Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
مختصر الصلاۃ و مختصر الکبائر
Authors: ناصر الدین البانی
نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر نظر کتاب’’ مختصر الصلاۃ ‘‘ علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی مسنون نماز کے موضو ع پر جامع کتاب ’’ تلخیص صفۃ صلاۃ النبی ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے شیخ البانی رحمہ اللہ نےاس مختصر کتاب میں تکبیر تحریمہ سے سلام پھیرنے تک نماز کے تمام مسائل کو سنت نبوی کے مطابق بیان کیا ہے ۔کتاب ہذاکے ساتھ علامہ ذہی کی ’’الکبائر‘‘ کی تلخیص ’’مختصر الکبائر‘‘ کا اردو ترجمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے گناہ کبیرہ کا سرسری علم ہوسکتاہے اور ان سے کلی اجنتاب کرکے اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت کامستحق بنا سکتاہے ۔(م۔ا)
صحیح دعائیں اور اذکار
Authors: ناصر الدین البانی
دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سونے جاگنے،کھانے پینے،لباس پہننے،مسجد اور گھر میں داخل ہونے اور باہر جانے بیت الخلاء میں داخل ہونے اور باہرآنے، الغرض ہرکام کرتے وقت کی دعائیں اور آداب بیان فرمائیں ہیں ۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’صحیح دعائیں اور اذکار‘‘ محمد السید کی مرتب شدہ ہےفاضل مرتب اس کتاب میں علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کتب سے استفادہ کر کے اس میں صحیح دعاؤں اور اذکار کو جمع کیا ہے او ردعاؤں اور اذکار کی مختصر شرح بھی بیان کی ہے اور ان کبار علمائے کرام کی تعلیقات وفوائد کو آخر میں بیان کیاکردیا ہے۔(م۔ا)
نماز میں عورت کا پردہ اور لباس
Authors: ناصر الدین البانی
عورت کے لیے پردے کا شرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت و تکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ پردہ کا شرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مرد کی شہوانی کمزوریوں کا کافی و شافی علاج ہے۔ اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ایک سے زائد مقامات پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ کئی اہل علم نے عربی و اردو زبان میں پردہ کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’نماز میں عورت کا پردہ اور لباس‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب "حجاب المرأة المسلمة و لباسها في الصلاة" کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے عورت کا نماز میں لباس کیسا ہونا چاہیے اور عورت کے گھر اور گھر سے باہر پردہ کے احکام کو مختصر مگر جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ محدث العصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تعلیقات سے اس کتاب کی اہمیت و افادیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کو مومنات کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آ مین ) (م۔ا)
سلسلہ احادیث صحیحہ نیکی ، اخلاق اور صلہ رحمی کی احادیث
Authors: ناصر الدین البانی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے ۔آپﷺ نے اپنے ہر قول و فعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، ارشاد نبوی ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا کر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی ”بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں“۔ آپ ﷺ لوگوں کو بھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کے بارے میں حضرت انس کہتے ہیں۔ رایته یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سلسلہ احادیث صحیحہ‘‘امام البانی رحمہ اللہ کی معروف کتاب سلسلہ احادیث صحیحہ میں سے کتاب الاخلاق و البر و الصلۃ کا لفظی و بامحاروہ اردو ترجمہ ہے ۔لفظی ترجمہ النور انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نگہت ہاشمی صاحبہ اور بامحاورہ ترجمہ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان حفظہ اللہ نے کیا ہے افادۂ عام کے لیے اسے کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ (م۔ا)
