Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
معلم القرآن
Authors: پروفیسر عبد الرحمن طاہر
قرآن فہمی کو آسان تر بنانے کےلیے پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر نے ’مفتاح القرآن‘ اور ’مصباح القرآن‘ کے نام سے جدید اور منفرد نظام متعارف کرایا۔ اس کے بعد انھوں نے زیر نظر کتاب کی صورت میں اسی طریقہ کار پر مبنی ایک ایسا شارٹ کورس مرتب کیا ہے جو عام لوگوں کو قرآن فہمی کی طرف راغب کرنےاور سکولوں اور کالجز کے طلبہ و طالبات کو ان کے ترجمہ قرآن کےنصاب کو آسان طریقے سے سمجھانے میں ان کی مدد دے گا۔ اس میں ’مفتاح القرآن‘ میں پیش کردہ بعض ضروری علامات کو بیان کیا گیا ہے،طوالت سے بچنے کے لیے قرآنی آیات کو ختم کر کے علامات والی قرآنی مثالوں کو ذکر کیا گیا ہے۔ ہر سبق کے آخر میں اس جدید طریق سے نماز کا ترجمہ سمجھانے کے لیے نماز کے اسباق کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ آخر میں علامات کو رنگ دے کر چند منتخب آیات بطور نصاب درج کی گئی ہیں اور ان آیات کو پڑھنے کا جدید طریقہ سمجھانے کے لیے نمونے کے دو سبق درج کر کے اساتذہ کی رہنمائی کی گئی ہے (ع۔م)
مصباح الصلوٰۃ
Authors: پروفیسر عبد الرحمن طاہر
In Arguments
’مصباح الصلاۃ‘ سے قبل ہم قارئین کتاب و سنت ڈاٹ کام کے لیے ’مصباح القرآن‘ کے نام سے پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر کے جدید اسلوب میں تیار کیے گئے ترجمہ قرآن کو پیش کر چکے ہیں۔ جس میں انھوں نے گرامر کے بغیر عوام الناس کو ترجمہ قرآن سے آگاہی دلانے کی سعی کی۔ نماز چونکہ ہر مسلمان پر ایک دن میں پانچ بار فرض ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ نماز کو بھرپور توجہ ، یکسوئی اورمکمل انہماک کے ساتھ ادا کیا جائے۔ اسی کے باوصف مولانا نے اسی طرز پر نماز کا ترجمہ سکھانے کے لیے زیر نظر کتاب مرتب کی ہے۔ مولانا نے نماز اور اس سے متعلقہ دیگر دعائیں مثلاً مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے، وضوکی دعائیں، اذان کے کلمات اور اذان کے بعد کی دعائیں وغیرہ کو کتاب میں رقم کیا ہے اور تین طرز کے رنگوں(کالا، نیلا،سرخ) کی مدد سے ساتھ ساتھ ان کا اردو ترجمہ دے دیا ہے۔ ان رنگوں کی تفصیل کتاب کےابتدائی صفحات پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ سامنے والے دوسرے صفحہ پر عربی الفاظ کو دوبارہ Break up کر کے خانوں میں درج کیا گیا ہے۔ ہر لفظ کو الگ الگ رنگ دے کر ترجمہ واضح کیا گیا ہے۔ کتاب سے استفادے کے لیے کتاب کے شروع میں دی گئی علامات کو پڑھنا بہت ضروری ہے۔ گرامر کے بغیر صرف علامات کے ذریعے ترجمہ نماز اور دیگر دعائیں سکھانے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے جو عوام الناس کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔(ع۔م)
تمرین القرآن
Authors: پروفیسر عبد الرحمن طاہر
ہمارے ہاں عموماً یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ قرآن مجید چونکہ عربی زبان میں ہے اور ہم عربی زبان سے ناواقف ہیں لہٰذا ہمارے لیے اس کےمعنیٰ و مفہوم کو جاننا ممکن نہیں ہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ قرآن مجید کو سمجھنا صرف علما کا کام ہے۔ پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر نے ’مفتاح القرآن‘ اور ’مصباح القرآن‘ کے ذریعے قرآن فہمی کا ایک جدید طریقہ متعارف کرایا۔ ’مفتاح‘ اور ’مصباح‘ کےاس جدید نظام کو طلبہ کے ذہنوں میں مزید پختہ کرنے کے لیے اب ’تمرین القرآن‘ کے نام سے زیر نظر ’ورک بک‘ پیش کی جا رہی ہے ۔ جس کی بدولت Vocabulary میں اضافے کے ساتھ علامات بھی ذہن نشین ہو جائیں گی۔ اس ’ورک بک‘ میں دو رنگوں کا استعمال کیا گیاہے نیلا رنگ علامات کو نمایاں کرنے یا سوال میں مطلوبہ لفظ کے ساتھ زائد اجزا کو الگ کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے تاکہ مطلوبہ لفظ نمایاں ہو جائے۔ اس سے طلبہ کو ترجمہ قرآن سیکھنے کی عملی مشق ہوگی وہیں ان کے معاملات، اخلاق و کردار اور معاشرتی زندگی کی بھی اصلاح ہو جائے گی۔(ع۔م)
مصباح القرآن پارہ 1
Authors: پروفیسر عبد الرحمن طاہر
پاکستان میں قرآن مجید کے اردو ترجمہ اور تفہیم کے حوالے سے بہت سے لوگ اور مراکز اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر کا شمار بھی ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو عوام الناس کو قرآن کے ترجمہ سے آگاہ کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ ’مصباح القرآن‘ کی شکل میں انھوں نے قرآن مجید کے ترجمہ کو آسان اور سائنٹفک انداز میں سکھانے اور پڑھانے کی سبیل نکالی ہے۔ ترجمہ قرآن میں یقیناً ایک نئے اور مفید اسلوب سے آراستہ یہ کوشش قرآنی مطالب کو عام کرنے اور ایک طالب قرآن کو معانی و مفاہیم سے آشنا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ اس میں ترجمہ قرآن کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے اس میں روز مرہ زندگی میں اردو زبان میں استعمال ہونے والے 65 فیصد الفاظ کو سیاہ رنگ میں پیش کیا گیا ہے، تکرار کے ساتھ استعمال ہونے والے 20 فیصد الفاظ کو نیلا اور 15 فیصد دوسرے اہم الفاظ کو سرخ رنگ میں پیش کر کے ان کے فہم کے الگ الگ ادارے متعین کر دئیے ہیں تاکہ ایک استاد یا طالب قرآن ان کی مدد سے ان کا خصوصی فہم حاصل کر لے، یوں اسی صفحے کے مقابل صفحہ پر پھر انھی تین رنگوں میں تقسیم الفاظ قرآن کے معانی کو بھی ’مفتاح‘ کے اصولوں کے مطابق انھی رنگوں میں قواعد کی تقسیم اور جوڑ توڑ کے پیرائے میں یوں درج کیا گیا ہے کہ کسی آیت شریفہ کا کوئی لفظ یا ان لفظوں کے مزید کسی گرامر میں منقسم حصے کی تعیین، تشریح اور تفہیم بہت واضح اور دلچسپ ہوگئی ہے۔ ترجمہ میں رنگوں کا استعمال قرآنی الفاظ کے رنگوں کے مطابق کیا گیا ہے، بعض الفاظ کی ضروری وضاحت بھی حاشیہ میں کر دی گئی ہے۔ ’مصباح القرآن‘ کو پڑھنے سے قبل اگر پروفیسر صاحب کی کتاب ’مفتاح القرآن‘ میں بیان کردہ علامات کو سمجھ لیا جائے تو قرآن فہمی میں یقیناً بہت بہتر نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ’مفتاح القرآن‘ کتاب و سنت ڈاٹ کام پر آپ یہاں سے ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔(ع۔م)
