Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
مولانا احمد دین گکھڑوی
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Biography
مولانا احمددین گھکڑوی بہت بڑے مناظراور جلیل القدر عالمِ دین تھے 1900ء میں ضلع گوجرانوالہ کے ایک مشہور مقام گکھڑ میں پیداہوئےاور مختلف اہل علم سےدینی تعلیم حاصل کی ۔مولانا ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدگرامی انتقال کرگئے لیکن انہوں نے اپنی تعلیم کو جاری رکھا دورانِ تعلیم ہی مولانا احمد دین کووعظ وتقریرکا شوق پیدا ہوگیا تھا وہ بدعات او رغیراسلامی رسوم ورواج کے سخت خلاف تھے اور ان پرکھل کر تنقید کرتےتھے ذہن ابتداہی سے مناظرانہ تھا دینی تعلیم سے فراغت کے بعد وہ باقاعدہ طور سے تقریبا 1920میں مناظرے اور تقریر کےمیدان میں اترے۔پھر عیسائیوں ،شیعوں، مرزائیوں اور بریلویوں سےان کے بے شمار مناظرے ہوئے او راس زمانے میں ان کے مناظروں کی سامعہ نواز گونج دور دور تک سنی گئی اور کامیاب مناظرکی حیثیت سے معروف ہوئے ۔زیر نظر کتاب معروف مؤرخ اہل حدیث مصنف کتب کثیرہ مولاناکی امحمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد دین کگھڑوی کی دینی ، تبلیغی وعوتی خدمات او ربالخصوص ان کے مناظروں کی روداد اور واقعات کو بڑے احسن انداز میں بیان کیا ہے اللہ مولانا احمدین کے درجات بلند فرمائے اور ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور مصنف کتاب مولانا بھٹی صاحب کو تندورستی اور صحت عطا فرمائے اور ان دین ِاسلام کے لیے ان کی خدمات کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)
روپڑی علمائے حدیث
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Fiqha
متحدہ پنجاب کے جن اہل حدیث خاندانوں نے تدریس وتبلیغ اور مناظرات ومباحث میں شہرت پائی ان میں روپڑی خاندان کےعلماء کرام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔روپڑی خاندان میں علم وفضل کے اعتبار سے سب سے برگزیدہ شخصیت حافظ عبد اللہ محدث روپڑی(1887ء۔1964) کی تھی، جو ایک عظیم محدث ،مجتہد مفتی اور محقق تھے ان کے فتاویٰ، ان کی فقاہت اور مجتہدانہ صلاحیتوں کے غماز او ر ان کی تصانیف ان کی محققانہ ژرف نگاہی کی مظہر ہیں۔ تقسیمِ ملک سے قبل روپڑ شہر (مشرقی پنجاب) سے ان کی زیر ادارت ایک ہفتہ وار پرچہ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ نکلتا رہا، جو پاکستان بننے کے بعد اب تک لاہور سے شائع ہو رہا ہے۔ محدث روپڑی تدریس سے بھی وابستہ رہے، قیامِ پاکستان کے بعد مسجد قدس (چوک دالگراں، لاہور) میں جامعہ اہلحدیث کے نام سے درس گاہ قائم فرمائی۔ جس کے شیخ الحدیث اور صدر مدرّس اور ’’تنظیم اہلحدیث‘‘ کے مدیر وغیرہ سب کچھ وہ خود ہی تھے، علاوہ ازیں جماعت کے عظیم مفتی اور محقق بھی۔اس اعتبار سے محدث روپڑی کی علمی و دینی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے، وہ تدریس کے شعبے سے بھی وابستہ رہے اور کئی نامور علماء تیار کئے، جیسے حافظ عبدالقادر روپڑی ،حافظ اسمٰعیل روپڑی ، مولانا ابوالسلام محمد صدیق سرگودھوی ، مولانا عبدالسلام کیلانی رحمہم اللہ ، حافظ عبد الرحمن مدنی ،مولانا حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہما اللہ وغیرہم۔ ’’تنظیم اہلحدیث‘‘کے ذریعے سے سلفی فکر اور اہلحدیث مسلک کو فروغ دیا اور فرقِ باطلہ کی تردید کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اجتہاد و تحقیق کی اعلیٰ صلاحیتوں سے نوازا تھا، فتویٰ و تحقیق کے لئے وہ عوام و خواص کے مرجع تھے۔ ۔ چنانچہ اس میدان میں بھی انہوں نے خوب کام کیا۔ ان کے فتاویٰ آج بھی علماء اور عوام دونوں کے لئے یکساں مفید اور رہنمائی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مذکورہ خدمات کے علاوہ مختلف موضوعات پر تقریبا 80تالیفات علمی یادگار کے طور پر چھوڑیں، عوام ہی نہیں، علماء بھی ان کی طرف رجوع کرتے تھے او ران کی اجتہادی صلاحیتوں کے معترف تھے ۔مولانا عبدالرحمن مبارکپور ی (صاحب تحفۃ الاحوذی )فرماتے ہیں حافظ عبد اللہ روپڑی جیسا ذی علم اور لائق استاد تمام ہندوستان میں کہیں نہیں ملےگا۔