eBooks
2,841 Results Found
غزوہ حنین
Authors: محمد احمد باشمیل
اسلام کے فیصلہ کن معرکوں میں غزوہ حنین کی حیثیت بالکل نمایاں ہے کیونکہ یہ معرکہ عسکری نقطۂ نگاہ سے ایک اہم معرکہ ہے جس میں مسلمانوں نے آنحضرت ﷺ کی زیرِ قیادت شمولیت اختیار کی۔ بارہ ہزار جانبازوں نے شرکت کی اور اتنی تعداد پہلے کسی معرکہ میں نظر نہیں آئی۔ نیز اس معرکہ میں مسلمانوں کی فیصلہ کن فتح، جزیرہ عرب میں بت پرستی کے تابوت، میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ زیر نظر کتاب علامہ محمد احمد باشمیل کی تصنیف ہے جیسے اردو قالب میں مولانا اختر فتح پوری نے منتقل کیا ہے۔ کتاب شاندار تعلیمات اور دقیق قیمتی تحلیلات پر مشتمل ہے۔ بنو ثقیف اور بنو حیوازن کا کس طرح قلعہ قمع کیا گیا اور دوران معرکہ کس قسم کے حالات پیش آئے۔ مخالفین کے کتنے لوگ مقتول ہوئے اور مسلمانوں کے کتنے لوگوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ جزیرۂ عرب میں بت پرستی کا خاتمہ کیسے ہوا، یہ سب معلومات کتاب ھذا میں رقم کر دی گئی ہیں۔ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلامی کے خزائن و معارف کے اکتشاف کا خواہاں ہے اسے اس کتاب کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے اور مؤلف کے قیمتی تاریخی سلسلہ کی بقید کتابوں کی تعلیمات و تحلیلات کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔ غزوۂ حنین میں جو دروس و عبر اور نصائح پائی جاتی ہیں انہیں مؤلف نے اپنی کتاب میں اپنے تحلیل و تجزیہ کے دوران نہایت شاندار طریق سے پیش کیا ہے۔ مسلم نوجوانوں خاص طور پر تاریخ کے طالب علموں کے لئے مؤلف کا یہ سلسلہ درخشندہ اسلامی تاریخ کے خزانوں کا احاطہ کرتا ہے جس سے وہ اپنی پیاس کی سیرابی کا سامان پائیں گے۔ جزاہ الندا حسن الجزاء۔(آ۔ہ)
صلح حدیبیہ
Authors: محمد احمد باشمیل
صلح حدیبیہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ ہے اس کے نہایت دور رس نتائج اور مفید اثرات رونما ہوئے۔ صلح حدیبیہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن مجید نے اس کو ’’فتح مبین‘‘ اور ’’نصر عزیز‘‘ کا نام دیا ہے۔ تمام مسلمان مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ صلح حدیبیہ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی سیاسی بصیرت اور فہم و فراست کا ایک شاہکار واقعہ ہے۔ حتیٰ کہ مشہور مؤرخ اور فاضل عالم دین ڈاکٹر حمید اللہ نے صلح حدیبیہ کو عہد نبوی کی سیاست خارجہ کا شاہکار قرار دیا ہے۔ زیر نظر کتاب علامہ محمد أحمد باشمیل کی تألیف لطیف ہے اور اس کو اردو قالب میں منتقل کرنے کا فریضہ ’’اختر فتح پوری‘‘ نے انجام دیا ہے۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں صلح حدیبیہ کے مفید اثرات کے ساتھ ساتھ اس وقت کے تاریخی تناظر کے حوالے سے صلح حدیبیہ سے متعلق تمام علمی مباحث کو ایک جگہ سمیٹ دیا ہے۔ موصوف نے اس موضوع کا تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا ہے اور عالمانہ انداز میں تمام ضروری مباحث کا جائزہ پیش کیا ہے۔ صلح حدیبیہ سے متعلق سیاسی و عسکری واقعات، اس کے اسباب و محرکات، آپ ﷺ کی عمرہ کے لئے روانگی، انٹیلی جنس کے دستے، صحابہ کرام سے مشاورت، صلح کے ثالث حضرات، آپ ﷺ کے نمائندے حضرت عثمانؓ کی مکہ روانگی، بیعت رضوان، صلح کے مذاکرات، شرائط، گواہان، ام سلمہؓ کا مشورہ، اصحاب شجرہ کی فضیلت، قضیہ حدیبیہ کے اسباق، عظیم فوائد اور انقباط اسلامی کے زندہ نمونہ جیسے بیسیوں مضامین پر اس کتاب میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ سیاسی اور عسکری امور سے متعلقہ لوگوں کے لئے یہ کتاب روش اور شان دار مشعل راہ ہے۔ (آ۔ ہ۔)