اسلامی اوزان
Authors: فاروق اصغر صارم
In Arguments
فاروق اصغر صارم اپنی قابلیت کے اعتبار سے ایک منجھے ہوئے عالم دین تھے جو کہ اس وقت ایک حادثہ کا شکار ہو کر دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں-مصنف کی اس کوشش کے ساتھ ساتھ علم وراثت پر بڑی پختہ گرفت تھی اور مسائل وراثت کے ماہرین میں ان کا شمار ہوتا تھا-زیر تبصرہ کتاب ناپ تول کے اسلامی اوزان اور دور حاضر کے پیمانوں کے درمیان تقابل ، موازنہ وغیرہ کے موضوع پر جامع اور مستند کتاب ہے۔ اور مبتدی ومنتہی جملہ طبقات کے لئے یکساں مفید ہے، جامعیت و وسعت کے اعتبار سے مختلف عہود واَدوار میں عہدِ نبوی کے مطابق ناپ تول وغیرہ کے پیمانوں کو محیط ہے۔ اس کتاب میں اسلامی کرنسی کی تفصیل، ماپنے کے اسلامی پیمانے ، پیمائش کے اسلامی پیمانے، اور کتاب کے آخر میں مسافتِ قصر کی تحدید، سونا، چاندی وغیرہ جیسے اہم مضامین کی تشریح کی گئی ہے۔مصنف نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پائے جانے والے مختلف اوزان کی موجودہ دور کےمطابق بہترین تشریح کر کے ان اوزان کو دور حاضر کےمطابق واضح کیا ہے جس سے شرعی امور کو سمجھنے میں بہت زیادہ آسانی پیدا ہو گئی ہے-
تفہیم المواریث
Authors: فاروق اصغر صارم
In Arguments
دیگر معاملات کی طرح تقسیم وراثت سے متعلقہ اسلام کی تعلیمات نہایت عادلانہ اور منصفانہ ہیں۔ تاکہ مرحومین کے پسماندگان کی مامون و محفوظ اور پر امن دنیوی زندگی کا اہتمام ہو سکے۔ لیکن نہ معلوم کس وجہ سے بہت سے علماے کرام اور اہل علم حضرات بھی تقسیم وراثت کے حوالے سے دینی احکامات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’تفہیم المواریث‘ جہاں علمائے کرام کے لیے استفادے کا باعث بنے گی وہیں طلبا اور عامۃ المسلمین بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ فاضل مصنف فاروق اصغر صارم نے وراثت کے مبادیات، موانع، ترکہ کے متعلق امور، مستحقین اور ان کے حصص، عصبات، حجب سے لےکر تقسیم ترکہ، تخارج، خنثیٰ، حمل سمیت تمام موضوعات نہایت جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ موصوف نے علم الفرائض کی جملہ مباحث کو احاطہ تحریر میں لا کر اس علم کےقواعد و اصول کی خوب وضاحت کی ہے اور مشکل مسائل کے حل میں مثالیں اور نمونے بھی پیش کیے ہیں۔ (ع۔م)
پیارے نام
Authors: فاروق اصغر صارم
In Arguments
اللہ تعالیٰ نے دنیا میں جو چیز بھی پیدا کی ہے خواہ وہ انسان ہو جاندار، بے جان ۔غرض ہر چیز کی پہچان اس کے نام سے ہوتی ہے ۔ اور نام انسان کی شناخت کاسب سے اہم ذریعہ ہے ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو بھی سب سے پہلے ناموں کی تعلیم دی تھی جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک مرحلہ نام رکھنے کا ہوتاہے خاندان کا بڑا بزرگ یا خاندان کے افراد مل کر بچے کا پسندیدہ نام رکھتے ہیں۔ اور بعض لوگ اپنے بچوں کے نام رکھتے وقت الجھن میں پڑ جاتے ہیں اور اکثر سنے سنائے ایسے نام رکھ دیتے ہیں جو سراسر شر ک پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور نام رکھنےوالوں کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ جو نام رکھا اس کامطب معانی کیا ہے اور یہ کس زبان سے ہے حالانکہ اولاد کے اچھے اچھے نام ر کھنے کی شریعت میں بہت تاکید کی گئی۔