Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
اسلامی ریاست اور غیرمسلم شہری

Authors: حافظ محمد سعد اللہ

In Knowledge

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام دینِ امن وسلامتی ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو ، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے ۔ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے ۔ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب ﷺاور عہد خلفاے راشدین میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی. حضور ﷺنے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔جس کی تفصیلات کتب تاریخ وسیر اورکتب فقہ میں موجود ہے ۔ زیر نظرکتاب ’’اسلامی ریاست اور غیرمسلم شہری ‘‘ ڈاکٹر حافظ محمد سعد اللہ(ایڈیٹر شبعہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی ،لاہور ) کے جامعہ پنجاب میں ڈاکٹریٹ کے لیے پیش کے گئے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے فاضل مصنف نے پورے دلائل اور تاریخی شہادتوں اور تقابلی مطالعہ سے اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا کے تمام بینادی حقوق کے بارے میں اسلام کی فراخدلانہ اور منفرد تعلیمات کو یکجا کر کے پیش کیا ہے۔اور اسلام کے عالمی غالبہ کے زمانے میں بعض اوقات اسلامی حکومتوں کی طرف سے غیر مسلم رعایا پر لباس کی ہیئت اور سواری وغیرہ کے معاملے میں جو پاپندیاں لگائی جاتی رہیں صاحب کتاب نے ان کی حقیقت پرروشنی ڈالتے ہوئے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں غیرمسلموں کے حقوق کے حوالے سے مستشرقین کی طرف سے عاید کیے گئے اہم اعتراضات کا مفصل اور مدلل جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیاتی جائزہ بھی لیا ہے ۔یہ کتاب غیر مسلموں کےحقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی بہت اچھی تحقیقی دستاویز ہے جس کی بنیاد اصلی فقہی مآخذ اور بطور خاص برصغیر پاک وہند کے ہم عصر علماء کے جدید افکار ونظریات پررکھی گئی ہے اللہ تعالیٰ صاحب کتاب کی اس اہم تحقیقی کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)

قرآنی عربی پروگرام جلد اول

Authors: محمد مبشر نذیر

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)

قرآن اور بائبل کے دیس میں حصہ اول

Authors: محمد مبشر نذیر

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں ۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔(م۔ا)

تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہئیت و کیفیت

Authors: محفوظ الرحمن فیضی

In Knowledge

By Al Noor Softs

نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ زیر نظر کتاب" تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت " انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین مولانا محفوظ الرحمن فیضی شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض آبادکی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت کو بیان کیا ہے ،تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)

تاریخ مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس)

Authors: محفوظ الرحمن فیضی

In Knowledge

By Al Noor Softs

دینی مدارس کے طلباء، اساتذہ ،علمائے کرام، مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔ صبح و شام کے اوقات میں صحابہ کرام ﷢وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی و بیرونی صحابہ کرام﷢ کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔ اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام، ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی دارالحدیث رحمانیہ، دہلی، جامعہ سلفیہ، بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد، جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور،جامعہ اہل حدیث، لاہور، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ مرکز دار العلوم ‘‘ جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام، احوال خدمات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو شیخ محفوظ الرحمٰن فیضی﷾ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی مرکزی دار العلوم کے قیام کی تجویز اورتعمیر کے معلومات درج ہیں۔ دوسرے حصہ 1963ء میں مرکزی دارالعلوم کے سنگ بنیاد وتاسیس کی پر مسرت کی مختصر روداد اور تیسرا حصہ مارچ 1066ءمیں مرکزی دار العلوم کے تعلیمی افتتاح کی پروقار تقریب کی مختصر تفصیل پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کی ان درس گاہوں کوقائم دائم رکھے۔ (آمین)