ہندوستان میں ان کی نظیر نہیں۔ زیر نظرکتاب ’’ روپڑی علمائے حدیث‘‘ مؤرخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے حافظ عبد اللہ محدث روپڑی کے تفصیلی حالات اور ان کی علمی وتصنیفی خدمات کو بیان کرنے کےساتھ ان کے بعض تلامذہ کا بھی مختصرا ًذکر کیا ہے ۔اس کے بعد محدث روپڑی کے برادران میں سے حافظ محمد حسین روپڑی(والد گرامی حافظ عبدالرحمن مدنی﷾ مدیر اعلی ماہنامہ محدث ،لاہور) اور حافظ عبدالرحمن کمیر پوری کے حالات قلمبند کیے ہیں ۔اور پھر محدث روپڑی کے بھتیجوں میں سے خطیب ملت حافظ اسماعیل روپڑی ،مناظر اسلام حافظ عبدالقادر روپڑی ، عالم اسلام کے عظیم سکالر حافظ عبدالرحمن مدنی اور حافظ عبدالوحید روپڑی وغیرہ کے حالات بیان کرنےکےعلاوہ جامعہ اہل حدیث، ہفت روزہ تنظیم اہل حدیث چوک دالگراں،لاہور کےذمہ داران حافظ عبدالغفار روپڑی اور حافظ عبد الوہاب روپڑی کابھی مختصراً تذکرہ کیا ہے ۔روپڑی خاندان کے حالات واقعات کے معلومات حاصل کرنے کےلیے یہ ایک منفرد کتاب ہے اس کتاب میں ماہنامہ محدث ،لاہورکے بعض مطبوعہ مضامین بھی شامل ہیں۔اللہ تعالی اس خاندان کی دینِ اسلام کےلیےتمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے (آمین)(م۔ا)
فقہائے ہند جلد اول
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Fiqha
فقہائےکرامنے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت کا ہر ہر فردان کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
فقہائے پاک و ہند تیرھویں صدی ہجری جلد اول
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In History
فقہائےکرامنے امت کو آسانی و سہولت پہنچانے کی خاطر قرآن و حدیث میں غور و فکر فرماکر ایسے اصول و جزئی مسائل مرتب کئےکہ جن پرہم صدیوں سےعمل کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے،اورآج بھی ہم اُنہی کی وجہ سےآسانی کے ساتھ حقیقی دینِ اسلام پر عمل کررہے ہیں، اور جدید وجزئی مسائل میں اُن کے رہنمایانہ اصول و ضوابط کی روشنی میں بآسانی مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں۔یہ فقہاء ہمارے محسن ہیں ۔اور امت کا ہر ہر فردان کا احسان مند ہے۔امت کے ان اسلاف نے ہمیں شریعت سے راہنماءی حاصل کرنے کے اصول بتا دءیے ہیں ،جن پر عمل کر کے ہم اصولی نصوص سے فروعی مسائل اخذ کر سکتے ہیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق امت کی راہنمائی کر سکتے ہیں۔ان اسلاف کی سیرت اور حالات زندگی سے آگاہی حاصل کرنا ہمارے لئے بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ ہم ان کے نمونہ کو اپنا سکیں اور اپنے لئے راہنمائی کا بندوبست کر سکیں۔ زیر تبصرہ کتاب " فقہائے پاک وہند " پاکستان کے معروف عالم دین مورخ اہل حدیث محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب ﷾کی تصنیف ہے، جو متعدد جلدوں پر مشتمل ہے۔مولف موصوف نے اس کی متعدد جلدوں پر مشتمل کتاب میں پہلے صرف ہندوستان کے فقہاء کرام کا تفصیلی تعارف کروایا ہے اور پھر پاکستان بن جانے کے بعد پاکستان اور ہندوستان دونوں ممالک کے فقہاء کرام کی سیرت وسوانح کو تفصیل سے بیا ن کیا ہے۔پہلی سات جلدوں کا نام فقہاء ہند جبکہ آخری تین جلدوں کا نام فقہاء پاک وہند رکھا گیا ہے،اور یہ ایک ہی کتاب کی دس جلدیں اور ایک ہی سلسلے کی دس کڑیاں ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف﷾ کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
سیرت امہات المومنین
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In History
اہل السنۃ والجماعۃ کےنزدیک ازواج ِ مطہرات تمام مومنین کی مائیں ہیں۔ کیونکہ یہ قرآنی فیصلہ ہے اور قرآن حکیم نے صاف لفظوں میں اس کو بیان کردیاہے:ترجمہ۔نبیﷺ مومنوں کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپﷺ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں(الاحزاب:6:33)۔ جن عورتوں کو آپﷺ نے حبالۂ عقد میں لیا انکو اپنی مرضی سے رشتہ ازدواج میں منسلک نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آپﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا۔ ان کوبرا بھلا کہنا حرام ہے۔ اس کی حرمت قرآن وحدیث کے واضح دلائل سے ثابت ہے ۔جو ازواج مطہرات میں سے کسی ایک پر بھی طعن وتشنیع کرے گا وہ ملعون او ر خارج ایمان ہے۔ نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات کی سیرت خواتین اسلام کے لیے اسوہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ان امہات المومنین کی سیرت کے تذکرے حدیث وسیرت وتاریخ کی کتب میں موجود ہیں۔ اور اہل علم نے الگ سے بھی کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’سیرت امہات المومنین‘‘برصغیر کے معروف سوانح نگار مؤرخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی کی مختصر تصنیف ہے۔ اس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی گیارہ ازواج مطہرات کا مختصر تذکرہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی تمام کاوشوں کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو خواتین اسلام کےلیے نفع بنائے۔ (م۔ا)
60 باکمال خواتین
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Biography
اسلامی تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اورپاکیزہ نمونہ پیش کرتی ہے۔ آج جب زمانہ بدل رہا ہے، مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے، تہذیب مغرب کی دلدادہ مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ خواتین کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام کے ہردور میں عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے ،اور بڑے بڑے عظیم کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ، تابعیات، صالحات کی زندگیاں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ان کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے نہ صرف دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں نجات کا ذریعہ ہیں، بلکہ موجودہ دور کے تمام معاشرتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے بھی ضامن ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین بھی گزری ہیں جن کے سامنے اچھے اچھے سیاستدان اور حرب وضرب کے ماہر اپنے آپ کے بے بس پاتے تھے ان کی زبان کی کاٹ تلوار سے تیز تھی اوربعض کے اشعار دشمن کے لیے شمشیر برہنہ سے کم نہ تھے۔ ایک بہادر خاتون نے بنوامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خلافت کے حق دار نہیں ہیں اور اتنا بڑا اعزاز انہیں زیب نہیں دیتا۔تاریخ میں ایسی خواتین کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے شاہی غیظ وغضب کی بھی پرواہ نہیں کی اور شاہی خاندان کے بعض خودسر افراد کے غرور وتمکنت کا جنازہ نکال دیا۔ زیر تبصرہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی کی ایک شہرۂ آفاق کتاب کا منتخب حصہ ہے جسے مکتبہ فہیم انڈیا کے مدیر نے ’’ساٹھ باکمال خواتین‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 10 بہادر صحابیات اور 50 دیگر نامور تابعیات وصالحات کے دلنشیں تذکرہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)
تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Biography
تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب اور موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا عبد الرشید عراقی مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔آمین زیر تبصرہ کتا ب’’تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی‘‘ پاکستان کے نامور مؤرخ وسوانح نگار مولانا محمد اسحاق بھٹی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے سید نذیر محدث دہلوی کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے والے مولانا غلام رسول قلعوی کےسوانح حیات نہیں بلکہ اس عہد کی پوری تاریخ سمودی ہے۔مولانا بھٹی مرحوم نے مولانا قلعوی کا خاندانی پس منظر،ان کی ولادت ، تحصیل علم ، اساتذہ کرام ، مولانا کی دعوتی وتبلیغی اور خدمات، مولانا کے مکاتیب،1857ء کی جنگ آزادی میں مولانا کی گرفتاری،مولانا غلام رسول کے چند معاصرین اور تلامذہ کاذکرخیر اور مولانا غلام رسول کے تمام واقعات کو نہایت دل نشیں انداز اور انتہائی عمدگی کے ساتھ الگ الگ ابواب میں ترتیب دیا ہے۔