Hadith & science of hadith - eBooks

384 Results Found
تحقیق التراویح فی جواب تنویر المصابیح

Authors: حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ تحقیق التراویح فی جواب تنویر المصابیح ‘‘محدث العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کی نماز تراویح کے متعلق علمی وتحقیقی تصنیف ہے ۔ یہ کتاب انہوں نے سیٹھ ابراہیم حسین آف بنگلور کی فرمائش پر تنویر المصابیح فی تحقیق التراویح کے جواب میں تحریر کی ۔مذکورہ کتاب ابوالناصر عبیدی الحنفی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے چونتیس دلائل قاطعہ سے ثابت کیا کہ بیس رکعت نماز تراویح باجماعت مسنون ہیں اور آٹھ ر کعت تراویح کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔تو محدث روپڑی ﷫ نےاس کےجواب میں اس کتاب میں احادیث صحیحہ وآثار قویہ سے آٹھ تراویح کا ثبوت پیش کیا ۔نیز اس میں تراویح اور تہجد کےایک یادو ہونے کی مکمل بحث بھی ہے ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بخاری والی حدیث حضورﷺ رمضان غیررمضان میں گیارہ رکعت پڑھتے اس کی پوری تشریح ہے اور آٹھ رکعات تراویح کےمخالفین کامسکت جواب ہے ۔(م۔ا)

اہلحدیث کے امتیازی مسائل

Authors: حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

مسلمانوں کی فرقہ بندیوں کا افسانہ بڑا طویل اورالمناک ہے۔ مسلمان پہلے صرف ایک امت تھے۔ پہلے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کہہ کر ایک شخص مسلمان ہوسکتا تھا لیکن اب اس کلمہ کے اقرار کے ساتھ اسے حنفی یا شافعی یا مالکی یا حنبلی بھی ہونے کا اقرار کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی مسلمانوں کو اس تقلیدی گروہ بندی سے نجات دلائی جائے اور انہیں براہ راست کتاب وسنت کی تعلیمات پر عمل کرنے کی دعوت دی جائے۔ مسلک اہل حدیث در اصل مسلمانوں کوکتاب وسنت کی بنیاد پر اتحاد کی ایک حقیقی دعوت پیش کرنے والا مسلک ہے۔ اہل حدیث کے لغوی معنی حدیث والے اوراس سے مراد وہ افراد ہیں جن کے لیل و نہار، شب و روز، محض قرآن وسنت کےتعلق میں بسر ہوں او رجن کا کوئی قول وفعل اور علم، طور طریقہ اور رسم ورواج قرآن وحدیث سے الگ نہ ہو۔ گویامسلک اہل حدیث سے مراد وہ دستورِ حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت، جس پر رسول اللہﷺ کی مہرثبت ہو۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اہل حدیث کےامتیاز ی مسائل‘‘ محدث العصر شیخ الحدیث و التفسیر حضرت العلام حافظ عبداللہ محدث روپڑی﷫ کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک حنفی مولوی اشرف علی تھانوی کے تحریر کردہ رسالہ ’’ الاقتصاد فی التقلید والاجتہاد‘‘ میں ذکر کردہ پندرہ مسائل پر دلائل صحیحہ کی روشنی میں بحث کی ہے۔ یہ رسالہ مسلک اہل حدیث کی پوری دستاویز ہے جس کے اندر دو باتیں ہیں ایک تو مذہب اہل حدیث کے مسائل دوسرا مخالفین کے جوابات۔یہ رسالہ پہلی مرتبہ 1925ء میں طبع ہوا تھا۔ موجودہ ایڈیشن 1972ء کاطبع شدہ اس میں محدث روپڑی کا مختصر تعارف بھی شامل اشاعت ہے۔ (م۔ا)

