شریعت کے دائرہ میں انشورنس ( تکافل ) کی صورت


By Al Noor Softs
Posted on Nov 15, 2024
In Category Hadith & science of hadith
Authors مختلف اہل علم
Published By ناشر : ایفا پبلیکیشنز نئی دہلی
In Year 2018
Key Word باب اول:تمہیدی امور.. تکافل۔ پس منظر ضرورت اوراسلامی طریقہ کار
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 395
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز میں حلال اور حرام کے مشکل ترین مسائل کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے اس کےلیے کچھ قواعد و ضوابط بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے ضروری ہے کہ تاحیات پیش آمدہ حوائج وضروریات کو اسی اصول پر پر کھے تاکہ اس کا معیارِ زندگی اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ کی منشا کے مطابق بن کر دائمی بشارتوں سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ بینک اور انشورنش کمپنی جیسے اداروں کا اسلامی متبادل پیش کیا جائے تاکہ مسلمان حرام سے بچ سکیں اور حلال طریقہ پر اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔ انشورنش کے لیے ایسے اسلامی متبادل کو علماء نے ’’ تکافل‘‘ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انشورنش یعنی تیقن دینا مخلوق کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شریعت کے دائرہ میں انشورنش (تكافل) كی صورت‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے اکیسویں سیمینار’’ بعنوان ’’ اسلام کانظام تکافل‘‘ میں’’ تکافل ‘‘ کے متعلق علماء کرام مفتیان عظام کی طرف سے پیش کیے گئے مقالات کی کتابی صورت ہے ۔اسلامک فقہ اکیڈمی کے شعبہ علمی کے رفیق جناب مفتی احمد نادر القاسمی نے ان مقالات کو بڑی خوش اسلوبی سے مرتب کیا ہے ۔ تاکہ فقہاء اور ارباب افتاء اوراسلامی معاشیات کے ماہرین اس سے استفادہ کرسکیں۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   127   21
 
 

اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز  میں حلال  اور حرام  کے مشکل ترین مسائل کو کھول  کھول  کر بیان کردیا  ہے اس کےلیے  کچھ قواعد و ضوابط  بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت  رکھتے  ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے  ضروری ہے کہ تاحیات پیش  آمدہ حوائج  وضروریات کو اسی اصول  پر پر کھے  تاکہ اس کا معیارِ  زندگی اللہ  اور اس کے رسول کریم  ﷺ کی منشا کے مطابق  بن کر دائمی  بشارتوں  سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہ﷜سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی  آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ بینک اور انشورنش کمپنی جیسے اداروں کا اسلامی متبادل پیش کیا جائے تاکہ  مسلمان حرام سے بچ سکیں اور حلال طریقہ پر اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔ انشورنش کے لیے  ایسے اسلامی متبادل کو علماء نے ’’ تکافل‘‘ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انشورنش  یعنی تیقن دینا مخلوق کے ہاتھ  میں  نہیں  ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شریعت کے دائرہ میں  انشورنش (تكافل) كی صورت‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی   کے  زیر اہتمام منعقد کیے گئے اکیسویں سیمینار’’ بعنوان ’’ اسلام کانظام تکافل‘‘  میں’’ تکافل ‘‘ کے  متعلق علماء کرام مفتیان  عظام کی طرف سے پیش کیے  گئے مقالات کی  کتابی صورت ہے ۔اسلامک فقہ اکیڈمی کے شعبہ علمی کے رفیق جناب مفتی احمد نادر القاسمی  نے ان  مقالات کو  بڑی خوش اسلوبی سے مرتب کیا ہے ۔ تاکہ فقہاء اور ارباب افتاء اوراسلامی معاشیات کے ماہرین  اس سے استفادہ کرسکیں۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks