Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
دین میں بگاڑ کا سبب غلو
Authors: عبد الغفار حسن
اسلام جہاں غلو اور مبالغے سے منع کرتا ہے وہیں ہر معاملے میں راہ اعتدال اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔اسلام کی شان اور عظمت ہی تو ہے کہ اس نے اپنے ماننے والوں کوہر طرح کی مصیبت اور پریشانی سے نجات دیکر دنیا والوں کے سامنے یہ باور کرایا ہے کہ وہی صرف ایک واحددین ہے جوتمام ادیان میں رفعت وبلندی کا مرکز وماویٰ ہے جہاں اس نے عبادت وریاضت کی طر ف ہماری توجہ مرکوزکی ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اصلاح کی خاطر ہم کو کچھ احکام سے نوازا ہے تاکہ ان احکام کو اپنا کر اللہ کا قرب حاصل کر سکیں ۔دین اسلام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس نے اعتدال،توسط اور میانہ روی کی تلقین کی ہے اور ہمیں امتِ وسط اور میانہ روی اختیار کرنے والی امت بنایا اوراس کو خوب موکد کیا۔اعتدال کواپنانے والوں کو کبھی بھی رسوائی اور پچھتاوے کا منہ نہیں دیکھنا پڑتاہے اسکے برعکس وہ لوگ جو اعتدال اور توسط کی راہ کوچھوڑ کر دوسری راہ کو اپنی حیات کا جزء لاینفک سمجھ بیٹھتے ہیں ایسے لوگ یا تو افراط کاشکار ہو جاتے ہیں یا پھر تفریط کی کھائی میں جا گرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" دین میں بگاڑ کا سبب غلو، دین میں اعتدال کی راہ" فضیلۃ الشیخ عبد الغفار حسن صاحب، سابق پروفیسر مدینہ یونیورسٹی اورمولانا محمد خالد سیف صاحب کےدو مقالات پر مبنی ہے، جس میں سے پہلا مقالہ دین میں بگاڑ کا سبب غلو کے موضوع پر ہے جبکہ دوسرا مقالہ دین میں اعتدال کی راہ کے موضوع پر ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ دونوں مقالہ نگار حضرات کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
مسلم خاتون حقوق ، فرائض اور اوصاف
Authors: عبد الغفار حسن
دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی تعلیمات ہی کا فیضان تھا کہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت مآب مثالی خواتین پیدا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام نے تقسیم کاری کے اصول پر مرد اور عورت کا دائرہ عمل الگ الگ کر دیا ہے ۔عورت کا فرض ہے کہ وہ گھر میں رہتے ہوئے اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ اور مرد کا فرض ہے کہ وہ معاشی ذمہ داریوں کا بار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے اسلامی تعلیمات کا جاننا از بس ضروری ہے ۔اور اس امر میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ مسلم خاتون حقوق ، فرائض اور اوصاف ‘‘مولانا عبد الغفار حسن (1913۔2007ء) کے معیاری خاتون کے عنوان پر ماہنامہ عفت،لاہور کے 1955ء۔1956ء کے شماروں میں بالاقساط شائع ہونے والے مضامین کی کتابی صورت ہے ۔ جس میں مصنف موصوف نے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کے لیے کن صفات کو پسند کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ نے خواتین کے لیے کیا کیا ہدایات دی ہیں اور خود اپنے اور ازواج مطہرات کے اسوہ کی شکل میں کن اخلاقی بلندیوں کی طرف رہنمائی فرمائی ہے ۔ (آمین) (م۔ا)
قرآن فہمی کے بنیادی اصول
Authors: عبد الغفار حسن
قرآن فہمی کے حوالہ سے صحابہ کرام، سلف صالحین اور بعد کے ادوار میں متعدد صورتوں میں کام ہوتا رہا ہے اور اگرچہ فی زمانہ مسلمانوں کی قرآن سے دوری واقع ہوئی ہے لیکن پھر بھی تاحال بے شمار لوگ اور ادارے قرآن فہمی کے لیے کام رہے ہیں۔ زیر مطالعہ کتاب میں قرآن فہمی کے ذیل میں جو اہم مضامین ماہنامہ ’محدث‘ میں شائع ہوئے ہیں ان کو یکجا شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ ان مضامین کی افادیت کا اندازہ اس سے کیجئے کہ یہ رشحات قلم امام ابن تیمیہ، علامہ ناصر الدین البانی، محمد عبدہ الفلاح، مولانا عبدالرحمٰن کیلانی، مولانا عبدالغفار حسن رحمہم اللہ اور مولانا زاہد الراشدی جیسی ہمہ گیر شخصیات کے ہیں۔ پہلے باب میں فہم قرآن کے بنیادی اصولوں پر مضامین جمع کیے گئے ہیں جبکہ دوسرے باب میں فہم قرآن میں حدیث نبوی کے کردار پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرا اور آخری باب قرآن نافہمی کے اسباب پر مشتمل ہے۔ کتاب کے آخر میں لاہورمیں فہم قرآن کے اداروں پتے درج کیے گئے ہیں اور اس موضوع پر دستیاب مضامین اور کتب کی فہرست بھی دی گئی ہے۔ (ع۔م)
حضرت عثمان ؓکے سرکاری خطوط
Authors: خورشید احمد فاروق
خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیما ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیما ن کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عثمان کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں خلیفہ ثالث امیر المومنین سیدناعثمان غنی کی طرف منسوب ستر سے زائد خطوط شامل ہیں۔ فاضل مصنف نے ان خطوط کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں بحوالہ جمع کیا ہے ۔ (م۔ا)
