Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
نماز نبوی با تصویر
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
انسان ہی نہیں، جنات کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت وپرستش کےلیے پیدا فرمایا ہے۔ اور عبادات میں سے سب سے افضل ترین عبادت نماز ہے۔ نماز ہی کافر ومسلم اور مومن ومشرک کے درمیان حد فاصل ہے۔ روز محشر سب سے پہلا سوال نماز ہی کے بارے میں کیا جائے گا۔ نماز ہی وہ فریضہ ہے جس کی ادائیگی ہر حال میں ضروری ہے۔ خواہ حالت امن ہو ،یا حالت جنگ، حالت صحت ہو، یاحالت مرض، حالت اقامت ہو، یا حالت سفر۔نماز میں تخفیف کی سہولت تو موجود ہے،لیکن اس میں مکمل معافی کی گنجائش نہیں ہے۔نماز کو پابندی وقت کے ساتھ مسجد میں باجماعت ادا کرلینا ہی کافی نہیں،اور نہ ہی خشوع وخضوع ، عاجزی وانکساری اور پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوجانا نماز کی قبولیت کی علامت ہے، بلکہ اس فریضہ سے عہدہ برآ ہونے اور نماز کو قبولیت کے درجہ تک پہنچانے کےلیے یہ بھی ضروری، بلکہ انتہائی ضروری ہے کہ نماز نبی اکرم ﷺ کے طریقے اور سنت کے مطابق اداء کی جائے۔تکبیر تحریمہ سے لیکر سلام تک،قیام وقعود ہو یا رکوع وسجود، اذکار وتسبیحات ہوں یا قراءت قرآن۔ ہر چیز سنت کی روشنی میں اداء کی جائے۔ مگر ایسا کس طرح ممکن ہے؟ اس کا حل آپ کو اس کتاب میں ملے گا۔ نہ صرف قولی طور پر بلکہ تصاویر کے ساتھ عملی طور پر بھی۔ اور نہ صرف یہ کہ ہر بات مستند حوالہ جات سے مزین ہے بلکہ وضوء، تیمم او رنماز کی عام غلطیاں بھی نشان زدہ کردی گئی ہیں۔(ک۔ح)
پیش گوئیوں کی حقیقت
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
قرآنِ کریم اور فن محدثین کے معیار کے مطابق مستند روایاتِ حدیث میں صادق ومصدوق حضرت محمد ﷺ کی قیامت سےقبل پیش آ نے والے واقعات کے بارے میں وارد شدہ خبروں کو پیش گوئیاں کہا جاتاہے۔جن کا تعلق مسائل عقیدہ سے ہے ۔عقیدۂ آخرت اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل ہے جس سے انکار وانحراف در اصل ا سلام سےانکار ہی کے مترادف ہے ۔عقیدہ آخرت میں وقوع ِقیامت او راس کی علامات ،احوال بعد الممات ،حساب وکتاب،جزاء وسزا او رجنت وجہنم وغیرہ شامل ہیں۔اس مادی وظاہر ی دنیا میں مذکورہ اشیا کاہر دم نظروں سےاوجھل ہونا ایک حد تک ایمان بالآخرت کو کمزور کرتا رہتا ہے لیکن اس کے مداوا کے لیے نبی ﷺ نے قیامت سے پہلے کچھ ایسی علامات وآیات کے ظہور کی پیشن گوئیاں فرمائی ہیں جن کا وقوع جہاں لامحالہ قطعی ولازمی ہے وہاں اس کے اثرات مسلمانوں کےایمان کومضبوط بنانے اور نبی ﷺ کی نبوت صادقہ کے اعتراف واثبات پر بھی معاونت کرتے ہیں۔ زیرنظر کتاب ’’‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشر حسین لاہور ی ﷾ (فاضل جامعۃ الدعوۃ الاسلامیۃ،مرید کے ،سابق ریسرچ سکالرمجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور) کی اہم تصنیف ہے جس میں انہوں قربِ قیامت کی نبوی پیش گوئیوں(شخصیات، حیوانات، ظہور مہدی ونزول مسیح،یاجوج ماجوج، وغیرہ کے متعلقہ پیش گوئیاں) کوقرآن واحادیث کی روشنی میں بیان کرنے ساتھ ساتھ پیش گوئیوں کی تعبیر وتعیین کےحوالےسے بعض معاصر مفکرین کی آراء کاتنقیدہ جائزہ اور صحیح نکتہ نظر بھی پیش کیا ہے ۔