Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
مفتاح الکمال
Authors: قاری فتح محمد پانی پتی
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کو بندوں کی رشد و ہدایت کے لیے نازل فرمایاہے۔،یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کیا جانے والا ایسا کلام ہے جس کے ایک ایک حرف کی تلاوت پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں۔اور قرآن مجید کی درست تلاوت اسی وقت ہی ممکن ہو سکتی ہے، جب اسے علم تجویدکے قواعد وضوابط اوراصول وآداب کے ساتھ پڑھا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کا حکم دیا ہے ۔لہٰذا قرآن کریم کو اسی طرح پڑھا جائے جس طرح اسے پڑھنے کا حق ہے۔اور ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علمِ تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے۔فن تجوید پر اب تک عربی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی بہت سارے رسائل و کتب لکھی جا چکی ہیں۔ جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ پیشِ نظر کتاب بھی انہی کتب میں ایک اضافہ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " مفتاح الکمال "محترم قاری فتح محمد پانی پتی صاحب کی تصنیف ہے،جو علامہ سلیمان جمزوری کی منظوم تصنیف "تحفۃ الاطفال" کی اردو شرح ہے۔اس قصیدے کے کل اکسٹھ اشعار ہیں۔اس کتاب میں مولف نے علم تجوید کے مسائل کو بیان کیا ہے۔ شائقین علم تجوید کے لئے یہ ایک مفید اور شاندار کتاب ہے،جس کا تجوید وقراءات کے ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
کاشف العسر شرح ناظمۃ الزہر
Authors: قاری فتح محمد پانی پتی
In Arguments
منجملہ علوم قرآنی میں سے ایک علم الفواصل ہے ،جس سے مراد ایک ایسا فن ہے جس میں قرآن مجید کی سورتیں اور ان کی آیتوں کا شمار اور ان کے ابتدائی اور آخری سرے بتائے جاتے ہیں۔علم الفواصل کاموضوع بھی قرآن کی سورتیں اورآیات ہیں، کیونکہ اس علم میں انہی کے حالات سے متعلق بحث کی جاتی ہے۔علم الفواصل توقیفی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺنے صحابہ کرام ؓ کو رؤوس آیات پر وقف کرتے ہوئے آیات کا علم سکھایا ہے۔ بعض آیات ایسی ہیں جہاں نبی کریمﷺنے ہمیشہ وقف کیا اور وصل نہیں کیا۔ایسی آیات تمام شماروں میں بالاتفاق معدود ہیں۔بعض مقامات ایسے ہیں جہاں نبی کریمﷺنے ہمیشہ وصل کیا اور وقف نہیں کیا، ایسے مقامات بالاتفاق تمام شماروں میں متروک ہیں۔بعض مقامات ایسے ہیں جہاں نبی کریمﷺنے کبھی وقف کیا اور کبھی وصل کیا۔اوراہل فن کے لئے یہی مقامِ اختلاف ہے، کیونکہ آپ ﷺ کے وقف کرنے میں اس مقام کے رؤوس آیات میں سے ہونے کا احتما ل ہے اوریہ بھی احتمال ہے کہ آپ نے راحت کے لئے یا تعریف وقف کے لئے وقف کیا ہو اورآپ ﷺ کے وصل کرنے میں اس مقام (جہاں پہلے وقف کیا تھا)کے عدم رؤوس آیات میں سے ہونے کا احتمال ہے اور رأس الآیۃ ہونے کا بھی احتمال رہتا ہے۔ان احتمالات کی موجودگی میں کسی مقام پر آیت ہونے یا نہ ہونے کافیصلہ کرنا اجتہاد کے بغیر نا ممکن تھااور یہی محتمل فیہ مقامات صحابہ کرام کے اجتہاد کرنے کاسبب بنے۔جو در اصل نبی کریمﷺسے ہی ثابت تھے۔ زیر نظر کتاب '' کاشف العسر شرح ناظمۃ الزھر"شیخ القراءقاری فتح محمدپانی پتیکی تالیف ہے۔جس میں انہوں نے امام شاطبی کے علم الفواصل پر لکھے منظوم قصیدے ناظمۃ الزھر کو انتہائی آسان اور سہل انداز میں پیش کیا ہے۔امام شاطبی کا یہ قصیدہ دو سو ستانوے اشعار پر مشتمل ہے،جس میں انہوں مختلف فیہ رؤوس آیات کو جمع فرمایا ہے۔قاری فتح محمدپانی پتی علم قراءات کے میدان میں بڑا بلند اور عظیم مقام ومرتبہ رکھتے ہیں۔آپ نے علم قراءات پر بیسیوں علمی وتحقیقی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ اللہ تعالی قراء ات قرآنیہ کے حوالے سے سر انجام دی گئی ان کی ان خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔آمین(راسخ)
عمدۃ المبانی فی اصلاح عدۃ من ابیات حرز الامانی
