Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
قواعد کلیہ ( حصہ اول )
Authors: ڈاکٹر محمود احمد غازی
In Arguments
قانون اسلامی ، اختصاصی مطالعہ کورس ۔چوبیس درسی اکائیوں پر مشتمل اس کورس کو مختلف سکالرز نے مرتب کیا اور شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد نے تقریبا بیس سال قبل اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔یہ کورس بنیادی طور پر علم اصول فقہ کے اختصاصی مطالعے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد علم اصول فقہ کے جملہ مباحث کو عام فہم انداز میں طلبہ کے ذہن نشین کرانا ہے۔ پانچوں مکاتبِ فقہ کےبنیادی اصولوں کا تقابلی مطالعہ بھی اس میں شامل ہے۔ اسی طرح مناہج اجتہاد، قواعد فقہیہ اور تقنین (فقہی احکام کی ضابطہ بندی) کے موضوعات بھی کورس کا حصہ ہیں۔ چوبیس درسی اکائیوں پر مشتمل اس کورس میں کوشش کی گئی ہیں کہ اصول فقہ کے مباحث کی ضروری تفصیلات مثالوں کے ساتھ پیش کر دی جائیں۔ رسرچ سکالرز کے افادہ اور نیٹ پر محفوظ کرنے کی غرض سے اسے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔اس کورس کے کل 24 اجزاء ہیں۔ جزءاول (علم اصول فقہ: ایک تعارف (حصہ اول ) اور بیسواں جزء (فقہ حنفی وفقہ مالکی ) دستیاب نہیں ہوسکے ۔(م۔ا)
تقنین ( اسلامی احکام کی ضابطہ بندی)
Authors: ڈاکٹر محمود احمد غازی
قانون اسلامی ، اختصاصی مطالعہ کورس ۔چوبیس درسی اکائیوں پر مشتمل اس کورس کو مختلف سکالرز نے مرتب کیا اور شریعہ اکیڈمی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ،اسلام آباد نے تقریبا بیس سال قبل اسے کتابی صورت میں شائع کیا ہے۔یہ کورس بنیادی طور پر علم اصول فقہ کے اختصاصی مطالعے کےلیے تیار کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد علم اصول فقہ کے جملہ مباحث کو عام فہم انداز میں طلبہ کے ذہن نشین کرانا ہے۔ پانچوں مکاتبِ فقہ کےبنیادی اصولوں کا تقابلی مطالعہ بھی اس میں شامل ہے۔ اسی طرح مناہج اجتہاد، قواعد فقہیہ اور تقنین (فقہی احکام کی ضابطہ بندی) کے موضوعات بھی کورس کا حصہ ہیں۔ چوبیس درسی اکائیوں پر مشتمل اس کورس میں کوشش کی گئی ہیں کہ اصول فقہ کے مباحث کی ضروری تفصیلات مثالوں کے ساتھ پیش کر دی جائیں۔ رسرچ سکالرز کے افادہ اور نیٹ پر محفوظ کرنے کی غرض سے اسے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔اس کورس کے کل 24 اجزاء ہیں۔ جزءاول (علم اصول فقہ: ایک تعارف (حصہ اول ) اور بیسواں جزء (فقہ حنفی وفقہ مالکی ) دستیاب نہیں ہوسکے ۔(م۔ا)
اللہ کی نشانیاں
Authors: ہارون یحییٰ
الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے اوراسے سائنس اور قرآن سے صحیح ثابت کیا ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ ہارون یحی، اہل سائنس کی طرح محض بگ بینگ ہی کو نہیں مانتے بلکہ وہ اسے ایک منظم اور بامقصد دھماکہ قرار دیتے ہیں جس سے ایک منظم اوربامقصد کائنات پیدا کی گئی ہے جس کا نظم اور مقصدیت اس کے خالق کے وجود اور وحدہ لاشریک ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
یہ رنگ بھری دنیا
Authors: ہارون یحییٰ
In Knowledge
ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحی اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑا ناقد ہے۔ عموماًہارون یحی کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ کی معرفت کے حصول کے دو طریقے ہیں ایک تو خبرجو انبیا ورسل اورکتب سماویہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور دوسرا اللہ کی پیدا کی ہوئی اس کائنات پر غوروفکر جسے قرآن مجید تفکرکا نام دیتا ہے۔ قرآن مجید میں انسانوں کو بار بار اس کائنات، اپنے ماحول، زمین وآسمان اور اپنی ذات میں تفکر اور غور وفکر کرنے کا حکم دیا گیا ہے تا کہ انسان اس غوروفکر کے نتیجے میں اپنے خالق اور محسن حقیقی کی معرفت حاصل کر ے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: إن فی خلق السموات والارض واختلاف الیل والنھار لآیات لأولی الألباب۔الذین یذکرون اللہ قیاما وقعودا وعلی جنوبھم ویتفکرون فی خلق السموات والأرض ربنا ماخلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النار۔(آل عمران : ۱۹۰۔۱۹۱) بلاشبہ زمین وآسمان کی پیدائش میں اور دن ورات کے آنے جانے میں اہل عقل کے لیے نشانیاں ہیں۔جو لوگ کھڑے ، بیٹھے اور لیٹے ہوئے اللہ کا ذکرکرتے ہیں اور زمین وآسمان کی پیدائش میں غورو فکر کرتے ہیں[یہ کہتے ہوئے] اے ہمارے رب! آپ نے اس کو باطل پیدا نہیں فرمایا۔ ہم آپ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
نظریہ ارتقاء ۔ایک فریب
Authors: ہارون یحییٰ
مادہ پرستی(Materialism) آج کے دور کا سب سے بڑا شرک ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق اس کائنات کا کوئی خالق موجودنہیں ہے یعنی فرعون ونمرود کی طرح اس فلفسہ کے قائلین نے بھی اس کائنات کے رب وخالق ومالک و رازق ومدبرکا انکار کیا ہے اور مادہ (Matter)ہی کو اصل یا کل حقیقت قرار دیا ہے۔ اس فلسفہ کے مطابق مادہ قدیم اور ہمیشہ سے ہے اور ہر دور میں اپنی شکلیں بدلتا رہا ہے ۔ پس اس کائنات یا انسان کا وجود ایک حادثہ ہے جس کے پیچھے کوئی محرک، مسبب الاسباب یا علۃ العلل موجود نہیں ہے۔مادہ پرستوں یا منکرین خدا کی ایک الجھن ہمیشہ سے یہ رہی ہے کہ اگر ہم خدا کے وجود کا انکار کر دیں تو اہل مذہب کے بالمقابل اس کائنات اور انسان کے بارے کیا توجیہ پیش کریں کہ یہ انسان کہاں سے آیا ہے؟ کیسے پیدا ہوا ہے؟ یہ کائنات کیسے وجود میں آ گئی ہے؟واقعہ یہ ہے کہ ان سوالات کا کوئی جواب مادہ پرستوں کے پاس نہیں تھا یہاں تک کہ ڈاروان نے اپنا نظریہ ارتقا پیش کیا تو مادہ پرستوں کی تو گویا عید اور چاندی ہو گئی اور انہیں اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے ایک عقلی ومنطقی توجیہ ہاتھ آ گئی۔ ڈارون نے ارتقا کا جو نظریہ پیش کیا تھا وہ اس کے ذاتی مشاہدات پر مبنی تھا جبکہ آج کی سائنس اور سائنسی حقائق اس ڈارونی نظریہ ارتقا کی بنیادیں ہلا چکے ہیںاور اس نظریہ ارتقا کومستقل طور پر ردی کی ٹوکری میں پھینک چکے ہیں لیکن مادہ پرستوں کے لیے ڈاروان کے نظریہ ارتقا کی سائنسی تردید ، موت سے کم نہیں ہے کیونکہ نظریہ ارتقا کے غلط ثابت ہو جانے سے ان کی فلسفہ مادہ پرستی کی واحد عقلی ومنطقی توجیہ ختم ہو جاتی ہے اور وہ اپنے آپ کو خلا میں محسوس کرتے ہیں جہاں ان کے پاس کے اس کائنات اور انسان کے وجود کے بارے اہل مذہب کے بالمقابل کوئی توجیہ باقی نہیں رہتی اور اہل مذہب ان پر ہنس رہے ہوتے ہیں کہ عقل کے یہ پجاری اپنے وجودوماحول کی موجودگی کی بھی کوئی توجیہ کرنے سے قاصر ہیں۔ ہارون یحی ترکی کے معروف قلم کار ہیں جو فری میسنری یہودی تحریک اور مادہ پرستی کی عالمی الحادی تحریک کے بہت بڑے ناقد ہیں۔ ہارون یحی نے اپنی اس کتاب میں ان تمام سائنسی حقائق اورمعروف سائنسدانوں کے اقوال کو جمع کیا ہے جو ڈارون کے نظریہ ارتقا کی سائنسی موت ثابت ہوئے ہیں۔ہارون یحی نے فوسل ریکارڈ سے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ اس کائنات پر تخلیق کی ابتدا اچانک ہوئی ہے نہ کہ ارتقاء اً۔اشتراکیت کے بانی کارل مارکس کو بھی اپنی الحادی فکر کے لیے جائے پناہ ڈارون کے نظریہ ارتقا میں ملی اور اس نے ’داس کیپیٹل‘ کے جرمن ایڈیشن کا انتساب ڈارون کے نام کیا ہے۔ آج یہ نظریہ بیالوجی اور حیاتیات کے نام سے لاشعوری پر انسانوںکے ذہنوں میں راسخ کرتے ہوئے انہیں انکار خدا کی طرف مائل کیا جا رہاہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ ہارون یحی نے ڈارون کے نظریہ ارتقا کے فروغ میں مادہ پرستوں اور منکرین خدا کے مکر وفریب کی دھجیاں بکھیردی ہیں۔ بہر حال ڈارونی نظریہ ارتقا کے حاملین ملحدین، منکرین خدا اور مادہ پرستوں کی رات کی نیندیں اڑانے کے لیے عقلی، منطقی اور سائنسی دلائل پر مبنی ایک بہترین کتاب ہے۔ کتا ب کی طباعت اور کاغذ کا معیار نہایت ہی عمدہ اور معیاری ہے۔
دنیا اور اس کی حقیقت
Authors: ہارون یحییٰ
In Knowledge
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرما یا اور آزمائش کے لیے اس دنیا میں بھیج دیا ہے۔ اور اس سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس دنیا میں بن دیکھے اس پر ایمان لائے جسے اصطلاح میں ایمان بالغیب کہا جاتا ہے۔ انسانوں کے ایمان بالغیب اور معرفت الہٰی کی تکمیل کے لیے قرآن مجید میں باربار تذکیر اور یاد ہانی کا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی ؒ نے اپنی کتاب ’الفوز الکبیر‘ میں لکھا ہے کہ قرآن مجید میں یاددہانی کے دو طریقے اختیار کیے گئے ہیں ایک تذکیر بآلاء اللہ اور دوسرا تذکیر بایام اللہ۔ تذکر بآلاء اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نعمتوں اور فضل کے ذریعے انسانوں کواپنا شکر ادا کرنے کی یاد دہانی کرواتے اور اللہ کا شکر ادا کرنے میں سب سے پہلا درجہ یہ ہے کہ اس پر ایمان لایا جائے۔ تذکیر بایام اللہ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سابقہ اقوام پر بھیجے ہوئے عذابوں کے قصص بیان کر کے انسانوں کو ایمان بالغیب کی دعوت دیتے ہیں اور نہ ماننے والوں کوپچھلی اقوام کے حشر سے سبق حاصل کرنے کی تلقین فرماتے ہیں۔ معروف ترکی مصنف ہارون یحی کی اس کتاب کا موضوع بھی تذکیر بایام اللہ ہے اور انہوںنے دنیا پر آنے والے زلزلوں، سیلابوں اور طوفانوں کے ذریعے انسانی تہذیبوں کے مٹنے کی ایک داستان عبرت رقم کی ہے اور عصرحاضر کے مادہ پرست انسان کو اس دنیا کی حقیقت سے روشناس کروایا ہے اور وہ حقیقت اس کا زوال ہے، چاہے انسان کی ذات کا زوال ہو یا قوم و ملککا، تہذیب وتمدن کا ہو یا سلطنت وجاہ کا۔ یہی زوال اس دنیا کی حقیقت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وإنا لجاعلون ما علیھا صعیدا جرزا۔(الکھف : ۸) اور جو کچھ اس زمین پر ہے بلاشبہ ہم اسے چٹیل میدان بنا کر چھوڑنے والے ہیں۔