داعئی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پیغام و نظام
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پورا سامان رکھتی ہے ، رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے اور دنیا جہان کے تمام انسانوں کے لیے مکمل اسوۂ حسنہ اور قابل اتباع ہیں ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت و صورت پر ہزاروں کتابیں اور لاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اور کئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کے لیے معرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’داعی اسلام ﷺ‘‘ معروف اسلامی سکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی دل نشیں کتاب Introduction to Islam کا اردو ترجمہ ہے۔ڈاکٹر محمد حمید اللہ مرحوم نے اس کتاب میں اپنے تمام مطالعہ کا نچوڑ اور تحقیق کا عرق اس کتاب میں سمو دیا ہے۔اسلام کے پیغام اور نظام کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یہ لاجواب کتاب ہے۔(م۔ا)
خطبات عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن سیرت النبیﷺ کے ابتدائی نقوش
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
In Knowledge
ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ )9فروری 1908ء- 17 دسمبر 2002ء) ایک مایہ ناز محقق، دانشور اور مصنف تھے جن کے قلم سے علوم قرآنیہ ، سیرت نبویہ اور فقہ اسلام پر 195 وقیع کتابیں اور 937 کے قریب مقالات نکلے ۔ڈاکٹر صاحب ممتاز قانون دان ، اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ ،حدیث پر اعلیٰ تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔ اے، ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ سوربون یونیورسٹی (پیرس) سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات بھی انجام دیں۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ڈاکٹر مرحوم نے اپنی پوری زندگی تصنیف و تالیف کے کاموں کے لیے وقف کیے رکھی۔ اسلامی علوم و فنون کا شاید ہی کوئی گوشہ ایسا رہا ہو گا جس میں مرحوم ڈاکٹر صاحب نے انتہائی فاضلانہ، عالمانہ اور انتہائی عمیق تحقیق کے نتائج دنیائے اسلام کے سامنے پیش نہ کیے ہوں۔ 95 برس کی عمر پا کر 17؍دسمبر 2002ء کو فلوریڈا (امریکہ) میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد اہل دانش نے ان کی خدمت میں گلہائے عقیدت نچھاور کیے اور موصوف کی زندگی کی مختلف جہتوں پر اپنی اپنی بساط کے مطابق دادِ تحقیقی دی ۔ بعض علمی اداروں کی طرف سے ان کی خدمات کے اعتراف میں رسائل و جرائد کے خاص نمبر بھی شائع ہوئے ۔ زیر نظر کتاب ’’ خطبات عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد دکن سیرت النبیﷺ کے ابتدائی نقوش‘‘ڈاکٹر محمد حمید اللہ کے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد ،دکن میں سیرت طیبہﷺ پر پیش کیے گئے 6 خطبات کی کتابی صورت ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر عبد الغفار صاحب نے اسے تحقیق و تخریج و تعلیق سے مزین کر کے از سر نو شائع کیا ہے۔ (م۔ا)
خطبات بہاولپور ( جدید ایڈیشن )