اس کتاب کی تیاری میں حافظ عبد الرحمن مدنی ﷾(مدیر اعلی ماہنامہ محدث،لاہور) کی کوشش سے مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے علمی مذکرہ (مؤرخہ 26جنوری2003ء) کی رپورٹ بھی شاملِ اشاعت ہے جس میں جید علماء کرام نے شریک ہوکر اپنی علمی آراء پیش کیں۔ کتاب کے فاضل مؤلف اس کتاب کے علاوہ بھی کئی کتب کے مصنف ومترجم ہیں ۔اور تقریبا عرصہ دس سال سے ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد میں بطور ریسرچ سکالر خدمات انجام دےرہے ہیں ۔ اللہ تعالی اشاعتِ دین کےلیے ان کی جہود کوشرف ِقبولیت سے نوازے او راس کتاب کو لوگوں کے عقائد کی اصلاح کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
جدید فقہی مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
اللہ تعالیٰ نے قرآن وسنت کی شکل میں دینِ اسلام کو قیامت تک کے لیے محفوظ فرماکر معیار ہدایت مقرر کردیا ہے اور قرآن وسنت کے احکام میں اتنی وسعت اور لچک رکھی ہے کہ یہ تاقیامت پیش آنے والے مسائل میں امت ِ مسلمہ کی رہنمائی کرسکیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے اجتہاد کا دروازہ قیامت تک کے لیے کھلا رکھا گیا ہے۔ عصر حاضر میں امت مسلمہ کو بے شمار نئے مسائل کا سامنا ہے ان پیدا ہونے والے نئے مسا ئل کے حل کےلیے قرآن وسنت سے براہِ راست اجتہاد کے حوالے سے اہل علم افراط وتفریط کا شکار ہیں ۔جدید فقہی مسائل کے حوالے سے مختلف اہل علم اوربالخصوص فقہ اکیڈمی انڈیا کی کتب قابل ذکر ہیں ۔زیر نظر کتاب ’’جدید فقہی مسائل ‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشر حسین لاہوری﷾ (ریسرچ سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ،اسلام آباد) کی تالیف ہے ۔جس میں انہوں نے جدید فقہی مسائل کے حل کےلیے تمام فقہی مسالک کے فقہی ذخیرے استفادہ کرتے ہوئے اس کتاب میں پانچ ابواب قائم کرکے پندرہ اہم مسائل کوزیر بحث لائے ہیں جبکہ ضمنی طور پر ا ن کے تحت کئی مزید مسائل پر بھی بحث کی گئی ہے ۔ہر اہم میں پہلے اس کی واقعاتی صورت حال کوبیان کرنے کے بعد اس مسئلہ کے ایک ایک جز پر قرآن وسنت کی روشنی میں بحث کرنے کے بعد اس مسئلہ کی مزید توضیح اور تائید کےلیے عرب وعجم کے ممتاز علماء کی آراء وفتاویٰ کو بھی اس میں جمع کردیا گیا ہے ۔ اس کتاب کے فاضل مؤلف کتاب ہذا کے علاوہ بھی کئی علمی واصلاحی کتب کے مؤلف ومترجم ہیں ۔اللہ تعالی ان کی مساعی جمیلہ کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین) (م۔ا)
ھدیۃ النساء
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
In Biography
یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ عورت کی تخلیق مرد کے سکون واطمینان کا باعث ہے ۔ اور انسانی معاشرہ میں جتنی اہمیت ایک مرد کو حاصل ہے اتنی ہی ایک عورت کوبھی حاصل ہے اس لیے کہ وہ خاندان کی مرکزی اکائی ہے ۔ ، اگر یہ اسلامی پلیٹ فارم پر سیدھی چلتی رہی تو اس مادی دنیا کا اصل زیور وحسن ہے اورمرد کی زندگی میں نکھار اور سوز وگداز پیداکرنے والی یہی عورت ہے ۔ اس کی بدولت مرد جُہدِ مسلسل اور محنت کی دلدوز چکیوں میں پستا رہتاہے ۔ اور اس کی وجہ سے مرددنیا کے ریگزاروں کو گلزاروں او رسنگستانوں کو گلستانوں میں تبدیل کرنے کی ہر آن کوشش وکاوش کرتا رہتا ہے ۔