Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
صنف مخالف کی مشابہت ایک مہلک بیماری

Authors: ام عبد منیب

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

دور ِحاضر میں مغرب میں ظاہری طور پر مرد اور عورت کا فرق مٹ چکا ہے مساوات کے جنون میں عورتیں مردوں کی طرح اور مرد عورتوں کی طرح نظر آنے اورکام کرنے کےجنون میں مبتلا ہوچکے ہیں۔لوگ آپریشن کروا کر اور زنانہ یا مردانہ ہارمونز کے انجکشن لگوا کر اپنی جنس تبدیل کروا رہے ہیں۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے تخلیق کردہ قوانین فطرت میں بے جار ردوبدل کرنےکی گستاخانہ ،مشرکانہ اور سفاکانہ حرکات جاری ہیں۔صنف نازک کی مشابہت کا مطلب یہ ہے کہ مردکاعورت کی اورعورت کا مرد کی نقالی کرنا مرد کازنانہ چیزیں اور عادتیں جب کہ عورت کامردانہ چیزیں اور عادتیں اختیار کرنا ہے۔مشابہت ایک شرعی اصطلاح ہے جسے تشبہ بھی کہا جاتاہے ۔اگر کوئی شخص اپنا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار اپنی صنف یا ہم پیشہ لوگوں کے علاوہ کسی اورکا لباس ،حلیہ ،لہجہ ،چال ، بناؤ سنگھار اپنا لے تو اسے تشبہ یا مشابہت کہا جاتا ہے اسلام نے مشابہت یا تشبہ اختیار کرنے سے منع کیا ہے ۔ارشاد نبوی ہے من تشبه بقوم فهو منهم(سنن ابو داؤد) ’’جس نے کسی کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے ‘‘ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے مخنث مردوں پر اور اسی طرح مرد بننے والی عورتوں پر بھی لعنت کی ہے۔اس لیے صنف مخالف کی مشابہت حرام اورممنوع کام ہے ۔اس کی روک تھام کےلیے اسلامی حکومت او رمسلمان شہروں کےسربراہوں،امیروں،عاملوں اور کوتوالوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ماتحت علاقوں اورلوگوں میں دین کی تعلیمات عام کریں ،انہیں ممنوعات اور منکرات سے روکیں اور معروف کاموں کی تلقین کریں۔ مسلمان امراء کو چاہیے کہ مصنوعات تیارکرنے والی کمپنیوں پر یہ پابندی عائدکریں کہ وہ لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے الگ الگ شرعی احکام کے مطابق اشیاء تیار کریں۔اگر پھربھی باز نہ آئیں تو پھر انہیں سزادیں جو رسول اللہ ﷺ نے صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے والے مردوں کودی ۔سیدنا ابو ھریرہ ﷜ سے روایت ہے کہ نبیﷺکے پاس ایک مخنث کو لایاگیا جس نے ہاتھ پاؤں پر میں مہندی لگائی ہوئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا : یہ ایسا کیو ں کرتا ہے ۔صحابہ کرام ﷢ نے عرض کیا: یہ عورتوں کی مشابہت کرتا ہے ۔ آپ ﷺ نے اسے نقیع(چراہ گاہ) کی طرف بگا دینے کا حکم دیا ۔ اور اسی طرح صحابہ کرام کے دورِ خلافت میں میں بھی عورتوں کی نقالی کرنے والے مردوں کو یہی سزا دی جاتی رہی ۔زیر نظر کتابچہ ’’ صنف مخالف کی مشابہت ایک مہلک بیماری ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے صنف مخالف کی مشابہت اختیار کرنے کی شرعی حیثیت اور اس کے مہلک نتائج واثرات کو پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ان امور کو بھی ذکر کیا ہے جن کی مشابہت سے ایک مسلمان کو گریز کرنا چاہیے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محتر م عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