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال : 17 دسمبر 2002ء) معروف محدث، فقیہ، محقق، قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسر رہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ زیر نظر کتاب خطبات بہاولپور دراصل مارچ 1980ءمیں جامعہ عباسیہ(اسلامیہ یونیورسٹی بھاولپور،پاکستان) کی دعوت پر یونیورسٹی میں ججز، علماءاور یونیورسٹیوں کے چانسلرز او رڈین حضرات کی زیر صدارت ڈاکٹر حمیداللہ کے مختلف علمی موضوعات پر بارہ خطبات کا مجموعہ ہے جو علمی حلقوں ، قانون دان او ر دانشور طبقے کے درمیان خطبات بہاولپور کے نا م سے معروف ہے ۔یہ خطبات 8مارچ 1980 ء سے 20 ماچ 1980ءتک مسلسل جاری رہے۔ان خطبات کوسننے کےلیے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے اساتذہ،طلباء وطالبات کےعلاوہ شہر کے علمائے کرام اوراہل ذوق و طلب خواتین وحضرات کی ایک کثیر تعدادتشریف لاتی جن میں ملک کے دوسرے شہروں سے آنے والے مہمانانِ گرامی بھی شامل ہوتے۔ اللہ تعالی ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کی اشاعت اسلام کےلیے کوششوں کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)
Le-Prophet-De-Islam کا اردو ترجمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پورا سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’پیغمبر اسلام ﷺ‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ کی انگریزی کتاب Le Prophete De Islam کا اردو ترجمہ ہے۔مصنف نے اس کتاب کو 51ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔(م۔ا)
صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ (دنیا کا قدیم ترین مجموعہ حدیث)
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
In Arguments
سیدنا ابو ہریرۃ کی ان138؍139 روایات کا مجموعہ ہےجوانہوں نے اپنے شاگرد ہمام بن منبہ بن کامل الصنعانی کو لکھوائی تھیں اسے ’صحیفہ ہمام بن منبہ‘ کہا جاتا ہے۔ صحیفہ ہمام بن منبہ اگرچہ کتِب احادیث میں متعدد جگہوں میں بکھرا ہوا تھا لیکن اصل صحیفہ مفقود تھا۔ ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم نے دمشق اور برلن کی لائبریری سے مکمل صحیفے کو دریافت کیا اور 1953ء میں پہلی بار اسے شائع کیا جس میں احادیث کی تعداد 138 ہے ۔بعدازاں مصر کے ڈاکٹر رفعت فوزی کومصر کی ایک لائبریری’ دار الکتب المصریہ ‘‘ سے اس صحیفہ کا ایک مخطوطہ ملا۔اس میں احادیث کی تعداد 139 ہے ۔اسے المکتبہ الخانجی ،مصر نے ’’صحیفہ ہمام بن منبہ عن ابی ہریرہ‘ ‘ کے نام سے 1985ء میں شائع کیا۔مختلف اہل علم نے صحیفہ ہمام بن منبہ کے اردو تراجم وحواشی بھی تحریر کیے ہیں ۔زیر نظر صحیفہ ہما م بن منبہ میں موجود 138 ؍احادیث کو بمع عربی متن اردو وانگریزی ترجمہ کےساتھ بیکن ہاؤس ،لاہور نے شائع کیا ہے ۔ آخر میں احادیث کی تخریج اوراختلاف روایات کو بھی درج کردیا ہے(آمین)( م۔ ا)
نگارشات ڈاکٹر محمد حمید اللہ جلد اول
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
In Arguments
