Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
نظر بد لگنا حقیقت ہے ، کیفیت ، بچاؤ ، علاج ، اعتراضات کا جواب

Authors: عادل سہیل ظفر

In Faith and belief

By Al Noor Softs

ہمارے ہاں پائے جانے والے عقائد میں سے متعدد عقائد افراط وتفریط کا شکار،اور بہت سی غلط فہمیوں کی نذر ہوچکے ہیں۔ انہی میں سے ایک عقیدہ ’’ نظر بد کا لگنا ‘‘ بھی ہے۔ نظر بد ایک ایسا موضوع ہے،جس کے بارے میں ہمارے معاشرے میں دو متضاد آراء پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ نظر بد کی دراصل کوئی حقیقت نہیں ہوتی اور یہ محض وہم ہے، اس کے سوا کچھ نہیں ہے ۔دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو اس پر یقین تو رکھتے ہیں،لیکن اس کے علاج میں کسی حد کی پرواہ نہیں کرتے ہیں،اور شرک کے مرتکب ٹھہرتے ہیں۔نظر بد کا لگنا حق ہے اور اس کا غیر شرکیہ علاج جائز ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ نظر بد لگنا حقیقت ہے،کیفیت، بچاؤ، علاج، اعتراضات کے جوابات ‘‘محترم جناب عال سہیل ظفر صاحب کی تالیف ہے۔ موصوف قرآن وحدیث کی اشاعت سلف صالحین کے منہج پر کرنے کےلیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔اس کتاب میں انہوں نے قرآن وحدیث اور اقوال صحابہ وتابعین سے دلائل کے ساتھ اس بات کو ثابت کیا ہے کہ نظر بد لگ جانا شرعی نصوص کی رو سے حق ہے۔اور اس کا شرعی علاج ممکن ہے جوقرآن وحدیث کی روشنی میں کیا جانا چاہئے۔(ک۔ح)

عمرہ اور حج رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر

Authors: عادل سہیل ظفر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحبِ ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحبِ استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتبِ حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہے کہ آپ نےفرمایا : الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔دیگر عبادات کی طرح حج بھی ایک اہم ترین عبادت ہے اوریہ اسی وقت اللہ تعالیٰ کےقابل قبول ہےجب مناسک حج کو نبیﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کیا جائے ۔ اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں ۔ان میں سےاردو زبان کی کئی اہم کتب کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’عمر ہ اورحج رسول اللہ کےطریقے پر‘‘ محترم عادل سہیل ظفر﷾ کی تالیف ہے جس میں انہوں نے عشرہ ذوالحجہ کی اہمیت وفضیلت اور ان ایام میں کی جانے والی غلطیوں کو بیان کرنے کےبعد حج کی فرضیت وفضیلت او ر حج وعمر ہ کے جملہ احکام ومسائل کو مختصراً قرآن احادیث کے دلائل کی روشنی میں بیان کیا ہے ۔قارئین اس کتاب سے استفادہ کرکے حج وعمر ہ کونبی کریم ﷺ کے طریقے کےمطابق ادا کرسکتے ہیں ۔ مصنف موصوف نے یہ کتاب ویب سائٹ کےلیے بطور ہدیۃ عنائت کی ہے۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے( آمین) م ۔ا)

ایصال ثواب اور اس کی حقیقت

Authors: عادل سہیل ظفر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔اور ہمارے ہاں اسی نفی والے قول پر ہی عمل ہے۔زیر تبصرہ کتاب " ایصال ثواب اور اس کی حقیقت"محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایصال ثواب کے مروجہ طریقوں کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہےکہ کونسا طریقہ درست ہے اور کونسا طریقہ درست نہیں ہے۔موصوف نے اگرچہ بعض جگہ ایسا موقف بھی اختیار کیا ہے جو اہل حدیث کے معروف موقف کے خلاف ہے لیکن اسلاف سے اس موقف کی کچھ نہ کچھ تائید مل جاتی ہے ،اور چونکہ وہ موقف اجتہادی ہوتا ہے لہذا اسے سائٹ پر پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

