Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
حفظ حیا اور محرم رشتہ دار
Authors: ام عبد منیب
In Knowledge
حیا ایک ایسی صفت ہے جو کسی شخص میں جتنی زیادہ ہوگی اس کو وہ اتنا ہی فحش ومنکر سے درو رکھے گی ۔ارشاد نبوی ہے :’’جب تم میں حیا نہ رہے تو جوجی چاہے کر‘‘ کچھ کیفیاتِ قلبی ایسی ہیں جو اسلام میں پسندیدہ ہیں ان میں جتنا زیادہ مبالغہ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ایمان اور اسلام میں نکھار آتاہے حیاان میں سے ایک اہم صفت ہے نبی اکرمﷺ کے حیا کےبارے میں ایک صحابی کہتے ہیں :’’رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری لڑکی سے بھی زیادہ باحیا تھے ‘‘اور قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؓ واقعہ کےضمن میں شیخ کبیر کی لڑکی کے حیا کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: فَجَاءَتْهُ إِحْدَاهُمَا تَمْشِي عَلَى اسْتِحْيَاء ’’ان دولڑکیوں میں سے ایک شرماتی ہوئی ان کے پاس آئی‘‘اس سے معلوم ہوا کہ حیا خواتین کی سیرت کا لازمی حصہ ہے ۔اس لیے اگر مرد اور عورت میں حیا کی کثرت ہے تویہ اس کےلیےخیر وبرکت کا باعث ہے ۔لیکن آج دور ِحاضر میں حیا کا جذبہ دم توڑ تا جارہا ہے ،معاشرہ کھلم کھلا بے حیائی کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ محرم رشتوں کے درمیان شرم وحیا اور لحاظ کی جو مضبوط دیوار تھی وہ اب عام گھرانوں میں نہ ہونے کے برابر ہے ۔با پ بھائی خود اپنی بیٹی اور بہنوں کو ہر قسم کی زیب وزینت خود کرواتے اور دیکھ کر انہیں داد دیتے ہیں جو کہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔زیر نظر کتاب ’’ حفظِ حیا اور محرم رشتہ دار ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں اہم کاوش ہے جس میں انہوں نے حیا کی تعریف اور اس سلسلے معاشرے میں پائی جانے والی کتاہیوں سے اگاہ کرتے ہوئے محرم مرد اور عورتوں کی ذمہ داریوں کو بڑے احسن اندا ز میں شرعی دلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)
گدا گری
Authors: ام عبد منیب
اللہ تعالی نے انسان کو خوب صورت اور احسن سیرت وعادات پر پید اکیا ہے۔اس کی فطرت میں حیا،خود داری ،غیرت ،تحفظ ذات،تحفظ مال، اور تحفظ ناموس کا جذبہ رکھ دیا ہے۔لیکن جب انسان شرف وامتیاز کی ان خوبیوں کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹ دیتا ہے تو وہ ذلت وحقارت کی ایسی پستی میں گر جاتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز اس سے گھن کھا تی ہے اور اس کے نام پر نفرین بھیجتی ہے۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں ایسی تمام بد عادات کا تذکرہ تفصیل کے ساتھ موجود ہے،انہی قبیح عادات میں سے ایک گدا گری بھی ہے۔ اسلام گدا گری کی مذمت کرتا ہے اور محنت کر کے کمائی کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔محنت میں عظمت ہےجو شخص اپنے ہاتھ سے کما کر اپنی ضروریات پوری کرتا ہے ،وہ دراصل ایک خود دار ،غیرت مند انسان ہے اور اسی کو صالح اعمال کی توفیق حاصل ہوتی ہے۔انبیاء کرام اپنے ہاتھ کی محنت سے کماتے تھے۔۔۔ زیر تبصرہ کتاب " گدا گری"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ رحمھا اللہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نے گدا گری کی مذمت ،اس کے انسانی معاشرے پر برے اثرات،غیرت وخودی کی موت اور دیگر نقصانات وغیرہ پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
سجدہ سہو
Authors: ام عبد منیب
سہو بھول جانے کو کہتے ہیں، جب کبھی نماز میں بھولے سے ایسی کمی یا زیادتی ہو جائے جس سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی لیکن ایسا نقصان آ جاتا ہے جس کی تلافی نماز میں ہی ہو سکتی ہے اس نقصان کی تلافی کے لئے شریعت نے یہ طریقہ بتایا کہ کہ آخری قعدے کے تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے قبل یا بعد میں دوسجدے کیے جائیں ۔ سجدۂ سہو رب کریم کی مسلمانوں پر مہربانی،نرمی اور آسانی کامظہر ہے۔اگر نماز میں کسی کمی و بیشی یا بھول چوک کی وجہ سے پوری نماز ہی باطل قرار دے دی جاتی توپھر از سر نو نماز پڑھنا پڑتی۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’سجدہ سہو‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے ترتیب دیا ہے جس میں انہو ں جن امور کی وجہ سےسجدہ سہو کیا جاسکتاہے ان کو بیان کرنے کےساتھ ساتھ سجدہ سہو کےطریقوں کو احادیث نبویﷺ اور علمائے اسلام کےفتاوی کی روشنی میں بڑے آسان انداز میں بیا ن کیا اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے او رمرتبہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) م۔ا)
سالگرہ
Authors: ام عبد منیب
سالگرہ کااصل نام برتھ ڈئے ہے ۔جس کامطلب ہے پیدائش کا دن ۔ یہ ایک رسم ہے جو تقریب کے شکل میں ادا کی جاتی ہے ،سالگرہ کام کا مطلب ہے زندگی کے گزشتہ سالوں میں ایک اور گرہ لگ گئی یعنی موصوف ایک سال زندگی کا مزید گزار چکے ہیں۔ برتھ ڈے کو عربی میں یوم المیلاد،ہندی میں جنم دن اور اردو میں سالگرہ کہتے ہیں ۔كتاب و سنت كے شرعى دلائل سے معلوم ہوتا ہے كہ سالگرہ منانا بدعت ہے، خواہ وہ نبی کریمﷺ کی ہو یا کسی عام آدمی کی ہو،جو چیز نبی کریمﷺ کے لئے منانا جائز نہیں ہے وہ کسی دوسرے کے لئے کیسے جائز ہو سکتی ہے۔ یہ دين ميں نيا كام ايجاد كر ليا گيا ہے شريعت اسلاميہ ميں اس كى كوئى دليل نہيں، اور نہ ہى اس طرح كى دعوت قبول كرنى جائز ہے، كيونكہ اس ميں شريک ہونا اور دعوت قبول كرنا بدعت كى تائيد اور اسے ابھارنے كا باعث ہوگا۔زیر نظر کتابچہ’’سالگرہ‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی اصلاح معاشرہ کے سلسلہ میں ایک اہم کاوش ہے جس میں انہو ں نے سالگرہ منانے کا آغاز اوراس تقریب میں کی جانے والی خرافات کو بیان کرتے ہوئے اس کاشرعی جائزہ بھی پیش کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
اشیائے ضرورت کا اسلامی معیار
Authors: ام عبد منیب
In Knowledge
اسلام کی بنیادی تعلیمات کا مقصد انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی کوسکو ن اور مسرتِ دوام سے ہمکنار کرنا ہے ۔اسلامی تعلیمات کے مطابق اشیائے ضرورت صرف اس حد تک اختیار کرنی چاہییں کہ جہاں پہنچ کر انسان خروی زندگی کی فلاح کے مقصد سے غفلت کاشکار نہ ہو۔جس موڑ پر آکر اشیائے ضرورت انسان کو اپنے پنجے میں جکڑ کر فرائض سے غافل کردیں ان سے رُک جانا بہتر ہے ۔اشیائے ضرورت کی اہمیت اگر ہے تو اتنی ہی کہ جتنی ہمیں ہمارے نبی اکر م ﷺ کی حیات طیبہ سے ملتی ہے جس کے نقوش صحابہ کرام ؓ اجمعین کے گھروں اوررہن سہن میں ملتے ہیں۔انہی کی مختصر جھلک محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے کتابچہ ہذا میں پیش کی ہے۔اس کتاب کے تمام مندرجات کاتعلق حلال وحرام یا جائز وناجائز کے نقطۂ نظر سے نہیں بلکہ اسے دنیاوی ساز وسامان کے بے لگام رجحان کوصحیح رخ دینے کےلیے لکھا گیا ہے۔لہذا اسے اسی خیال سے پڑھا اور سمجھا جائے۔حقیقت یہی ہے کہ موت کے بعد ہر انسان نے اپنےہر لمحے اور ہر چیز کاحساب اللہ رب العزت کے حضور پیش کرناہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق بسر کی توفیق عطا فرمائے اور اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین) (م۔ا)
قرآن خوانی
Authors: محمود الرشید حدوٹی