کتاب کے اخر میں چند ابواب مولانا غلام رسول کےاخلاف کے متعلق بھی شامل ہیں جن میں مولانا کی اپنی اولاد ،ان کےبھائیوں، بیٹوں ، بیٹیوں کی اولاد کاتذکرہ بھی شامل ہے۔یہ ابواب مولانا عصمت اللہ کے تحریرشدہ ہیں۔مولانا بھٹی مرحوم نے فقہائے ہند کی ایک جلد میں بھی 60 صفحات پر مشتمل مولانا غلام رسول قلعوی کے حالات کا تذکرہ کیا ہے جو کہ 1989ء میں شائع ہوئی ۔ بعد ازاں 2009ء میں مولانا غلام رسول قلعوی کے پڑپوتے حافظ حمید اللہ اور ان کے رفقاء کے اصرار پر مولانا بھٹی مرحوم نےیہ کتاب تصنیف کی جو تقریباً 550 صفحات پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کو بڑے خوبصورت انداز میں مولانا علام رسول ویلفیئر سوسائٹی نے 2012ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا)
چمنستان حدیث
Authors: محمد اسحاق بھٹی
مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب ،یاسات حاضرہ سے پوری طرح باخبر اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں عہد حاضر کے ممتاز اہل قلم میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔برصغیر پاک وہند کے ا ہل حد یث علما ء نے ہر میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کا بھٹی صاحب نے اپنی کتب میں تذکرہ کیا ہے۔ تدوین قرآ ن سےلےکر اس کے اعراب وتشکیل،تجویدوقراء ات تراجم وتفسیر،اعجاز القرآن،علوم القرآن اور دیگر بیسیوں عنوانات پر ہر دور میں علمائے امت نے ضخیم کتابیں تالیف کی ہیں کررہے اور کرتے رہیں گے ۔ان شاءاللہ زیر تبصرہ کتاب ’’ چمنستان حدیث‘‘ مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی دیگر کتابوں کی طرح برصغیر کے اہل حدیث علمائے ذی وقار کے حالات کی نقاب کشائی کی ہے ۔یہ وہ بوریا نشیں اور درویشانِ خدامست ہیں جنہوں نےزندگی کے ہرموڑ پر اپنے آپ کو قرآن وحدیث کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔اس کتاب میں بھٹی صاحب نے ایک سو علمائے کرام کے سوانح حیات درج کیے ہیں ۔ جن میں پندرہ حضرات کا تعلق تلمذ سید نذیر حسین محدث دہلوی سے ہے اور 33 ان کا حضرات کا تذکرہ ہے جو حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی کے شاگردوں کےشاگرد ہیں۔ او رباون وہ حضرات ہیں حو اللہ کے حیات ہیں او رمختلف مقامات پر تصنیفی وتدریسی خدمات سرانجام ردے رہے ہیں ۔لیکن ان کا سلسلہ بھی بالآخر حضرت میاں صاحب کے شاگردوں کی لڑی سے جاملتا ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق بھٹی کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کی خدمات کوقبول فرماکر انہیں جنت الفرودس میں اعلی ٰ مقام عطافرمائے۔ (آمین) (م۔ا)
استقبالیہ و صدارتی خطبات
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Arguments
قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہے ۔جس کے تحت سال دو سال کے بعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ۔کانفرنس کی صدارت کے لیے ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کا اعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس میں خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سے تعلق اور ان کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل و جرائد تو تاریخ میں محفوظ ہو چکے ہیں ۔لیکن اس کی تبلیغی خدمات کو محفوظ کرنے کی ضرورت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’استقبالیہ و صدارتی خطبات‘‘ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی نے دعوت و تبلیغ کی غرض سے مرکزی جمعیت کے تحت منعقد کی جانے والی تمام سالانہ کانفرنسوں کے خطبہ ہائے صدارت و استقبالیہ کو جمع کر دیا ہے موصوف نے اولاً ان خطبات کو تلاش کیا مطبوعہ اور غیر مطبوعہ خطبات میں طباعتی اغلاط درست کیں۔ پھر اپنی نگرانی میں ان کو کمپوز کرایا اور دوبارہ سہ بارہ ان کی تصحیح کی تب کہیں جا کر یہ تاریخی دستاویز تیار ہوئی ہیں۔( م۔ا)