ایصال ثواب اور اس کی حقیقت

Authors: عادل سہیل ظفر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مسلمانوں کی بڑی اکثریت اس بات کو مانتی ہے کہ ہم دعا کے ذریعے سے اپنی نیکیوں کا اجر اپنے مرحوم اعزہ کو دے سکتے ہیں۔ چنانچہ اس تصور کے مطابق ایک شخص یا کچھ لوگ کوئی نیک عمل کرتے ہیں۔ پھر یہ دعا کی جاتی ہے کہ اس نیک عمل کا اجر فلاں مرحوم یا فلاں فلاں مرحوم کو عطا کیا جائے۔ ہمارے ہاں، اس کام کے لیے کچھ رسوم بھی رائج ہیں اور ان میں یہ عمل بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے۔یہ مسئلہ دور اول ہی سے موضوع بحث ہے۔ چنانچہ اس بات پر توسب متفق ہیں کہ میت کواخروی زندگی میں ہمارے دو طرح کے اعمال سے فائدہ پہنچتاہے۔ایک دعاے مغفرت، دوسرے وہ اعمال خیر جو میت کی نیابت میں کیے جائیں۔نیابت سے مراد یہ ہے کہ مرنے والااس عمل میں کسی نہ کسی نسبت سے شریک ہے۔ اس کی متعدد صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً یہ کہ مرنے والے نے کوئی کام شروع کیا ہوا تھا اور تکمیل نہیں کر سکا، کوئی نذر مانی ہوئی تھی پوری نہیں کر سکا یا کوئی قرض تھا جسے وہ ادا نہیں کر سکا وغیرہ۔البتہ، اس میں اختلاف ہے کہ مرنے والے کی نسبت کے بغیر عمل کا ثواب بھی میت کو پہنچتا ہے یا نہیں۔مراد یہ ہے کہ میت کے اعزہ واقارب اپنے طور پر کوئی نیکی کا کام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اس عمل کا ثواب فلاں کو دے دیا جائے۔مسئلہ یہ ہے کہ کیا یہ دعا کرنا درست ہے اور کیا یہ دعا قبول بھی ہوتی ہے، یعنی میت کو یہ ثواب واقعی دے دیا جاتا ہے۔ایک گروہ کی راے میں ان سوالوں کا جواب اثبات میں ہے۔ دوسرے گروہ کی راے میں ان کا جواب نفی میں ہے۔اور ہمارے ہاں اسی نفی والے قول پر ہی عمل ہے۔زیر تبصرہ کتاب " ایصال ثواب اور اس کی حقیقت"محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے ایصال ثواب کے مروجہ طریقوں کا قرآن وسنت کی روشنی میں جائزہ لیا ہےکہ کونسا طریقہ درست ہے اور کونسا طریقہ درست نہیں ہے۔موصوف نے اگرچہ بعض جگہ ایسا موقف بھی اختیار کیا ہے جو اہل حدیث کے معروف موقف کے خلاف ہے لیکن اسلاف سے اس موقف کی کچھ نہ کچھ تائید مل جاتی ہے ،اور چونکہ وہ موقف اجتہادی ہوتا ہے لہذا اسے سائٹ پر پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)

وہ ہم میں سے نہیں

Authors: عادل سہیل ظفر

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلام ایک دینِ کامل اور مکمل ضابطۂ حیات ہے ۔اسلام کے تمام اوامر ونواہی اور حلال وحرام کو اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺنے بیان کردیا ہے ۔جن امور کو اختیار کرنے کو کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ اور نبی ﷺ نے انہیں کرنے کا حکم دیا ہے یا ان پر عمل کی فضیلت بیان کردی ہے اسی طرح جن امور کو اختیار کرنے سے روکا ہے انہیں حکماً روک دیا ہے یہ ان کو کرنے کی سزا اور نقصانات بیان کردیئے ہیں ۔ ہمارے ماحول اور معاشرے میں ہماری عادات میں بہت سے اقوال وافعال یعنی کام اور ایسی باتیں شامل کی جاچکی ہیں جن کو عام طور کوئی اہمیت نہیں دی جاتی لیکن وہ بہت بڑے جرم ہیں اوران جرائم کی سزا نبی کریم ﷺ نے مقرر فرمائی ہے اور وہ کام کرنے والے کو اپنی ملت سے خارج قرار دیا ہے۔جس سے یہ معلوم ہوتا ہے ہے کہ قیامت کے دن اس شخص کا حشر ایمان والوں میں نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ رسول اللہﷺ کی شفاعت پائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے مجرموں میں شامل ہونے سے محفوظ رکھے ۔زیر نظر کتاب ’’وہ ہم میں سے نہیں ‘‘ محترم عادل سہیل ظفرصاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نےاحادیث میں وارد ہونے والے ان جرائم کو جمع کردیا ہے جن کی سزا رسول اللہﷺ نے یہ طے فرمائی ہے کہ ان کوکرنے والے ’’ ہم میں سے نہیں ‘‘اللہ تعالیٰ ہمیں ایسے کاموں کو اختیار کرنے سے محفوظ فرمائے جن کے بارے میں نبیﷺ نے فرمایا ’’فلیس منا؍‎ٔٔٔ.... پس وہ ہم سے نہیں‘‘ اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آمین)( م۔ا )

قرآن کریم اور صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے مطابق وسیلہ کیا ہے؟