مفتاح القرآن
Authors: پروفیسر عبد الرحمن طاہر
In Arguments
قرآن کریم کو سمجھنے اور اس کو دوسروں کو سمجھانے کے لیے اب تک ان گنت علوم کی داغ بیل ڈالی جا چکی ہے۔ اس ضمن میں عربی گرامر اور قواعد زبان کی گزشتہ چودہ سو سالہ تاریخ میں اپنے اپنے زمانے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہزاروں کتب لکھی گئیں۔ گزشتہ پچاس سالوں میں عرب میں یہ احساس شدت کے ساتھ مسلمانوں کے دلوں میں جاگزیں ہوگیا کہ تدریس قواعد کا سلسلہ اطلاقی ہونا چاہئے لہٰذا اس سلسلہ میں کافی حد تک کامیاب کوششیں بھی ہوئیں۔ برصغیر میں بھی اس ضرورت کو محسوس کیا گیا اور عام فہم انداز میں عربی قواعد کو بیان کرنے کی کوششیں سامنے آئیں۔ زیر نظر کتاب اس سلسلہ کی پروفیسر عبدالرحمٰن طاہر صاحب کی جانب سے کی جانے والی ایک مستحسن کوشش ہے۔ جس میں انھوں نے قرآنی تفہیم کےلیے عربی گرامر کے دقیق مسائل کو علامتوں کے ذریعے نہایت آسان انداز میں بیان کر دیا ہے۔ جو لوگ گرامر کو مشکل سمجھتے ہیں ان کو نہایت آسان راستہ مہیا کیا گیا ہے یعنی قرآن کے مطالب تک بذریعہ علامات پہنچنے کی کوشش کی گئی ہے، یہ علامتیں بار بار استعمال ہونے کی وجہ سے خود بخود یاد ہو جاتی ہیں اس طرح گرامر کے بغیر ہی قرآن کو سمجھنے میں کافی حد تک مدد مل جاتی ہے یہ آسان فہم ہونے کے ساتھ ایک منفرد طریقہ بھی ہے۔ پروفیسر صاحب کی اختیار کردہ اس جدید تکنیک نے قارئین کرام کو عربی گرامر کے رسمی تعلم سے کسی حد تک بے نیاز کر دیا ہے ’مفتاح القرآن‘ میں اختیار کیا جانے والا یہ طریق کار قرآن مجید کے ان قارئین کی جھجک دور کرنے میں معاون ہوگا جو قرآن پاک کا مطالعہ اپنے طور پر کرنا چاہتے ہیں۔(ع۔م)
قواعد القرآن
Authors: پروفیسر عبد الرحمن طاہر
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اور قرآن مجید انسانوں کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے جوعربی زبان میں ہے اور یہ بات عربی زبان کی سعادت کےلیے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب کے لیے اس کا انتخاب فرمایا۔ چنانچہ اس کتاب کے فہم کےلیے عربی زبان کےبنیادی قواعد وگرائمر کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔ہمارے ہاں عام تاثریہ ہے کہ عربی زبان او راس کے قواعد نہایت مشکل ہیں ۔مگرحقیقت یہ ہے کہ اس زبان کا سیکھنا دوسری زبانوں کی نسبت بہت آسان ہے ۔ ماہر لسانیات کابھی کہنا ہے کہ عربی زبان گرامر کے لحاظ سے دنیا کی تمام زبانوں سے زیادہ آسان اور دلچسپ ہے ۔اللہ تعالیٰ کا بھی ارشاد ہے : وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ(القمر:17) ’’تحقیق ہم نے قرآن کو نصیحت کےلیے نہایت آسان کردیا ہے ۔پس کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا۔‘‘ قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصرِ حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور وغیرہ اور بالخصوص مولانا عطاء الرحمن ثاقب شہید (فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’قواعد القرآن ‘‘بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔جسے حافظ عبد الوحید ﷾( فاضل جامعہ لاہور الاسلامیہ ،لاہور ،مدیر دارالفلاح،لاہور) اور ان کےرفقاء نے فہمِ قرآن کے مبتدی طلبہ وطالبات کےلیے مرتب کیا ہے اور یہ کتاب دارالفلاح کے نصاب میں شامل ہے ۔