ماہ ذو الحجہ کے فضائل

Authors: ام عبد منیب

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ماہ ذوالحجہ قمری تقویم کے لحاظ سے سال کا بارہواں اور آخری مہینہ ہے ۔ چونکہ اس ماہِ مبارک میں حج جیسا عظیم فریضہ انجام دیا جاتا ہے اس لیے اس کا نام حج ہی کی مناسبت سے مشہور ہے ۔اس ماہ ِمبارک میں عشرہ ذوالحجہ کے ایام بڑے ہی اہمیت وفضیلت والے ہیں۔جسے نبی کریم ﷺ نے سال بھر کے دیگر ایام سے افضل قرار دیا ہے ۔اور اسی طرح اس میں ایام تشریق جیسے اہم دن بھی شامل ہیں ۔اس میں بنیادی عبادات نماز، روزہ، صدقہ، حج ،قربانی جیسی اہم عبادات کی جاتی ہیں اس لیے اس کی بڑی اہمیت وفضیلت ہے۔حج بیت اللہ ارکانِ اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبوی ہےکہ آپ ﷺنےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ماہ ذوالحجہ کے فضائل‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے جس میں انہوں نے ماہ ذوالحجہ کی فضائل ومسائل کو قرآن حدیث کی روشنی میں عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ جس سے عام قارئین بھی مستفید ہو سکتے ہیں ۔ اللہ تعالی ٰ محترمہ کی تمام دینی ،تبلیغی،تحقیقی وتصنیفی خدمات کوشرف قبولیت سے نوازے ۔آمین(م۔ا)

حج میں چہرے کا پردہ

Authors: ام عبد منیب

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

قرآن حکیم میں عورت پر باہر نکلتے وقت جلباب (ایسا کپڑا جو اس کے جسم ،سر پاؤں اور زینت کوڈھانپ لے ) کو اوڑھنا فرض قرار دیا گیا ہے ۔ لہذا عورت جب احرام کی حالت میں باہرنکلتی ہے تو بھی اس جلباب سے جسم اور چہرہ ڈھانپنا فرض ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں دورانِ حج جلباب نہ اوڑہنے کا کوئی حکم نہیں ملتا۔دوران ِ احرام عورت پر نقاب(سلا ہوا وہ مخصوص کپڑا جوصرف چہرے کوچھپانے کے کام آتاہے ) باندھنا اسی طرح ممنوع ہے جس طرح دستانے یا زغفران سےرنگے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے یاجس طرح مرد پر دوران ِ احرام سر ڈھانپنایا سلے ہوئے کپڑے پہننا یا ٹخنے ڈھانپ لینے والے جوتے پہننا ممنوع ہے۔ نقاب ایک مخصوص کپڑے کا نام ہے حجاب کا نام نہیں۔ دورانِ احرام عورت پر نقاب باندھنا ممنوع ہے لیکن حجاب دورانِ حج ہو یا اس کے علاوہ ہر حالت میں اس پر فرض ہے۔ لہذا وہ دورانِ احرام بھی حجاب (چہرے کاپردہ) کرنے کی پابند ہے۔ جیسا کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓ عنہا دوران ِحج اپنی جلباب(بڑی چادر) کو مردوں کےسامنے پر چہرے پر ڈال لیتی تھیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اسی مذکورہ مسئلہ کو قرآن واحادیث اور علمائے اسلام کے فتاویٰ کی روشنی میں اختصار کےساتھ عام فہم انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی اسے عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے۔آمین( م۔ا)

