Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
صحیح بخاری اور بائبل ایک تقابلی جائزہ
Authors: محمد حسین میمن
In Knowledge
اسلام ایک واحد دین ہے جو آج تک اپنی اصلی حالت میں برقرار ہے دیگر آسمانی کتب صحف آج تبدیل شدہ ہیں پچھلی امتوں نے اپنی کتابوں کے ساتھ جو روش اختیار کی وہ نہ بھولنے والا حادثہ ہے۔ قرآن مجید نے ان کی ناپاک کاوشوں کو کھول کھول کر بیان فرمایا ‘ اپنی کتاب میں تحریف‘مسائل گھڑنا‘ جھوٹے مسئلے بتا کر عامۃ الناس کو صراط مستقیم سے گمراہیوں کی گھٹا ٹوپ اندھیروں میں دھکیلنا‘اپنے ہاتھوں سے لکھ کر اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے تھے جیسا کہ اللہ رب العزت فرماتے ہیں’’ان لوگوں کے لیے ویل ہے جو اپنے ہاتھوں کی لکھی ہوئی کتاب کو اللہ کی طرف کا کہتے ہیں اور اس طرح دنیا کماتے ہیں ان کے ہاتھوں کی لکھائی کو اور ان کی کمائی کو ویل(ہلاکت)اور افسوس ہے۔‘‘ اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ قرآن مجید اور احادیث نبویﷺ کے علاوہ باقی تمام مصحف آسمانی میں تحریف ورد وبدل ہوچکا ہے اور غیر مسلم خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ لہذا جب انہوں نے اپنی کتب کو تحریف شدہ پایا تو انہوں نے اسلامی تعلیمات پر بھی تحریف اور ردوبدل کا الزام لگانا اور اس کا اثبات کرنا شروع کر دیااور عیسائی پادریوں اور مستشرقین نے ہزاروں کتب نبیﷺ اور اسلام کے خلاف لکھ ماری ہیں اور مستشرقین قرآن پر تو تحریف کا الزام نہیں لگا سکتے تھے اس لیے انہوں نے احادیث کے غیر محفوظ ہونے کا دعوی کیا اور بہت سے اعتراضات کیےکیونکہ حدیث ہی قرآن پاک کی تفصیل وتوضیح کا اصل ذریعہ ہے مگر ان کے تمام اعتراضات بے کار ہیں اور ان اعتراضات کو دور کرنے کے لیے بہت سے مضمون اور کتب تالیف کی گئی ہیں جن میں سے ایک زیرِ نظر کتاب ہے۔ اور اس کتاب کی تالیف کا مقصد ڈاکٹر موریس کی کتاب (The Bible the Quran and Science) کے پانچویں باب میں پیش کیے گئے اعتراضات کا جواب ہے جس میں ڈاکٹر موریس نے احادیث کی جمع وتدوین‘اس کی حفاظت اور بخاری ومسلم کی روایات پر اعتراضات کیے ہیں تو مصنف محمد حسین میمن کو یہ بات ناگوار لگی اس لیے انہوں نے اس کے جواب میں یہ کتاب تالیف کی ہے جس میں ڈاکٹر موریس کے اعتراضات کا جواب ہے جس کا تعلق دفاع سنت کے ساتھ ہےاور ان عیسائیوں اور پادریوں کے وہ اعتراضات جو احادیث کے خلاف پیش کرتے ہیں کا بھی جواب ہے‘ اور ان منکرین حدیث کا بھی رد ہیں جو کہتے ہیں کہ احادیث صرف تاریخ ہیں وہ بائبل کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اور اس کتاب میں چوبیس ابواب قائم کیے گئے ہیں جن میں بخاری شریف اور بائبل کی صحت اور روایات کا تقابل پیش کیا گیا ہے‘اور موجودہ دور میں اسلام پر کیے جانے والے اعتراضات کے جوابات کافی وشافی دیئے گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے امت کی ہدایت کا فیصلہ فرما دے اور مصنف کے لیے توشۂ آخرت بنا دے اور جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما دے۔ (آمین)( ح۔م۔ا )
دفاع عقیدہ توحید رد عقیدہ تثلیث
Authors: محمد حسین میمن
اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ تعالی ایک ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔نہ اس کی بیوی ہے اورنہ ہی اس کا کوئی بیٹا ہے ۔لیکن اس کے برعکس عیسائی عقیدہ تثلیث کے قائل ہیں ،جس کے مطابق اللہ تعالی، سیدنا عیسیٰ اورسیدہ مریم علیھا السلام تینوں خدا ہیں اور یہ تینوں خدا مل کر بھی ایک ہی خدا بنتے ہیں۔ یعنی وہ توحید کو تثلیث میں اور تثلیث کو توحید میں یوں گڈ مڈ کرتے ہیں کہ انسان سر پیٹ کے رہ جائے اور پھر بھی اسے کچھ اطمینان حاصل نہ ہو۔ مثلاً وہ اس کی مثال یہ دیتے ہیں کہ ایک پیسہ میں تین پائیاں ہوتی ہیں اور یہ تینوں مل کر ایک پیسہ بنتی ہیں۔ اس پر یہ اعتراض ہوا کہ جب سیدہ مریم علیھا السلام اورسیدنا عیسیٰ پیدا ہی نہ ہوئے تھے تو کیا خدا نامکمل تھا اور اگر نامکمل تھا تو یہ کائنات وجود میں کیسے آ گئی۔ اور اس پر فرماں روائی کس کی تھی؟ غرض اس عقیدہ کی اس قدر تاویلیں پیش کی گئیں جن کی بنا پر عیسائی بیسیوں فرقوں میں بٹ گئے۔ پھر بھی ان کا یہ عقیدہ لاینحل ہی رہا اور لاینحل ہی رہے گا اور آخری نبیﷺ کی بات کو تسلیم بھی نا کیا اور قرآن مجید کے حقائق اور مسیحؑ کی عزت وناموس کو جیسے چاہا استعمال کیا۔لیکن اللہ رب العزت نے اپنے دین اور قرآن کی حفاظت کے لیے ہر دور میں اپنے ایسے بندے پیدا کیے جو حفاظت دین کے پرچم کو تھام لیتے ہیں اور دین کا پرچار کرتے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں مسیحی پادریوں کی غلط تعلیمات اور ان کے باطل افکار کا جائزہ لیا گیا ہے اور تمام اشکلات واعتراضات کا تسلی بخش جواب دینے کی سعی کی گئی ہے۔اور ان کے بیان کردہ تمام نظریات کو عیاں کر کے ان کا رد پیش کیا گیا ہے۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ دفاع عقیدہ توحید‘ رد عقیدہ تثلیث ‘‘ محمد حسین میمن کی تصنیف کردہ اور خلیق الرحمن قدر﷾ کی مترجم کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
احادیث متعارضہ اور ان کا حل
Authors: محمد حسین میمن
بعض احادیث ایسی ہیں جو دیکھنے میں متعا رض ہوتی ہےعام قاری کو سمجھنے میں مشکلات ہوتی ہے۔بعض لوگ سرسری طور پر احادیث کے مطالعہ کے بعد جب انہیں حدیث کے صحیح معنی آشکارا نہیں ہوتے تو وہ جھٹ سے اسے قرآن مجید کیخلاف یادو صحیح احادیثوں کو متصادم قرار دے کر باطل ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں جو کہ جہالت اور انکار حدیث کی سازش میں ہاتھ بٹانے کے مترادف ہے۔ائمہ حدیث نے اس موضوع پر مستقل تصانیف لکھی ہیں اور تطبیق کے اصولوں کو واضح کیا ہے ۔ زیر نظر کتا ب ’’ احادیث متعارضہ اور ا ن کا حل ‘‘ مولانا محمد حسین میمن حفظہ اللہ کی تصنیف ہے انہو ں اس کتا ب میں دو بظاہر متضاد احادیث میں تطبیق دی ہے اور ثابت کیا ہےکہ کوئی بھی صحیح حدیث آپس میں اور صحیح حدیث قرآن مجید کے خلاف نہیں ہوتی یہ صرف اور صرف ذہنوں کا غمار اور پسماندہ سوچوں کا نتیجہ ہے۔یہ کتاب صحیح احادیث کی پاکیزہ تعلیمات کے درمیان ظاہری تعارض کےبہترین حل کا مستند ذخیرہ ہے۔(م۔ا)
شرح احادیث حروف سبعہ اور تاریخ قراءات متواترہ
Authors: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد
قرآن مجید نبی کریم پر نازل کی جانے والی آسمانی کتب میں سے آخری کتاب ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں صحابہ کرام کے سامنے اس کی مکمل تشریح وتفسیر اپنی عملی زندگی، اقوال وافعال اور اعمال کے ذریعے پیش فرمائی اور صحابہ کرام کو مختلف قراءات میں اسے پڑھنا بھی سکھایا۔ صحابہ کرام اور ان کے بعد آئمہ فن اور قراء نے ان قراءات کو آگے منتقل کیا۔ کتب احادیث میں احادیث کی طرح مختلف کی قراءات کی اسناد بھی موجود ہیں۔ بے شمار اہل علم اور قراء نے علوم قراءات کے موضوع پرسینکڑوں کتب تصنیف فرمائی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔زیر نظر کتابچہ ’’ شرح احادیث حروف سبعہ اور تاریخ قراءات متواترہ‘‘ ڈاکٹر مفتی عبد الوااحد ﷾ کا تالیف شدہ ہے جس میں انہوں نے حروف سبعہ کے متعلق احادیث کو دو اقسام میں تقسیم کرکے ان کی شرح وتوضیح پیش کرنے کےبعد قراءات متواترہ کی تاریخ پیش کرتے ہوئے قراءات کےمتعلق بعض اشکالات کا ازالہ علمی انداز میں پیش کیا ہے(م۔ا)
تحفہ اصلاحی
Authors: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد
مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر "تدبر قرآن " کے علاوہ اصول تفسیر میں" مبادی تدبر قرآن "اور اصول حدیث میں "مبادی تدبر حدیث" بھی لکھی ہیں۔جن میں انہوں نے اسلاف سے ہٹ کر چند منفرد اصول بیان کئے ہیں۔چنانچہ مولف کتاب ہذا ڈاکٹر مفتی عبد الواحدنے مولانا امین احسن اصلاحی کی ان دونوں کتب کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ لیا اور اپنے اس جائزے کو اپنی کتاب "ڈاکٹر اسرار احمد کے افکار ونظریات تنقید کی میزان میں"کے ساتھ ہی شائع کر دیا ہے۔کیونکہ ڈاکٹر اسرار احمد نے اپنے چار منبع فہم قرآن میں سے ایک مولانا حمید الدین فراہی اور مولانا امین احسن اصلاحی کو شمار کیا تھا۔بعد میں وہ جائزہ کچھ اضافوں کے ساتھ مضمون کی شکل میں جامعہ مدنیہ کے رسالہ انوار مدینہ میں قسط وار شائع ہوا۔اب کے بار مولف نے اس کی نظر ثانی کرتے ہوئے اسے دوبارہ کتابی شکل میں شائع کردیا ہے ،تاکہ مولانا امین احسن اصلاحی کے شاگردان رشید اس کتاب کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور اپنے افکار ونظریات پر نظر ثانی کریں۔مولانا امین احسن اصلاحی تو دنیا میں نہیں رہے ،لیکن ان کے شاگردوں کو تو اصلاح احوال کی گنجائش حاصل ہے۔دعا ہے کہ اللہ تعالی اس کتاب کو اصلاح احوال کا ذریعہ بنا دے ۔آمین(راسخ)
جدید معاشی مسائل اور مولانا تقی عثمانی کے دلائل کا جائزہ
Authors: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے،جس میں تجارت سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے حوالے سے مکمل رہنمائی موجود ہے۔اسلام تجارت کے ان طور طریقوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ،جس میں بائع اور مشتری دونوں میں سے کسی کو بھی دھوکہ نہ ہو ،اور ایسے طریقوں سے منع کرتا ہے جن میں کسی کے دھوکہ ،فریب یا فراڈ ہونے کا اندیشہ ہو۔یہی وجہ ہے اسلام نے تجارت کے جن جن طریقوں سے منع کیا ہے ،ان میں خسارہ ،دھوکہ اور فراڈ کا خدشہ پایا جاتا ہے۔اسلام کے یہ عظیم الشان تجارتی اصول درحقیقت ہمارے ہی فائدے کے لئے وضع کئے گئے ہیں۔دین اسلام نے سود کو حرام قرار دیا ہے اور تمام مسلمانوں کا اس کی حرمت پر اتفاق ہے۔لیکن افسوس کہ اس وقت پاکستان میں موجود تمام بینک سودی کاروبار چلا رہے ہیں۔حتی کہ وہ بینک جو اپنے آپ کو اسلامی کہلاتے ہیں وہ بھی سود کی آلائشوں سے محفوظ نہیں ہیں۔