توبہ کا دروازہ بند ہونے سے پہلے
Authors: ہارون یحییٰ
غلطی سرزد ہونے پر ایک مؤمن پورے اخلاص کےساتھ توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کا خواستگار ہوتا ہے یہ چیز جہاں اسے تکلیف و یاسیت سے بچاتی ہے وہیں اس کے مذہبی جوش و جذبے اور عبادت میں مزید اضافہ کردیتی ہے۔ دوسری طرف کفار کا تاسف انتہائی تکلیف دہ اور مستقل نوعیت کا ہوتا ہے کیونکہ وہ گناہ سرزد ہونے پر اللہ تعالیٰ پر بھروسہ نہیں کرتے۔ زیر مطالعہ کتاب میں ہارون یحییٰ اسی موضوع کو زیر بحث لائے ہیں۔محترم ہارون یحییٰ کا تعلق ترکی سے ہے۔ آپ متعدد موضوعات پر بیسیوں کتب کے مصنف ہیں۔ آپ کے مؤثر اور دلنشین انداز بیان نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے۔ کتاب میں جہاں قیامت کے دن احساس پشیمانی اور دوزخ میں پشیمانی جیسے ابواب موجود ہیں وہیں ایک باب ڈارون کے نظریہ ارتقا کی شکست وہزیمت پر بھی مشتمل ہے۔ جس کی وجہ مصنف نے یہ بیان کی ہے کہ اس دنیا میں جتنے روحانیت کش فلسفوں نے جنم لیاہے اس کی بنیاد یہی نظریہ ہے۔ (عین۔ م)
تباہ شدہ اقوام
Authors: ہارون یحییٰ
قرآنِ حکیم کابڑا حصہ اممِ سابقہ کے احوال وبیان پرمشتمل ہے جو یقیناً غور وفکر کامتقاضی ہے ۔ان قوموں میں سےاکثر نے اللہ کےبھیجے ہوئے پیغمبروں کی دعوت کو مسترد کردیا اور ان کے ساتھ بغض وعناد اختیارکیا۔ ان کی اسی سرکشی کے باعث ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹادی گئیں۔آج کے دور میں بھی ماہرین آثار قدیمہ کی تحقیقات اوردرفیافتوں کے نتیجے میں قرآنِ حکیم میں بیان کردہ سابقہ اقوام کی تباہی کے حالات قابل ِمشاہدہ ہوچکے ہیں ۔زیر نظرکتاب ’’تباہ شدہ اقوام‘‘ جوکہ معروف رائٹر ہارون یحی کی تصنیف ہے ۔اس میں انہوں نے احکامِ الٰہی سے انحراف کے سبب ہلاک ہونے والے چند معاشروں اور قوموں کا تذکرہ کیا ہے ۔یہ کتاب بتاتی ہے کہ قرآن مجید میں ذکر کی جانے والی یہ اقوام کس طرح تباہ ہوئیں۔اپنے موضوع پر یہ ایک بےمثال کتاب ہے ۔کتاب ہذا کے فاضل مصنف ہارون یحی نے بہت سی سیاسی اور مذہبی کتب لکھیں جو زیور طباعت سے آراستہ ہو کر قارئین تک پہنچ چکی ہیں۔اللہ تعالیٰ مصنف ،مترجم اورناشرین کی اس کوشش کوقبول فرمائے (آمین)(م۔ا)
اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے
Authors: ہارون یحییٰ
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں سورۂ بقرہ کی آیت 164 میں فرمایا کہ قرآن کریم کے نزول کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ لوگوں کوسوچنے اور سمجھنے کی دعوت دے۔اسی طرح کی سیکڑوں آیات قرآن حکیم میں جابجا بکھری ہوئی ہیں اور لوگوں کو مخلوقات پر غور وفکر کی دعوت دیتی ہیں ۔زیر نظرکتاب’’ اللہ کی نشانیا ں عقل والوں کے لیے ‘‘ عالمی شہرت یافتہ محترم ہارون یحییٰ صاحب کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کامقصد بھی یہی کہ لوگوں کو اللہ کی بے شمار نشانیوں میں سے چند کی طرف متوجہ کیا سکے ۔ہارون یحییٰ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحییٰ اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑے ناقد ہیں۔ عموماًہارون یحییٰ کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ ان کی سربلندی کےلیے تمام کاوشوں کو قبول فرمائے(آمین) (م۔ا)