شیخ محمد بن عبد الوہاب کے بارے میں دو متضاد نظریے

Authors: محفوظ الرحمن فیضی

In Knowledge

By Al Noor Softs

بارہویں صدی ہجری میں عالم اسلام کا زوال وانحطاط اپنی حدکو پہنچ چکا تھا۔ مسلمان ہراعتبارسے پستی اور تخلف کا شکارتھے۔ سیاسی،ثقافتی،اخلاقی اور علمی انحطاط کے ساتھ ساتھ دینی اعتبارسے بھی یہ سخت زبوں حالی کاشکارتھے۔ دین کی گرفت نہ صرف یہ کہ مسلمانوں پرڈھیلی پڑچکی تھی بلکہ صحیح بات یہ ہے کہ دین ان کی زندگی سے پورے طور پر نکل چکا تھا۔ان پرآشوب حالات میں عالم اسلام خصوصاً جزیرۃ العرب پراللہ کافیضان ہوا، اورشیخ الاسلام امام محمدبن عبدالوہاب تیمی نجدی ﷫نے نجدکی’ عیُیَیْنَہ‘‘نامی بستی میں ایک علمی خانوادہ کے اندر ۱۱۱۵ھ مطابق ۱۷۰۳ء میں آنکھیں کھولیں،اورسن شعورکو پہونچنے کے بعدتحصیل علم میں لگ گئے، اپنے والد شیخ عبدالوہاب سے جونجدکے علماء میں ممتاز تھے کسب فیض کیا اورمزید علم کی تلاش میں حجاز کا رخ کیا اورمدینۃ الرسول پہونچ کر وہاں کے علماء ومشائخ سے حدیث کا درس لیا اورپھر مزید علمی تشنگی بجھانے کے لئے بصرہ کاقصدکیا اور وہاں پہونچ کر حدیث وادب میں مزید مہارت پیداکی، اور اس کے بعدآپ اپنے علاقہ نجدمیں واپس آکر دعوت وتبلیغ میں مصروف ہوگئے۔آپ انتہائی ذکی وفطین، قوی وجری، مخلص وغیور اور دین میں پہاڑ کی طرح سخت اور عقیدہ توحید کے اظہار واعلان میں مومنانہ عزم وبصیرت اور استقامت کے مالک تھے۔ زیر تبصرہ کتاب" شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫ کے بارے میں دو متضاد نظریے "محترم مولانا محفوظ الرحمن فیضی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے امام محمدبن عبد الوھاب شیخ محمد بن عبد الوھاب ﷫ کے بارے میں دو متضاد نظریے کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی ہے اور ان کے بارے میں پائے جانے والے دو متضاد نظریات کا باہمی موازنہ کرتے ہوئے حقیقت حال کو واضح کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

کیا رکوع کے بعد بھی سینے پر ہاتھ باندھنا سنت ہے ؟

Authors: محفوظ الرحمن فیضی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ رکوع کے بعد ہاتھ باندھنے کا ہے۔بعض اہل علم کا خیال ہے کہ رکوع سے پہلے والے قیام کی طرح رکوع کے بعد والے قیام میں بھی ہاتھ باندھے جائیں گے جبکہ بعض کا خیال ہےکہ رکوع کے بعد ہاتھ نہیں باندھے جائیں گے۔ زیر نظر کتاب رسالہ بعنوان’’ کیا رکوع کے بعد بھی سینے پر ہاتھ باندھنا سنت ہے؟‘‘ شیخ محفوظ الرحمٰن فیضی حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ یہ رسالہ انہوں نے ایک استفاء کے جواب میں مرتب کیا ہے ۔موصوف نےاس کتابچہ میں مذکورہ اختلافی مسئلہ میں دلائل سے اس بات کوراجح قراردیا ہے کہ قیام بعد الرکوع یا قومہ کی حالت میں جس کیفیت پر امت کا تعامل وتوارث اور عمل تواتر چلا آرہاہے وہ ارسال یدین ہےنہ کہ وضع یدین ۔(م۔ا)