Authors: قاری فتح محمد پانی پتی
In Arguments
قرآن مجید کتب سماویہ میں سے آخری کتاب ہے ۔ للہ تعالیٰ نے امت کی آسانی کی غرض سے قرآن مجید کو سات حروف پر نازل فرمایا ہے۔ یہ تمام کے تمام ساتوں حروف عین قرآن اور منزل من اللہ ہیں۔ان تمام پرایمان لانا ضروری اور واجب ہے،اوران کا انکار کرنا کفر اور قرآن کا انکار ہے۔اس وقت دنیا بھر میں سبعہ احرف پر مبنی دس قراءات اور بیس روایات پڑھی اور پڑھائی جارہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام کے سامنے قرآن مجید کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتب احادیث میں احادیث کی طرح مختلف کی قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں۔ بے شمار اہل علم اور قراء نے علوم قراءات کے موضو ع پرسینکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔شاطبیہ امام شاطبی کی قراءات سبعہ میں اہم ترین اساسی اور نصابی کتاب ہے ۔ یہ کتاب قراءات سبعہ کی تدریس کے لئے ایک مصدر کے حیثیت رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بے پناہ مقبولیت سے نوازا ہے۔بڑے بڑے مشائخ اور علماء نے اس قصیدہ کی تشریح کو اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ شاطبیہ کے شارحین کی طویل فہرست ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ عمدۃ المبانی فی اصلاح عدۃ من ابیات حرز الامانی‘‘ قاری فتح محمد بن محمد اسماعیل پانی پتی کی تالیف ہے ۔فاضل مصنف نے اس رسالہ میں شاطبیہ کےان اشعار کو جمع کیا ہے جن میں شارحین نے کسی قید کی کمی یا اجمال رہ جانے یا عبارت میں اولیت پیدا نہ ہونے کی بنا پر اصلاح کی ہے ۔مصنف نے جن اشعار کی اصلاح کی ہے ان کی تعداد بھی درج کردی ہے ایسے اشعار کی تعداد 433 ہے ۔(م۔ا)
تسہیل القواعد
Authors: قاری فتح محمد پانی پتی
In Arguments
تلاوت ِقرآن کا بھر پور اجروثواب اس امر پرموقوف ہے کہ تلاوت پورے قواعد وضوابط اور اصول وآداب کے ساتھ کی جائے قرآن کریم کی تلاوت کا صحیح طریقہ جاننا اورسیکھنا علم تجوید کہلاتا ہے ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ علم تجوید کے بنیادی قواعد سے آگاہی حاصل کرے ۔ کیونکہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم الشان کتاب ہے کہ ہر مسلمان پراس کتاب کو صحیح پڑھنا لازمی اور ضروری ہے جس کاحکم ورتل القرآن ترتیلا سے واضح ہوتا ہے۔ اس قرآنی حکم کی تکمیل اور تجویدکوطالب تجوید کےلیے آسان اورعام فہم بناکر پیش کرناایک استاد کے منصب کا اہم فریضہ ہے ۔ایک اچھا استاد جہاں اداء الحروف کی طرف توجہ دیتا ہے ۔ وہیں وہ اپنے طالب علم کو کتاب کےذریعے بھی مسائل تجوید ازبر کراتا ہے۔علم تجوید قرآنی علوم کے بنیادی علوم میں سے ایک ہے ۔ اس علم کی تدوین کا آغاز دوسری صدی کے نصف سے ہوا۔ائمۂ حدیث وفقہ کی طرح تجوید وقراءات کے ائمہ کی بھی ایک طویل لسٹ ہے اور تجوید وقراءات کے موضوع پرماہرین تجوید وقراءات کی بے شمار کتب موجود ہیں ۔ جن سے استفادہ کرنا اردو دان طبقہ کے لئے اب نہایت سہل اور آسان ہو گیا ہے ۔ عرب قراء کی طرح برصغیر پاک وہند کے علماء کرام اور قراءعظام نے بھی علم تجوید قراءات کی اشاعت وترویج کےلیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔پاکستان میں دیوبندی قراء کرام کےعلاوہ سلفی قراء عظام جناب قاری یحییٰ رسولنگری، قاری محمداریس العاصم ،قای محمد ابراہیم میرمحمدی حفظہم اللہ اور ان کےشاگردوں کی تجوید قراءات کی نشرواشاعت میں خدمات قابل تحسین ہیں ۔مذکورہ قراء کی تجوید وقراءات کی کتب کے علاوہ جامعہ لاہور الاسلامیہ کے کلیۃ القرآن ومجلس التحقیق الاسلامی ،لاہور کے زیر نگرانی شائع ہونے والے علمی مجلہ رشد کےعلم ِتجویدو قراءات کے موضوع پر تین ضخیم جلدوں پر مشتمل قراءات نمبر اپنے موضوع میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔جس میں مشہور قراء کرام کے تحریر شدہ مضامین ، علمی مقالات اور حجیت قراءات پر پاک وہند کے کئی جیدمفتیان کرام کے فتاوی ٰ جات بھی شامل ہیں اور اس میں قراءات کو عجمی فتنہ قرار دینے والوں کی بھی خوب خبر لیتے ہوئے ان کے اعتراضات کے مسکت جوابات دیئے گئے ہیں۔ زیر نظر کتاب’’تسہیل القواعد ‘‘ معروف قاری فتح محمد پانی پتی کی مرتب شد ہے ۔ قاری صاحب موصوف نے اس مختصر کتاب میں ایسے آسان قاعدے جمع کیے ہیں جن سے طلباء کو غلط اور صحیح میں فرق کرنے کی لیاقت بہت جلد میسّر آسکتی ہے ٰ اور قرآن پاک تجوید کے موافق صحیح پڑھنا نہایت آسانی سے سیکھ سکتے ہیں ۔(م ۔ا)
