اللہ رب العالمین ہر چیز کا خالق ہے، وہ ہر شے کی حاجات وضروریات، طبائع اور مصالح کا خوب خوب علم رکھتا ہے۔ اس نے اپنے بندوں کی طبائع کو ملحوظ رکھ کر کمال مہربانی کرتے ہوئے اعمال کے فضائل اور جزا کو بیان فرمایا ہے۔ اگر فضائل اور جزاء کو نہ بھی بیان کیا جاتا تو تب بھی ہم اللہ تعالی کے ارشاد کو ماننے کے مکلف ہوتے۔ تاہم ترغیب وتحریض سے اعمال کی بجا آوری میں سہولت پیدا ہو جاتی ہے۔نیک اعمال کرنے پر لوگوں کو ابھارنے اور شوق دلانے کی تلقین خود رب کائنات نے کی ہے۔ اعمال صالحہ کی جزاء اور ثواب کا تذکرہ کرنے سے بھی یہی مقصود ہے کہ لوگ عملی زندگی اپنائیں اور نیک کام کرنے میں تندہی دکھائیں کہ ان کے اعمال رائیگاں نہیں جائیں گے۔ بلکہ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا، نہ صرف آخرت میں بلکہ دنیا میں بھی۔ بے شمار آیات قرآنیہ اور احادیث صحیحہ میں اعمال صالحہ کی جزاء اور ثواب کا تذکرہ موجود ہے،جنہیں پڑھ کر انسان کا شوق عمل بڑھ جاتا ہے، لیکن جب یہی ترغیب اصل بنیادوں سے ہٹ جاتی ہے اور ضعیف روایات کو پیش کیا جاتا ہے تو بہت ساری قباحتوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں شوق عمل" محترم ڈاکٹر حافظ محمد شہباز حسن صاحب، شعبہ علوم اسلامیہ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے قرآن مجید اور صحیح احادیث کی روشنی میں متعدد نیک اعمال کا اجر وثواب بیان فرمایا ہے تاکہ شوق عمل پیدا ہو سکے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)