اس کتاب میں عربی زبان کےقواعد نہایت آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اور اس کتاب کی امتیازی خوبی یہ ہے کہ اس میں دی گئی تمام مثالیں قرآن مجید اور احادیث نبویہ سے لی گئی ہیں۔ مشقوں میں قرآنی مفرد الفاظ کے علاوہ جابجا آیات قرآنیہ او راحادیث نبویہ میں سے وہ ضروری مواد پیش کیا گیا ہے جس سے ہر طالب علم کے ذخیرۂ الفاظ میں اضافے کے ساتھ ساتھ عبادات،معاملات او راخلاقیات کی اصلاح ہوسکتی ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو طلبہ وطالبات کےلیے نفع بخش بنائے اورمرتبین کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)
سیرت حضرت امیر معاویہ ؓ عنہ (حصہ اول)
Authors: محمد نافع
In Knowledge
حضرت مولانا محمد نافع صاحب کو اللہ تعالیٰ نے اس بات کی خصوصی توفیق عطا فرمائی ہے کہ انھوں نے اپنی متعدد تالیفات کے ذریعے سے حضرات صحابہ کرام کے حقیقی سیرت و کردار کو مستحکم علمی اور تاریخی دلائل کے ساتھ واضح فرمایا ہے۔ جن انصاف نا آشنا حلقوں نے ان حضرات پر طرح طرح کے اعتراضات وارد کیے ہیں ان کا شافی اور اطمینان بخش جواب دیا ہے اور حضرات صحابہ کرام کے درمیان جو علمی اور سیاسی اختلافات پیش آئے، ان کے حقیقی اسباب کی دلنشیں وضاحت فرمائی۔ حضرت معاویہ ان صحابہ کرام میں سے ہیں جن کے خلاف اعتراضات و مطاعن کے ترکش سے کوئی تیر بچا کر نہیں رکھا گیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’سیرت امیر معاویہ ؓ‘ میں حضرت مولانا محمد نافع صاحب نے ان کی سیرت کے حقیقی روشن پہلوؤں کو مضبوط دلائل کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔ پہلی جلد کے پہلے حصے میں حضرت معاویہ کے سوانح، عہد رسالت میں ان کے منصب و مقام اور کارنامے اور ان کے مناقب کی احادیث کو پوری تحقیق کے ساتھ بیان کیا ہے۔ دوسرے حصے میں حضرات خلفائے ثلاثہ کے عہد مبارک میں حضرت معاویہ کی خدمات اور دیگر کارناموں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ تیسرے حصے میں حضرت عثمان کی شہادت کے بعد کے واقعات زیر بحث لائے گئےہیں۔ چوتھے اور آخری حصے میں فاضل مؤلف نے حضرت معاویہ کے عہد خلافت کے کارناموں، فتوحات، ان کے قائم کیے ہوئے انتظامی ڈھانچے، ان کی رفاہی اور ترقیاتی خدمات، ان کی علمی کاوشوں، ان کے مکارم اخلاق اور اہل بیت کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا ذکر ہے۔ آخر میں حضور اقدسﷺ کے ساتھ ان کے عشق و محبت کے مظاہر اور ان کے بارے میں اکابر امت کی آرا نہایت تفصیل اور استقصا کے ساتھ پیش کی ہیں۔(ع۔م)
حضرت ابو سفیان اور ان کی اہلیہ ؓ
Authors: محمد نافع
In Knowledge