دلائل النبوة جلد اول
Authors: امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی
اللہ تعالی نے قرآن کریم میں نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کو بہترین نمونہ قرار دے کر اہل اسلام کو آپ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کا حکم ارشاد فرمایا ہے۔جس کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت مبارکہ کے ایک ایک گوشے کو محفوظ کیا جائے۔اور امت مسلمہ نے اس عظیم الشان تقاضے کو بحسن وخوبی سر انجام دیا ہے۔سیرت نبوی پر ہر زمانے میں بے شمار کتابیں لکھی گئی ہیں اور اہل علم نے اپنے لئےسعادت سمجھ کر یہ کام کیا ہے۔زیر تبصرہ کتاب " دلائل النبوۃ "بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے،جوامام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی کی تصنیف ہے۔اس کا اردو ترجمہ مولانا محمد اسماعیل الجارودی ﷾نے کیا ہے۔مولف نے اس عظیم الشان تصنیف میں سیرت نبوی کے ساتھ ساتھ آپ کی نبوت کے دلائل بھی بڑے احسن اور منفرد انداز میں جمع فرما دیئے ہیں۔اصل کتاب عربی میں ہونے کے سبب اردو خواں طبقہ کے لئے اس سے استفادہ کرنا ایک مشکل امر تھا ۔ مولانا محمد اسماعیل الجارودی﷾ نے اردو ترجمہ کر کے اردو خواں طبقہ کی اس مشکل کو حل کر دیا ہے۔اللہ تعالی ان کی ان خدمت کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)
رسول اللہ ﷺ کے کریمانہ آداب زندگی
Authors: امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی
اسلامی آداب واخلاقیات حسنِ معاشرت کی بنیاد ہیں،ان کے نہ پائے جانے سے انسانی زندگی اپنا حسن کھو دیتی ہے ۔ حسنِ اخلاق کی اہمیت اسی سے دوچند ہوجاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں کہ جن میں عبادت وریاضت میں کمال رکھنے والوں کےاعمال کوصرف ان کی اخلاقی استواری نہ ہونے کی بنا پر رائیگاں قرار دے دیاگیا۔حسن ِاخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کوبہتر بنانا ہی نہیں ہے بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کواپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے ۔ کتب احادیث میں دیگر عنوانات کے ساتھ ایک اہم عنوان الآداب یا البر والصلۃ والآداب بھی شامل ہے ۔جس میں معاشرتی زندگی کے آداب ومعاملات شخصی عادات کی اصلاح وتحسین ،اقربا واحباب کے حقوق ، جانوروں کے حقوق ، عام اشیاء کے استعمال کرنے نیز شخصی واجتماعی رویوں سے متعلق احادیث ائمہ محدثین نے جمع کیا ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’آداب زندگی ‘‘ امام بیہقی ،ابوبکراحمد بن حسین بن علی (384۔458ھ) کی اخلاقیات وآداب کے موضوع پر مایہ ناز کتاب ’’الآداب‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔امام موصوف نے اس میں 11095 احادیث کومختلف ذیلی عنوانات کےتحت جمع کیا ہے ۔یہ کتاب اخلاقیات وآداب کے تمام گوشوں کواس قدر محیط ہے کہ کامل سیرابی کاہر دم یقین ہوتا ہے او رکسی بھی موضوع پر تشنگی کایکسر احساس نہیں ہوتا ۔اس کتاب کا رواں اور سلیس ترجمہ انڈیا کے جید عالم دین مولانا زبیر احمد سلفی نے کیا ہے ۔مترجم نےترجمہ کے ساتھ ساتھ صحیح اور ضعیف احادیث کی نشاندہی بھی کی ہے ۔اوراحادیث کے اصل مصادر سے تخریج او رشیخ البانی کی تحقیق سے استفادہ کیا ہے ۔گو یا کہ یہ کتاب آداب واخلاقیات کے موضوع پر گراں قدر مستنداور محقق مجموعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)
شعب الایمان اردو ترجمہ جلد۔1
