Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
دوام حدیث جلد اول
Authors: حافظ محمد گوندلوی
اللہ تعالیٰ نے بنی نوع ِ انسان کی رشد وہدایت کے لیے انبیاء ورسل کو اس کائنات میں مبعوث کیا،تاکہ ان کی راہنمائی کی بدولت اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کیا جاسکے۔انسان اپنے تیئں کتنی ہی کوشش اور محنت کیوں نہ کرلے ، اسے اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہوسکتی جب تک وہ زندگی گزارنے کے لیے اسی منہج کو اختیار نہ کرے جس کی انبیاء نے تعلیم دی ہے ،اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہر رسول کی بعثت کا مقصد صرف اس کی اطاعت قراردیا ہے ۔جو بندہ بھی نبی اکرم ﷺ کی اطاعت کرے گا تو اس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی اور جو انسان آپ کی مخالفت کرے گا ،اس نے اللہ تعالی کے حکم سے روگردانی کی ۔ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا(الحشر:7)اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ِعالی شان کی بدولت صحابہ کرام ،تابعین عظام اور ائمہ دین رسول اللہ ﷺ کے ہر حکم کو قرآنی حکم سمجھا کرتے تھے اور قرآن وحدیث دونوں کی اطاعت کویکساں اہمیت وحیثیت دیا کرتے تھے ،کیونکہ دونوں کا منبع ومرکز وحی الٰہی ہے ۔عمل بالحدیث کی تاکید اورتلقین کے باوجود کچھ گمراہ لوگوں نےعہد صحابہ ہی میں احادیث نبویہ سےمتعلق اپنےشکوک وشبہات کااظہارکرناشروع کردیا تھا ،جن کوپروان چڑہانےمیں خوارج ، رافضہ،جہمیہ،معتزلہ، اہل الرائے اور اس دور کے دیگر فرق ضالہ نےبھر پور کردار ادا کیا۔ لیکن اس دور میں کسی نے بھی حدیث وسنت کی حجیت سے کلیتاً انکار نہیں کیا تھا،تاآنکہ یہ شقاوت متحدہ ہندوستان کے چند حرماں نصیبوں کے حصے میں آئی،جنہوں نے نہ صرف حجیت حدیث سے کلیتاً انکار کردیا بلکہ اطاعت رسولﷺ سے روگردانی کرنے لگے اور رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کو عہد نبوی تک ہی قرار دینے کی سعی نامشکور کرنے لگے ۔تو اس فتنہ انکار حدیث کے رد میں برصغیر پاک وہند میں جہاں علمائے اہل حدیث نے عمل بالحدیث اورردِّ تقلید کے باب میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں وہیں فتنہ انکار حدیث کی تردید میں بھی اپنی تمام تر کوششیں صرف کردیں۔اس سلسلے میں سید نواب صدیق حسن خان، سید نذیر حسین محدث دہلوی،مولانا شمس الحق عظیم آبادی ،مولانا محمد حسین بٹالوی ، مولانا ثناء اللہ امرتسری ، مولانا عبد العزیز رحیم آبادی،حافظ عبداللہ محدث روپڑی، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،مولانا داؤد راز شارح بخاری، مولانا اسماعیل سلفی ، محدث العصر حافظ محمدگوندلوی وغیرہم کی خدمات قابل تحسین ہیں۔اور اسی طرح ماہنامہ محدث، ماہنامہ ترجمان الحدیث ،ہفت روہ الاعتصام،لاہور ،پندرہ روزہ صحیفہ اہل حدیث ،کراچی وغیرہ کی فتنہ انکار حدیث کے رد میں صحافتی خدمات بھی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ اہل علم او ررسائل وجرائد کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) زیر نظرکتاب ''دوامِ حدیث'' بھی علمائے اہل حدیث کی دفاع ِ حدیث کے باب میں سرانجام دی جانے والی خدمات جلیلہ ہی کا ایک سنہری باب ہے جو محدث العصر حافظ محمد گوندلوی کے تحقیق آفریں قلم سے رقم کیا گیا ہے۔