کے خلاف بیان کئے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب "ہدایت محمدی" خطیب الہند مولانا محمد صاحب محدث جونا گڑھی﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے فقہ حنفی کی اعلی ترین کتاب ہدایہ کے 100 مسائل کو قرآن وحدیث کے خلاف ثابت کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی ان خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)

صلاۃ محمدی (جونا گڑھی)

Authors: محمد جونا گڑھی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ نماز دین کاستون ہے جس نے اسے قائم کیا اس نے دین کو قائم کیا اور جس نے اسے ترک کردیا ہے اس نے دین کی عمارت کوڈھادیا۔ نماز مسلمان کے افضل اعمال میں سے ہے۔نماز ایک ایسا صاف ستھرا سرچشمہ ہے جس کےشفاف پانی سے نمازی اپنے گناہوں اور خطاؤں کودھوتا ہے ۔کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے۔ اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش و منکرات سے انسان کو روکتی ہے۔ بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سے نماز کا پابند بنایا جائے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے۔ اور نمازکی عدم ادائیگی پر وعید کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرمﷺ کی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے۔ انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’صلاۃ محمدی‘‘ علامہ محمد بن ابراہیم جونا گڑھی کی مرتب شدہ ہے۔ اس مختصر کتاب میں انہوں نے وضو، تیمم، نماز پنجگانہ، نماز جمعہ، نماز جنازہ، نماز عیدین، بیمار اور مسافر کی نماز، نماز تراویح، تہجد، چاند اور سورج گرہن، کی نماز، نماز استسقاء وغیرہ کے طریقے، مسنون دعائیں مع ترجمہ حوالوں سمیت آسان اور سلیس انداز میں پیش کیے ہیں۔ (م۔ا)

مشکوٰۃ محمدی

Authors: محمد جونا گڑھی

In Arguments

By Al Noor Softs

مولانا محمد جوناگڑھی صوبہ گجرات میں ضلع کاٹھیاوار کے شہرت یافتہ شہر جوناگڑھ میں 1890ء میں پیدا ہوئے، جو متحدہ ہندوستان میں اسلامی ریاست کے نام سے معروف تھا،مولانا جوناگڑھی نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن مالوف میں مولانا محمد عبداللہ صاحب جوناگڑھی سے حاصل کی۔اس کے بعد 1913ء میں 22 سال کی عمر میں اپنے مادر وطن کی محبت و کشش سے خود کو آزاد کر کے بڑے خفیہ طریقہ سے دہلی پہنچے اور “مدرسہ امینیہ” میں داخلہ لے کر یکسوئی کے ساتھ حصول تعلیم میں مشغول ہو گئے، اس کےبعد مولانا عبدالوہاب ملتانی ﷫ کے مدرسہ دارالکتاب والسنہ میں چلے گئے۔ مولانا جوناگڑھی ﷫ کا دہلی میں شیخ عبدالرحمان شیخ عطاء الرحمان اور ان کے قائم کردہ جامعہ رحمانیہ سے والہانہ لگاوٴ اور حقیقی تعلق تھا مولانا کی ہمدردیاں ہمہ وقت دارالحدیث رحمانیہ کے ساتھ رہتیں۔ دارالحدیث رحمانیہ کے اجلاس اور خصوصی پروگرام میں بھی مولانا جوناگڑھی شریک ہوا کرتے تھے، چنانچہ رحمانیہ کے سترھویں سالانہ اجلاس میں بحیثیت صدر ایک جامع خطاب کیا جو بعد میں “مقالہٴ محمدی” کے نام سے طبع ہوا۔تعلیمی مراحل کے بعد عملی زندگی میں اپنے خیالات کو کارگر بنانے کی نیت سے سب سے پہلے ایک دینی مدرسہ کے قیام کی بابت سوچا اور آخر اجمیری گیٹ اہل حدیث مسجد کو مذاکرہٴ علمیہ کا مرکز اور مثالی تعلیم گاہ قرار دیا اور اس ادارہ کا نام بھی آپ نے مدرسہ محمدیہ رکھا، اس میں دیگر اساتذہ کے ساتھ ساتھ آپ خود بنفس نفیس بیرونی طلبہ کی علمی تشنگی بجھانے کی سعی بلیغ فرماتے۔اجمیری گیٹ میں قیام کے دوران مولانا مرحوم نے تصنیف و تالیف کا کام جاری رکھا، تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے مقصد سے ایک ماہنامہ “گلدستہٴ محمدیہ” کے نام سے جاری کیا، بعد میں اس رسالے نے ایسی مقبولیت حاصل کی کہ 1912ء میں اخبار محمدی کے نام سے پندرہ روزہ ہو گیا ۔آپ کی تصانیف کی خدمات بھی کسی پہلو سے معمولی نہیں ہے، آپ کے تصانیف کی تعداد تقریباً ڈیڑھ سو سے زائد پہنچتی ہے، ہر کتاب اپنی جگہ پر ایک قیمتی جوہر سے کم درجہ کی نہیں ہے ، مولانا داوٴد راز﷫ نے آپ کی تصنیفی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے آپ کو قلمی میدان کا بے باک مجاہد کہا ہے مولانامحمد جوناگڑھی ﷫ کی جملہ تصانیف کا مرکزی موضوع تقلید و تعصب کی تردید اور کتاب و سنت کی تائید ہے آپ نے اپنی کتابوں میں راہ حق سے منحرف فرقوں پر اتنے زور کا حملہ کیا ہے کہ مد مقابل حواس باختہ ہے، فقہی موشگافیوں سے پردہ ہٹایا ہے۔مولانا تصنیف وتالیف کے علاوہ ایک سحربیان خطیب تھے خطابت کاملکہ فطری طور پر ان کے اندر قدرت نے بڑی فیاضی سے کوٹ کوٹ کر بھر دیا تھا وہ اپنی خطابت کی وجہ سے خطیب الہند کے نام سے معروف ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’مشکوٰۃ محمدی‘‘ مولانا جوناگڑھی ﷫ کی ایک اہم تصنیف ہے اس کتاب میں انہوں نے ان تمام چھوٹے بڑے عامیانہ اور عالمانہ اعتراضوں کامفصل اور بادلائل جواب دیا ہے جو اس وقت جماعت اہل پر کیے جاتے تھے اوران تہمتوں کابھی ازالہ کیا ہے جو اس جماعت پر لگائی جاتی ہیں ۔ساتھ ہی تقلید اور قیاس اور شرک وبدعت اوررسوم رواج کی بھی مکمل تردید کی ہے اور معترضین کے مخصوص مسائل بیان کر کےان پر ٹھوس اعتراض کیےگئے ہیں ۔(م۔ا)