Authors: امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی
In Arguments
اسلام کے دو بنیادی اور صافی سر چشمے قرآن وحدیث ہیں جن کی تعلیمات و ہدایات پر عمل کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے۔ قرآن مجید کی طرح حدیث بھی دینِ اسلام میں ایک قطعی حجت ہے۔ کیونکہ اس کی بنیاد بھی وحی الٰہی ہے۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ و تابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھیلا پھولا۔ مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’شعب الایمان اردو‘‘ امام ابی بکر احمد بن الحسین البیھقی کی ہے جس کا اردو ترجمہ مولانا قاضی ملک محمد اسماعیل صاحب نے کیا ہے۔ یہ کتاب ایمان کے ستتر (77) شعبوں سے متعلق نصوص قرآنی، احادیث نبویہ، صحابۂ کرام، تابعین و تبع تابعین اور صلحاء امت و صوفیائے کرام کے آثار، اقوال و اشعار پر مشتمل (11269) روایات کا جامع و مفصل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ جس کی سات جلدیں ہیں اساتذہ، طلباء اور دیگر لوگوں کے لئے نادر تحفہ ہے۔ اس کتاب کے معاونین کو اللہ تعالیٰ اجر عظیم سے نوازے اور اس کتاب کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین۔ (پ،ر،ر)
کتاب قراۃ خلف الامام
Authors: امام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی
In Knowledge
نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر نظر کتاب’’ کتاب قرأة خلف الام‘‘ امام ابو بكر احمد بن حسين بیہقی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے امام بیہقی رحمہ اللہ نے قرأة خلف الام کا مسئلہ اس کتاب میں نہایت واضح ، آسان فہم اور بہترین انداز میں قرآن وسنت اور آثار صحابہ وتابعین کی روشنی میں پیش کیا ہے اور مقتدی کو قرأت سے منع کرنے والوں کے دلائل کا تفصیلی جائزہ بھی ذکر کیا ہے نیزامام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کتاب میں زیر بحث مسئلہ کے متعلق جملہ مباحث ،اعتراضات کے جوابات ،صحیح موقف کے صحیح احادیث سے دلائل کے ساتھ ساتہ عقلی دلائل بھی پیش کیے ہیں ۔امام بیہقی کی کتاب چونکہ عربی زبان میں ہے مولانا امان اللہ عاصم حفظہ اللہ نے اس کتاب کے اردو ترجمہ وحواشی کی سعادت حاصل کی ہے اللہ تعالیٰ مترجم وناشرین کی اس عظیم کاوش کو قبول فرمائے۔(م۔ا)
الرسائل فی تحقیق المسائل
Authors: عبد الرشید انصاری
رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔ اس کا ثبوت بکثرت اور تواتر کی حد کو پہنچی ہوئی احادیث سے ملتا ہے، جنہیں صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت نے روایت کیا ہے۔اور اس کا ترک یا نسخ کسی بھی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔سیدنا وائل بن حجرآخری ایام میں مسلمان ہونے صحابہ میں سے ہیں۔صحیح مسلم میں ان سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ انہوں نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کہی، پھر رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھ چادر سے نکالے اور انہیں بلند کیا اور تکبیر کہی اور رکوع کیا، پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے وقت بھی دونوں ہاتھ اٹھائے۔ زیر تبصرہ کتاب " الرسائل فی تحقیق المسائل "مولانا عبد الرشید انصاری کی رفع الیدین جیسے معرکۃ الآراء مسئلے کی تحقیق پر ایک عظیم الشان تصنیف ہے،جو انہوں نے انتہائی محنت اور شوق سے جمع فرمائی ہے۔ اس کتاب میں مولف نے پہلے اثبات رفع الیدین پر 22 بائیس کتب حدیث سے 44 چوالیس صحابہ کرام سے مروی 339 تین سو انتالیس احادیث جمع کی ہیں،پھر عدم رفع الیدین کے قائلین کے 38 اڑتیس دلائل بیان کر کے ان میں سے ایک ایک دلیل کا مستند اور بڑے احسن انداز میں رد کیا ہے ۔یہ اپنے موضوع پر ایک اہم ترین اوربڑی شاندار کتاب ہے،اور طلباء وعلماء دونوں کے مفید ہے۔اللہ تعالی مولف کی اس خدمت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)