وسیلہ کے معنی،ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کےحصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔امام شوکانی ؒ فرماتے ہیں:"وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے،تقوی اور دیگر خصال خیرپر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔"اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ،ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہو جائے۔اسی طرح منھیات ومحرمات کے اجتناب سے بھی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کریم ﷺکو عطا فرمایا جائےگا،اسی لیےآپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لیے یہ دعائے وسیلہ کرےگا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔شریعت اسلامیہ میں وسیلے کی دو قسمیں ہیں۔پہلی قسم جائز اور درست وسیلے کی ہے جبکہ دوسری قسم ناجائز اور ممنوع کی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ" قرآن کریم، اور صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے مطابق "وسیلہ" کیا ہے؟" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے وسیلے کا معنی ومفہوم اور اس کی حقیقت کوقرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)