Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
مسائل طہارت اور خواتین (عربی فتاویٰ کا ترجمہ)
Authors: ام عبد منیب
پلیدگی ،گندگی ا ور نجاست سے حاصل کی جانے والی ایسی صفائی وستھرائی جو شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اسے طہارت کہتے ہیں۔نجاست خواہ حقیقی ہو، جیسے پیشاب اور پاخانہ، اسے خبث کہتے ہیں یا حکمی اور معنوی ہو، جیسے دبر سے ریح (ہوا) کا خارج ہونا، اسے حدث کہتے ہیں۔ دینِ اسلام ایک پاکیزہ دین ہے اور اسلام نے اپنے ماننے والوں کو بھی طہارت اور پاکیزگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور اس کی فضیلت و اہمیت اور وعدووعید کا خوب تذکرہ کیا ہے۔نبی ﷺنے طہارت کی فضیلت بیان کرتے ہوءے فرمایا:الطّھور شطر الایمان (صحیح مسلم 223) طہارت نصف ایمان ہے۔ایک اور حدیث میں طہارت کی فضیلت کے متعلق ہے کہ آپ ﷺنے فرمایا:’’وضو کرنے سے ہاتھ، منہ، اور پاؤں کے تمام (صغیرہ) گناہ معاف ہوجاتے ہیں‘‘۔(سنن النسائی،:103)طہارت سے غفلت برتنے کی بابت نبیﷺ سے مروی ہے: ’’ قبر میں زیادہ عذاب طہارت سے غفلت برتنے پر ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح الترغیب و الترھیب: 152)۔مذکورہ احایث کی روشنی میں ایک مسلمان کے لیے واجب ہے کہ وہ اپنے بدن، کپڑے اور مکان کو نجاست سے پاک رکھے- اللہ تعالی نے اپنے نبی کو سب سے پہلے اسی بات کا حکم دیا تھا : ’’ اپنے لباس کو پاکیزہ رکھیے اور گندکی سے دور رہیے‘‘ (المدثر:5،4) مکان اور بالخصوص مقام عبادت کے سلسلہ میں سیدنا ابراھیم اور اسماعیل ؑ کو حکم دیا گیا: " میرے گھر کو طواف کرنے والوں، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں-" (البقرۃ:125)۔اللہ تعالی اپنے طاہر اور پاکیزہ بندوں ہی سے محبت کرتا ہے- ارشاد باری تعالی ہے کہ: ’’بلاشبہ اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔‘‘ (البقرۃ: 222)، نیز اہل قباء کے متعلق فرمایا: "اس میں ایسے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالی پاک صاف رہنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘۔ (التوبہ:108)۔لہذا روح کی طہارت کے لیے تزکیہ نفس کے وہ تمام طریقے جن کی تفصیل قرآن وحدیث میں ملتی ہے ان کا اپنے نفس کو پابند بنانا ضروری ہے ۔جب کہ طہارتِ جسمانی کے لیے بھی ان تمام تفصیلات سے اگاہی ضروری ہے جو ہمیں کتاب وسنت مہیا کر تی ہے ۔جسمانی طہارت کے مسائل معلوم کرتے ہوئے خواتین جھجک محسوس کرتی ہیں ۔ لیکن ایسے ہی مسئلہ کےبارے میں ایک خاتو ن نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو سید ہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا : انصار کی عورتیں کیا ہی اچھی ہیں جو دین کےمسائل معلوم کرتے ہوئے شرم نہیں کرتیں۔(صحیح مسلم ) زیر نظر کتابچہ’’مسائل طہارت او رخواتین‘‘ سعودی دار الافتا کے خواتین سے متعلق مسائل طہارت پر مشتمل ہے ۔جسے مریم خنساء نے عربی سےاردو زبان میں منتقل کیا ہے تاکہ اس سے اردو دان خواتین بھی مستفید ہوکر طہارت کے مسائل سے اگاہ ہوسکیں۔اللہ تعالی مرحومہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے خواتین ِاسلام کےلیے نفع بخش بنائے ۔آمین( م۔ا)
حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں
Authors: ام عبد منیب