قربانی کے مسائل

Authors: ام عبد منیب

In Worship and matters

By Al Noor Softs

قربانی وہ جانور ہے جو اللہ کی راہ میں قربان کیا جائے اور یہ وہ عمل ذبیحی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کاقرب حاصل کیا جائے ۔تخلیق ِانسانیت کے آغازہی سے قربانی کا جذبہ کار فرما ہے ۔ قرآن مجید میں حضرت آدم﷤ کے دو بیٹوں کی قربانی کا واقعہ موجود ہے۔اور قربانی جد الانبیاء سیدنا حضرت ابراہیم ﷤ کی عظیم ترین سنت ہے ۔یہ عمل اللہ تعالیٰ کواتنا پسند آیا کہ اس عمل کوقیامت تک کےلیے مسلمانوں کے لیے عظیم سنت قرار دیا گیا۔ قرآن مجید نے بھی حضر ت ابراہیم ﷤ کی قربانی کے واقعہ کوتفصیل سے بیان کیا ہے ۔ پھر اہلِ اسلام کواس اہم عمل کی خاصی تاکید ہے اور نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر قربانی کے اہم فریضہ کو ادا کیا اور قرآن احادیث میں اس کے واضح احکام ومسائل اور تعلیمات موجو د ہیں ۔ اللہ تعالی کےہاں کوئی بھی عبادت کا عمل تب ہی قابل قبول ہوتا ہے کہ جب اسے نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق کیا جائے۔ کیوں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات ِمبارکہ تمام اہل اسلام کے لیے اسوۂ حسنہ ہے ۔عبادات میں سے اہم عبادت عید الاضحیٰ کے دن جانوروں کواللہ تعالی کی رضا کے لیے ذبح کرنا ہے اس سلسلے میں ہمارے معاشرے میں بہت سی کتاہیاں پائی جاتی ہیں۔ زیر نظر کتابچہ ’’ قربانی کے احکام مسائل ‘‘ محترمہ ام عبدمنیب صاحبہ کا مرتب شدہ ہے۔ جس میں انہوں نے عام فہم انداز میں قربانی کے جملہ احکام ومسائل کو بیان کردیا ہے۔ قارئین اس سے استفادہ کر کے قربانی کےسلسلے میں معاشرہ میں پائی جانے والی کتاہیوں کی اصلاح کرسکتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کے لیے اسے مفید بنائے۔آمین( م۔ا)

دیور اور بہنوئی

Authors: ام عبد منیب

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دیور اور بہنوئی یہ دونوں رشتے بھی بڑے عجیب ہیں۔ایک رشتہ بہن کا خاوند ہے تو دوسرا خاوند کا بھائی ہے۔خاوند اور بہن دونوں ہی انتہائی قریبی رشتے ہیں۔اس لئے دیور اور بہنوئی کی اہمیت بھی مسلم ہے۔موجودہ معاشرے میں ان سے تعلقات کی نوعیت جو بھی ہو دونوں میں ایک قدرِ مشترک ضرور ہے کہ سالی کا بہنوئی سے اور دیور کا بھابھی سے ہنسی ،مذاق اور بے تکلفی اور بعض اوقات تو یہ مذاق بے ہودگی اور بے حیائی تک جا پہنچتا ہے۔اسلامی معاشرت میں باہمی ادب واحترام اور شائستگی کو اولیت حاصل ہے،اس لئے بیہودہ گفتگو یا غیر شائستہ مذاق کی کسی رشتے کے ساتھ کوئی گنجائش نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " دیور اور بہنوئی"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےدیور اور بہنوئی کے ساتھ تعلقات کی حدود وقیود اور ان سے شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔کیونکہ وہ قریبی رشتہ دار ہونے کے باوجود اس عورت کے لئے نامحر م ہی رہتے ہیں ،جن سے پردہ کرنا از حد ضروری اور فرض ہے۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

