Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
ششماہی رشد ، جلد نمبر 10 ، شمارہ نمبر 1 ، جنوری 2014ء

Authors: لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مجلہ ’رشد‘ کا اجراء 1990ء میں جامعہ لاہور الاسلامیہ کے طلباء کے ترجمان کے طور پر ہوا۔ درمیان میں کچھ عرصہ یہ مجلہ نامساعد حالات کی بنا پرجاری نہ ہو سکا لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس مجلے کو علمی حلقوں آج بھی ایک اعلیٰ تحقیقی مجلے کا مقام حاصل ہے اور ماضی قریب میں یہ بین الاقوامی سطح کے اعلیٰ معیار کے حامل تحقیقی مجلہ کے طور پر شائع ہوتا رہا ہے۔ حال ہی میں ’حرمت رسولﷺ نمبر‘ کے بعد ’علم قراءات ‘ کے خصوصی موضوع پر جو تین جلدیں شائع ہوئی ہیں وہ تقریباً 3000 صفحات پر مشتمل ہیں۔ اب اس خصوصی نمبر کی کتابی شکل میں اشاعت ان شاء اللہ آٹھ جلدوں میں ہو گی۔ اور پورے وثوق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس اہم موضوع پر ہندوستان کی گذشتہ تین صد سالہ تاریخ میں اتنا جامع اور معیاری تحقیقی کام ایسی صورت میں موجود نہیں ہے۔ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے سرپرست اعلی کی یہ خواہش ہے کہ مجلہ ’رشد‘ کا اجراء جامعہ لاہور العالمیہ کے شعبہ ’لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز‘کے ایک ایسے ترجمان کے طور پر کیا جائے کہ جس کا معیار ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (HEC) کے اعلیٰ کیٹگری کے تحقیقی مجلات کے مطابق ہو۔ جنوری 2014ء سے اس مجلے کا اجراء ایک ایسے ششماہی تحقیقی مجلے کے طور پر کیا جا رہا ہے جو ایچ۔ ای۔سی (HEC) کے تحقیقی معیار کو پورا کرنے کے ساتھ مسلم معاشروں کے تقاضوں اور مسائل کے مطابق بحث وتحقیق پیش کرتے ہوئے امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے۔ اس سلسلہ میں علماء، محققین اور اسکالرز حضرات سے ششماہی رشد میں اشاعت کے لیے اپنے تحقیقی اور علمی مقالہ جات بھیجنے کی درخواست ہے۔( ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)

ششماہی رشد ، جلد نمبر 10 ، شمارہ نمبر 2 ، جولائی 2014ء

Authors: لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

In History

By Al Noor Softs

HEC کے معیار تحقیق کو ملحوظ رکھتے ہوئے رشد کا دوسرا شمارہ تیار کیا گیا ہے جو اس وقت آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں فقہ اسلامی کی قانون سازی کے بارے معاصر علماء اور فقہاء کی آراء کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ اسلامائزیشن آف لاز قومی اور ریاستی سطح پر ایک بہت ہی بنیادی مسئلہ شمار ہوتا ہے کہ جس کے حق اور خلاف میں عالم عرب میں خاص طور بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امام بخاری ﷫ کے لفظ ’دلالت‘ کے بارے افکار پر ایک تفصیلی مضمون موجود ہے کہ جس میں الجامع الصحیح کی روشنی میں امام بخاری﷫ کے اصول استدلال اور طرق استنباط کی طرف رہنمائی کی گئی ہے۔ امام بخاری﷫ کا تفقہ تو بہت معروف ہے لیکن ان کے اصول استدلال پر بہت کم بحث دیکھنے کو ملتی ہے لہٰذا یہ مقالہ اس ضرورت کو کسی حد تک پورا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں قرآن مجید میں خواتین کے مسائل کے بارے تحریک حقوق نسواں کے نمائند گان کیا کہتے ہیں اور ایسی آیات کی تفسیر کا ان کے ہاں کیا تاویلی طریقہ کار مقرر ہے، اس پر بھی ایک علمی و تحقیقی مضمون شائع کیا جا رہا ہے کہ جس میں اس طبقے کی تفسیر قرآن کے جدید اسالیب کا عقل ومنطق کی روشنی میں جائزہ لیا گیا ہے۔ معروف مستشرق جان اسپوزیٹو کی مسلم فیملی لاء کے بارے ایک کتاب کا تنقیدی تجزیہ بھی انگریزی سیکشن میں شامل اشاعت ہے جبکہ اولاد کے معاشی اور معاشرتی حقوق کے بارے بھی ایک مضمون شامل کیا گیا ہے کہ جس میں اس بارے ہماری بعض سماجی اور خاندانی الجھنوں کے بارے رہنمائی موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مصنفین کی اس علمی کاوش کو شرف قبولیت عطا فرمائے جبکہ جملہ محققین اور اہل علم سے درخواست ہے کہ وہ مجلہ کے لیے اپنی قیمتی تحریر بھیجیں۔ جزاکم الله خیرا (ڈاکٹر حافظ محمد زبیر) رشد