یہ کتاب در اصل منکرینِ حدیث وسنت کی ان تحریرات کاجواب ہے جن کوغلام احمد پرویز نے ''مقام حدیث'' کے نام سے 1953ء میں شائع کیا تھا۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے ۔جلد اول میں ''مقام حدیث'' کے تمام مغالطات کا تفصیلی جواب دیا ہے او رجلد دوم میں ڈاکٹر غلام برق جیلانی کی انکار حدیث پر مبنی کتاب''دواسلام'' کا مکمل جواب تحریر کیا ہے۔ حضرت حافظ محدث گوندلوی نے 1953ءمیں جواب کومکمل کرلیا تھا ۔جو کہ ہفت روزہ ''الاعتصام''،ماہنامہ رحیق''اور ترجمان الحدیث ،لاہور میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ پہلی بار حافظ شاہد محمود﷾ (فاضل مدینہ یونیورسٹی ) نے اس کتاب پر تحقیق وتخریج کا کام کر کے کتابی صورت میں حسن طباعت سے آراستہ کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ محدث گوندلوی کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ان کی مرقد پر اپنی رحمتوں کانزول فرمائے ،اور فاضل نوجوان جید عالمِ دین حافظ شاہد محمود ﷾ کی علمی وتحقیقی خدمات بھی انتہائی قابل قدر ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کےعلم وعمل اورزورِ قلم میں برکت فرمائے (آمین)( م۔ا)
شرح حدیث ہرقل سیرت نبوی ﷺ کے آئینےمیں
Authors: حافظ محمد گوندلوی
نبی اکرم ﷺ کے اقوال وافعال او راحوال وآثار کاریکارڈ اصطلاحی زبان میں حدیث کہلاتا ہے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت وسنت کا علم ہوتا ہے ارباب علم نے احادیث کی شروح لکھنےکا اہتمام کیا جس کے دواسالیب ہیں ایک تو یہ ہے کہ کسی ایک مجموعہ حدیث کی مکمل شرح کی جائے اوردوسرا یہ ہے کہ کسی ایک حدیث کو لے کر اس کی شرح کی جائے زیرنظر کتاب ’’شرح حدیث ہرقل‘‘میں صحیح بخاری کی ایک حدیث کی مفصل تشریح کی گئی ہے جو کہ دوجلیل القدر علماء کے افادات پر مبنی ہے حدیث ہرقل میں دراصل نبی اکرم ﷺ کے کردار کی عظمت او رسیرت کی رفعت کو موضوع بحث بنایا گیا ہے اس سلسلہ میں قابل ذکر نکتہ یہ ہے کہ رسول معظم ﷺ کے کردار اور سیرت کی عظمت کی گواہی دینے والٰے دو سخت ترین دشمن او رکافر تھے گویا’’ الفضل ماشہدت بہ الاعداء‘‘ یعنی جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے ۔فی زمانہ جبکہ بعض بدباطن رسول اکرم ﷺ کی ذات گرامی پر بے بنیاد اعتراضات اچھال رہے ہیں اس کتاب کا مطالعہ بہت ہی مفید ثابت ہوگا۔
الاصلاح
Authors: حافظ محمد گوندلوی
In Arguments
حضرت العلام، محدث العصر جناب محمد گوندلوی ؒ تعالیٰ اپنے وقت کے امام تھے۔ ان کی تدریس اور تالیف کے میدان میں نمایاں خدمات ہیں۔ حضرت العلام کا مطالعہ بہت وسیع اور فکر میں انتہائی گہرائی تھی ۔ ان کے حافظے کی پختگی کی وجہ سے لوگ انہیں چلتی پھرتی لائببریری کہا کرتے تھے ۔ان کی یہ کتاب ایک گوہر نایاب ہے جو ایک بریلوی عالم دین کی تصنیف’جواز الفاتحہ علی الطعام‘ کے جواب میں تحریر کی گئی ہے لیکن اس میں اس خاص مسئلہ کے علاوہ دیگر بدعات، اجتہاد وتقلید، قیاس، شرکیہ عقائد اور رسومات سے متعلق بھی انتہائی وقیع اور علمی تحقیقات پیش کی گئی ہیں۔