قرآن خوانی فارسی زبان کا لفظ ہےجس کامطلب ہےقرآن پڑھنا ۔ہمارے معاشرے میں اس سے مراد کسی حاجت برآری یا مردے کوثواب پہنچانےکے لیے لوگوں کاجمع ہو کر قرآن مجید پڑھنا۔ قرآنی خوانی کےلیے لوگوں کوکسی مخصوص وقت پر بلایا جاتا ہے جس جس میں یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ فلاں مقصد کےلیے قرآنی خوانی ،یٰسین خوانی یا آیت کریمہ وغیرہ پڑھوانا ہے ۔ ساتھ حسبِ مقدور دعوت کابھی اہتمام کیا جاتاہے ۔لوگ اس میں باقاعدہ تقریب کےانداز میں آتے ہیں،حاضرین میں علیحدہ علیحدہ تیس پارے بانٹ دیے جاتے ہیں ۔پڑھنے کےبعد دعوت اڑائی جاتی ہے ۔ بعض لوگ ختم بھی پڑھواتے ہیں اور بعض لوگ رشتہ داروں کی بجائے مدارس کےبچوں کوگھر میں بلالیتے ہیں اور بعض مدرسہ میں ہی بیٹھ کر قرآن خوانی کرنے کا کہہ دیتے ہیں ۔اور بعض لوگ گھروں میں سیپارے بھیج دیتے ہیں۔ مردوں کو ثواب پہنچانے والے اس طرح کےتمام امور شریعت کےخلاف ہیں اور محض رسم ورواج کی حیثیت رکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس قرآن خوانی کا میت کوثواب نہیں پہنچتا۔ البتہ قرآن پڑھنےکے بعد میت کے لیے دعا کرنے سے میت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ہمارے ہاں جو اجتماعی طور قرآن خوانی ایک رواج ہے جس کا قرآن وحدیث سے کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ احادیث کی رو سے چند ایک چیزوں کا ثواب میت کو پہنچتا ہے جن کی تفصیل حسب ذیل ہے ۔1۔کسی مسلمان کا مردہ کےلیے دعا کرنا بشرطیکہ دعا آداب وشروط قبولیت دعا کے مطابق ہو۔2 میت کے ذمے نذرکے روزے ہوں جو وہ ادا نہ کرسکا تو اس کی طرف سے روزے رکھنا بھی باعث ثواب ہے ۔3 نیک بچہ جوبھی اچھے کام کرے گا والدین اس کے ثواب میں شریک ہوں گے۔4مرنے کے بعد اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑجانے سےبھی میت کو ثواب ملتا ہے،صدقہ جاریہ بھی اس میں شامل ہے ۔زیر تبصرہ کتابچہ ’’ قرآن خوانی ‘‘ محترم ام عبد منیب صاحبہ کی اصلاح عقائد کےسلسلے میں اہم کاوش ہے جس میں انہو ں نے قرآن واحادیث اور علماء کرام کے فتویٰ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ جو شخص قرآن خوانی یا مختلف قسم کےاوراد وظائف پڑھ کرکسی دوسرے کے لیے ایصالِ ثواب کرتا ہے یا غیر مسنون طریقے سے ان سب کاذکر اور تلاوت کرتا ہے تویہ سب امور رسول اللہ ﷺکی سنت سے انحرف ہے۔اللہ تعالی ٰ اس کتابچہ کو عوام الناس کی اصلاح ذریعہ بنائے (آمین) (م۔ا)
سوگ اور تعزیت قرآن و سنت کی روشنی میں
Authors: ام عبد منیب
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اور دستور زندگی ہے ،جس میں زندگی کے ہر ہر گوشے سے متعلق راہنمائی موجود ہے۔اس کی ایک اپنی ثقافت ،اپنی تہذیب اور اپنا کلچر ہے ،جو اسے دیگر مذاہب سے نمایاں اور ممتاز کرتا ہے۔لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے پاکستانی اور ہندوستانی معاشرے میں ہندوانہ رسوم ورواجات کا چلن عام ہے۔جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بہت سارے لوگ ہندو مذہب سے مسلمان ہوئے ہیں اور ہمیشہ سے ہندووں کے ساتھ رہتے بستے چلے آ رہے ہیں۔وہ مسلمان تو ہو گئے لیکن ان کے عام رسم ورواج ہندوانہ ہی رہے۔بعض ہندوانہ رسمیں اسلامی پیوندکاری کے ساتھ جاری وساری ہیں۔انہی ہندوانہ رسول ورواجات میں سے ایک میت کے تیسرے دن کھانے کا اہتمام کرنا ،مولوی صاحب سے ختم پڑھوانا اور تبرکا چنے اور پھل مکھانے تقسیم کرنے کا عمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سوگ اور تعزیت "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں سوگ اور تعزیت کرنے کے مسنون طریقے پر گفتگو فرمائی ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
سوتیلی ماں اور اولاد
Authors: ام عبد منیب
