سرور دو عالم ﷺ کا پیغام آخریں


By Al Noor Softs
Posted on Sep 29, 2024
In Category Darse Nizami
Authors محمد صادق سیالکوٹی
Published By ناشر : نعمانی کتب خانہ، لاہور
In Year 2016
Key Word تا ابد یہ شمع یو نہی جلتی رہے گی..قیامت کب؟۔۔ ایک بصیرت افروز خطبہ
Target Reader Muslim
Book Edition First Edition
Number of Pages 99
Book Language Urdu, Arabic
Country Origin Pakistan
اسلام پورے عرب میں پھیل چکا تھا۔ یکے بعد دیگرے تقریباً سبھی قبائل مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالٰی کی طرف سے سورۃ فتح نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺکو اشارۃً آگاہ کیا گیا تھا کہ آپ کا کام اب مکمل ہو گیا ہے چنانچہ آپ نے وصال سے پہلے تعلیماتِ اسلامیہ کو سارے عرب تک پہنچانے کے لیے حج کا ارادہ فرمایا۔ مدینہ میں اعلان فرما دیا گیا کہ اس مرتبہ نبی اکرم ﷺخود حج کی قیادت فرمائیں گے۔ اس لیے تمام عرب سے مسلمان اُس میں شریک ہوں۔ اطراف عرب سے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اس شرف کو حاصل کرنے کی خاطر مدینہ پہنچی ۔ ذوالحلیفہ کے مقام پر احرام باندھا گیا تو لبیک لبیک کی آواز سے فضا گونج اٹھی اور فرزندانِ توحید کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حج بیت اللہ کی غرض سے مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوا۔نبی اکرم ﷺ نے ہر مرحلہ کے مناسک سے مسلمانوں کو آگاہ کیا حج کی رسومات میں سے جو مشرکانہ رسوم باقی تھیں ختم کر دی گئیں اور صدیوں کے بعد خالص ابراہیمی سنت کے مطابق فریضہ حج ادا کیا گیا۔ توحید و قدرت الٰہی کا اعلان آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر فرمایا:اللہ کے سوا کوئی اقتدار اعلٰی کا حامل اور لائق پرستش و بندگی نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کے لیے سلطنت ملک اور حمد ہے وہ مارتا ہے اور جلاتا ہے ۔ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے۔ کوئی الہ نہیں مگر وہ اکیلا۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے تمام قبائل کو شکست دی۔کوہ صفا کے بعد آپ ﷺنے کوہ مروہ پر مناسک حج طواف و سعی ادا کئے اور 8 ذوالحجہ کو مقام منٰی میں قیام فرمایا۔9 زوالحجہ 10 ھ کو آپ ﷺنے عرفات کے میدا ن میں تمام مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی ، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے۔اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت ﷺنے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:لوگو! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے اللہ تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے اللہ تو گواہ رہنا‘‘ اے اللہ تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے اسی خطبہ کو خطبہ حجۃ الوداع کہتے ہیں ۔اس خطبہ کی تفصیل کتب حدیث وسیرت وتفسیر میں تفصیلاً موجود ہے اور بعض اہل علم نے اس پر مستقل کتب بھی تصنیف کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سرور دو عالم کاپیغام آخریں‘‘ پاکستان کے معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی تصنیف ہےاس میں انہوں آپ ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع اور آپ ﷺ کی بیماری کے ایام میں آپ نے جو اپنی امت کے لیے آخری الوداعی نصیحتیں کی اور جوارشادات صادر فرمائے انہیں آسان فہم انداز میں جمع کیا ہے ۔(م۔ا)
Ratings Read Downloads
(0)   244   36
 
 

