eBooks
2,841 Results Found
جد اول المختارات من اصول القراءت
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مقدس ومکرم کتاب ہے۔ جو جن وانس کی ہدایت ورہنمائی کے لیے نازل کی گئی ہے ۔ اس کا پڑھنا باعث اجراوثواب ہے اوراس پر عمل کرنا تقرب الی اللہ او رنجاتِ اخروی کا ذریعہ ہے ۔ اس کی تلاوت باعث اجروثواب اسی وقت ہوگی کہ جب اس کی تلاوت آدابِ تلاوت کو ملحوظ ِخاطر رکھ کر کی جائے ۔آداب تلاوِت میں سے یہ ہے کہ قرآن مجید کی تعلیم اور تلاوت خالصۃً اللہ کی رضا کے لیے ہو جس میں ریا کاری کا دخل نہ ہو ۔ قرآن مجیدکی تلاوت پر مداومت (ہمیشگی) کی جائے تا کہ بھولنے نہ پائے ۔تلاوت کئے ہوئے حصہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضرور ی ہے ۔قرآن مجید طہارت کی حالت میں با وضوء ہو کر پڑھا جائے ۔تلاوت شروع کرنے سے پہلے تعوذ اور بسملہ پڑھنا واجب ہے ۔ دورانِ تلاوت اللہ کے عذاب سے ڈر کر رونا اور عذاب والی آیا ت پر اللہ کی پناہ مانگنا اور رحمت والی آیات پر اللہ سے دعاء کرنا مستحب ہے ۔سجدہ والی آیات کی تلات کرتے وقت سجدۂ تلاوت کر نا مسنون ہے ۔جب کوئی تلاوت کررہا ہو تو مکمل خاموشی او رغور سے سننا چاہیےاور جب خود تلاوت کریں تودل میں خیال ہوکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہیں اس لیے نہایت ادب ،سلیقے اور ترتیل سے ٹھر ٹھر کر قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تاکہ اللہ تعالیٰ تلاوت کرنے والے پر خوش ہو ۔ زیر کتابچہ ’’جدوال المختارات من اصول القراءات‘‘ شیخ القراء والمجودین فضیلۃ الشیخ قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾ کامرتب کردہ ہے قاری صاحب نے اس مختصر رسالہ میں آسان فہم انداز میں نقشہ جات کی صورت میں قرآن مجید کی تلاوت وقراءات کے 23قواعد واصول کو مرتب کردیا ہے ۔مبتدی طلبہ طالبات اس سے رسالہ سے مستفید ہوکر قرآن کی تلاوت اور قراءات کےاصول وضوابط کا علم حاصل کرسکتےہیں۔اللہ تعالیٰ قاری صاحب کی خدمتِ قرآن کے سلسلے میں تمام تدریسی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں ایمان وسلامتی اور صحت وعافیت والی زندگی دے ۔(آمین)(م۔ا)
جد اول علم الوقف
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
وقف کا لغوی معنی ٰٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنیٰ ہیں کہ"کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے،علم وقف منجملہ علوم قرآنیہ میں سے ایک ہے جو کہ علم تجوید کاتکملہ وتتمہ ہے ۔ کیونکہ تجوید کی طرح وقوف کی معرفت بھی ترتیل کا ایک حصہ اور اس کا جز ہے۔اہمیت کے لحاظ سے علم وقف کسی طرح بھی علم تجوید سے کم نہیں جس آیت مبارکہ سے تجوید کا وجوب ثابت ہوتا ہےاسی آیت سے علم وقف کا بھی وجوب ثابت ہوتا ہے ۔اسی لیے قراء نے رسائل تجوید میں وقف کے مسائل بھی بیان کیے ہیں حتی ٰ کہ بہت سے علماء نے اس موضو ع پر مستقل کتابیں بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر کتابچہ ’’جدوال علم الوقف‘‘ شیخ القراء والمجودین فضیلۃ الشیخ قاری محمد ابراہیم میر محمدی ﷾ کامرتب کردہ ہے قاری صاحب نے اس مختصر رسالہ میں آسان فہم انداز میں نقشہ جات کی صورت میں علم وقف کے جملہ احکام ومسائل کو جمع کردیا ہے ۔مبتدی طلبہ تجوید وقراءات اس کتابچہ سے مستفید ہوکر علم وقف کے احکام کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ قاری صاحب کی خدمتِ قرآن کے سلسلے میں تمام تدریسی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں ایمان وسلامتی اور صحت وعافیت والی زندگی دے ۔(آمین)(م۔ا)
تسہیل الاہتداء فی الوقف والابتداء
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
In Arguments
وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سے اعادہ۔(النشر:۱؍۲۴۰) (نشر کی رو سے یہی تعریف ممتاز اورزیادہ واضح ہے) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کااحساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سے قرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اس طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ہے ۔وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا‘‘(المزمل:۴)’’اورقرآن مجید کوترتیل کے ساتھ پڑھو ۔‘‘سیدنا علی سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا:’’الترتیل ھو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵)۔ زیر تبصرہ کتابچہ" تسہیل الاھتداء فی الوقف والابتداء" جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہورمیں کلیۃ القرآن والعلوم اسلامیہ کے اولین صدر مدرس شیخ القراء جناب قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب ﷾کے علم الوقف والابتداء کے متعلق تحریر کردہ غیر مطبوع رسالہ ہے ۔ یہ کتابچہ اب قاری صاحب کی کتاب ’’المدخل الی علم الوقف والابتداء‘‘ کے ساتھ بھی طبع ہوچکا ہے ۔ جو کہ وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب میں شامل ہے اور کلیۃ القرآن الکریم جامعہ لاہور الاسلامیہ اور بنگہ بلوچاں کے طلباء کو پڑھائی جاتی ہے۔اللہ تعالی قاری صاحب کی تدریسی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے ۔اور قاری صاحب کو ایمان وسلامتی اور صحت وعافیت والی زندگی دے ۔ اور ان کے سیکڑوں شاگردوں کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے معرو ف واعظ ومذہبی سکالر قاری صہیب احمدمیر محمدی ، قاری حمزہ مدنی (مدیر کلیہ القرآن جامعہ لاہور الاسلامیہ،لاہور ، قاری عبد السلام عزیزی (مدیر معہد القرآن ،لاہور ) قاری عارف بشیر (مدرس بیت العتیق ،لاہو ر، قاری مصطفیٰ راسخ (نائب مدیر مجلس التحقیق الاسلامی ) قاری ابراہیم میرمحمدی ﷾ کے نامور شاگرد ہیں ۔ (م۔ا)
حجیت قراءات
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری کتاب ہے۔جسے اللہ تعالی نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔ اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون، روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع، مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے ۔قراءات قرآنیہ کے موضوع پر اردو زبان میں اب تک متعدد کتب لکھی جا چکی ہیں جن میں علم قراءات کے اصول وضوابط کو بیان کیا گیا ہے، لیکن حجیت قراءات کے حوالے کوئی مستقل کتاب موجود نہیں تھی۔ زیر نظر کتاب ''حجیت قراءات'' محترم فضیلۃ الشیخ عبد الفتاح القاضی صاحب ، محترم ڈاکٹر نبیل بن ابراہیم آل اسماعیل صاحب اور استاد محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب کے تین کتب کے اردو ترجمہ پر مشتمل ہے۔ تینوں کتب کو ایک جگہ جمع کرنے کا مقصد اسے وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب تعلیم "حجیت قراءات" کے لئے تیار کرنا تھا۔ اردو ترجمہ کرنے کی سعادت راقم(قاری محمد مصطفی راسخ، نائب مدیر مجلس التحقیق الاسلامی، لاہور) کے حصے میں آئی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی مولفین اور مترجم کی ان کی ان خدمات جلیلہ کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)
المدخل الیٰ علم الوقف والابتداء و معہ تسہیل الاہتداء فی الوقف والابتداء (اردو)
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
In Arguments
وقف کا لغوی معنی ٹھہرنا اور رُکنا ہے۔ جبکہ اہل فن قراء کرام کی اصطلاح میں وقف کے معنی ہیں کہ کلمہ کے آخر پر اتنی دیر آواز کو منقطع کرنا جس میں بطور عادت سانس لیا جاسکے، اور قراء ت جاری رکھنے کا ارادہ بھی ہو، عام ہے کہ وقف کرنے کے بعد مابعد سے ابتداء کریں یا ماقبل سے اعادہ۔ (النشر:۱؍۲۴۰) نشر کی رو سے یہی تعریف ممتاز اور زیادہ واضح ہے) معرفت وقف وابتداء کی اہمیت اور اس علم کی ضرورت کا احساس کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جس طرح دلائل شرعیہ یعنی قرآن وحدیث اور اجماع اُمت سے قرآن مجید کا تجوید کے ساتھ پڑھنا واجب اور ضروری ہے، اس طرح معرفت الوقف، یعنی قرآنی وقوف کو پہچاننا اور دورانِ تلاوت حسنِ وقف وابتداء کی رعایت رکھنا اور اس کا اہتمام کرنا بھی ضروری ہے اوراس میں کسی کااختلاف نہیں ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جس طرح تجوید کے ذریعہ حروف قرآن کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح معرفت الوقوف کے ذریعے معانی قرآن کی تفہیم ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے: ’’وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِیْلًا‘‘(المزمل:۴)’’اور قرآن مجید کو ترتیل کے ساتھ پڑھو۔ ‘‘سیدنا علی سے ترتیل کا معنی پوچھا گیا توآپ نے فرمایا: ’’الترتیل ھو تجوید الحروف ومعرفۃ الوقوف‘‘(الإتقان فی علوم القرآ ن:۱؍۸۵)اس تفسیر میں ترتیل کے دو جز بیان کیے گئے ہیں۔ تجوید الحروف اور معرفۃ الوقوف۔ زیر تبصرہ کتاب"المدخل الی علم الوقف والابتداء ومعہ تسہیل الاھتداء فی الوقف والابتداء"استاد محترم قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾ کے علم الوقف والابتداء پر لکھے دو غیر مطبوع رسائل پر مشتمل ہے۔ جسے محدث لائبریری کے نائب مدیر محترم قاری محمد مصطفی راسخ صاحب نے ترتیب دیتے ہوئے اس میں مفید اضافہ جات کئے ہیں۔ یہ کتاب وفاق المدارس السلفیہ کے نصاب میں شامل ہے، اور کلیۃ القرآن الکریم کے طلباء کو پڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف اور مرتب دونوں کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)