سماع موتی

Authors: حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دین اسلام کی اساس عقیدہ توحید پر مبنی ہےلیکن صد افسوس کہ امت محمد یہ میں سے بہت سے لوگ مختلف انداز میں شرک جیسے قبیح فعل میں مبتلا ہیں- سماع موتٰی یعنی مُردوں کے سننے کا مسئلہ شرک کا سب سے بڑا چور دروازہ ہے۔ موجودہ دور میں یہ مسئلہ اس قدر سنگینی اختیار کر گیا ہے کہ قائلین سماع موتٰی نہ صرف مردوں کے سننے کے قائل ہیں بلکہ یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ مردے سن کر جواب بھی دیتے ہیں اور حاجات بھی پوری کرتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں: ( فَاِنَّکَ لاَ تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ )[30:الروم:52] ’’اے نبی! اور تو کوئی مردے کو کیا سنائے گا۔ آپ بھی مردوں کو نہیں سنا سکتے جیسا کہ بہروں کو نہیں سنا سکتے۔‘‘ بہرے کے کان تو ہوتے ہیں‘ لیکن سننے کی طاقت نہیں ہوتی۔ جب وہ نہیں سن سکتا تو مردہ کیا سنے گا جس میں نہ سننے کی طاقت رہی اور نہ سننے کا آلہ۔ ہاں اﷲ تعالیٰ اس حالت میں بھی اس کے ذرات کو سنا سکتا ہے۔ کسی اور کی طاقت نہیں کہ ایسا کر سکے۔ چنانچہ فرمایا: ( اِنَّ ﷲَ یُسْمِعُ مَنْ یَّشَآءُج وَ مَآ اَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَّنْ فِی الْقُبُوْرِ)[35:الفاطر:22]’’ اﷲ تو جسے چاہے سنا دے‘ کان ہوں‘ یا نہ ہوں ‘ لیکن اے پیغمبر! آپ ان کو نہیں سنا سکتے جو قبروں میں ہیں‘‘یعنی مردہ ہیں۔ اب اس قدر وضاحت کے بعد کوئی کہہ سکتا ہے کہ مردے سنتے ہیں؟زیر تبصرہ کتاب"سماع موتی"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین، جامعہ لاہور الاسلامیہ کے رئیس ڈاکٹر حافظ عبد الرحمن مدنی صاحب کے تایا جان شیخ الاسلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی صاحب﷫ کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے مستند دلائل کے ساتھ سماع موتی کے مسئلے پر روشنی ڈالی ہے۔کتاب کی تبویب وتخریج حافظ عبد الوھاب روپڑی صاحب نے فرمائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

رفع یدین اور آمین

Authors: حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رفع یدین اورآمین‘‘ محدث العصر مجتہد وفقہی حضرت العلام حافظ عبد اللہ محدث روپڑی ﷫ کے مسئلہ رفع الیدین اور آمین کے حوالے سےتحقیقی وتنقیدی تفصیلی فتاوی پر مشتمل ہے ۔یہ رسالہ اگرچہ بظاہر دومسئلوں میں ہے مگر ضمناً بہت سے مسائل اختلافیہ اس میں آگئے ہیں ۔جیسے بسم اللہ بالجہر، سینہ پر ہاتھ باندھنا، جلسۂ استراحت اور ان کے علاوہ اور بہت سے اصولی فروعی مسائل اس میں شامل ہیں۔یہ رسالہ در اصل محدث روپڑی﷫ کےان فتاوی جات پرمشتمل ہے جوانہوں نےمولوی ارشاد احمددیوبندی تلمیذ مولانا عبد اللہ درخواستی آف خانپور(ریاست بہاولپور) کے رفع الیدین اورآمین کے فتوی کے جواب پر 1960ء تنقیدتبصرہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ محدث روپڑی  کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطافرمائے (آمین) م۔ا

مسئلہ شرکیہ دم جھاڑا پر فیصلہ کن بحث

Authors: حافظ عبد اللہ محدث روپڑی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دم کرنے کو عربی زبان میں "رقیہ "کہتے ہیں،جس سے مراد ہے کچھ مخصوص الفاظ پڑھ کر کسی چیز پر اس عقیدے کے تحت پھونک مارنا کہ اس چیز کو استعمال کرنے سے شفا حاصل ہو گی یا مختلف عوراض وحوادثات اور مصائب سے نجات مل جائے گی۔اہل جاہلیت یہ سمجھتے ہیں کہ دم میں تاثیر یا تو ان الفاظ کی وجہ سے ہے جو پڑھ کر دم کیا گیا ہے یا ان الفاظ کی تاثیر ان مخفی یا ظاہری قوتوں کی وجہ سے ہے جن کا نام دم کئے جانے والے الفاظ میں شامل ہے۔اسلام نے جتنے بھی دم سکھائے ہیں اور قرآن وسنت سے جن دم کرنے والی سورتوں،آیتوں اور دعاؤں کا ذکر آیا ہے ان سب میں یہ عقیدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کہ رب اکبر ہی ہر طرح کی شفا عطا کرنے والا ہے۔وہی ہر طرح کی مصیبت سے نجات دینے والا ہے،وہی مطلوبہ چیز کو دینے پر قادر ہے،وہی جادو ،آسیب ،نظر وغیرہ کے اثرات متانے والا ہے۔نیز دم کرنے میں شریعت نے یہ عقیدہ بھی دیا ہے کہ جو الفاظ پڑھ کر دم کیا جا رہا ہے یہ خود موثر نہیں بلکہ انہیں موثر بنانے والی اللہ تعالی کی ذات ہے،جس طرح دوا اثر نہیں کرتی جب تک اللہ نہ چاہے،کھانا فائدہ نہیں دیتا جب تک اللہ نہ چاہے،اسی طرح دم میں تاثیر اللہ کے حکم سے پیدا ہوتی ہے۔۔ زیر تبصرہ کتاب " شرکیہ دم جھاڑا پر فیصلہ کن بحث"جماعت اہل حدیث کےمعروف عالم دین مولانا حافظ عبد اللہ مھدث روپڑی صاحب کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے اکراہ کے وقت شرکیہ دم جھاڑے کے جواز وعدم جواز پر تفصیلی بحث کی ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