اس کتاب میں تقلید، ندائے یا رسول اللہ، بشریت رسول، قبروں پر قبے بنانا، چالیسواں اور فاتحہ علی الطعام جیسے مسائل پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے۔ کتاب میں ان فروعی مسائل کے ساتھ ساتھ کچھ اصولی مباحث بھی زیر بحث آئے ہیں جن میں ایک اہم مسئلہ قیاس اور بدعت میں فرق کا ہے۔ کتاب اس قدر علمی مواد پر مشتمل ہے کہ عوام الناس تو کجا، علماء اور متخصصین بھی اس کے مطالعے سے اپنے علم میں گہرائی، وسعت اور رسوخ محسوس کریں گے۔ہم یہ بھی یہاں واضح کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت العلام کی ابحاث میں انتہائی گہرائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے عوام الناس کو انہیں سمجھنے میں دقت ہوتی ہے لیکن ایسی مشکل کتابوں کا مطالعہ کرنے سے انسان کی فکر کی پرواز میں بلندی اور علم میں گہرائی و رسوخ پیدا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ’مرکز التربیۃ الإسلامیۃ‘ کو اس کی جزا دے کہ انہوں نے واقعتاً علم کے ایک خزانے کو عوام الناس کے سامنے لانے کے لیے اپنی کوششیں صرف کیں ہیں۔اللہ تعالیٰ حضرات العلام کی اس مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔
ناشر : ام القریٰ پبلی کیشنز، گوجرانوالہ
Authors: حافظ محمد گوندلوی
In Biography
حضرت محدث گوندلوی اپنے وقت کےعظیم محدث، مفسراور فقیہ تھے۔تمام علوم کےبحر زخار اور علوم و فنون پر کامل گرفت رکھتےتھے۔ آپ وسعت علم کے ساتھ عمل و اخلاق اورزہد و تقویٰ کے بھی پیکر تھے۔ شب زندہ داری اور سنن و مستحبات کی پیروی کا ایسا اہتمام کہ اب ایسا اور کوئی ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ اسی شخصیت کا مجموعہ مقالات و رسائل اس وقت آپ کے سامنے ہے جو نگارشات محدث گوندلوی کے فکر کا عکاس ہے۔ اس میں محدث گوندلوی ؒ کے چھ رسائل کو یکجا کیا گیاہے۔ پہلا رسالہ ختم نبوت کےعنوان سے ہے جس میں نبوت کا اثبات ہے۔ دوسرا ’تنقید المسائل‘ جس میں سید مودودی کے افکار پر تنقید ہے۔ اسی طرح باقی رسائل احکام وتر، صلاۃ مسنونہ، اہداء ثواب اور اسلام کی دوسری کتاب کے عنوان سے ہیں۔ ان رسائل میں باذوق قارئین کے لیے نہایت قیمتی معلومات درج ہیں۔ (عین۔ م)
تفہیم القاری ( اردو ترجمہ و توضیح ارشاد القاری)
Authors: حافظ محمد گوندلوی
امام بخاری کی شخصیت اور ان کی صحیح بخاری کسی تعارف کی محتاج نہیں سولہ سال کے طویل عرصہ میں امام بخاری نے 6 لاکھ احادیث سے اس کا انتخاب کیا اور اس کتاب کے ابواب کی ترتیب روضۃ من ریاض الجنۃ میں بیٹھ کر فرمائی اور اس میں صرف صحیح احادیث کو شامل کیا ۔ حدیث نبوی کے ذخائر میں صحیح بخاری کو گوناگوں فوائد اورمنفرد خصوصیات کی بنا پر اولین مقام اور اصح الکتب بعد کتاب الله کا اعزاز حاصل ہے ۔بلاشبہ قرآن مجید کےبعد کسی اور کتاب کو یہ مقام حاصل نہیں ہوا ۔ صحیح بخاری کو اپنے زمانہ تدوین سے لے کر ہردور میں یکساں مقبولیت حاصل رہی ۔ائمہ معاصرین اور متاخرین نے صحیح بخاری کی اسانید ومتون کی تنقید وتحقیق وتفتیش کرنے کے بعد اسے شرف قبولیت سےنوازا اوراس کی صحت پر اجماع کیا ۔ اسی شہرت ومقبولیت کی بناپر ہر دور میں بے شماراہل علم اور ائمہ حدیث ننے مختلف انداز میں صحیح بخاری کی شروحات لکھی ہیں ان میں فتح الباری از ابن حافظ ابن حجر عسقلانی کو امتیازی مقام حاصل ہے ۔ زیر نظر کتا ب’’ تفہیم القاری اردو ترجمہ وتوضیح ارشاد القاری ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی کی ’’ارشاد القاری الی نقد فیض الباری ‘‘ کی پہلی جلد کا اردو ترجمہ ہے ۔ارشاد القاری الی نقد فیض الباری چار جلدوں میں طبع ہوچکی جو کہ حافظ محمد گوندلوی اوران کے تلمیذ رشید حافظ عبد المنان نوری رحمہما اللہ کا علمی شاہکار ہے۔ارشاد القاری کے مطالعہ سے ایک طرف حدیث نبوی کی عظمت اور منہج سلف کی پاسداری ظاہر ہوتی ہے تو دوسری طرف حدیث نبوی پر جو تقلیدی رنگ چڑھانے کی سعی نامشکور کی گئی ہے اسکو قرآن وحدیث کے دلائل کے ساتھ صاف کردیاگیا ہے اور حدیث نبوی کی حقیقت کوخوب آشکار کیا گیا ہے شاہ صاحب نے جس رنگ ڈھنگ سے کلام کی اور جہاں کہیں اپنی طرف سےفنی اوراصولی بحث کر کے بڑا نکتہ بیان کیا۔حافظ گوندلوی اور نورپوری نے اسی انداز سےاس پر نقد کیا ہے اور اسی فنی اور اصولی بحث کی حقیقت کوبیان کرتے ہوئے اس کا صحیح معنی ومفہوم بتایاہے۔ارشاد القاری چونکہ عربی زبان میں تھی جسے طلبہ اور عام علماء کےلیے سمجھنا دشوا ر تھا ۔ حافظ عبد المنان نوری کے شاگرد خاص مولانا محمد طیب محمدی صاحب نے ارشاد القاری کی تفہیم کے لیے اس کے ترجمہ کاآغاز کیا اور صرف ایک ہی جلد کاترجمہ کر کے شائع کیا جو ان کی بہت بڑی کاوش ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور انہیں ارشاد القاری کا مکمل ترجمہ وتوضیح کرنے کی توفیق دے (آمین)( م۔ا)
التحقیق الراسخ
Authors: حافظ محمد گوندلوی
شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں زیر تبصرہ کتاب ’’التحقیق الراسخ فی ان احادیث رفع الیدین لیس لہا ناسخ‘‘ محدث العصر حافظ محمد گوندلوی کی رفع الیدین کے موضوع پر علمی اور تحقیقی کتاب ہے یہ دراصل مولوی محمد اشفاق الرحمن کے ایک رسالہ ’’نور العینین‘‘ کے جواب میں لکھی گئی ہے ۔مولوی اشفاق الرحمن نے اس رسالہ میں رفع الیدین کو منسوخ اور مکروہ کہا تھا ۔تو مولانا احمد اللہ (شیخ الحدیث دار الحدیث الرحمانیہ دہلی) نے اولاً کا اس کا جواب تحریر کیا اورمؤلف کےجملہ شکوک وشبہات حل فر مادیئے تھے ۔تو مؤلف رسالہ نور العینین نے اسکا کوئی جواب نہ دیا۔ بعد ازاں حافظ محمد گوندلوی نے رفع الیدین کےموضوع پر ایک تفصیلی بحث تحریر کی جس میں مسئلہ رفع الیدین مواضع ثلاثہ کا ثبوت ادلہ صحیحہ سےباطریق احسن دیاگیا ہے اور عموماً جملہ منکرین احناف کےتمام شبہات وخدشات کا ازالہ کیاگیا ہے ۔ نیز مولف نور العینین کے جملہ شبہات وایرادات کابھی نہایت اچھے طریقے سے حل فرمادیا ہے۔ 1349ھ میں پہلی یہ کتا ب شائع ہوئی ۔ زیرتبصرہ ایڈیشن 1985ء میں مکتبہ سلفیہ ،لاہور نےشائع کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کے درجات بلند فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)
اھداء ثواب
Authors: حافظ محمد گوندلوی
In Fiqha
