Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
اسلام یا جمہوریت
Authors: مختلف اہل علم
اس وقت عالم اسلام کی جو مجموعی صورت حال ہے کسی بھی صاحب فکر ونظر سے مخفی نہیں‘ ایک زبردست کشمکش ہے جو اسلامیت اور مغربیت‘ اسلامی معاشرت اور مغربی تہذیب کے درمیان چل رہی ہے۔ امریکی استعمار اور سرمایہ داری کا تسلط اسلامی ممالک پر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جس پر امریکی استعمار کی بھر پور توجہ مرکوز ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ 2001ء کے بعد پاکستان کی آزاد حیثیت ختم ہو چکی ہے اور پاکستان امریکی کالونی میں تبدیل ہو چکا ہے‘ مگر 2008ء کے انتخابات کے دوران اور بعد میں امریکا نے براہِ راست پاکستانی اداروں میں جس طرح دھمکی‘ دھونس‘ مراعات اور پر کشش پیکج پیش کر کےپاکستانی سیاست کو اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کی ہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ امریکا ایک طرف جہاں پاکستانی معاشرے کو تیزی کے ساتھ مکمل طور پر سیکولرائز کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں اس کی خصوصی توجہ استعمار کے خلاف کسی بھی سطح پر مزاحمتی کردار ادا کرنے والی تحفظ وغلبۂ دین کی تحریکات بھی ہیں اور امریکا کے اس میں بہت سارے مقاصد چھپے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک صدائے باز گشت ہے۔ یہ کتاب در اصل اہل فکر ونظر کے مرتب کردہ لیکچرز کا مجموعہ ہے اور اس کتاب میں ان سب کو مقالات کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔یہ کتاب انقلابی مجاہدین کے لیے علمی ہتھیار ہے جس سے لیس ہو کر دور جدید کے لبرل دنش وروں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر امریکی استعمار کی چاکری کرنے والے مفکروں کے پھیلائے ہوئے بے سروپا پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ اسلام یا جمہوریت ‘‘ مشترکہ مصنفین کی تصنیف کردہ ہے۔ یہ لوگ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفین وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
ڈوگرز یونیک واقفیت عامہ
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
اللہ رب العزت نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بے کار نہیں پیدا کیا یا ایسا نہیں کہ فضول اشیاء پیدا کی ہوں بلکہ ہر ایک کے پیدا کرنے کا کوئی نا کوئی مقصد ضرور ہے اور ہر ایک کے ذمہ کچھ نا کچھ کام ضرور ہیں کہ جن کا ادا کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ دنیا وما فیہا میں بہت سے مخلوقات زندگی بسر کر رہی ہیں اور ہر ایک کے بارے میں یا چند ایک کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنا عام افراد کے لیے مشکل ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ڈوگرز یونیک کی کتاب ہے جو کہ اہم ذمہ دار،علم شناس اور بااعتماد اشاعتی ادارہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے جنرل نالج جیسے موضوع کو بنیاد بنا کہ معلومات کا عظیم ذخیرہ بیان کیا ہے اور موجودہ دور میں جس تیز رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں سب کو مد نظر رکھ کر اس ایڈیشن کو شائع کیا گیا ہے اور اس کا لفظ لفظ اور سطر سطر نہایت احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل تحقیق اور تصدیق کے بعد تحریر کیا گیا ہے اور یہ کتاب ہر عام وخاص کے لیے یکساں مفید ثابت ہو گی۔