Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
قراۃ حضرت امام عاصم بہ روایت ابوبکر شعبہ بن عیاش
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام عاصم براویت ابو بکر شعبہ بن عیاش " مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے امام عاصم کوفی کے راوی امام ابو بکر شعبہ بن عیاش کی روایت کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
قراۃ حضرت امام حمزہ کوفی بروایتین سیدنا امام خلف و سیدنا امام خلاد
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام حمزہ کوفی بروایتین سیدنا امام خلف وسیدنا امام خلاد " مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے امام حمزہ کوفی کے دونوں راویوں امام خلف اور امام خلادکی روایتوں کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔اس رسالے میں بھی مولف نے پہلے اصول بیان کئے ہیں اور پھر دونوں رواۃ کے فروش کو اکٹھے بیان کرتے ہوئے ہر راوی کے اختلاف کے نیچے اس کا نام لکھ دی اہے۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
قراۃ حضرت امام ابن عامر شامی بروایتین سیدنا امام ہشام و سیدنا امام ابن ذکوان
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
In Knowledge
قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام ابن عامر شامی بروایتین سیدنا امام ہشام وسیدنا امام ابن ذکوان" مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے امام ابن عامر شامی کے دونوں راویوں امام ہشام اور امام ابن ذکوان کی روایتوں کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔مولف نے پہلے دونوں رواۃ کے اصول الگ الگ ذکر کئے ہیں اور اس کے بعد فروش اکٹھے ہی ذکر کر دئیے ہیں،لیکن ہر فرش کے ساتھ اس کے راوی کا نام بھی ذکر کر دیا ہے۔۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
قراۃ حضرت امام ابن کثیر مکی بروایتین سیدنا بزی و قنبل
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
In Knowledge
قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام ابن کثیر مکی بروایتین سیدنا بزی وقنبل " مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے امام ابن کثیر مکی کے دونوں راویوں امام بزی اور امام قنبل کی روایتوں کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔چونکہ امام مکی کے ان دونوں رواۃ کا آپس میں بہت کم اختلاف پایا جاتا ہے اس لئے مولف نے دونوں کو ایک ہی رسالے میں بیان کر دیا ہے اور طریقہ کار یہ اختیار کیا ہے کہ جہاں دونوں راوی متفق ہیں وہاں کسی کانام نہیں لکھا اور جہاں اختلاف ہے وہاں ہر کسی کے اختلاف کے نیچے لائن لگا کر اس راوی کا نام لکھ دیا ہے۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
قراۃ حضرت امام ابن نافع بہ روایت سیدنا قالون
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
قرآن مجید اللہ تعالی کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب سماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالی نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔ہمارے ہاں مجلس التحقیق الاسلامی میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب '' قراءۃ حضرت امام نافع بہ روایت سیدنا قالون " مدرسہ عربی،خیر المدارس ملتان کے استاذ شیخ القراء واستاذ الاساتذہ محترم قاری رحیم بخش بن فتح محمد صاحب پانی پتی کی ایک منفرد اور شاندار تالیف ہے۔جس میں مولف نے امام نافع مدنی کے راوی امام قالون کی روایت کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔قاری رحیم بخش صاحب نے قراءسبعہ میں سے ہر قاری کے دونوں رواۃ کی روایتوں کو الگ الگ رسالے میں قلم بند کیا ہے،اور آپ کے یہ رسالے اتنے محقق اور مستند ہیں کہ راقم نے جمع کتابی کے پروجیکٹ پر کام کرنے کے دوران ان کا متعدد بار مطالعہ کیا مگر ان میں کوئی سہو اور غلطی نظر نہ آئی۔ مولف موصوف علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر متعددعلمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
ھدایات الرحیم فی آیت الکتاب الحکیم
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
In Knowledge
منجملہ علوم قرآنی میں سے ایک علم الفواصل ہے ،جس سے مراد ایک ایسا فن ہے جس میں قرآن مجید کی سورتیں اور ان کی آیتوں کا شمار اور ان کے ابتدائی اور آخری سرے بتائے جاتے ہیں۔علم الفواصل کاموضوع بھی قرآن کی سورتیں اورآیات ہیں، کیونکہ اس علم میں انہی کے حالات سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔علم الفواصل توقیفی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺنے صحابہ کرام ؓ کو رؤوس آیات پر وقف کرتے ہوئے آیات کا علم سکھایا ہے۔ بعض آیات ایسی ہیں جہاں نبی کریمﷺنے ہمیشہ وقف کیا اور وصل نہیں کیا۔ایسی آیات تمام شماروں میں بالاتفاق معدود ہیں۔بعض مقامات ایسے ہیں جہاں نبی کریمﷺنے ہمیشہ وصل کیا اور وقف نہیں کیا، ایسے مقامات بالاتفاق تمام شماروں میں متروک ہیں۔بعض مقامات ایسے ہیں جہاں نبی کریمﷺنے کبھی وقف کیا اور کبھی وصل کیا۔اوراہل فن کے لئے یہی مقامِ اختلاف ہے، کیونکہ آپ ﷺ کے وقف کرنے میں اس مقام کے رؤوس آیات میں سے ہونے کا احتما ل ہے اوریہ بھی احتمال ہے کہ آپ نے راحت کے لئے یا تعریف وقف کے لئے وقف کیا ہو اورآپ ﷺ کے وصل کرنے میں اس مقام (جہاں پہلے وقف کیا تھا)کے عدم رؤوس آیات میں سے ہونے کا احتمال ہے اور رأس الآیۃ ہونے کا بھی احتمال رہتا ہے۔ان احتمالات کی موجودگی میں کسی مقام پر آیت ہونے یا نہ ہونے کافیصلہ کرنا اجتہاد کے بغیر نا ممکن تھااور یہی محتمل فیہ مقامات صحابہ کرام کے اجتہاد کرنے کاسبب بنے۔جو در اصل نبی کریمﷺسے ہی ثابت تھے۔ زیر نظر کتاب '' ھدایات الرحیم فی آیات الکتاب الحکیم "شیخ القراء والمقرئین قاری رحیم بخش صاحب پانی پتی کی تالیف ہے۔جس میں انہوں نے قرآن مجید کی آیات کے تمام شماروں کو ایک جگہ جمع فرما دیا ہے۔قاری رحیم بخش صاحب پانی پتی علوم قرآن و قراءات قرآنیہ کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر بیسیوں علمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
قراات ثلٰثہ
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔محدث لائبریری،لاہور میں ان چاروں متداول روایات(اور مزید روایت شعبہ) میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔ علم قراءات کے میدان میں پہلا مرحلہ قراءات سبعہ کا ہے جس کے لیے شاطبیہ پڑھی پڑھائی جاتی ہے ۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ قراءاتِ ثلاثہ کا ہے ، اس کے لیے علامہ جزری کی کتاب الدّرّة المضية پڑھائی جاتی ہے ۔اس کے پڑھنے سے قراءات عشرہ کی تکمیل ہوجاتی ہے الدّرّة المضية قراءات ثلاثہ پر اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے اور قراءات ثلاثہ کی تدریس کے لئے ایک مصدر کے حیثیت رکھتی ہے۔ عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظررسالہ’’ قراءۃ ثلاثہ‘‘شیخ القراء قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔ قاری صاحب موصوف نے اس رسالہ میں سبعہ کےبعد والی تین قراءتیں(قراءۃ امام ابوجعفر مدنی ،قراءۃ امام یعقوب بصری،قراءۃ امام خلف کوفی) کو بطریق درّۃبالترتیب الگ الگ ذکر کی ہیں۔یہ رسالہ امام ابوجعفر مدنی ، امام یعقوب بصری، امام خلف کوفی رحمہم اللہ کی قراءات کی اختلافی وجوہ کے لیے نہایت جامع ہے ۔ فاضل مصنف نے پیش لفظ میں امام ابو جعفرکا قراءات میں جامع انداز میں تعارف اور ان کی سیرت کو پیش کیا ہے اور امام ابوجعفر سے روایت کرنے والے دوراوی(عیسیٰ بن وردان،ان جمّاز) کامختصراً تعارف پیش کیا ہے ۔ (م۔ا)
قراۃ حضرت امام ابوعمر و بصری رحمہ اللہ
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب ِسماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالم اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔محدث لائبریری ،لاہورمیں ان چاروں متداول روایات میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب’’ قراءۃ حضرت امام ابوعمرو بصری بروایتین سیدنا سوسی وسیدنا دوری رحمہما اللہ‘‘شیخ القراء قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔امام ابوعمرو بصری قراء سبعہ میں سے ایک ہیں ۔ فاضل مصنف نے پیش لفظ میں امام ابو عمر و بصری کا قراءات میں جامع انداز مقام ومرتبہ اور ان کی سیرت کو پیش کیا ہے اور امام ابوعمرو بصری سے روایت کرنے والے دوراوی(ابو عمر حفص دوری ازدی،ابو شعیب صالح بن زیاد سوسی) کامختصراً تعارف پیش کیا ہے ۔چونکہ دوری اور سوسی کی روایتوں میں اصول وفروش میں بہت کم فرق ہےاس لیے مصنف نے دونوں کو اکٹھا بیان کیا ہے البتہ جن کلمات میں حفص سے اختلاف کیا ہے ان کلمات کو خطوط کے ذریعہ ممتاز کردیا ہےا ور کلمہ کےنیچے اس راوی کانام بھی درج کردیا ہے۔(م۔ا)
قراۃ حضرت امام نافع رحمہ اللہ بہ روایت سیدنا ورش رحمۃ اللہ علیہ
Authors: قاری رحیم بخش پانی پتی
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جانے والی کتب ِسماویہ میں سے سب سے آخری کتاب ہے ۔جسےاللہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کے لئے سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔اور ان میں سے چار روایات (روایت قالون،روایت ورش،روایت دوری اور روایت حفص)ایسی ہیں جو دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں باقاعدہ رائج اور متداول ہیں،عالمِ اسلام کے ایک بڑے حصے پر قراءت امام عاصم بروایت حفص رائج ہے، جبکہ مغرب ،الجزائر ،اندلس اور شمالی افریقہ میں قراءت امام نافع بروایت ورش ، لیبیا ،تیونس اور متعدد افریقی ممالک میں روایت قالون عن نافع ،مصر، صومالیہ، سوڈان اور حضر موت میں روایت دوری عن امام ابو عمرو بصری رائج اور متداول ہے۔محدث لائبریری ،لاہورمیں ان چاروں متداول روایات میں مجمع ملک فہد کے مطبوعہ قرآن مجید بھی موجود ہیں۔عہد تدوین علوم سے کر آج تک قراءات قرآنیہ کے موضوع پر بے شمار اہل علم اور قراء نے عربی و اردو میں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظررسالہ’’ قراءۃ حضرت امام نافع رحمۃ اللہ علیہ بہ روایت سیدنا ورش رحمۃ اللہ علیہ‘‘شیخ القراء قاری رحیم بخش پانی پتی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔ فاضل مصنف نے پیش لفظ میں سیدنا ورش کا قراءات میں جامع انداز مقام ومرتبہ اور ان کا تعارف پیش کرنے کےبعد اس کتاب میں ورش کی مشکل ترین روایت کی تمام وجوہ کو جمع فرمایا ہےجس سے طلباء پوری آسانی کے ساتھ روایت کوسمجھ کریاد کرسکتے ہیں۔یہ رسالہ اپنے موضوع میں نہایت جامع اور مکمل ہے ۔ (م۔ا)