پاکستان میں نام نہاد اسلامی بینکاری کے سرخیل کراچی کے معروف دیو بندی عالم دین مولانا تقی عثمانی صاحب ہیں۔جنہوں نے متعدد مختلف فیہ اقتصادی مسائل میں جواز کا فتوی دے رکھا ہے۔جس پر دیو بند مکتبہ فکر سمیت تمام مکاتب فکر کے اہل علم کو تحفظات ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" جدید معاشی مسائل اورحضرت مولانا تقی عثمانی کے دلائل کا جائزہ"دیو بند مکتب فکر کے معروف عالم دین ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب، مفتی جامعہ مدنیہ لاہور کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مولانا تقی عثمانی صاحب کے دلائل کا جائزہ پیش کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائےاور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
عمار خان کا نیا اسلام اور اس کی سرکوبی
Authors: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد
عمار خان ناصر ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ ، پاک و ہند کی مشہور علمی شخصیت مولانا سرفراز خان صفدرکے پوتے اور دوسری مشہور شخصیت مولانا زاہد الراشدی﷾ کے صاحبزادے ہیں۔لیکن موجودہ دور کے مشہور متجدد جاوید احمد غامدی کے شاگردِ رشید بھی ہیں۔کچھ عرصے سے اُنہوں نے اپنے استاد غامدی صاحب اور اپنے افکارِ فاسدہ کے پھیلانے کو اپنا مشن بنایا ہوا ہے۔موصوف ایک رسالے"ماہنامہ الشریعہ"کے مدیر اور غامدی صاحب کے ادارے ’المورد‘ کے اسسٹنٹ فیلو ہیں، اسی نسبت سے انکی تحاریر غامدی صاحب کے رسالے مجلہ اشراق میں بھی چھپتی رہتی ہیں،غامدی صاحب کے تجدد پسندانہ افکار و نظریات کے دفاع، انکی اشاعت و ترویج کے لیے انکی خدمات ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ انکے مکتبہ فکر کی آواز چونکہ تجدد دین کی ہے اس لیے بہت سے علماء ان کے اجتہادات،نظریات ، غلط فہمیوں اور افراط و تفریط پر وقتا فوقتا اپنی رائے کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔ان علماء میں سے ایک نام جامعہ مدنیہ، لاہور کے ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب اور مفتی شعیب احمد صاحب کابھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"عمار خان کا نیا اسلام اور اس کی سرکوبی"انہی دونوں علماء کرام کی مشترکہ کاوش ہے جس میں انہوں نے عمار خان ناصر کے باطل عقائد ونظریات کا رد کیا ہے۔ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ فریقِ مخالف کے دعوے اور دلیل کو بلاکم وکاست اس کے اپنے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں اورپھر تفصیل سے اس کا جواب دیتے ہیں ۔عمار خان ناصر صاحب کی تحریرات اور ان پر مفتی صاحب کی طرف سے کی جانے والی گرفت کو اگرعمار صاحب کی عبارت آرائی سے بالا تر ہوکربنظرِ انصاف دیکھا جائے توصاف نظر آتاہے کہ عمار خان صاحب کے دعاوی اور دلائل پر مفتی صاحب کی تنقید اور گرفت صحیح اور برمحل ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
مریض و معالج کے اسلامی احکام
Authors: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد
In Knowledge