اس میں کئی ایک اہم موضوع ہیں اور ان کے ذیل میں اور اہم جز بنا کر معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ اس کتاب میں فلکیات‘ جغرافیہ‘ سائنس‘ انسانی جسم اور جینیاتی ریسرچ‘ کمپیوٹر سے متعلق بنیادی معلومات‘ تاریخ عالم اور متفرق عالمی معلومات‘ تاریخ پاکستان‘ اسلامیات‘ کھیلیں‘ اصطلاحات‘ مخففات اور حالات حاضرہ سے متعلق معلومات کا خزانہ بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ واقفیت عامہ ‘‘ڈوگرز یونیک کی تصنیف کردہ ہے۔ اس کتاب کے علاوہ ان کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ادارے وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
غذا اور غذائیت
Authors: مختلف اہل علم
In Arguments
غذائیت ایک ایسا علم ہے جو جسم کی صحیح نشوونما کے لیے غذائی اجزاء کی صحیح مقدار کی نشاندہی کرتا ہے ۔او ر غذا سائنس کی وہ شاخ ہے جو غذائی اجزاء کی جسم میں ضرورت موجودگی ، اہمیت اور غذا میں انکی مقدار اور کوالٹی کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہے ۔خوراک یا غذاء سے مراد نشاستوں ،اشحام ، لحمیات اور پانی پر مشتمل کوئی بھی ایسی چیز ہے جسے انسان یا حیوان غذائیت کیلئے کھا یا پی سکیں۔ اس کے علاوہ خوراک سے مراد کسی بھی قسم کے کھانے کی چیز بھی لی جاسکتی ہے۔کھانا کھانے کا بنیادی مقصد جسم کووہ ایندھن مہیا کرنا ہے جس سے انسانی مشین چلتی ر ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ جسم جب تک زندہ ہے یہ ایک توانائی سےچلنے والی مشین ہے ۔اور اس غذا سے ہی ہر جاندار کی صحت برقرار رہتی ہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ غذا اور غذائیت یونٹ9-1 ،کوڈنمبر 306‘‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کی کورس ٹیم کی نگرانی میں جناب ڈاکٹر محمد اسلم اصغر نےتیا ر کی ہے ۔ اس کتاب میں غذائیت سے متعلق چند ایسی اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے جو روز مرہ زندگی میں استعمال تو بہت ہوتی ہیں لیکن ا ن کا صحیح مطلب صرف ماہرین غذائیت ہی کو معلوم ہوتا ہے۔ نیز اس یونٹ میں انسانی صحت اور غذائیت میں تعلق پر روشنی ڈالنے کےعلاوہ جسم کی صحیح نشوو نما کا اندازہ لگانے کے طریقوں پر بھی بحث کی گئی ہے ۔یونٹ کا کچھ حصہ غذا کے جسم میں ہضم ہونےکے طریق کار پر منحصر ہے ۔ لہذا جہاں یونٹ کےایک حصّے میں طلباء کو جسم میں غذائیت کی کمی کی وجوہات سے متعارف کروایا گیا ہے ۔ وہیں جسم میں توانائی کی ضرورت ،استعمال اورغذا میں موجود توانائی کوناپنے کے طریق کار سے بھی روشناس کرایا گیا ہے ۔(م۔ا) طب زیر نظر کتاب ’’ غذا اور غذائیت یونٹ9-1 ،کوڈنمبر 306‘‘علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، اسلام آباد کی کورس ٹیم کی نگرانی میں جناب ڈاکٹر محمد اسلم اصغر نےتیا ر کی ہے ۔ اس کتاب میں غذائیت سے متعلق چند ایسی اصطلاحات کی وضاحت کی گئی ہے جو روز مرہ زندگی میں استعمال تو بہت ہوتی ہیں لیکن ا ن کا صحیح مطلب صرف ماہرین غذائیت ہی کو معلوم ہوتا ہے۔ نیز اس یونٹ میں انسانی صحت اور غذائیت میں تعلق پر روشنی ڈالنے کےعلاوہ جسم کی صحیح نشوو نما کا اندازہ لگانے کے طریقوں پر بھی بحث کی گئی ہے ۔یونٹ کا کچھ حصہ غذا کے جسم میں ہضم ہونےکے طریق کار پر منحصر ہے ۔ لہذا جہاں یونٹ کےایک حصّے میں طلباء کو جسم میں غذائیت کی کمی کی وجوہات سے متعارف کروایا گیا ہے ۔ وہیں جسم میں توانائی کی ضرورت ،استعمال اورغذا میں موجود توانائی کوناپنے کے طریق کار سے بھی روشناس کرایا گیا ہے ۔ طب نبوی و حکمت