اسلام پورے عرب میں پھیل چکا تھا۔ یکے بعد دیگرے تقریباً سبھی قبائل مشرف بہ اسلام ہو چکے تھے۔ ان حالات میں اللہ تعالٰی کی طرف سے سورۃ فتح نازل ہوئی جس میں آنحضرت ﷺکو اشارۃً آگاہ کیا گیا تھا کہ آپ کا کام اب مکمل ہو گیا ہے چنانچہ آپ نے وصال سے پہلے تعلیماتِ اسلامیہ کو سارے عرب تک پہنچانے کے لیے حج کا ارادہ فرمایا۔ مدینہ میں اعلان فرما دیا گیا کہ اس مرتبہ نبی اکرم ﷺخود حج کی قیادت فرمائیں گے۔ اس لیے تمام عرب سے مسلمان اُس میں شریک ہوں۔ اطراف عرب سے مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد اس شرف کو حاصل کرنے کی خاطر مدینہ پہنچی ۔ ذوالحلیفہ کے مقام پر احرام باندھا گیا تو لبیک لبیک کی آواز سے فضا گونج اٹھی اور فرزندانِ توحید کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر حج بیت اللہ کی غرض سے مکہ معظمہ کی طرف روانہ ہوا۔نبی اکرم ﷺ نے ہر مرحلہ کے مناسک سے مسلمانوں کو آگاہ کیا حج کی رسومات میں سے جو مشرکانہ رسوم باقی تھیں ختم کر دی گئیں اور صدیوں کے بعد خالص ابراہیمی سنت کے مطابق فریضہ حج ادا کیا گیا۔ توحید و قدرت الٰہی کا اعلان آپ نے کوہ صفا پر چڑھ کر فرمایا:اللہ  کے سوا کوئی اقتدار اعلٰی کا حامل اور لائق پرستش و بندگی نہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کے لیے سلطنت ملک اور حمد ہے وہ مارتا ہے اور جلاتا ہے ۔ وہ تمام چیزوں پر قادر ہے۔ کوئی الہ نہیں مگر وہ اکیلا۔ اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرمایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور اکیلے تمام قبائل کو شکست دی۔کوہ صفا کے بعد آپ ﷺنے کوہ مروہ پر مناسک حج طواف و سعی ادا کئے اور 8 ذوالحجہ کو مقام منٰی میں قیام فرمایا۔9 زوالحجہ 10 ھ کو آپ ﷺنے عرفات کے میدا ن میں تمام مسلمانوں سے خطاب فرمایا۔ یہ خطبہ اسلامی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ اور اسلام کے سماجی ، سیاسی اور تمدنی اصولوں کا جامع مرقع ہے۔اس جامع خطبہ کے بعد آنحضرت ﷺنے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:لوگو! قیامت کے دن اللہ تعالیٰ میری نسبت پوچھے گا تو کیا جواب دو گے؟ صحابہ نے عرض کی کہ ہم کہیں گے کہ آپ نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا اور اپنا فرض ادا کر دیا‘‘۔ آپ نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائی اور فرمایا۔’’اے اللہ تو گواہ رہنا‘‘۔ ’’اے اللہ تو گواہ رہنا‘‘ اے اللہ تو گواہ رہنا اور اس کے بعد آپ نے ہدایت فرمائی کہ جو حاضر ہیں وہ ان لوگوں کو یہ باتیں پہنچا دیں جو حاضر نہیں ہیں۔ آپ ﷺ کے اسی خطبہ کو خطبہ حجۃ الوداع کہتے ہیں ۔اس خطبہ کی تفصیل   کتب  حدیث  وسیرت  وتفسیر میں  تفصیلاً موجود  ہے  اور بعض  اہل علم  نے اس  پر مستقل  کتب بھی تصنیف  کی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سرور دو عالم کاپیغام آخریں‘‘  پاکستان کے معروف عالم  دین مصنف کتب کثیرہ  مولانا محمد صادق سیالکوٹی ﷫ کی    تصنیف ہےاس میں انہوں  آپ  ﷺ کے   خطبہ حجۃ الوداع اور آپ ﷺ کی بیماری کے ایام میں آپ نے  جو  اپنی  امت کے لیے آخری الوداعی نصیحتیں کی اور جوارشادات صادر فرمائے  انہیں آسان فہم انداز میں  جمع کیا ہے ۔(م۔ا)

 

There are no reviews for this eBook.

0
0 out of 5 (0 User reviews )

Add a Review

Your Rating *
There are no comments for this eBook.
You must log in to post a comment.
Log in

Related eBooks