ناشر : لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

Authors: لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

In Arguments

By Al Noor Softs

محترم قارئین کرام! اس وقت رشد کا تیسرا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’غیر سودی بینکاری: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘کے عنوان سے ہے کہ جسے راقم نے مرتب کیا ہے۔ اسلامک بینکنگ یا غیر سودی بینکاری عصر حاضرکے اہم ترین موضوعات میں سے ایک ہے۔ اس وقت پاکستان میں غیر سودی بینکاری کے حوالے سے تین حلقے پائے جاتے ہیں۔ ایک حلقہ تو ان اہل علم کا ہے جو غیر سودی بینکاری کو جائز قرار دیتے ہیں اور دوسرا حلقہ ان علماء کا ہےجو غیر سودی بینکاری کو حرام کہتے ہیں۔ اب جو غیر سودی بینکاری کو حرام بتلاتے ہیں، ان میں بھی دو گروہ ہیں۔ ایک طبقے کا کہنا یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری اپنے طریقہ کار میں غلط ہے، اگر اس کا طریقہ کار درست کر لیا جائے تو یہ جائز ہو جائے گی جبکہ دوسرے طبقے کا کہنا یہ ہے کہ غیر سودی بینکاری کسی صورت ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ بینک کا ادارہ تجارت اور بزنس کے مقصد سے بنایا ہی نہیں گیا بلکہ بینک کا اصل کام تمویل اور فنانسنگ ہے۔ پس اسلامی تجارت کے باب میں بینک سے کسی قسم کی خیر کی امید رکھنا عبث اور بے کار ہے۔ اس مقالہ میں تینوں قسم کے گروہوں کے موقف کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ شمارے میں دوسرے مقالے کا موضوع ’’استدراکات صحابہ کی نوعیت اور تحقیقی مطالعہ‘‘ ہے۔ احادیث رسول ﷺ کی فنی تحقیق میں روایت کے علاوہ ایک اور اصطلاح درایت بھی استعمال ہوتی ہے۔ محدثین کے نزدیک درایت کا معنی حدیث کی صحت کو اس کی سند اور راویوں کی عدالت کے علاوہ اس کے متن میں موجود علل اور شذوذ کے اعتبار سے بھی پرکھنا ہے۔ یہ درایت کا روایتی تصور ہے جبکہ درایت کا جدید تصور یہ ہے کہ جو حدیث آپ کو قرآن مجید اور عقل عام کے خلاف معلوم ہو تو اس کو مردود قرار دے دیں۔ اور قرآن مجید سے مراد ناقد کا اپنا فہم قرآن جبکہ عقل عام سے مراد ناقد کی اپنی عقل ہوتی ہے۔ درایت کے اس جدید تصور کو برصغیر پاک وہند میں مولانا تقی امینی ﷫اور عرب دنیا میں شیخ محمد الغزالی﷫ نے پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں مقالہ نگار نے مولانا تقی امینی ﷫ کے تصور درایت کا تحقیقی اور تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے۔ تیسرے مقالے کا موضوع ’’تفسیر قرآن بذریعہ نظم قرآن اور مولانا فراہی کے تفسیری تفردات‘‘ ہے۔ مولانا فراہی نے برصغیر پاک وہند میں قرآن فہمی کے ایک مستقل مکتبہ فکر کی بنیاد رکھی کہ جس کا اصل الاصول نظم قرآن ہے۔ مولانا فراہی قرآن مجید کی تفسیر وتوضیح میں نظم قرآن مجید کو روایات اور احادیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ اس مقالہ میں مولانا فراہی کے چند ایک ایسے تفسیری تفردات پر بحث کی گئی ہے کہ جن میں انہوں نے روایت کو ترک کیا ہے اور اپنے فہم سے حاصل شدہ نظم قرآن کو بنیاد بنا کر ایک نئی تفسیر پیش کی ہے کہ جس تفسیری رائے کا اظہار ان سے پہلے کسی مفسر نے نہیں کیا ہے۔ مقالہ میں جمہور مفسرین کے روایتی مکتبہ تفسیر اور مولانا فراہی کی تفسیر کے منتخبات کا تقابلی مطالعہ بھی پیش کیا گیا ہے اور راجح تفسیر کی طرف رہنمائی بھی کی گئی ہے۔ چوتھا مقالہ ’’السنۃ بین اہل الفقہ واہل الحدیث: شیخ محمد الغزالی﷫ کی تصنیف کا تنقیدی جائزہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ شیخ محمد الغزالی﷫ ایک مصری عالم دین ہیں کہ جنہوں نے اپنی کتاب ’’السنۃ بین اہل الفقہ واہل الحدیث‘‘ میں محدثین کے تحقیق حدیث کے معیارات پر کڑی تنقید کی ہے۔ ان کے جواب میں عالم عرب میں محدثین کے تحقیق حدیث کے معیارات کے دفاع میں کئی ایک کتابیں تصنیف کی گئی ہیں۔ اس مقالے میں شیخ محمد الغزالی﷫ اور ان کے ناقدین میں سے شیخ فہد بن سلمان العودۃ، شیخ صالح بن عبد العزیز آل الشیخ اور شیخ ربیع بن ھادی المدخلی کی تحریروں کا تقابلی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ شیخ محمد الغزالی﷫ کی محدثین کے معیار تحقیق پر کی گئی تنقید متوازن نہیں ہے۔ ( ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)