انبیاء کرام کے بعد صحابہ کرام کی مقدس جماعت تمام مخلوق سے افضل اور اعلیٰ ہے یہ عظمت اور فضیلت صرف صحابہ کرام کو ہی حاصل ہے کہ اللہ نے انہیں دنیا میں ہی مغفرت،جنت اور اپنی رضا کی ضمانت دی ہے بہت سی قرآنی آیات اور احادیث اس پر شاہد ہیں۔صحابہ کرام سے محبت رکھنا اور نبی کریم ﷺ نے احادیث مبارکہ میں جوان کی افضلیت بیان کی ہے ان کو تسلیم کرنا ایمان کاحصہ ہے ۔بصورت دیگرایما ن ناقص ہے ۔ صحابہ کرام وصحابیات کی سیرت اور ان کے واقعات اہل ایمان کے لیے آئیڈیل ہیں۔ صحابہ کرام کی کی سیرت وسوانح کے حوالے سےعربی اردو میں کئی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب مولانا محمدنافع ﷾ کی تصنیف ہے جس میں انھو ں حضرت ابوسفیان ﷺ اور ان کی اہلیہ ہندبنت عتبہ کے سوانح مختصراً ذکر کرتے ہوئے بعض شبہات کا ازالہ بھی کردیا ہے ۔حضرت ابو سفیان نبی کریم ﷺکی سسر تھے کاتب وحی سیدنا معاویہ او رام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا کے والد تھے ۔حضرت ابو سفیان اور ان کی اہلیہ ہند بنت عتبہ اور ان کے بیٹے حضرت یزید بن ابی سفیان فتح مکہ کے موقع پر دائرۂ اسلام میں داخل ہوئے ۔ فاضل مؤلف نے اس کتاب میں ام المومنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا، حضرت یزید بن ابی سفیان کا تذکرہ بھی شامل کیا ہے اللہ تعالی اہل اسلام کو صحابہ کرام کی زندگیوں کے مطابق زندگی بسر کرنےکی توفیق دے (آمین) (م۔ا)
بنات اربعہ
Authors: محمد نافع
In Arguments
قرآن واحادیث کی واضح سے نصوص او ر کتبِ سیرت وتاریخ کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کائنات نبی کریم ﷺ نے متعدد شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے نبی کریمﷺ کو ام المومنین حضرت خدیجہ اور سید ہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ تعالی عنہما سے اولاد جیسی نعمت سےنوازا ۔ سید ہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے بطن سے چاربیٹاں(سید زینبؓ،سیدہ رقیہؓ ،سید ہ ام کلثومؓ، سیدہ فاطمہؓ ) اور دو بیٹے(سیدنا عبد اللہؓ اور سیدنا قاسم ؓ ) پیداہوئے ۔اورام المومنین سیدہ ماریہ قبطیہؓ کے بطن سے ایک بیٹا سیدنا ابراہیمؓ پیدا ہوئے ۔نبی کریم ﷺکے بیٹے بچپن میں ہی فوت ہوگئے ۔ لیکن بعض لوگ نبی کریم ﷺ کی اولاد شریف کے حق میں افراط وتفریط کرتے ہوئے نبی اقدسﷺ کی صرف ایک صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کو حقیقی دختر شمار کرتے ہیں اور باقی تین صاحبزادیوں حضرت زینبؓ ،حضرت رقیہؓ،حضرت ام کلثومؓ کو آنجناب ﷺکی حقیقی اولاد سے خارج گردانتے ہیں او ران کوربائب اور لے پالک بیٹیوں سے تعبیر کرتے ہیں ۔جوکہ صریحا قرآنی نصوص کے خلاف ہے ۔زیر نظر کتاب '' بناتِ اربعہ یعنی چار صاحبزادیاں'' جید عالم مولانا محمد نافع﷾ کی تصنیف ہے ۔جس میں انہوں نے بنات ِرسول ﷺ کی تعداد چار ہونے کا مدلل ثبوت پیش کرتے ہوئے رسالت مآب ﷺکی چاروں صاحبزدیوں کی مفصل سوانح اور فضائل ومناقب کو بیان کیا ہے۔اور بناتِ رسولؐ کے بارہ میں اعتراضا ت وشبہات کا دلائل کی روشنی میں مکمل ازالہ کاکیا ہے ۔اللہ تعالی فاضل مصنف کی اس کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے اور اولاد رسول ؐ کے متعلق لوگوں کے غلط نظریات کی اصلاح کا ذریعہ بنا ئے (آمین)(م۔ا)