احتساب قادیانیت جلد 01
Authors: مختلف اہل علم
ختمِ نبوت، پیارے رسول اللہ ﷺکا اعزاز بھی ہے اور امتیاز بھی۔ یہ آپ ﷺ کی عظمت و شوکت کی دلیل بھی ہے اور آپ ﷺ کی امت کا شرف و افتخار بھی۔ پہلے تمام نبی اور رسول خاص وقت، خاص علاقے اور خاص قوم و قبیلہ کی طرف مبعوث ہوئے اور اپنا اپنا وقت گزار کر رخصت ہوتے رہے، بلکہ یوں بھی ہوا کہ ایک ایک وقت میں، ایک ایک علاقے اور قوم میں ایک سے زائد نبی و رسول مبعوث ہوتے رہے۔ جب کہ امام الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفی ﷺ پہلے انبیاء و رسل کی طرح مخصوص عہد، مخصوص قوم اور مخصوص علاقے کی بجائے اپنی بعثت کے وقت سے لے کر تاقیام قیامت ہر عہد اور علاقے کے ہر ذی نفس جن و بشر کے لئے ہادی و رہبر کی حیثیت سے مبعوث ہوئے۔دین تو حضرت آدم کے وقت سے ’’اسلام‘‘ ہی رہا البتہ شریعتیں ہر نبی و رسول کی مختلف رہی ہیں۔ چنانچہ ایک نبی دنیا سے رخصت ہوتا تو دوسرا اس کی جگہ (یا بعد) آ جاتا تھا، مگر جب آقائے مکی و مدنی ﷺ تشریف لائے تو آپ ﷺ پر دین کومکمل واتم کر دیا گیااورآپ ﷺ کو ’’خاتم النبیین‘‘ کے اعزاز سے نوازا گیا۔ ختم نبوت کا تاج، پیارے رسول اللہ ﷺ کے سرِاقدس پر یوں رکھا گیا کہ پھر دنیا جہان میں کسی طرف بھی کوئی نبی و رسول نہیں آیا۔ یہ بھی ایک دلیل ہے کہ ’’ختم نبوت‘‘ کا تاج، ایک عظمت کی حیثیت سے آپ کو عطا ہوا ہے۔ اسی لئے مسلمان جہاں یہ مضبوط عقیدہ رکھتے ہیں کہ ’’پیارے رسول اللہ ﷺکے بعد کسی نبوت و رسالت کے حوالے سے سوچنا بھی گناہ ہے۔‘‘ وہاں یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اب اگر کوئی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے تو وہ پیارے رسول اللہ ﷺکی عظمت و حرمت پر ’’حرف گیری‘‘ کا مرتکب ہوتا ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت، امت مسلمہ میں یوں اتفاقی اور یقینی ہے کہ علماء کرام نے کہا: اگر کوئی جھوٹا مدعی، نبوت کا دعویٰ کرے تو اس سے نبوت کی دلیل طلب کرنا بھی کفر کے مترادف ہے۔ ویسے بھی خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا: ’’میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں، صرف کذاب اور دجال ہونگے جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کریں گے۔‘‘ چنانچہ جب برصغیر میں انگریز حکومت کے مداح مرزا غلام ا حمد قادیانی نے نبوت کا ’’دعویٰ‘‘ کیا تو تمام مکاتب فکر کے مسلمان تڑپ اٹھے۔ ان کی پیارے رسول سے محبت و عقیدت نے ان کو یوں مضطرب کیا کہ وہ اپنے فروعی اختلافات کو نظر انداز کر کے اٹھ کھڑے ہوئے۔ برصغیر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے ایک دینی جذبہ کے تحت مرزائے قادیانی اور اس کے حاشیہ نشینوں کے تقابل میں ایک تحریک برپا کر دی، قادیانیت کے یوم پیدائش سے لے کر آج تک اسلام اور قادیانیت میں جنگ جار ی ہے یہ جنگ گلیوں ،بازاروں سے لے کر حکومت کے ایوانوں اور عدالت کےکمروں تک لڑی گئی اہل علم نے قادیانیوں کا ہر میدان میں تعاقب کیا تحریر و تقریر ، خطاب وسیاست میں قانون اور عدالت میں غرض کہ ہر میدان میں انہیں شکستِ فاش دی ۔یوں تو ہر مکتب فکر کے علماء کرام مسئلہ ختم نبوت پر کارہائے نمایاں سرانجام دیتے رہے مگر ’’فاتح قادیان‘‘ کا لقب جس رجلِ عظیم کے حصے میں آیا، ان کو شیخ الاسلام مولانا ابو الوفاء ثناء اللہ امرتسری کے نام نامی سے یاد کیا جاتا ہے۔