ڈاکٹر محمد حمید اللہ (پیدائش: 9فروری 1908ء، انتقال: 17 دسمبر 2002ء) ڈاکٹر حمید اللہ ایک بلند پایا عالم دین ، مایہ ناز محقق، دانشور اور مصنف تھے جن کے قلم سے علوم قرآنیہ ، سیرت نبویہ اور فقہ اسلام پر 195 وقیع کتابیں اور 937 کے قریب مقالات نکلے ۔ڈاکٹر صاحب قانون دان اور اسلامی دانشور تھے اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر سمجھے جاتے تھے۔ تاریخ ،حدیث پر اعلٰی تحقیق، فرانسیسی میں ترجمہ قرآن اور مغرب کے قلب میں ترویج اسلام کا اہم فریضہ نبھانے پر آپ کو عالمگیر شہرت ملی۔ آپ جامعہ عثمانیہ سے ایم۔اے، ایل ایل۔بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے یورپ پہنچے۔ بون یونیورسٹی (جرمنی) سے ڈی فل اور سوربون یونیورسٹی (پیرس)سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ ڈاکٹر صاحب کچھ عرصے تک جامعہ عثمانیہ حیدر آباد میں پروفیسررہے۔ یورپ جانے کے بعد جرمنی اور فرانس کی یونیورسٹیوں میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ فرانس کے نیشنل سنٹر آف سائینٹیفک ریسرچ سے تقریباً بیس سال تک وابستہ رہے۔ علاوہ ازیں یورپ اور ایشیا کی کئی یونیورسٹیوں میں آپ کے توسیعی خطبات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ڈاکٹر مرحوم نے اپنی پوری زندگی تصنیف وتالیف کے کاموں کے لیے وقف کیے رکھی بالآخر 95 برس کی عمر پاکر 17؍دسمبر 2002ء کو فلوریڈا (امریکہ) میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کے سانحۂ ارتحال کے بعد اہل دانش نے ان کی خدمت میں گلہائے عقیدت نچھاور کیے اور موصوف کی زندگی کی مختلف جہتوں پر اپنی اپنی بساط کےمطابق داد تحقیقی دی ۔ بعض علمی اداروں کی طرف سے ان کی خدمات کےاعتراف میں رسائل وجرائد کے خاص نمبر بھی شائع کیے ۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ دے ۔آمین زیر نظر کتاب ’’ نگارشاتِ ڈاکٹر محمد حمید اللہ ‘‘ محمد عالم مختارِ حق کی مرتب شدہ ہیں مرتب موصوف نے ڈاکٹر حمید اللہ مرحوم کےمضامین ومقالات کو موضوعات کے حساب سے مرتب کر کے دو دجلد میں تقسیم کیا ہے موضوعاتی عناوین حسب ذیل ہیں۔قرآن،سیرت،فقہ،اکابرین، تاریخ، قانون، خطۂ عرب، مستشرقین، ادب، سود وغیرہ۔ (م۔ا)
امام ابو حنیفہ کی تدوین قانون اسلامی
Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ
In Knowledge
امام ابو حنیفہ نعمان بن ثابت الکوفی بغیر کسی اختلاف کے معروف ائمہ اربعہ میں شمار کئے جاتے ہیں، تمام اہل علم کا آپکی جلالتِ قدر، اور امامت پر اتفاق ہے۔ علی بن عاصم کہتے ہیں: "اگر ابو حنیفہ کے علم کا انکے زمانے کے لوگوں کے علم سے وزن کیا جائے تو ان پر بھاری ہو جائے گا" آپ کا نام نعمان بن ثابت بن زوطا اور کنیت ابوحنیفہ تھی۔ بالعموم امام اعظم کے لقب سے یاد کیے جاتے ہیں۔ آپ بڑے مقام و مرتبے پر فائز ہیں۔ اسلامی فقہ میں حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کا پایہ بہت بلند ہے۔ آپ نسلاً عجمی تھے۔ آپ کی پیدائش کوفہ میں 80 ہجری بمطابق 699ء میں ہوئی سن وفات 150ہجری ہے۔ ابتدائی ذوق والد ماجد کے تتبع میں تجارت تھا۔ لیکن اللہ نے ان سے دین کی خدمت کا کام لینا تھا، لٰہذا تجارت کا شغل اختیار کرنے سے پہلے آپ اپنی تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ نے بیس سال کی عمر میں اعلٰی علوم کی تحصیل کی ابتدا کی۔ آپ نہایت ذہین اور قوی حافظہ کے مالک تھے۔ آپ کا زہد و تقویٰ فہم و فراست اور حکمت و دانائی بہت مشہور تھی۔ اس مقام و مرتبے کے باوجود محدثین کرام نے بیان حق کے لئے آپ پر جرح اور تعدیل بھی کی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "امام ابو حنیفہ کی تدوین قانون اسلامی" محترم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے امام ابو حنیفہ کی قانون اسلامی کی تدوین کے حوالے سے سرانجام دی جانے والی خدمات کا تذکرہ کیا ہے۔ (راسخ)