’’ ماں ‘‘ محض ایک لفظ نہیں بلکہ محبتوں کا مجموعہ ہے۔ ’’ ماں ‘‘کا لفظ سنتے ہی ایک ٹھنڈی چھاوں اور ایک تحفظ کا احساس اجاگر ہوتا ہے ۔ ایک عظمت کی دیوی اور سب کچھ قربان کردینے والی ہستی کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ ’’ ماں ‘‘ کے لفظ میں مٹھاس ہے۔ انسانی رشتوں میں سب سے زیادہ محبت کرنے والی ہستی ماں کی ہے۔ ماں خدا کی عطا کردہ نعمتوں میں افضل ترین نعمت ہے۔ تہذیبی روایات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمارے ہر دن کو ہماری ماں کی دعاوں کے سائے میں طلوع ہونا چاہیے۔ قرآن حکیم اور دوسرے تمام الہامی صحیفوں میں ’’ماں ‘‘ کا تقدس سب کی مشترکہ میراث ہے۔لیکن یہ ماں جب اللہ کے اٹل فیصلے کے مطابق اس دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو بچے کی دنیا اجڑ جاتی ہے ۔انسان ایک دم لٹا پتا سا،بے سہارا ،بکھرا بکھرا سا اپنے آپ کو خالی خالی سا محسوس کرتا ہے۔اللہ تعالی نے اس کا متبادل رشتہ سوتیلی ماں کا رکھا ہے۔سوتیلا یا سوتیلی کا لفظ ہی ایسا ہے کہ جسے سن کر کسی بھی ذہن میں کبھی اچھا تاثر قائم نہیں ہوتا۔مگر بعض سچائیاں ایسی ہیں کہ انہیں قبول کرنا ہی پڑتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " سوتیلی ماں اور اولاد "معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں سوتیلی ماں کے اپنی سوتیلی اولاد کے ساتھ اچھے رشتے کے حوالے سے گفتگو کی ہے،ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ معاشرے میں یہ کوئی اچھا رشتہ نہیں سمجھا جاتا ہے لیکن اگر شریعت کے مطابق اس کو بسر کیا جائے تو اولاد کو حقیقی ماں کا پیار بھی مل سکتا ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’ مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)
لیس الذکر کا الانثی
Authors: ام عبد منیب
In Arguments
آج سے تقریبا تین سو برس قبل پورپ میں جدید تحریک نسواں کا آغاز ہوا۔ جس میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ مرد اور عورت میں سماجی ذمہ داریوں اور تخلیقی صلاحیتوں کےلحاظ سے کوئی فرق نہیں ۔اگر مرد صدر یا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو عورت بھی بن سکتی ہے ۔اگر مرد پر معاشی بوجھ ڈالا گیا ہے تو عورت بھی یہ بوجھ اٹھا سکتی ہے ۔اگر مرد جہاز اڑا سکتا ہے ،غوطہ زنی کر سکتا ہے ، مشینیں ٹھیک کر سکتا ہے ،کرکٹ ،اسکوائش ،پولو،ہاکی ،جوڈو کراٹے کھیل سکتاہے ،اگر مرد کار چلانے ،گھوڑے دوڑانے اور خود اپنی ٹانگوں کے بل دوڑنے کا مقابلہ کر سکتا ہے توپھر عورت پر ان تمام پیشوں اور مشغلوں کےدروازے بند کیوں؟اور جب عورت بھی مردکی طرح انسان ہے توپھر اس پر ایسی معاشرتی پابندیاں کیوں عائد کی گئی ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گومرد اور عورت کو ایک ہی نوع قرار دیا ہے لیکن صنفی لحاظ سے دونوں میں فرق رکھا ہے۔ یہ فرق طبی،طبعی ،سماجی نفسیاتی ،جذباتی غرض ہر لحاظ سے ہے اور اس فرق کو دنیا کاکوئی انسا ن ختم نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد:’’َلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى‘‘اس کی واضح دلیل ہے۔ زیر نظر کتاب محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس تخلیقی فرق ہی کی تائید میں مرتب کی ہے ۔کتاب کے پہلے حصے میں مغربی معاشرے کے دانشووروں ،فلسفیوں، ڈاکٹروں، سائنس دانوں اور ماہر نفسیات کی آراء پیش کی گئی ہیں۔ نیز عورت اور مرد میں جسمانی اور عادات کے لحاظ سے جس نوعیت کابھی فرق پایا جاتا ہے اسے بیان کیا گیا ہے ، اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ قرآن وسنت میں تخلیقی فرق کہاں کہاں ہے او ر اس تخلیقی فرق کی وجہ سے دونوں کی ذمہ داریوں میں بھی فرق ہے اور ذمہ داریوں کے فرق کی وجہ سے دونوں کے لیے شرعی احکام میں بھی فرق رکھا گیا ہے۔اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عام انسانی حقوق کے لحاظ سے دونوں کوبرابر کی سطح پررکھا ہے۔ نیز ایمان وعمل او رجزا وسزا کے لحاظ سےبھی دونوں کے لیے برابری رکھی ہے لیکن دونوں کی ذمہ داریاں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنفہ کی اس کاوش کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے ۔ اور ہمارا مسلمان معاشرہ اس حقیقت سے اگاہ ہو جائے کہ مرد اور عورت کی ذمہ داریاں مختلف ہیں، انہیں ایک جیسی ذمہ داریاں نہیں دی جاسکتیں۔(م۔ا)