اگر عورت بگڑ جائے اور اس کی زندگی میں فساد وخرابی پیدا ہوجائے تویہ سارے گلستانوں کو خارستانوں میں تبدیل کردیتی ہے اور مرد کوہر آن ولحظہ برائی کے عمیق گڑھوں میں دھکیلتی دیتی ہے ۔اسلام نے عورت کوہر طرح کے ظلم وستم ، وحشت وبربریت، ناانصافی ، بے حیائی وآوارگی اور فحاشی وعریانی سے نکال کر پاکیزہ ماحول وزندگی عطا کی ہے ۔ او ر جتنے حقوق ومراتب اسلام نے اسے دیے ہیں دنیا کے کسی بھی معاشرے اور تہذیب وتمدن میں وہ حقوق عورت کوعطا نہیں کیے گئے ۔اس لیے عورت کا اصل مرکز ومحور اس کے گھر کی چاردیواری ہے ۔جس کے اندر رہ کر گھر کے ایک چھوٹے سے یونٹ کی آبیاری کرنا اس کا فریضہ ہے ۔اسلام عورت کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتا ہے کسی گھر کی عورت اگر نیک اور پرہیز گار ہے تو وہ امن وآشتی کا گہوارہ ہے اور اگر عورت بدکار فاسقہ وفاجرہ ہے تو وہ برائی کا اڈا ہ اور فحاشی وعریانی کاسیل رواں ہے۔اس لیے ہمیں اپنے گھر کی خواتین کو اسلامی تہذیب وتمدن ، دینی معاشرت ورہن سہن اور عقائد صحیحہ واعمال صالحہ پر گامزن رکھنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیے ۔زیر نظر کتاب’’ ہدیۃ النساء‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین لاہور ی ﷾ (فاضل جامعۃ الدعوۃ الاسلامیۃ،مرید کے ،سابق ریسرچ سکالرمجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور) کی تصنیف ہے یہ کتاب ان کی اصلاحِ خاندان سیریز میں شامل ہے ۔ خواتین کے احکام ومسائل اور ان کی دینی واخلاقی تربیت پر ایک جامع کتاب ہے تاکہ اس کے مطالعہ سے ایک عورت پہلے اپنی اصلاح کرے اور پھر اپنے خاندان کے دیگر افراد کی اصلاح کےلی کمر بستہ ہوجائے ۔اللہ تعالی ٰ اس کتاب کو خواتین اسلام کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
جہیز کی تباہ کاریاں
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
جہیز بنیادی طور پر ایک معاشرتی رسم ہے جو ہندوؤں کے ہاں پیدا ہوئی اور ان سے مسلمانوں میں آئی۔ خود ان کے ہاں اس کے خلاف مزاحمت پائی جاتی ہے۔اسلام نے نہ تو جہیز کا حکم دیا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا کیونکہ عرب میں اس کا رواج نہ تھا۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کا سابقہ اس رسم سے پڑا تو اس کے معاشرتی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے علماء نے اس کے جواز یا عدم جواز کی بات کی۔ہمارے ہاں جہیز کا جو تصور موجود ہے، وہ واقعتاً ایک معاشرتی لعنت ہے کیونکہ اس کی وجہ سے بہت سی لڑکیوں اور ان کے اہل خانہ پر ظلم ہوتا ہے۔اگر کوئی باپ، شادی کے موقع پر اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے، تو یہ اس کی مرضی ہے اور یہ امر جائز ہے۔ تاہم لڑکے والوں کو مطالبے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔سیدہ فاطمہ ؓ کو جو جہیز دیا گیا، وہ اس وجہ سے تھا کہ سیدنا علی نبی کریم ﷺ کے زیر پرورش تھے۔ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے اپنے بیٹے اور بیٹی کو کچھ سامان دیا تھا کیونکہ یہ دونوں ہی آپ کے زیر کفالت تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے دیگر دامادوں سیدنا ابو العاص اور عثمان ؓ کے ساتھ شادیاں کرتے وقت اپنی بیٹیوں کو جہیز نہیں دیا ت...
اصلاح عقائد (مبشر لاہوری)
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
اللہ رب العزت نے جب سے حضرت انسان کی تخلیق کی ،اسی دن سے انسان پر اپنی رحمت اور عنایت کا باب کھول دیا تھا مگریہ انسان اپنےرب کی تمام تر نعمتوں کو بھلا کراس آیت کا مصداق بناہوا ہے،جسے قرآن یوں بیان کرتا ہے ،إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ(القرآن)اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی ان نعمتوں کی یاد دہانی مختلف انداز میں کرائی ہے تاکہ لوگ اللہ کے شکر گزار اور عبادت گزار بن سکیں اور ان ہی نعمتوں میں سے دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے احسان جتاتے ہو یاد دہانی کرائی۔ان میں سے ایک ایمان کی نعمت ہے اور دوسری نبی کےیمﷺ کی رسالت ونبوت کی نعمت ہے۔ایمان کی نعمت کو اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر اپنا احسان قرار دیاجب کچھ نئے نئے اسلام قبول کرنے والوں نے نبی کریم ﷺ کے پاس آکر آپ ﷺپر احسان جتاتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کا دین قبول کرلیا ہے،تواللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرز عمل پر یہ آیت نازل فرمادی’’قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا‘‘اور اسی سورت کے آخر میں اس بات کی طرف متوجہ کیاگیا کہ تمہارا ایمان کو قبول کرنا یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ تم کو ایمان جیسی نعمت سے بہرا مند فرمایا،زیر تبصرہ کتاب ’’اصلاح عقائد‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین لاہوری کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اصلاح عقائد اور ایمانیات کے متعلق مفصل انداز میں قرآن وسنت سے دلائل کو اخذ کیاہے،اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ فاضل مصنف کو اس کار خیر پر اجرے عظیم سے نوازے۔ آمین (شعیب خان)
انسان اور کالے پیلے علوم
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
اس بات میں کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ"غیب" کا علم صرف اور صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہ حقیقت قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر دو ٹوک بیان کر دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ابہام باقی نہ رہے ارشاد باری تعالیٰ ہے:"قل لا یعلم من فی السمٰوات والارض الغیب الاّ اللہ"(النمل) ترجمہ۔"اے نبیؐ کہہ دیجیے! کہ جو مخلوق آسمانوں اور زمین میں ہے، ان میں سے کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا، سوائے اللہ تعالیٰ کے"۔ مگر اس کے باوجود بھی انسان کو یہ تجسس ضرور رہتا ہے کہ وہ ان غیبی امور کے بارے میں کسی نہ کسی طرح رسائی حاصل کر لے۔ اور آج بھی بے شمار لوگوں میں غیب دانی اور مستقبل بینی کے حوالے سےمختلف رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ہر اہم کام کا آغاز کرنے کے لیے مثلاً" پسند کی شادی، کاروبار کا افتتاح وغیرہ کرنے کے بارے میں یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ فائدہ ہو گا یا نقصان؟ اسی طرح قسمت شناسی کا تجسس بھی ہوتا ہے کہ قسمت اچھی ہو گی یا بری۔۔؟ مالدار بنوں گا یا نہیں ۔۔؟ میرے گھر بیٹا ہو گا یا بیٹی۔۔؟ اور اسی طرح تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کاہن، نجومی، عامل، جادوگر اور دست شناس بھی ہمارے معاشرے میں پائے جاتے ہیں۔ یہ عامل اپنے آپ کو"غیب دان " اور "دست شناس" ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہی۔ ان عاملوں بے باقاعدہ اپنا کاروبار بنا رکھا ہے اور جاہل عوام کو لوٹنے کے مختلف حربے بنا رکھے ہیں۔ زیر نظر کتاب"انسان اور کالے پیلے علوم" فاضل مؤلف حافظ مبشر حسین کی ایک تجزیاتی تصنیف ہے۔ جس میں راقم نے ان نام نہاد عاملوں، نجومیوں، کاہنوں اور جادوگروں وغیرہ کا قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل دیانت داری کے ساتھ تجزیہ کیا ہے اور ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں پردہ اٹھانے کی پورے خلوص کے ساتھ کوشش کی ہے۔ اللہ تعالیٰ راقم کی کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازے اور اہل اسلام کو ان نجومیوں سے دور رکھے۔ آمین(عمیر)
انسان اور آخرت
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
اس بات سےآج تک کوئی انکار نہیں کرسکا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے جسے زندگی ملی اسے موت بھی دوچار ہوناپڑا، جو آج زندہ ہےکل کو اسے مرنا ہے،موت ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہر شخص یہ یقین رکھتا ہے کہ اس سےدوچار ہونا اوراس کا تلخ جام پینا ضروری ہے یہ یقین ہر قسم کےکھٹکے وشبہے سے بالا تر ہے کیونکہ جب سے دنیا قائم ہے کسی نفس وجان نے موت سے چھٹکارا نہیں پایا ہے۔کسی بھی جاندار کے جسم سے روح نکلنے اور جداہونے کا نام موت ہے۔ہر انسان خواہ کسی مذہب سے وابستہ ہو یا نہ ہو اللہ یا غیر اللہ کو معبود مانتا ہو یا نہ مانتا ہو اس حقیقت کو ضرور تسلیم کرتا ہےکہ اس کی دنیا وی زندگی عارضی وفانی ہےایک روز سب کو کچھ چھوڑ کر اس کو موت کا تلخ جام پینا ہے گویا موت زندگی کی ایسی ریٹائرمنٹ ہےجس کےلیے کسی عمر کی قید نہیں ہے اور اس کےلیے ماہ وسال کی جو مدت مقرر ہے وہ غیر معلوم ہے۔ہر فوت ہونے والے انسان خواہ وہ مومن ہے یا کافر کو موت کے بعد دنیا وی زندگی کی جزا وسزا کے مرحلے گزرنا پڑتا ہے۔یعنی ہر فوت ہونے والے کے اس کی زندگی میں اچھے یا برے اعمال کے مطابق کی اس کی جزا وسزا کا معاملہ کیا جاتا ہے۔ موت کے وقت ایمان پر ثابت قدمی ہی ایک مومن بندے کی کامیابی ہے ۔ لیکن اس وقت موحد ومومن بندہ کے خلاف انسان کا ازلی دشمن شیطان اسے راہ راست سے ہٹانے اسلام سے برگشتہ اور عقیدہ توحید سے اس کے دامن کوخالی کرنے کےلیے حملہ آور ہوتاہے اور مختلف فریبانہ انداز میں دھوکے دیتاہے ۔ ایسےموقع پر صرف وہ انسان اسکے وار سےبچ سکتے ہیں اور موت کےبعد پیش آنے والے مراحل میں کامیاب ہوسکتے ہیں جنہوں نےاپنی آخرت کی بہتری کےلیےدینوی زندگی میں مناسب تیاری کی ہو۔ زیر تبصرہ کتا ب’’انسان اور آخرت‘‘ڈاکٹر حافظ مبشر حسین ﷾ریسر سکالر ادارہ تحقیقات اسلامی ولیکچرراسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد کے کتاب سلسلہ’’ اصلاح عقائد کا آٹھواں حصہ ہے۔انہوں نےاس کتاب میں موت او رموت کے ساتھ شروع ہوجانے والے جملہ اُخروی مراحل کو قرآن وسنت کی روشنی میں نہایت سادہ اور عام فہم زبان میں اختصار اور جامعیت کےساتھ پیش کیا ہے۔ تاکہ اردو زبان پڑھنے اور سمجھنے والے ایک عام آدمی کوبھی ایمانیات کےاس رکن عظیم سے ممکنہ حد تک واقفیت ہوسکے اور اس کی روشنی میں وہ اپنی آخرت کی بہتری کےلیے دنیوی زندگی میں مناسب تیاری کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی تمام تحریری وتقریری کاوشوں کو قبول فرمائے اور اس کتاب کولوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)
انسان اور فرشتے ( جدید ایڈیشن )
Authors: حافظ مبشر حسین لاہوری
ایمانیات میں سے ایک اہم عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کےفرشتوں کو تسلیم کیا جائے۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہیں اور عام انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے۔۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں۔ بعض کم فہم لوگ فرشتوں کے خارجی وجود کا انکار کرتے ہیں اور ان قرآنی آیات کی تلاوت جن میں فرشتوں کا ذکر ہے مجرد قوتوں کے طور پر کرتے ہیں۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسے تصورات گمراہی پر مبنی ہیں۔ ملائکہ احکامِ الٰہی کی تعمیل کرنے والی معزز مخلوق ہے۔ ان کے وجود اور ان سے متعلقہ تفصیلات کو ماننا ایمان بالملائکہ کہلاتا ہے۔ فرشتوں کی کوئی خاص صورت نہیں، صورت اور بدن ان کے حق میں ایسا ہے کہ جیسے انسانوں کیلئے ان کا لباس، اللہ تعالیٰ نے انھیں یہ طاقت دی ہے کہ جو شکل چاہیں اختیار کر لیں۔ ہاں قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے بازو ہیں، اس پر ہمیں ایمان رکھنا چاہیےکیونکہ فرشتوں پر ایمان رکھنا ایمان کا حصہ ہے یعنی ارکان ایمان میں سے ہے ۔ زیر تبصرہ کتا ب’’ انسان اور فرشتے‘‘ ڈاکٹر حافظ مبشرحسین ﷾ کی سلسلہ اصلاح عقائد میں سے چوتھی کتاب ہے ۔اس میں انہوں نے یہ بتایا ہےکہ انسانوں اور فرشتوں کےتعلق کی نوعیت کیا ہے ؟ فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب کیا ہے ؟ مشہور فرشتے کون سے ہیں ؟ فرشتوں کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟ فرشتے انسانوں کےحق میں دعائیں کب کرتے ہیں ؟ کن بدبختوں پر فرشتے بددعائیں کرتے ہیں ؟فرشتےکن انسانوں کی مدد کے لیے اترتے ہیں ؟او ر وہ کب اور کیسے مدد کرتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ اس کتاب میں منکرین ملائکہ کےشبہات واعتراضات کا بھی کافی شافی جواب دیا گیا ہے ۔اللہ اس کتاب کو عامۃ الناس کےعقائد کی اصلاح ذریعہ بنائے ۔(آمین) (م۔ا)