امام محمدی امام ابو حنیفہ تاریخ بغداد کے آئینے میں

Authors: محمد جونا گڑھی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

ہر مسلمان پرواجب اورضروری ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے بعد مسلمانوں کے علماء، مجتہدین اور اولیاء صالحین کی محبت اختیار کرے، خاص کر وہ ائمہ اور علماء جو پیغمبروں کےوارث ہیں، آسمان کے ستاروں کی طرح خشکی و تری کی تاریکیوں میں راستہ دیکھاتے ہیں، مخلوق کے سامنے ہدایت کے راستے کھولتے ہیں۔ خاتم الرسل ﷺ کی بعثت سے پہلے جو امتیں تھیں ان کے علماء بد ترین لوگ تھے، مگر ملت اسلامیہ کے علماء بہترین لوگ ہیں۔ جب کبھی رسول اللہ ﷺ کی سنت مطہرہ مردہ ہونے لگتی ہے تو اس کو یہ علماء ہی زندہ کرتے ہیں، اوراسلام کے جسم میں ایک تازہ روح پھونکتے ہیں۔ اسی طرح چاروں ائمہ مجتہدین اور دوسرے علماء حدیث جن کی مقبولیت کے آگے امت سرنگوں رہتی ہے، ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کی کسی حدیث اور سنت کی مخالفت کا اعتقاد دل میں رکھتا ہو۔ ائمہ اربعہ میں سے ہر کوئی منفرد خصوصیات و صلاحیتوں کے مالک اور علم وعرفان کے بحر بیکراں تھے۔ بشری تقاضوں کے پیش نظر ائمہ، مجتہدین سے لغزشیں اور اخطاء بھی سرزد ہوئیں مگر اس کا مطلب ہرگزیہ نا ہو گا کہ ان کو شب و شتم کا نشانہ بنایا جائے۔ ائمہ اربعہ میں سے جو مقام امام ابو حنیفہؒ کو فقہ و اجتہاد میں حاصل ہوا وہ کسی اور کو نا مل سکا۔ امام ابو حنیفہؒ کی شخصیت کے بارے امت مسلمہ تین طبقوں میں منقسم ہے۔ زیر نظر کتاب"امام محمدی امام ابو حنیفہؒ تاریخ بغداد کے آئینے میں"مشہور محدث و امام خطیب البغدادیؒ کی مایہ ناز کتاب"تاریخ بغداد" کے ایک جزء کا ترجمہ ہے جس کو مصنف مولانا محمد محدث جونا گڑھیؒ نے اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ خطیب البغدادیؒ نے اپنی تصنیف میں امام ابو حنیفہؒ کی مختلف فیہ شخصیت ہونے کی بناء پران کے مناقب و مثالب کو پوری دیانت داری کے ساتھ مع سند ذکر کیا ہے۔اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنتوں اور کاوشوں کو قبول فرمائے۔ آمین (عمیر)