Authors: عادل سہیل ظفر

In Arguments

By Al Noor Softs

وسیلہ کے معنی،ایسی چیز کے ہیں جو کسی مقصود کےحصول یا اس کے قرب کا ذریعہ ہو۔امام شوکانی ؒ فرماتے ہیں:"وسیلہ جو قربت کے معنی میں ہے،تقوی اور دیگر خصال خیرپر صادق آتا ہے جن کے ذریعے سے بندے اپنے رب کا قرب حاصل کرتے ہیں۔"اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا مطلب ہے کہ،ایسے اعمال اختیار کرو جس سے تمہیں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل ہو جائے۔اسی طرح منھیات ومحرمات کے اجتناب سے بھی اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔ حدیث میں اس مقام محمود کو بھی وسیلہ کہا گیا ہے جو جنت میں نبی کریم ﷺکو عطا فرمایا جائےگا،اسی لیےآپ نے فرمایا جو اذان کے بعد میرے لیے یہ دعائے وسیلہ کرےگا وہ میری شفاعت کا مستحق ہوگا۔شریعت اسلامیہ میں وسیلے کی دو قسمیں ہیں۔پہلی قسم جائز اور درست وسیلے کی ہے جبکہ دوسری قسم ناجائز اور ممنوع کی ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ" قرآن کریم، اور صحیح ثابت شدہ سنت مبارکہ کے مطابق "وسیلہ" کیا ہے؟" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے وسیلے کا معنی ومفہوم اور اس کی حقیقت کوقرآن وسنت کی روشنی میں بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

قرآن کریم میں بیان کردہ قواعد (قوانین، اصول)

Authors: عادل سہیل ظفر

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

اللہ رب العالمین کی لا تعداد انمول نعمتوں میں ایک عظیم ترین نعمت قرآن مجید کا نزول ہے۔ جس میں پوری انسانیت کی فلاح وبہودی کا سامان ہے۔ جو سراپا رحمت اور مینار رشد وہدایت ہے جو رب العالمین کی رسی ہے جسے مضبوطی سے پکڑنے والا دنیا وآخرت میں کامیابی وکامرانی سے ہم کنار ہوگا۔ جو سیدھی اور سچی راہ دکھاتا ہے۔ مکمل فطری دستور حیات مہیا کرتا ہے۔ اس کی ہدایات پر عمل کر نے والا سعادت دارین سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کی مبارک آيات کی تلاوت کر نے والا عظیم اجر وثواب کے ساتھ ساتھ اطمینان وسکون، فرحت وانبساط اور زیادتی ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے۔ جو کثرت تلاوت سے پرانا نہیں ہوتا نہ ہی پڑھنے والا اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہے۔ بلکہ مزید اشتیاق وچاہت کے جذبات سے شادکام ہوتا ہے کیونکہ یہ رب العالمین کا کلام ہے۔ اس کی آیات فرامین الٰہیہ ہیں۔ اس کی دی گئی رہنمائياں ارشادات ربانیہ ہیں، یہ قرآن مجید ہے جو مکمل شفاء ہے، دلوں کو استقامت بخشتا ہے، شکوک وشبہات کے روگیوں کو نسخہ کیمیا عطاء کرتا ہے، خواہشات نفسانی اور طاعت شیطانی کے اسیر مریضوں کے لیے ربانی علاج تجویز کرتا ہے۔ یہ فرقان حمید ہے جو حق وباطل کے درمیان واضح تفریق کرتا ہے۔ شرک وکفر اور نفاق کے اوصاف وعلامات سے آگاہ کرتا اور مذموم صفات واخلاق اور عقائد فاسدہ کے حاملین کے مکر وخداع اور دجل وفریب سے متنبہ کرتا ہے۔ جو قوم قرآن کریم کو اپنا دستور حیات بنا لیتی ہے،خدا اسے رفعت اور بلندی سے سرفراز فرماتا ہے اور جو گروہ اس سے اعراض کا رویہ اپناتا ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآن کریم میں بیان کردہ قواعد(قوانین، اصول)" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے جس میں انہوں نے قرآن مجید میں بیان کردہ قواعد کو جمع کردیا ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں انہوں نے شیخ ڈاکٹر عمر المقبل کے دروس کو سامنے رکھ کر ستر فیصد مواد اپنی طرف سے جمع کیا ہے۔ مولف موصوف اس سے پہلے بھی متعدد کتب سائٹ پر اپلوڈ کی جا چکی ہیں۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