اچھے ناموں سے بچے کی شخصیت پر نہایت مثبت اور نیک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’پیارے نام ‘‘ معروف عالم دین فاروق اصغر صارم (سابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے قرآن مجید ، کتب احادیث سیروتواریخ کی کتب اور اسماء الرجال پر لکھی گئی عربی اردو کتب کے علاوہ ڈکشنریوں سے استفادہ کر کے یہ کتاب مرتب کی ہے ۔ یہ کتاب ضروری مسائل پر محیط ، قدیم وجدید ناموں کا مرقع ہے منتخب اور چیدہ چیدہ ناموں کا گلدستہ ہے ۔نیز انہوں نے اس میں کتاب بچوں کے حقوق ، نام کی اہمیت اور اس کے شرعی احکام وآداب کے ساتھ ساتھ نام رکھنے کے سلسلے میں کی جانی والی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے اور ان کی اصلاح کی طرف توجہ دلائی ہے اور شرکیہ اور کفریہ ناموں کی نشاندہی کرنے کے علا وہ کتاب کے آخرمیں مکروہ ناموں کی فہرست پیش کردی ہے ۔ (م۔ا)
فقہ المواریث فی ضوء الآیات والاحادیث
Authors: فاروق اصغر صارم
علم المواريث من أهم وأجلّ العلوم الإسلامية بل أدقها إن صح التعبير ولا يغوض غماره إلا الكبار ولا يصلح للأصاغر فالكتاب الذي بين أيدينا هو كتاب مهم وجليل في بابه ومفيد في فنه للأستاذ القدير والشيخ الجليل فاروق الأصغر الصارم بعنوان " فقه المواريث في ضوء الآيات والأحاديث" فالكتاب قليل الصفحات ولكن كثير الفوائد واللطائف فقد استوعب فيه تقريباً امهات المسائل في هذا الفن العميق فقد حاول فيه إيضاح القواعد وإيراد المسائل الفرضية الصعبة و زيّنها بالأمثلة التي بها يتضح المقال وتتسع الفهوم، وبيّن فيه حد هذا العلم وموضوعه وغايته كما هي عادة العلماء الأجلاء في كل فن عند بداية التصنيف، فشرح فيه أركان الإرث وأسبابه وشروطه لكل مستحق من أصحاب الفروض وما للعصبات وذوي الأرحام، ورتبه بترتيب منطقي جميل، بعبارة موجزة وسهلة، مع إيراد الأدلة والعلل، وألحق فيه عقب كل باب أسئلة، ليتذاكر ويختبر فيه الطالب نفسه، ينبغي لكل لمريد العلم الشريف أن يعتني به فقد قَل إعتناء الطلبة بسبب ما سمعوه عن صعوبته فهلموا إلى مائدة العلم.(س.ث)
اہل تقلید کی طرف سے چند سوالات اور اہل حدیث کی طرف سے ان کے جوابات
Authors: فاروق اصغر صارم
In Fiqha
کسی آدمی کی وہ بات ماننا،جس کی نص حجت ِشریعہ،قرآن و حدیث میں نہ ہو،نہ ہی اُس پر اجماع ہو اور نہ وہ مسئلہ اجتہادی ہو تقلید کہلاتا ہے ۔ تقلید اورعمل بالحدیث کے مباحث صدیوں پرانے ہیں ۔ امت کا در د رکھنے والے مصلحین نے اس موضوع پر سیر حاصل بحثیں کی ہیں ۔اور کئی کتب تصنیف کیں ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ ’’اہل تقلید کی طرف سے چند سوالات اور اہل حدیث کی طرف سے ان کے جوابات ‘‘معروف عالم دین مولانا فاروق اصغر صارم (سابق مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ) کا مرتب شدہ ہے ۔یہ کتابچہ انہوں نے صوفی محمد عباس رضوی کے مرتب کردہ دوورقی پمفلٹ بعنوان ’’ غیر مقلدین وہابیوں سے چند سوالات ‘‘ کے جواب میں مرتب کیا تھا اور اس میں صوفی رضوی کی رضوی کی طرف سے پیش کیے گے بارہ سوالات کے جوابات اور ان کے شکوک شبہات کا ازالہ پیش کیا ہے اور کتابچہ ہذا کے آخر میں مقلدین احناف سے چند سوالات بھی کیے ہیں ۔ مرتب موصو ف ایک جید عالم دین ،قابلِ احترام خطیب،علوم دینیہ کے مستند استاذ بلند پایا مصنف ومحقق ،علم وراثت کے ماہر عالم تھے اور محدث العصر حافظ ثناء اللہ مدنی رحمہ اللہ کےنامور شاگردوں میں سے ہیں۔موصوف دار الافتاء سعودی عرب کے مبعوث کی حیثیت سے مختلف مدارس میں تادم آخر تدریسی خدمات انجا م دیتے رہے۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور میں بھی تقریبا پانچ سال تدریسی خدمات انجام دیں ۔جولائی 2006ء میں ایک روڈ حادثے میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتبلیغی اور تحقیقی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں بلند مقام عطافرمائے ۔آمین (م۔ا)