تصوف دین یا بے دینی

Authors: عبد المعید مدنی

In Knowledge

By Al Noor Softs

تصوف ایک انسانی روحانی تجربہ ہے اسے دین وشریعت کا نام نہیں مل سکتا ہے اور ہر صوفی کاتجربہ دوسرے صوفی سےجدا ہوتا ہے اوراس تجربے میں جس قدر تعمق آتاجاتا ہے گمراہی اسی قدر بڑھتی جاتی ہے اس تجربے کےلیے انسان کو ہر قدم پر شریعت سے دو ر ہٹنا پڑتا ہے اور تجربے میں جس قد ر تعمق ہوگا اس کے بقدر انسان شریعت سےدور ہٹے گا۔ اور یہ تجربہ کسی حدودوقید کا پابند نہیں ہے ۔اس لیے اس میں ارتقاء آتا گیا اورگمراہیاں بڑھتی گئیں اوراس آزادئ فکر پر قدغن نہیں لگایا جاسکتا اگر تصوف کسی پابندی کوبرا داشت کرلے توتصوف تصوف نہ رہ جائے گا تصوف کا مسلک ہی آزادی اور اباحیت ہے۔ زیر تبصرہ کتاب جناب عبد المعیدمدنی ﷾ کے تصوف کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں پیش کیے گئے مقالہ کی کتابی صورت ہے۔ اس میں انہوں نے تصوف کی شرعیت، عملیت، فعالیت اور مضرت پر بات کی ہے اور یہ نتیجہ ظاہر کیا ہے کہ تصوف ہر اعتبار سے دین سے خارج شئی ہے او رگمراہی کا منبع، دنیا میں کوئی نظریہ تصوف سے زیادہ گمراہ کن اور فاسد نہیں ہے او ردین کی قرآن وسنت سے ثابت شدہ باتوں پر تصوف کا عنوان لگانا بہت بڑی جسارت ہےجو معافی کے لائق نہیں ہے۔ (م۔ا)

یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں

Authors: عبد المعید مدنی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

14 مئی 1948ء وہ المناک دن تھا، جس نے مشرقِ وُسطیٰ کو ہلا کر رکھ دیا۔ اُس روز شہر تل ابیب کے ایک عجائب گھر میں ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ محض چند ایک غیر واضح بلیک اینڈ وائٹ تصاویر، ہلتے ہوئے کیمرے سے بنی ایک مختصر سی فلم اور انتہائی خراب کوالٹی کا صوتی ریکارڈ ہی اِس واقعے کے گواہ ہیں۔ ان تصاویر میں یہودیوں کی خود مختار فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ ڈیوڈ بن گوریان کو بھی دیکھا جا سکتا ہے، جن کے پیچھے دیوار پر صیہونیت کے بانی تھیوڈور ہیرسل کی تصویر آویزاں ہے۔ بن گوریان کے بائیں ہاتھ میں وہ دستاویز ہے، جس پر اعلانِ آزادی کی عبارت درج ہے۔ بن گوریان نے کہا تھا: ’’اسرائیل ہی میں یہودی قوم نے جنم لیا تھا اور یہیں اُس کے فکری، مذہبی اور سیاسی وجود کی آبیاری ہوئی۔‘‘ اور یہ کہ طاقت کے زور پر در بدر کی جانے والی یہودی قوم جلا وطنی کے دور میں بھی اپنے آبائی وطن کے ساتھ وفاداری کا دم بھرتی رہی۔ مزید یہ کہ اُس کی اپنے وطن واپسی کی امید ہمیشہ زندہ رہی۔ پھر بن گوریان نے بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اعلان کیا:’’ہم یہاں اسرائیلی سرزمین پر یہودی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ ہے ریاست اسرائیل۔‘‘زیر تبصرہ کتاب" یہودی ریاست اور اس کی تباہ کاریاں " شیخ عبد المعید مدنی صاحب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اسی ناجائز ریاست اور تباہ کاریوں کا تذکرہ کیا ہے۔(راسخ)