شادی شوہر اور سنگھار

Authors: ام عبد منیب

In Knowledge

By Al Noor Softs

بننا سنورنا عورت کی فطرت میں داخل ہے،اور اس کے لئے یہ کام ہر معاشرے میں جائز سمجھا گیا ہے۔لیکن مصیبت یہ ہے کہ بننے سنورنے کے ساتھ ہی عورت میں یہ خواہش شدت سے انگڑائیاں لینے لگتی ہے کہ کوئی دوسرا شخص اس کے بننے سنورنے کو دیکھے اور پھر اس کے سراپے حسن ،لباس اور زیور وغیرہ کی تعریف بھی کرے۔عورت کی اس فطری خواہش کو اللہ تعالی نے اس طرح لگام دی ہے کہ ہر شادی شدہ عورت کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کے بن سنور کر رہے ،تاکہ شوہر اس کے حسن ونزاکت سے لطف اندوز ہو ،اس کو دیکھ کر مسرور ہو اور اس کے دل میں بیوی کی محبت دو چند ہو جائے۔ زیر تبصرہ کتاب " شادی ،شوہر اور سنگھار"معروف مبلغہ داعیہ،مصلحہ،مصنفہ کتب کثیرہ اور کالم نگار محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی تصنیف ہے ۔ جس میں انہوں نےعورت کے لئے بننے سنورنے کی حدود وقیود اور شرعی پردے کی اہمیت وضرورت پر گفتگو کی ہے ۔اللہ نے ان کو بڑا رواں قلم عطا کیا تھا،انہوں نے سو کے قریب چھوٹی بڑی اصلاحی کتب تصنیف فرمائی ہیں۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ محمد مسعود عبدہ  کی اہلیہ ہیں ۔ موصوف تقریبا 23 سال قبل جامعہ لاہور الاسلامیہ میں عصری علوم کی تدریس کرتے رہے اور 99۔جے ماڈل ٹاؤن میں بمع فیملی رہائش پذیر رہے ۔موصوف کے صاحبزادے محترم عبد منیب صاحب نے اپنے طباعتی ادارے ’’مشربہ علم وحکمت ‘‘ کی تقریبا تمام مطبوعا ت محدث لائبریری کے لیے ہدیۃً عنائت کی ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے۔ آمین(راسخ)

منگنی اور منگیتر

Authors: ام عبد منیب

In Knowledge

By Al Noor Softs

منگیتر منگنی سے ماخوذ ہے ۔ یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔نکاح سے قبل لڑکے اور لڑکی کے والدین باہم یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کردیں گے ۔ اس عہد کا نام ہمارے معاشرے میں منگنی ہے او رایسے لڑکے یا لڑکی کو ایک دوسرے کا منگیتر کہا جاتاہے ۔منگنی کابظاہر مقصد تو صرف اتنا ہے کہ لوگوں پریہ عیاں ہو جائے کہ فلاں کے بیٹے کی فلاں کی بیٹی سے نکاح کی بات ٹھر گئی ہے ۔لہذا کوئی دوسرا پیغام بھیجنے یاایسا وعدہ لینے کی غلطی نہ کرے ۔لیکن دور حاضر میں اتنی پر تکلف ،مہنگی اور مشکل رسومات کا کوئی مقصد سمجھ میں نہیں آتا سوائے ریا کاری یا نمود ونمائش کے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ منگنی اور منگیتر ‘‘محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کا مرتب شد ہ ہے۔جس میں انہوں نے منگنی کےسلسلے میں ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی ہندوانہ رسومات کا ذکر تے ہو ئے اس کے متعلق شرعی احکام ومسائل کودلائل کی روشنی میں پیش کیا ہے۔ جس کے مطالعہ سے مروجہ رسوم ورواج سے بچا جاسکتا ہے۔۔ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے اصلاحی موضوعا ت پر بیسیوں کتابچہ جات تحریر کیے ہیں جن میں سے بعض تو کتاب وسنت ویب سائٹ پر موجود ہیں باقی بھی عنقریب اپلوڈ کردئیے جائیں گے۔ محترم عبد منیب صاحب (مدیر مشربہ علم وحکمت،لاہور) نے اپنے ادارے کی تقریبا تمام مطبوعات ویب سائٹ کے لیے ہدیۃً عنایت کی ہیں اللہ تعالی اصلاح معاشرہ کے لیے ان کی تمام مساعی کو قبول فرمائے ۔آمین( م ۔ا)