نکاح کوئیز

Authors: مریم خنساء

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

عورت اور مرد فطری طور پر ایک دوسرے کے بہترین محل ہیں،اور ان کے درمیان قربت یا ملاپ کی خواہش فطری عمل ہے۔جسے شرعی نکاح کی حدود میں لا کر مرد وزن کو محصن اور محصنہ کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔نکاح ایک شرعی اور انتظامی سلیقہ ہے،لیکن زوجیت کا اصل مقصد باہمی سکون کا حصول ہے۔اور اگر زوجین کے درمیان سکون حاصل کرنے یا سکون فراہم کرنے کی تگ ودو نہیں کی جاتی تو اللہ تعالی کو ایسی زوجیت ہر گز پسند نہیں ہے۔ اسلام معاشرتی زندگی کے حوالے سے پاکیزہ تعلیمات اور روشن احکامات دیتا ہے، اور نکاح پر مبنی پاکیزہ زندگی گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نکاح کوئیز " محترمہ مریم خنساء صاحبہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نکاح کے مسائل کو سوالا جوابا مرتب کر کے ایک خوبصورت مجموعہ تیار کر دیا ہے۔اس کتاب میں انہوں نے اہمیت نکاح، پیغام نکاح، صحت نکاح کے لئے ضروری امور، حرام اقسام نکاح، عورت کی شرائط کا جواز، مسنون رسومات نکاح، غیر مسنون رسومات نکاح، نکاح میں شامل افراد کے فرائض، دلہا کے فرائض، دلہن کے فرائض اور حقوق الزوجین جیسے مسائل تفصیل سے بیان کئے ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اوران کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

Le-Prophet-De-Islam کا اردو ترجمہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اس روئے ارضی پر انسانی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے بعد حضرت محمد ﷺ ہی ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پورا سامان رکھتی ہے ۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کی شخصیت قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیےبہترین نمونہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالمِ اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر نظر کتاب’’پیغمبر اسلام ﷺ‘‘ ڈاکٹر حمید اللہ رحمہ اللہ کی انگریزی کتاب Le Prophete De Islam کا اردو ترجمہ ہے۔مصنف نے اس کتاب کو 51ابواب میں تقسیم کیا ہے ۔(م۔ا)

اسلام کیا ہے

Authors: ڈاکٹر محمد حمید اللہ

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلام اللہ کے آخری نبی سیدنا محمد مصطفیﷺ کی طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین یعنی نظام زندگی ہے جس کا آئین قرآن حکیم ہے، اُس پر مکمل ایمان اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اس کے مطابق زندگی بسر کرنا اسلام ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اسلام مسلمانوں کا دین یا نظام زندگی ہے جس میں اللہ کی توحید کا اقرار کرتے ہوئے اس کی حاکمیت اعلیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کو آخری نبی ماننا ہے۔ اسلام وہ دین یا نظام حیات ہے جس میں حضور ختم المرسلینﷺ کی وساطت سے انسانیت کے نام اللہ کے آخری پیغام یعنی قرآن مجید کی روشنی میں زندگی بسر کی جائے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلام اللہ کی طرف سے آخری اور مکمل دین ہے جو انسانیت کے تمام مسائل کا حل پیش کرتاہے اور آج کی سسکتی ہوئی انسانیت کو امن اور سکون کی دولت عطا کرتے ہوئے دنیاوی کامیابی کے ساتھ اخروی نجات کا باعث بن سکتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کیا ہے؟‘‘ عالم اسلام کے معروف بین الاقوامی مفکر ڈاکٹر محمدحمید اللہ کی انگریزی زبان میں تحریرشدہ کتاب INTRODUCTION TO ISLAM کا اردو ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے پیغمبر اسلام، اسلام کی حقیقی تعلیمات کا تحفظ، اسلام کا نظریۂ زندگی، عقیدہ اور ایمان، اسلامی زندگی اور عبادات، اسلام اور روحانیت، اسلام کا نظام اخلاقیات، اسلام کا سیاسی نظام، اسلام کا عدالتی نظام، اسلام کا معاشی نظام، مسلمان عورت، اسلام میں غیر مسلموں کی حیثیت، علوم وفنون کی ترقی کے لیے مسلمانوں کی خدمات، اسلام کی عمومی تاریخ، مسلمان کی روزمرہ زندگی جیسے 15 اہم عنوانات کو قائم کرکے اسلامی تعلیمات اوراسلام کی حقیقت کو واضح کیا ہے۔ اس انگریزی کتاب کو جناب سید خالد جاوید مشہدی نے اردو دان طبقہ کے لیے اردوقالب میں ڈھالا ہے۔ (م۔ا)