معین القاری فی تجوید کلام الباری
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے شیخ القراء استاد محترم جناب قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾نے بچوں اور بڑوں سب کے لئے یہ کتابچہ تصنیف فرمایا ہے۔ اور آج کل یہ آڈیوکیسٹس کی سہولت کے ساتھ بھی موجود ہے۔اگر کوئی استاد میسر نہ ہوتو کیسٹ کے ذریعے بھی اسے پڑھا جا سکتا ہے،اور اپنے تلفظ کی درستگی کی جا سکتی ہے۔اس میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ ،حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی کی انتہائی آسان اور سہل انداز میں پہچان کروائی گئی ہے۔اللہ تعالی استادمحترم قاری صاحب کی ان خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
بچوں کے لیے تجویدی قاعدہ
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
In Knowledge
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے شیخ القراء استاد محترم جناب قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾نے بچوں کے لئے قاری قاعدہ اور تجویدی قاعدہ دو قاعدے مرتب کئے ہیں۔ ان میں سے ایک قاعدہ یہی "بچوں کے لئے تجویدی قاعدہ" ہے ۔ اس میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،ملتی جلتی آوازوں والے حروف،حروف قلقلہ ،حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی کی انتہائی آسان اور سہل انداز میں پہچان کروائی گئی ہے۔اگرچہ یہ قاعدہ بچوں کے لئے لکھا گیا ہے ،مگر بچوں اور بڑوں سب کے انتہائی مفید اور شاندار ثابت ہوا ہے۔اللہ تعالی استادمحترم قاری صاحب کی ان خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
بچوں کے لیے قاری قاعدہ
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے،اور قراء کرام کا تجربہ گواہ ہے کہ اگر بچپن میں ہی تلفظ کے ساتھ قاعدہ پڑھا دیا جائے تو بڑی عمر میں تلفظ کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا ہے۔انہی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے شیخ القراء استاد محترم جناب قاری محمد ابراہیم میر محمدی صاحب﷾نے بچوں کے لئے قاری قاعدہ اور تجویدی قاعدہ دو قاعدے مرتب کئے ہیں۔ ان میں سے ایک قاعدہ یہی "بچوں کے لئے قاری قاعدہ" ہے ،جو آڈیو اور ویڈیو سہولت کے ساتھ موجود ہے۔اگر کوئی استاد میسر نہ ہوتو کیسٹ کے ذریعے بھی اسے پڑھا جا سکتا ہے،اور اپنے تلفظ کی درستگی کی جا سکتی ہے۔اس میں حروف مفردہ،حروف مستعلیہ ،متشابہ الصوت حروف،حروف قلقلہ ،حروف مدہ اور حرکات وغیرہ کی ادائیگی کی انتہائی آسان اور سہل انداز میں پہچان کروائی گئی ہے۔ اگرچہ یہ قاعدہ بچوں کے لئے لکھا گیا ہے ،مگر بچوں اور بڑوں سب کے انتہائی مفید اور شاندار ثابت ہوا ہے۔اللہ تعالی استادمحترم قاری صاحب کی ان خدمات کو قبول ومنظور فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
تحفۃ القاری
Authors: قاری محمد ابراہیم میر محمدی
In Knowledge
قاری ابراہیم میر محمدی علمی دنیا کی جانی مانی شخصیت ہیں خاص طور پر انہوں نے خدمت قرآن اور قراءات کے حوالے سے کارہائے نمایاں سرانجام دئیے ہیں۔ عوام الناس کے قرآن کے تلفظ کی درستی کے لیے اور تجوید سے آگاہی کے لیے آپ نے کافی سارے کتابچے اور کتب لکھیں۔ زیر نظر رسالہ میں بھی موصوف قاری صاحب نے فن تجوید کے مسائل کو اختصار اور احسن انداز سے بیان کیا ہے، اور متشابہ الصوت حروف کی پہلے مفردات میں پھر مرکبات میں اور ساتھ ہی حرکات ثلاثہ کی آسان انداز سے مشق کرائی ہے۔ جس سے تلفظ کی درستی کے ساتھ ساتھ حرکات کو مجہول کی بجائے معروف پڑھنا بھی آ جائے گا۔ قاری صاحب نے کتاب کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا حصہ ملتی جلتی آوازوں والے حروف اور دوسرا حصہ تجوید کے چند ضروری احکام پر مشتمل ہے۔ کتابچہ کے اخیر میں واضح الفاظ میں اس فن کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ 66 صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ فن تجوید سے شد بد کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ (ع۔م)