ولیمہ ایک مسنون دعوت

Authors: ام عبد منیب

In Knowledge

By Al Noor Softs

ولیمہ ایک دعوت ہے جو رشتہ ازدواج سےمنسلک ہونے کی خوشی میں مسلمان مرد کی طرف سےکی جاتی ہے اس دعوت میں کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں مثلاً دعوت ولیمہ کرنےسے لوگوں کومعلوم ہوجاتا ہے کہ ولیمہ کرنے والے مرد نے نکاح کیا لہٰذا اس پر کو ئی شک نہیں کر سکتا کہ نامعلوم وہ کون سی اور کیسی عورت کے ساتھ رہ رہا ہے او ر دعوت ولیمہ کرنے میں بیوی کی عزت افزائی کااظہار پایا جاتا ہے ،دوستوں پڑوسیوں اور رشتہ داروں کی دعوت کرنے سے خوشی کالطف دوبالا ہوجاتا ہے،شادی خانہ آبادی یعنی نئے گھر کے آغاز پر مل کر اظہار محبت اور برکت حاصل کی جاتی ہے ،بہت سےنادار ، بھوکے اور مفس لوگوں کوکھانا مل جاتا ہے اور وہ بھی اس خوشی میں شریک ہوجاتے ہیں ۔حدیث نبوی کے مطابق سب سے برا ولیمہ وہ ہے جس میں مالداروں کوبلایا جائے او رناداروں کودعوت نہ دی جائے۔ زیرنظر کتابچہ ’’ ولیمہ ایک مسنون دعوت‘‘ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ کی اصلاح معاشرہ کے سلسلے میں ایک اہم کاوش ہے جس میں انہوں اپنے دعوتی واصلاحی اندازمیں مسنون دعوت ولیمہ کو بیان کرنے کےساتھ دعوت ولیمہ کے سلسلے میں کیے جانے والے غیرشرعی امور اور قباحتوں،رسوم ورواج کی بھی نشاندہی کی ہے اللہ تعالی ٰ ان کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور عوام الناس کی اصلاح کاذریعہ بنائے ۔ آمین( م۔ا)

خریدیں اور جیتیں

Authors: ام عبد منیب

In Knowledge

By Al Noor Softs

خریدیں اور جیتیں آج کل اشتہاری دنیا کا مقبولِ عام بول ہےجس کے اندر اس قدر کشش ہےکہ ہر بچہ اور بوڑھا ، مرد عورت اس کی طرف بے تابانہ کھنچا چلا آتاہے جیسے ہی ٹی وی سے یہ آواز سنائی دیتی ہے تمام ناظرین ہمہ تہ دید ہوجاتے ہیں۔بڑے بڑے عقل مند تعلیم یافتہ صارفین بھی ان اشتہاری بولوں کو سن کر اپنی عقل ودانش سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔روزانہ ہزاروں اشتہار سکرین پر بار بار نمودار ہوتے ہیں ۔ اخبارات ورسائل کےپورے پورے صفحے پر قبضہ کیے صارفین کامال ہتھیانے کےلیے انعامات کی دوڑ میں شامل ہونے کی ترغیب دے رہے ہوتے ہیں ۔مصنوعات تیار رنے والی کمپنیاں انعامات اور جیتنےکے جو اشتہارات دیتی ہیں ۔ انہیں انعامی سکیمیں کہاجاتا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے توانعامات کی اس دوڑ کے بہت سے شرعی ،معاشرتی،معاشی اورنفسیاتی نقصانات ہیں۔ زیر نظر کتابچہ میں محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نے مختلف کمپنیوں کی طرف سے اپنی مصنوعات کو فروخت کرنے کے لیے جو ناجائز ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں ان کےنقصانات اور ان کا شرعی دلائل کی روشنی میں جائز ہ پیش کیاہے۔ اللہ تعالیٰ محترمہ کی اس کاوش کو عوام النا س کےلیے نفع بخش بنائے، آمین۔ (م۔ا)