مثالی شخصیات (دی آئیڈیلز) حصہ اول

Authors: عادل سہیل ظفر

In Biography

By Al Noor Softs

صحابہ نام ہے ان نفوس قدسیہ کا جنہوں نے محبوب ومصدوق رسول ﷺ کے روئے مبارک کو دیکھا اور اس خیر القرون کی تجلیات ِایمانی کو اپنے ایمان وعمل میں پوری طرح سمونے کی کوشش کی ۔ صحابی کا مطلب ہے دوست یاساتھی شرعی اصطلاح میں صحابی سے مراد رسول اکرم ﷺکا وہ ساتھی ہے جو آ پ پر ایمان لایا،آپ ﷺ کی زیارت کی اور ایمان کی حالت میں دنیا سے رخصت ہوا ۔ صحابی کالفظ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے ساتھ کے خاص ہے لہذاب یہ لفظ کوئی دوسراا شخص اپنے ساتھیوں کےلیے استعمال نہیں کرسکتا۔ انبیاء کرام﷩ کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام وصحابیات سے محبت اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام کے ایمان ووفا کا انداز اللہ کو اس قدر پسند آیا کہ اسے بعد میں آنے والے ہر ایمان لانے والے کے لیے کسوٹی قرار دے دیا۔یو ں تو حیطہ اسلام میں آنے کے بعد صحابہ کرام کی زندگی کاہر گوشہ تاب ناک ہے لیکن بعض پہلو اس قدر درخشاں ،منفرد اور ایمان افروز ہیں کہ ان کو پڑہنے اور سننے والا دنیا کا کوئی بھی شخص متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ صحابہ کرام وصحابیات ؓن کےایمان افروز تذکرے سوانح حیا ت کے حوالے سے ائمہ محدثین او راہل علم کئی کتب تصنیف کی ہیں عربی زبان میں الاصابہ اور اسد الغابہ وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔اور اسی طرح اردو زبان میں کئی مو جو د کتب موحود ہیں ۔ زير تبصره کتاب ’’مثالی شخصیات ؍دی آئیڈیلز‘‘ محترم جناب عادل سہیل ظفر کی تصنیف ہے اس مختصر کتاب میں انہوں صحابہ کرام کے مقام ومرتبہ ، فضائل ومناقب کو بیان کرنے کے بعد نبی کریم ﷺکے 13 جلیل القدر صحابہ کرام اور ایک صحابیہ ام ربیع ؓ عنہاکا آسان ا نداز میں مختصراً تعارف پیش کیا ہے۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کے لیے صحابہ کرام کی عظمت وفضلیت کوسمجھنے کا ذریعہ بنائے اور ہمیں صحابہ کرام کو اپنا آئیڈیل بنانے کی توفیق دے ۔ (آمین۔زیر تبصرہ اس کتاب کا انٹرنیٹ ایڈیشن ہے (م۔ا)

رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ و سلام معنی و مفہوم، صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد، اعمال اور مسائل

Authors: عادل سہیل ظفر

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نبی کریم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ایک مقبول ترین عمل ہے۔ یہ سنت الٰہیہ ہے، اس نسبت سے یہ جہاں شان مصطفوی ﷺ کے بے مثل ہونے کی دلیل ہے، وہاں اس عمل خاص کی فضیلت بھی حسین پیرائے میں اجاگر ہوتی ہے کہ یہ وہ مقدس عمل ہے جو ہمیشہ کے لئے لازوال، لافانی اور تغیر کے اثرات سے محفوظ ہے۔کیونکہ نہ خدا کی ذات کے لئے فنا ہے نہ آپﷺ پر درود و سلام کی انتہا۔ اللہ تعالی نہ صرف خود اپنے حبیب مکرم ﷺ پردرود و سلام بھیجتا ہے بلکہ اس نے فرشتوں اور اہل ایمان کو بھی پابند فرما دیا ہے کہ سب میرے محبوب پر درود و سلام بھیجیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "بیشک اللہ اور ا س کے فرشتے نبی کریم ﷺ پر درود بھیجتے رہتے ہیں،اے ایمان والو! تم (بھی) ان پر درود بھیجا کرو اور خوب سلام بھیجا کرو۔اسی طرح مستند احادیث سے درود و سلام کے فضائل ثابت ہیں۔ لیکن درود وہ پڑھنا چاہئے جو خود نبی کریم ﷺ نے سکھلایا ہے۔آج کل لوگوں نے بے شمار نام نہاد درود بنا لئے ہیں ، جن کا شریعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتابچہ " رسول اللہ ﷺ پر صلاۃ وسلام ، معنی ومفہوم، صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد، اعمال اور مسائل" محترم عادل سہیل ظفر صاحب کی کاوش ہے، جس میں انہوں نے صلاۃ وسلام کے معنی ومفہوم اور اس کے بارے میں صحیح اور ضعیف فضائل، عقائد اور اعمال کو ایک جگہ فرما دیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)