دور ِحاضر میں مسلمانوں کے اندر بہت سی خرافات ورسومات نےجنم لے لیا ہے جن میں سے کسی آدمی کے فوت ہوجانے کے بعد ایصالِ ثواب کا مسئلہ بہت غلط رنگ اختیار کرچکا ہے بالخصوص قرآن خوانی کے ذریعے مردوں کوثواب پہنچانے کارواج عام ہے ۔ قرآن خوانی اورگٹھلیوں وغیرہ پر کثرت سے تسبیحات پڑھ کر مرنے والے کو اس کا ثواب بخشا جاتاہے ۔حتی کہ قرآنی خوانی اور ایصال ثواب توایک پیشہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن پڑھنے کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔ 1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’اھداء ثواب‘‘ محدث دوراں حافظ محمد گوندلوی کی رد بدعات کےسلسلے میں ایک علمی تحریر ہے۔ جس میں انہو ں میت کی نفع رسانی کےجائز اور ناجائز طریقے بیان کرنے کےساتھ ساتھ تیجے ،ساتویں وچالیسویں کے بدعت اور ناجائز ہونےکامدلل بیان ہے۔اور قرآن مجید کی آیت کریمہ’’ وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى‘‘پر بھی بحث کی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کوعامۃ الناس کی اصلاح کا ذریعہ بنائے۔ (آمین) ( م۔ا)
صلوۃ الرسول
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
نماز اسلام كے ارکان خمسہ میں سے ہے اور ہماری روز مرہ زندگی کی تہذیب وتمدن کی بڑی حد تک ضامن، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اسے رسول اللہ ﷺ کی مکمل اتباع کے ساتھ ادا کرے- زیر نظر کتاب میں مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی نے نماز کے متعلق تقریبا تمام مسائل کویکجا کردیا ہے- جن میں طہارت کے مکمل مسائل، وضو اور تیمم کا طریقہ اور تکبیر اولی سے سلام تک مکمل نماز نبوی کے ساتھ ساتھ نماز استسقاء،سورج گرہن کی نماز اور جنازے کے احکام کا احاطہ کیا گیا ہے- مزید برآں نماز تہجد، نماز سفر اورسجدہ سہو کے حوالے سے مکمل آگاہی فراہم کی گئی ہے- اسی طرح نماز عید اور نماز تہجد کے ساتھ ساتھ قیام اللیل کی بھی بھر پور وضاحت فرمائی ہے-اس کے علاوہ مصنف نے نمازوں کےحوالے سے پائے جانے والے فروعی اختلافات کا براہ راست صحیح احادیث کی روشنی میں حل پیش کیا ہے- جن میں رفع الیدین اور فاتحہ خلف الامام قابل ذکر ہیں۔
سبیل الرسول ﷺ ۔تخریج شدہ
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
اسلام اور اس کی تعلیمات کوسمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کی اطاعت اتباع اساس اور بنیادی شئے ہے۔دین اسلام پر چلنے کے لیے سرورکائنات حضرت محمدرسول اللہ ﷺ کے راستے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے صرف احادیث نبوی ﷺ کی مشعل اور سنن ہذی کے چراغ ہی قرآن مجید کی راہ عمل کے چراغ ہیں۔یہی وہ موضوع ہے جو زیر نظر کتاب میں برصغیر پاک وہند کے مشہور مؤلف جناب حضرت مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی کے زیر قلم آیا ہے ۔یہ کتاب متذکرہ موضوع پر مولانا موصوف کے سنجیدہ اور عالمانہ انداز میں نہایت حسن وخوبی اور دلائل کے ساتھ ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔کتاب کی یہ خوبی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ اس کے پڑھنے سے رسول اکرم ﷺ کی اطاعت اور اتباع کا جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔کتاب کی سلیس عبارت،دلکش طرز تحریر اور موقع بہ موقع اشعار نے اس کے حسن کو چار چاند لگا دیے ہیں۔تقلید ائمہ اور اطاعت رسول کے حوالے سے یہ کتاب انتہائی مفید اور قابل مطالعہ ہے ۔(ط۔ا)