رسول اللہ ﷺ کی سیاسی زندگی

Authors: عبد المجید سوہدروی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ کے پاک نبی کریم حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیؐ شب اسریٰ کے مہمان تمام دنیا کے انسانوں اور انبیاء کرام علیھم السلام کے سردار مکمل ضابطہ حیات لے کر اس جہان رنگ و بو میں تشریف لائے۔ سرکار دوجہاںﷺ نے انفرادی و اجتماعی زندگی کا مکمل نمونہ بن کر دکھایا۔ آپؐ کی اپنی مبارک حیات کے پہلے سانس سے لے کر آخری سانس تک کے وہ تمام نشیب و فراز ایک ہی سیرت میں یکجا ،مکمل اور قابل اتباع ہیں اور اللہ کا یہ احسان اعظم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے حضرت محمد ؐ کو مبعوث فرمایا۔ جب آقائے نامدار ؐکو مبعوث کیا گیا تو اس وقت دنیا تاریکی، جہالت، ابتری و ذلت کے انتہائی پر آشوب دور سے گز رہی تھی۔ یونانی فلسفہ اپنی نا پائیدار اقدار کا ماتم کر رہا تھا، رومی سلطنت روبہ زوال تھی، ایران اور چین اپنی اپنی ثقافت و تہذیب کو خانہ جنگی کے ہاتھوں رسوا ہوتا دیکھ رہے تھے۔ ہندوستان میں آریہ قبائل اور گوتم بدھ کی تحریک آخری ہچکیاں لے رہی تھی۔ ترکستان اور حبشہ میں بھی ساری دنیا کی طرح اخلاقی پستی کا دور دورہ تھا اور عرب کی حالت زار تو اس سے بھی دگرگوں تھی ۔سیاسی تہذیب و تمدن کا تو شعور ہی نہ تھا عرب وحدت مرکزیت سے آشنا نہیں تھے، وہاں ہمیشہ لا قانونیت ،باہمی جنگ و جدل کا دور دورہ رہا۔ اتحاد ،تنظیم ،قومیت کا شعور حکم و اطاعت وغیرہ جن پر اجتماعی اور سیاسی زندگی کی راہیں استوار ہوتی ہیں ان کے ہاں کہیں بھی نہ پائی جاتی تھیں۔ قبائل بھی اپنے اندرونی خلفشار کے ہاتھوں تہذیب و تمدن سے نا آشنا تھے۔ سیاسی وحدت یا بیرونی تہذیبوں سے آشنائی و رابطہ دور کی بات تھی۔ نبی پاک ؐ کی الہامی تعلیمات سے عرب ایک رشتہ وحدت میں پرو دئیے گئے اور وہ قوم جو باہمی جنگ و جدل ،ظلم و زیادتی کے علاوہ کسی تہذیب سے آشنا نہ تھی جہاں بانی کے مرتبے پر فائز کر دی گئی یہ سب اس بناء پر تھا کہ اسلام نے دنیاوی بادشاہت کے برعکس حاکمیت اقتدار اعلیٰ کا ایک نیا تصور پیش کیا جس کی بنیاد خدائے لم یزل کی حاکمیت اور جمہور کی خلافت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’رسول اللہﷺ کی سیاسی زندگی‘‘ڈاکٹر محمدحمیداللہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے رسولﷺ کی سیرت طیبہ کونہایت ہی احسن انداز سے بیانن کیا ہے۔ اللہ رب العزت ان کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے بہرا مند فرمائے۔ آمین(شعیب خان)