ششماہی رشد ، جلد نمبر 11 ، شمارہ نمبر 4 ، جولائی 2015ء

Authors: لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

In Faith and belief

By Al Noor Softs

محترم قارئین کرام!اس وقت رُشد کا چوتھا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ عصر حاضر میں علمی حلقوں میں اجتماعی اجتہاد کا کافی چرچا ہے اور راقم نے اس موضوع پر اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ بعنوان ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد: ایک تجزیاتی مطالعہ‘‘ پنجاب یونیورسٹی سے 2012ء میں مکمل کیا تھا۔ عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے مناہج اور اسالیب کیا ہوں گے؟ اس بارے اہل علم میں کافی ابحاث موجود ہیں۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اجتماعی اجتہاد، پارلیمنٹ کے ذریعے ہونا چاہیے تو بعض علماء کی رائے ہے کہ اجتماعی اجتہاد کا بہترین طریق کار شورائی اجتہاد ہے کہ جس میں علماء کی باہمی مشاورت کے نتیجے میں ایک علمی رائے کا اظہار کیا جائے۔ اس مقالے میں اجتماعی اجتہاد بذریعہ پارلیمنٹ کے نقطہ نظر کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا گیا ہے کہ یہ نقطہ نظر کس حد تک کارآمد اور مفید ہے۔ دوسرا مقالہ ’’علم حدیث اور علم فقہ کا باہمی تعلق اور تقابل‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہمارے علم میں ہے کہ علم حدیث اور علم فقہ دو مستقل علوم شمار ہوتے ہیں اور دونوں کی اپنی کتابیں، مصادر، موضوعات، مصطلحات، اصول، مقاصد، ماہرین فن، طبقات اور رجال کار ہیں۔ اس مقالہ میں بتلایا گیا ہے کہ علم حدیث کا مقصد روایت کی تحقیق ہے اور یہ محدثین کا میدان ہے اور علم فقہ کا مقصد روایت کا فہم ہے اور یہ فقہاء کا میدان ہے۔ روایت کی تحقیق میں اہل فن یعنی محدثین پر اعتماد کرنا چاہیے اور روایت کے فہم میں اہل فن یعنی فقہاء پر اعتماد کرنا چاہیے اور یہی اعتدال کا راستہ ہے۔ جس طرح کسی محدث کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ فقیہ نہیں ہے، اسی طرح کسی فقیہ کے لیے یہ طعن نہیں ہے کہ وہ محدث نہیں ہے۔ محدثین کسی روایت کے قطعی الثبوت یا ظنی الثبوت ہونے سے بحث کرتے ہیں اور فقہاء کسی روایت کے قطعی الدلالۃ یا ظنی الدلالۃ ہونے کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ تیسرا مقالہ ’’تحقیق حدیث میں عقلی درایتی اصولوں کا قیام: محدثین کی نظر میں‘‘ کے عنوان سے ہے۔ حدیث کی تحقیق میں روایت اور درایت دو اہم اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ روایت کا تعلق سند اور درایت کا متن سے ہے۔ محدثین عظام نے حدیث کی تحقیق روایتاً اور درایتاً دونوں طرح سے کی ہے اگرچہ بعض معاصر اسکالرز کا یہ دعوی ہے کہ حدیث کی تحقیق روایتاً تو ہوئی ہے لیکن درایتاً نہیں ہوئی جبکہ مقالہ نگار کے نزدیک یہ دعویٰ درست نہیں ہے۔ مقالہ نگار کا کہنا ہے کہ بعض معاصر اسکالرز حدیث کی تحقیق کے لیے جن درایتی اصولوں کو پیش کرتے ہیں وہ محدثین کے درایتی اصول نہیں ہیں۔ محدثین کے نزدیک حدیث کے مردود ہونے کہ وجوہات وہی ہیں، جنہیں اصول حدیث کی کتابوں میں بیان کر دیا گیا ہے لیکن کسی حدیث کا خلاف قرآن یا خلاف عقل ہونا اس کے مردود ہونے کی وجہ تو نہیں البتہ علامات و قرائن میں سے ضرور ہے۔ پس ایسی احادیث جو کہ حدیث کی اُمہات الکتب میں نہ ہوں، اور وہ خلافِ قرآن ہوں یا خلافِ عقل ہوں تو وہ مردود ہوں گی لیکن ان کے مردود ہونے کہ وجہ ان کی سند کا مردود ہونا ہی ہوتا ہے کیونکہ ایسی کوئی روایت صحیح سند سے ثابت ہی نہیں ہوتی۔ مقالہ نگار کا کہنا یہ ہے کہ معاصر درایتی فکر میں صحیح سند سے ثابت شدہ روایات یہاں تک کہ صحیحین کی روایات تک خلاف قرآن اور خلاف عقل ہونے کی وجہ سے مردود قرار پاتی ہیں لیکن ان کے خلاف قرآن ہونے سے مراد، روایت کا اسکالر کے فہم قرآن کے خلاف ہونا ہوتا ہے اور ان کے خلاف عقل سے مراد، تمام انسانوں کی عقل نہیں بلکہ اسکالر کی اپنی عقل کے خلاف ہونا ہوتا ہے لہٰذا اَمر واقعی یہی ہے کہ کوئی بھی ایسی حدیث کہ جسے محدثین نے صحیح قرار دیا ہو، کبھی بھی قرآن مجید یا عقل کے خلاف نہیں ہوتی ہے البتہ بعض ناقدین کو وہ خلاف قرآن یا خلاف عقل محسوس ہو سکتی ہے۔ چوتھا مقالہ ’’فقہاء اور ائمہ محدثین کا تصور اجماع: ایک تقابلی مطالعہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ متقدمین اہل علم کے نزدیک الفاظ کی نسبت تصورات اور معانی کی زیادہ اہمیت تھی لہٰذا وہ کسی بھی تصور دین کی وضاحت میں اس کے لغوی معنی میں، عرفی معنی کو شامل کر کے اس کی وضاحت کر دیتے تھے لیکن متاخرین کا منہج یہ ہے کہ وہ منطق کے استعمال کے زیر اثر ہر مصطلح کی فنی تعریف کو جامع ومانع بنانے کے لیے شروط وقیود کے بیان میں پڑ جاتے ہیں اور پھر اس مصطلح کی درجن بھر تعریفات تیار کر کے ان میں سے ہر ایک پر اعتراضات کی ایک لمبی چوڑی فہرست بھی قائم کر دیتے ہیں۔ امام مالک ﷫ کا اجماع کا تصور یہ ہے کہ صحابہ کے زمانے سے اہل مدینہ کا جو عرف منقول چلا آ رہا ہے، وہ روایت ہونے کی وجہ سے حجت ہے جبکہ اہل مدینہ کے اجتہاد واستنباط کو امام مالک ﷫ اجماع کا درجہ نہیں دیتے ہیں۔ امام شافعی ﷫ کا کہنا یہ ہے کہ اجماع ضروریات دین میں ہوتا ہے نہ کہ فروعات میں۔ اور امام صاحب کے نزدیک اجماعی مسائل سے مراد وہ مسائل ہیں کہ جن میں کسی عالم دین کا اختلاف کرنا ممکن نہ ہو جیسا کہ پانچ وقت کی نمازیں اور رمضان کے روزے وغیرہ۔ امام احمد بن حنبل اور امام بخاری ﷭ کے نزدیک اجماع سے مراد اہل حق علماء کی جماعت کی معروف رائے ہے۔ اور ایک رائے یہ بھی ہے کہ امام بخاری ﷫ کے نزدیک اجماع سے مراد منہج استدلال اور طریق استنباط میں اہل حق علماء کی عرفی رائے ہے۔ پانچواں مقالہ امریکی سیاہ فام مصنفہ اور سماجی کارکن بیل ہکس کی معروف کتاب ’’Feminism is for Everybody: Passionate Politics‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ ہے۔ ہکس کی مذکورہ کتاب بنیادی طور پر ان مشکلات کے بیان پر مبنی ہے جن کا سامنا تحریک برائے حقوقِ نسواں، اس سے وابستہ خواتین، اور خصوصاً سیاہ فام خواتین کو کرنا پڑا۔ ہکس کی کتاب اپنے موضوع پر صف اول کی بہترین کتب میں شمار ہوتی ہے اور تحریک نسواں کے بنیادی خدوخال جاننے کے لیے ایک مصدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب پر تبصرہ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تحریک نسواں کی تحریک کا آغاز تو عورتوں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے ہوا تھا لیکن اب وہ مردوں سے نفرت کے اظہار کی ایک تحریک بن چکی ہے جو کہ ایک طرح کی انتہا پسندی ہی ہے۔(ڈاکٹر حافظ محمد زبیر)