حضرت ابوبکر صدیق ؓکے سرکاری خطوط
Authors: خورشید احمد فاروق
خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت ابوبکر صدیق کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں حضرت ابو بکر صدیقکے 70 خطوط ہیں۔ اولاً ان میں سے پنتالیس خطوط برہان دہلی میں شائع ہوئے بعد ازاں ان میں اضافہ کرکے ان کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا فاضل مصنف نے ان خطوط کی عربی عبارتیں بھی کتاب کے آخر میں درج کردی ہیں۔ ان خطوط کے سلسلہ میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ جو خط جتنا زیادہ مختصر ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کے اصل سے قریب ہونے کا امکان ہے اور جو خط جنتا بڑا اور طویل ہوگا اس میں اضافہ اور راویوں کے تصرف کا اتنا ہی زیادہ احتمال ہے ۔اوران خطوط کی استنادی حیثیت قوی نہیں ہے ۔نیٹ پر ان کو محفوظ کرنے کی خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)
حضرت عمر ؓکے سرکاری خطوط
Authors: خورشید احمد فاروق
خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمرفاروق کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروقکے 454 خطوط ہیں۔ فاضل مصنف نے ان خطوط کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں بحوالہ جمع کیا ہے ۔ سیدنا عمر کے ان خطوط کی ثقاہت جاننے کے لیے فاضل مصنف کا تمہیدی مقدمہ پڑھنا ضروری ہے ۔ جو کتاب کے صفحہ نمبر 42 سے شروع ہوتا ہے ۔ ۔نیٹ پر ان کو محفوظ کرنے کی خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1959ء میں شائع ہوا تھا۔موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن ہے۔اس ایڈیشن میں خطوط اور ان کے مقدموں پر نظر ثانی کی ہے اور ان کو ادبی وتحقیقی اور معنوی اعتبار سے پہلے سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور کچھ مزید خطوط اورسیدنا عمر فاروق کے تعارف کا اضافہ کیا گیا ہے ۔(م۔ا)
برصغیر اور عرب مورخین
Authors: خورشید احمد فاروق
In History
ہندوستانی موضوعات پرلکھنے والے عہد وسطی کے عرب مصنفین ہندوؤں کو علم ودانش سے آراستہ قوم قرارد یتے ہیں۔ ان مصنفین نےہندو زندگی سے متعلق موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔عربوں نےقدیم ہندوستان کے بارے میں کیا اور کتنا لکھا یہ بتانا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ان کی بہت سے اور بالخصوص معرکۃ الآراء کتابیں تنگ ذہن علماء کےتعصب ،بے اعتنائی ، باہمی مسلکی او رمذہبی نزاع اور دوسرے آسمانی حوادث کی نذر ہوگئی ہیں۔ مسلمانوں نےاپنے ابتدائی دور میں سندھ کو ایک نئی تہذیب او ر کلچر سے آشنا کیاتھا ۔ اس کی تفصیل مختلف مؤرخوں کے بیانات سے ملتی ہے۔ جناب خورشید احمد فاروق کی زیر کتاب ’’ برصغیر او رعرب مؤرخین‘‘ مختلف مؤرخوں کےایسے ہی بیانات کا مجموعہ ہے۔ نیزیہ کتا ب محمود غزنوی سے پہلے کے ہندوستان (نویں،دسویں صدی عیسوی) کے مذہب ، تمدن ، علوم ، تاریخ اور تجارت وغیرہ سے متعلق عرب مؤلفوں کے بیانات پر مشتمل ہے۔تاکہ اس سے وہ محققین مستفیض ہوسکیں جو یا تو عربی نہیں جانتے یا پھر جن کےلیے مختلف عربی ماخذات تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل ہے ۔(م۔ا)
مکاتیب ابو الکلام آزاد جلد اول
Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری
خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب ’’مکاتیب ابو الکلام آزاد‘‘ مولانا ابوالکلام آزا دکےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہے۔جسے ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نے مرتب کیا ہے ۔ یہ مجموعہ مولانا ابو الکلام کے کےنادر اور نایاب ،منتشر ، غیر مطبوعہ خطوط پر مشتمل ہے۔ مکتوبات کے اس پہلے مجموعے کا دورانیہ 1900ء تا 1902ء پر محیط ہے ۔ اوریہ زمانہ حضرت مولانا کے علمی اور سیاسی کارناموں کا دورِ اول بھی ہے جس میں ان کی بلند فکری اپنی پوری آب وتاب سےنمایا ں ہوچکی تھی۔ مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے قدم قدم پر ان کی وسعتِ مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے خاص کر ان میں ان کی عادات اور خصائل جاننے کے لیے بہت مواد ہے (م۔ا)
مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت
Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری
مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے ۔مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت‘‘ کراچی میں رہائش پذیر معروف سوانح نگار مولانا ابو سلمان شاہجانپوری﷾ کی تصنیف ہے جو انہوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریب صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر مرتب کر کے شائع کی۔ موصوف نے اس کتاب میں مولانا آزاد کی صحافت کے بارے میں تاریخی اور ضروری معلومات جمع کی ہیں او رمولانا کے کارنامۂ صحافت کے تاریخی سفر کے تعارف اور تبصرے کےساتھ ان کے بعض رسائل کے اشاریے بھی شامل کیے ہیں۔ (م۔ا)