اللہ تعالیٰ نے انسان کواشرف المخلوقات بناکر فطری خوبیوں سے مالامال کیا ہے۔ان خوبیوں میں سے ایک اہم ترین خوبی شرم وحیا ہے۔شرعی نقطہٴ نظرسے شرم وحیا اس صفت کا نام ہے جس کی وجہ سے انسان قبیح اور ناپسندیدہ کاموں سے پرہیز کرتاہے۔ دین اسلام نے حیاء کی اہمیت کو خوب اجاگر کیا ہے تاکہ مومن باحیاء بن کر معاشرے میں امن وسکون پھیلانے کا ذریعہ بنے۔نبی کریم ﷺ نے ایک صحابی کو دیکھا جو اپنے بھائی کوسمجھا رہا تھا کہ زیادہ شرم نہ کیا کرو آپ ﷺ نے سنا تو ارشاد فرمایا:اس کو چھوڑدو کیونکہ حیاء ایمان کا جز ء ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا :حیاء ایمان کا حصہ ہے اور ایمان جنت میں جانے کاسبب ہے اور بے حیائی جفاء(زیادتی) ہے اور جفا ءدوزخ میں جانے کا سبب ہے ۔حیاء کی وجہ سے انسان کے قول و فعل میں حسن و جمال پیدا ہوتا ہے لہٰذا باحیاء انسان مخلوق کی نظر میں بھی پرکشش بن جاتا ہے اور پروردگار عالم کے ہاں بھی مقبول ہوتا ہے اور قرآن مجید میں بھی اس کا ثبوت ملتاہے۔سیدنا شعیب ؑ کی بیٹی جب سیدنا موسیٰ ؑ کو بلانے کے لئے آئیں تو ان کی چال وڈھال میں بڑی شائستگی اور میانہ روی تھی۔ اللہ رب العزت کو یہ شرمیلا پن اتنا اچھا لگا کہ قرآن مجید میں باقاعدہ اس کا تذکرہ فرمادیا۔ جو شخص حیاء جیسی نعمت سے محروم ہوجاتا ہے وہ حقیقت میں محروم القسمت بن جاتا ہے ایسے انسان سے خیر کی توقع رکھنا بھی فضول ہے ۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا:جب شرم وحیا ء نہ رہے تو پھر جو مرضی کر۔ زیر تبصرہ کتاب " حفظ حیا اور کنواری لڑکیاں "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے عورتوں کو شرم وحیاء کا پیکر بننے کی ترغیب دی ہے اور انہیں سادگی اپنانے کا سبق دیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
قضا نماز اور قضا عمری
Authors: ام عبد منیب
اللہ تعالی نے ہر مسلمان پر وقت مقررہ پر نماز ادا کرنا فرض قرار دے دیا ہے۔اگر کوئی مسلمان کسی شرعی عذر کی بناء پر وقت مقررہ پر نماز ادا نہ کر سکے تو اجازت ہے کہ وہ اپنی اس رہ جانے والی نماز کو بعد میں قضا کر کے پڑھ لے۔اور اگر کسی مسلمان نے کئی روز یا کئی ماہ یا کئی سال تک نماز نہ پڑھی ہو تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور دائرہ اسلام سے خارج کر دینے والا عمل ہے۔ایسے شخص پر واجب ہے کہ وہ اپنے اس گناہ سے توبہ کرے اور بارگاہ الہی میں آ کر وقت پر نمازیں پڑھنا شروع کر دے۔اتنے لمبے عرصے تک جان بوجھ کر نماز نہ پڑھنے سے توبہ واجب ہو جاتی ہے اور ان رہ جانے والی نمازوں کی قضا نہیں ہو گی۔بعض لوگوں نے ایک خود ساختہ اصطلاح "قضا عمری " گھڑ رکھی ہے ۔اور زیادہ عرصے تک نمازیں نہ پڑھنے والے کو اس خود ساختہ اصطلاح کے مطابق قضا کرنے کا فتوی دیتے ہیں،حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی اصل موجود نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " قضا نماز اور قضا عمری "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے قضا نماز کی حقیقت بیان کرتے ہوئےقضا عمری کی خود ساختہ اصطلاح کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
بسم اللہ دعا ، دوا اور شفاء
Authors: ام عبد منیب
بسم اللہ الرحمن الرحیم کلام رب العالمین کی پیشانی کا وہ مقدس ومنزہ طغریٰ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کےافتاح کے لیے منتخب فرمایا۔ اور امام کائنا ت خاتم النبین حضرت محمدﷺ اسی کلام ِمبارک سے اپنے ہر کام کاآغاز فرماتے اور ہر مسلمان کوبھی اپنے کاموں کا آغاز اسی سے کرنےکی تلقین فرمائی۔ زیر نظر کتاب ’’بسم اللہ دعا ، دوا اور شفاء‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اس افتتاحیہ کلام کی اہمیت وافادیت ، اور مسلمان کااس کےساتھ قلبی وروحانی تعلق کیساہونا چاہیے۔ اور اس کے لغوی مفہوم کو بڑے آسان فہم انداز میں پیش کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس کاوش کو ان کے لیے صدقہ جاریہ اور آخرت میں نجات کاذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)