ششماہی رشد ، جلد نمبر 12 ، شمارہ نمبر5 ، جنوری 2016ء

Authors: لاہور انسٹی ٹیوٹ فار سوشل سائنسز، لاہور

In Knowledge

By Al Noor Softs

اس وقت رشد کا پانچواں شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ اس شمارے میں پہلا مضمون ’’عصر حاضر میں اجتماعی اجتہاد کے محرکات‘‘ ہے۔سترہویں صدی ہجری کے صنعتی انقلاب اور بیسویں صدی ہجری کی معاشی، معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں اور ٹیکنالوجی کی ترقی نے جہاں سارے عالم کو متاثر کیا، وہاں مذہب کی دنیا میں بھی ان گنت سوال پیدا کر دیے ہیں۔ مثلاً صنعتی ترقی اور معاشی تبدیلیوں کی وجہ سے کاروبار کی ہزاروں ایسی نئی شکلیں متعارف ہوئیں ہے کہ جن کی شرعی حیثیت معلوم کرنا وقت کا ایک اہم تقاضا تھا۔ سیاسی انقلاب نے جمہوریت، انتخابات، پارلیمنٹ، آئین اور قانون جیسے نئے تصورات سے دنیا کو آگاہی بخشی۔ معاشرتی تبدیلیوں سے مرد وزن کے باہمی اختلاط اور باہمی تعلق کی حدود ودائرہ کار جیسے مسائل پیدا ہوئے۔ میڈیکل سائنس اور ٹیکنالوجی نے ایجادات کی دنیا میں ایک انقلاب برپا کر دیا کہ جس سے کئی ایک ایجادات کے بارے شرعی حکم جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ پس بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں اجتہاد کی تحریکیں برپا ہوئیں۔ تہذیب وتمدن کے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مسائل میں علماء نے رہنمائی کی، فتاویٰ کی ہزاروں جلدیں مرتب ہوئیں۔ اور اجتہاد کے عمل کو منظم انداز میں وقت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھانے کے لیے اجتماعی اجتہاد کے ادارے وجود میں آنے لگے۔ اس مقالے میں بیسویں صدی عیسوی کی اجتماعی اجتہاد کی اس تحریک کے پس پردہ محرکات اور اسباب کا ایک جائزہ پیش کیاگیا ہے۔ دوسرے مقالے کا عنوان ’’ جدید تصور درایت اور جدت پسند مفکرین کے درایتی اصول ‘‘ہے۔مغربی فکر وفلسفہ کے غلبے اور تسلط کے سبب سے برصغیر پاک وہند کے بعض معاصر مسلمان اسکالرز میں دین اسلام کے مصادر کو ریوائز کرنے کا جذبہ پیدا ہوا کہ ان کے خیال میں مغرب کے دین اسلام پر اعتراضات کی ایک بڑی تعداد احادیث پر اعتراضات کے ضمن میں شامل تھی۔ پس ’’درایت‘‘ کے نام سے احادیث کی جانچ پڑتال اور پرکھ کے نئے اصول متعارف کروائے گئے اور اس تصور درایت کو روایتی مصادر سے جوڑنے کی بھی کوشش کی گئی۔ اس مقالے میں مولانا فراہی﷫ ، مولانا اصلاحی ﷫ اور غامدی صاحب کے تصور درایت کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ محدثین کے تصور درایت اور جدید مفکرین کے تصور درایت میں نمایاں فرق موجود ہیں اور جدید تصور درایت کے نقلی وعقلی دلائل، نقل صریح اور عقل صحیح کے مخالف ہیں۔ تیسرے مقالے کا موضوع ’’ حقوق نسواں اور مسلم ممالک کی کشمکش: مسلم ممالک میں سماجی اور فکری تبدیلی ‘‘ ہے۔ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں مسلم دنیا کے بیشتر علاقوں پر یورپی استعماری طاقتوں کے قبضے کے زیر اثر حقوق نسواں کی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان تحریکوں نے مشرق وسطیٰ، مشرق بعید اور جنوبی ایشیاء کے مسلم ممالک میں عورتوں کی آزادی، عورتوں کی مخلوط تعلیم، مرد وزن کے اختلاط، مساوات مرد وزن، ستر وحجاب کی مخالفت، کثرت ازواج کی مخالفت، سیاست، روزگار، وراثت، گواہی، دیت اور کھیل وغیرہ میں مردوں کے برابر عورتوں کے حصے کے لیے نہ صرف آواز بلند کی بلکہ اس مقصد کے حصول کے لیے منظم جدوجہد کی بنیاد بھی رکھی۔ اس مقالے میں حقوق نسواں کی تحریکوں کے مسلم دنیا کے مختلف حصوں میں معاشرتی نظام پر مرتب ہونے والے گہرے اثرات کا تجزیاتی اور تنقیدی مطالعہ پیش کیا گیا ہے اور یہ جائزہ لیا گیا ہے کہ حقوق نسواں کی ان تحریکوں کی جدوجہد سے مشرقی عورت کو حقیقی طور کوئی فائدہ پہنچا ہے یا حقوق کے نام پر اس پر مزید ذمہ داریاں ڈال کر اسے مزید نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔ چوتھا مقالہ ’’ جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ: مقاصد شریعت کی روشنی میں ‘‘ہے۔جدید سائنس نے جس تیز رفتاری سے ترقی کی ہے تو اس نے تمام شعبہ ہائے زندگی کی طرح مذہب کو بھی متاثر کیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں تحقیق کے سبب سے جو مسائل پیدا ہوئے، ان میں جدید سائنسی طریقہ ہائے تولید اور کلوننگ وغیرہ بھی ہیں۔ اس مقالے میں مصنوعی تخم ریزی (Artificial Insemination )، نلکی بار آوری (Test Tube Fertilization) اور کلوننگ (Cloning )کے ذریعے سے پودوں، جانوروں اور انسانوں میں مصنوعی تولید کے طریقوں اور ان کے شرعی جواز اور عدم جواز کے بارے مقاصد شریعت کی روشنی میں بحث کی گئی ہے۔ پانچواں مقالہ ’’ حدیث مرسل: فقہاء کی نظر میں ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ مرسل اس روایت کو کہتے ہیں کہ جس میں کوئی تابعی کسی صحابی کا واسطہ چھوڑ کر براہ راست رسول اللہ ﷺ سے کوئی بات نقل کر دے۔ عام طور یہ غلط فہمی عام ہے کہ فقہاء حدیث مرسل کو مطلقاً حجت مانتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ صحیح قول یہی ہے کہ فقہاء کے ہاں حدیث مرسل کو قبول کرنے اور اس سے استدلال کرنے میں تفصیل ہے۔ عام طور فقہاء حدیث مرسل کو اس وقت قبول کرتے ہیں جبکہ ارسال کرنے والا راوی ثقہ ہو اور ثقہ ہی سے ارسال کرنے میں معروف ہو۔ البتہ محدثین، مرسل روایت کو ضعیف کی ایک قسم شمار کرتے ہیں اور اس سے حجت نہیں پکڑتے ہیں۔ اس مقالے میں حدیث مرسل کے بارے فقہاء کے نقطہ نظر کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔( ح۔ز۔ت )