دین اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے اور دین اسلام ہمیں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق ہدایت ورہنمائی کرتا ہے۔ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ سے فقہاء نے ہمیں ایسے اصول مہیا کر دیئے ہیں کہ جنکی روشنی میں ہم کسی بھی دور میں پیش آنے والے جدید سے جدید تر مسائل کا حل معلوم کر سکتے ہیں۔ برصغیر میں مسلمانوں کے سیاسی انحطاط کے بعد جب انگریزی استعماری نظام نے اسلامی معاشرتی‘ معاشی اور قانونی نظام میں بڑی تبدیلیاں کیں اور انگریزی قانون رائج کر دیا جس کے نتیجے میں ہر سطح پر بڑی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ جنہیں اب تک مسلمانان پاکستان اپنے قانونی ڈھانچہ میں موجود پاتےہیں اور اسے بری طرح اجنبی محسوس کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مریض ومعالج کے اسلامی احکام‘‘ ایسی ہی الجھنوں کو دور کرنے کے لیے تالیف کی گئی ہے اس میں ہمارے موجودہ معاشرتی اور قانونی نظام میں پوسٹ مارٹم‘ ٹیسٹ ٹیوب بے بی‘ اعضاء کی پیوند کاری‘ انتقال خون‘ منشیات‘ حجاب اور دیگر متعلقہ امور پر قرآن وسنت کی روشنی میں سیر حاصل گفتگوکی گئی ہے۔ مؤلف ایک ماہر ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں اور اس کتاب میں طب جدید اور اسلامی قانون پر مشتمل آراء نہایت ہی مستند اور قابل استفادہ عام ہیں۔ یہ کتاب ایک مستند اور موضوع پر محیط دستاویز ہے جو اس سلسلہ میں تحقیقی کام کرنے والوں کےلیے نشان راہ ثابت ہو گی۔ اس کتاب میں بھی گیارہ ابواب قائم کیے گئے ہیں‘ پہلے باب میں سیرت نبوی۔۔طب وصحت کی راہنما سے متعلقہ ‘ دوسرے میں باب میں طہارت سے متعلقہ‘ تیسرے باب میں حیض‘ نفاس اور استحاضہ کے احکام‘ چوتھے باب میں معذور کے احکام‘ پانچویں باب میں بیمار کی نماز کا بیان‘ چھٹے میں روزہ کے احکام‘ ساتویں میں حج کے احکام ‘ آٹھویں باب میں احکامِ میت‘ نویں باب میں مرض وفات میں مبتلاء مریض کے تصرفات‘ دسویں باب میں نکاح اور متعلقات کواور گیارہویں باب میں قصاص ودیت کے احکام کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ۔ یہ کتاب ’’ مریض ومعالج کے اسلامی احکام ‘‘ مولانا ڈاکٹر عبد الواحد﷾ کی عظیم کاوش ہے اور آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
مسجد اقصی کی تولیت اور بعض فکری انحرافات کا جائزہ
Authors: ڈاکٹر مفتی عبد الواحد
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔چند سالوں سے جدید مسلم مفکرین مسجد اقصیٰ کی تولیت کے بارے میں انحراف کاشکار ہیں اور وہ مسلمانوں کی بجائے یہودیوں کےلیے مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حق سمجھتے ہیں ۔ جس میں مولانا زاہد الراشدی صاحب کے بیٹے جاوید احمد غامدی کے شاگر عمار خاں ناصر نےاپنے مضامین میں یہودیوں کو بھی مسجد اقصیٰ کی تولیت کا حقدار ٹھرایا ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’مسجد اقصیٰ کی تولیت اور بعض فکری انحرافات کا جائزہ ‘‘ میں جناب ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب نے عمار خان ناصر کے موقف اور انکےدلائل کا علمی اور سنجیدہ انداز میں تجزیہ کیا ہے اور ان کی منحرف فکر کادلائل سے جائزہ لیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور مسلمانوں کےقبلۂ اول کو آزاد اور دنیا بھر کےمظلوم مسلمانوں کی مددفرمائے۔یہ کتاب ہذا کا برقی ایڈیشن ہے جس کتاب وسنت سائٹ کے قارئین کےلیے پبلش کیا گیا ہے۔ (م۔ا)