سیرت النبی ﷺ کا انسائیکلوپیڈیا
Authors: ام عبد منیب
اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل کی مقدس اصطلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے۔ رہبر انسانیت سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ قیامت تک آنے والےانسانوں کےلیے’’اسوۂحسنہ‘‘ ہیں. حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ سیرت النبیﷺ کا انسائیکلو پیڈیا‘‘ ام عبد المنیب کی ہے۔ ۔ جس میں آپ ﷺ کے نسب نامہ کی اہمیت و فضیلت اور نسب نامہ کے مختلف مراحل کو بیان کیا گیا ہے۔اور آپﷺ کی پیدایش سے لے کر وفات تک کے تمام واقعات، غزوات ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی جانثاری کو بیان کیا گیا ہے ۔ امید ہے کہ یہ کتاب تاریخی لحاظ سے بہت کار آمد ثابت ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ صاحب مصنف کی اس مبارک قلمی کاوش کو قبول فرمائے اور خیر و فلاح کا باعث بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)
مروجہ تعویذ اور معوذات نبویہ
Authors: ام عبد منیب
In Arguments
اردو میں مستعمل لفظ’’تعویز‘‘ کا عربی نام’’التمیمۃ‘‘ہے عربی زبان میں ’’التمیمۃ ‘‘کے معنی اس دھاگے ،تار،یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسے اور حصے میں باندھا جائے۔ آج کل اس کا استعمال مسلم معاشرہ میں بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ اگر آج امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہےتو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مروجہ تعویذاور معوذات نبویہِﷺ‘‘محترمہ ام عبد منیب کی تصنیف کردا ہے،جس میں وہ بیان کرنا چا ہتی ہیں کہ کس طرح آج کل ہمارے معاشرے تعویز پہننے یا تعویز لٹکانے کا رواج ہے، اور اکثریت غیر شرعی اور شرکیہ تعویزات کا ہی سہار لیتی ہے۔ سادہ لوح لوگ تو سرسے پیروں تک اس شرک میں ڈوبے ہوے ہیں ،اور بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی جانے ان جانے میں اس گناہ میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔آخر میں اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ محترمہ ام عبد منیب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)
مدح مزمل ﷺ
Authors: ام عبد منیب
In Arguments
خاتم النبیین‘ رحمۃ للعالمین‘ صادق ومصدوق کا منصب جس طرح کائنات میں یکتا وبے مثال ہے‘ اسی طرح آپﷺ کی توصیف کی نمائندگی کرنے والی صنفِ نعت بھی اپنی جگہ منفرد اور ممیز ہے۔ یہ وہ صنف ہے جس کی حدودِ مسافت کے دو رویّہ انتہائی قابلِ احترام‘ صاحب ایمان‘ سراپا علم وعمل‘ محبت رسالت مآب کی خوشبو سے معطر‘ جان نثاری نبوت کے نخلِ عظیم ‘ بہ قامت مستقیم ایستادہ ہیں۔اور نبیﷺ کی سیرت اور مدح پر نبیﷺ کے بعد سے اب تک بہت سی کتب تصنیف کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا۔زیرِ تبصرہ کتاب بھی خاص اسی موضوع پر ہے اس میں مؤلفہ نے شرک سے ‘نبیﷺ کے لیے اے اور یا کے لفظ سےاورجو اسمائے ضمیر ادب کے آڑے آ سکتے ہیں ان سے گریز کیا ہے اور اسم محترم محمدﷺ کی بجائے آپ کے القابات کا استعمال کیا گیا ہے۔اسی طرح باقی ایسے الفاظ اور القابات کے استعمال سے اجتناب کیا ہے جو ادب کے خلاف ہیں۔ یہ کتاب’’ مدح مزمل ‘‘ ام عبد منیب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتی ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
طاؤس ورباب
Authors: ام عبد منیب
ذہنی انتشار اور اخلاقی بگاڑ پیدا کرنے والی مختلف چیزوں میں سے ایک موسیقی ہے جس کو لوگوں نے جواز بخشنے کے لیے روح کی غذا تک کے قاعدے کو لاگو کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اسلام میں موسیقی اور گانے بجانے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں اس حوالے سے وعید کا تذکرہ کیاہے۔ فرمانِ رسولﷺ ہے:’’ میرى امت میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا ہونگے جو شرمگاہ [زنا] ’ ریشم ’ شراب اور گانا وموسیقی کو حلال کرلیں گے‘‘ یہ دل میں نفاق پیدا کرنے اور انسان کو ذکرالٰہی سے دور کرنے کا سبب ہے۔ ارشادِباری تعالیٰ ہے:﴿وَمِنَ النّاسِ مَن يَشتَرى لَهوَ الحَديثِ لِيُضِلَّ عَن سَبيلِ اللَّهِ بِغَيرِ عِلمٍ وَيَتَّخِذَها هُزُوًا ۚ أُولـٰئِكَ لَهُم عَذابٌ مُهينٌ﴾( سورة القمان)’’ لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو لغو باتو ں کو مول لیتے ہیں تاکہ بے علمی کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بہکائیں اور اسے مذاق بنائیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے رسوا کن عذاب ہے"جمہور صحابہ وتابعین اور ائمہ مفسرین کے نزدیک لهوالحدیث عام ہے جس سے مراد گانا بجانا اور اس کا ساز وسامان ہے اس میں آلات ِ موسیقی او رہر وہ چیزجو انسان کو خیر اوربھلائی سے غافل اور اللہ کی عبادت سے دور کردے شامل ہے ۔ زیر نطر کتاب’’طاؤس ورباب‘‘معروف مصلحہ مصنفہ ام عبد منیب صاحبہ(مصنف کتب کثیرہ) کی تصنیف ہے ۔موصوفہ ہے اس کتاب میں آسان فہم انداز میں قرآن وسنت کی روشنی میں رقص وموسیقی کےمتعلق اسلامی تعلیمات پیش کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی دعوتی وتصنیفی جہود کو قبول فرمائے اور اسے عامۃ الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔آمین (م۔ا)
پیام اقبال بنام نوجوانان ملت
Authors: سید قاسم محمود
In Knowledge
علامہ محمد اقبالؒ ہماری قوم کے رہبر و رہنما تھے،آپ کو شاعر مشرق کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اہل مشرق کے جذبات و احساسات کی جس طرح ترجمانی کا حق اقبال مرحوم نے ادا کیا ہے اس طرح کسی دوسرے نے نہیں کیا ہے ۔شاعری کسی فکرونظریہ کودوسروں تک پہنچانے کاموثرترین طریقہ ہے ۔شعرونظم سے عموماً عقل کی نسبت جذبات زیادہ متاثرہوتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ وحی الہیٰ کے لیے شعرکواختیارنہیں کیاگیا۔تاہم اگرجذبات کی پرواز درست سمت میں ہوتوانہیں ابھارنا بجائے خودمقصودہے ۔۔ ان کی شاعری عروج رفتہ کی صدا ہے ۔ ان کے افکار و نظریات عظمت مسلم کے لئے ایک بہترین توجیہ اور جواز فراہم کرتے ہیں،اوراسلام کی انقلابی ،روحانی اوراخلاقی قدروں کاپراثرپیغام ہے ۔ان کی شاعری میں نری جذباتیت نہیں بلکہ وہ حرکت وعمل کاایک مثبت درس ہے ۔اس سے انسان میں خودی کے جذبے پروان چڑھتے ہیں اورملت کاتصورنکھرتاہے ۔بنابریں یہ کہاجاسکتاہے کہ اقبال نے اسلامی تعلیمات کونظم میں بیان کیاہے۔تاہم یہ بات بھی ملحوظ خاطررکھناضروری ہے کہ علامہ عالم دین نہ تھے ہمارے ملی شاعرتھے اوربس ۔فلہذاتعبیردین میں ان کوسندخیال کرناقطعاً غلط ہے ۔زیر تبصرہ کتاب" پیام اقبال بنام نوجوانان ملت"بھی آپ کے نوجوانوں کے نام منسوب اشعار کا مجموعہ ہے،جسے سید قاسم محمود نے مرتب کیا ہے،اور ساتھ ہی ساتھ ان کا معنی ومفہوم بھی واضح کر دیا ہے، تاکہ امت کا نوجوان اپنی جوانی کو اللہ کی رضا اور اسلام کی سر بلندی میں کھپا کر دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں سرخرو ہو جائے۔اللہ تعالی ان کی اس مھنت کو قبول فر ما کت نوجوانان امت کا قبلہ درست فرمائے۔آمین(راسخ)