قادیانیوں سے فیصلہ کن قانونی معرکہ آرائی سب سے پہلے بہاولپور کی سر زمیں پر ہوئی جہاں ڈسٹرکٹ جج بہاولپور نے مقدمہ تنسیخ نکاح میں مسماۃ عائشہ بی بی کانکاح عبد الرزاق قادیانی سے فسخ کردیاکہ ایک مسلمان عورت مرتد کے نکاح میں نہیں رہ سکتی 1926ء سے 1935 تک یہ مقدمہ زیر سماعت رہا جید اکابر علمائے کرام نے عدالت کے سامنے قادیانیوں کے خلاف دلائل کے انبار لگا دئیے کہ ان دلائل کی روشنی میں پہلی بار عدالت کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ۔ پھر اس کے بعد بھی قادیانیوں کے خلاف یہ محاذ جاری رہا بالآخر تحریک ختم نبوت کی کوششوں سے 1974ء کو قومی اسمبلی ، پاکستان نے ایک تاریخی بحث اور ملزموں کو مکمل صفائی کا موقع فراہم کرنے اور ان کے دلائل کما حقہ سننے کےبعد یہ فیصلہ صادر کیا کہ اب سے قادیانی آئین او رملکی قانون کی رو سے بھی غیر مسلم ہیں ۔مرزا قاديانی کے دعوۂ نبوت سے لے کر اب تک قادیانیت کے رد میں ہر مکتبہ فکر کے افراد نے گراں قدر تقریری وتحریری اور قانونی خدمات انجام دی ہیں ۔تصنیفی خدمات کے سلسلے میں فتنہ قادیانیت کے ردّ میں چھوٹی بڑی بے شمار کتب شائع ہوچکی ہیں جن کا ریکارڈ پاک وہند کی سیکڑوں لائبریریوں میں موجود ہے ۔ بعض اہل علم نے ردّ قادیانیت کے ردّ میں لکھی جانے والی کتب کا تعارف یکجا بھی کیا ہے ۔ مولانا سید محمد علی مونگیری نے ’’ حظاظت ایمان کی کتابیں‘‘ نامی کتاب میں 80 کتابوں کا تعارف پیش کیا ۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی تصنیف ’’ قائد قادیان‘‘ کی آخری فصل میں 112 کتب ردّ قادیانیت کی فہرست شائع کی۔مولانا اللہ وسایا صاحب نے ’’ قادیانیت کے خلاف قلمی جہاد کی سرگزشت ‘‘ میں ردّ قادیانیت کے متعلق ایک ہزار(1000) کتابوں کاتعارف جمع کیا ہے۔مولانا محمد رمصان یوسف سلفی نے ’’ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات‘‘ میں قادیانی فتنہ کی ترید میں علماء اہل حدیث کی خدمات اور جہود ومساعی کو بڑے احسن انداز سے ایک لڑی میں پرو یا ہے ۔ اسی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع شدہ کتاب ’’ احتساب قادیانیت ‘‘ اورڈاکٹر محمد بہاؤ الدین ﷾ کی 70 مجلدات پر مشتمل’’ تحریک ختم نبوت‘‘ختم نبوت اور تردیدِ مرزائیت کی تحریک و تاریخ کے باب میں انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہیں ۔آخر الذکر ان دونوں کتابوں میں ردّ قادیانیت کے سلسلے میں مطبوعہ کتب کے مکمل متون کو جمع کردیا گیا ہے ۔جبکہ باقی کتابوں میں کتاب ومصنف کانام اور اس کتاب کا مختصر تعارف ہے ۔۔ڈاکٹر بہاؤ الدین کی کتاب تو ایک نیر تاباں کی حیثیت سے سامنے آئی ہیں کہ جس نے کئی ٹمٹماتے دیوں اور چراغوں کی لَو کو ماند کر دیا ہے۔ کیونکہ آج تک ایک مخصوص مسلک کے حاملین نے ختم نبوت کے نام پر تسلط جما رکھا تھا اور وہ ’’تحریک ختم نبوت‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے سارا کریڈٹ خود سمیٹ لیتے تھے، علماء اہل حدیث میں سے صرف مولانا ثناء اللہ امرتسری ہی کا ذکر کرتے تھے وہ بھی مجبوراً اور محض خانہ پری کے لیے، ڈاکٹر صاحب نے یہ عظیم انسائیکلو پیڈیا مرتب کر کے ان کے تسلط کو نہ صرف توڑا ہے، بلکہ مرزائیت کے تعاقب میں پہلے پہل میدان میں نکلنے والے اور دنیا کو مرزا قادیانی کے فتنے سے اوّلاً آگاہ کرنے والے حضرت مولانا ابوسعید محمد حسین بٹالوی اور مرزا قادیانی کے خلاف پہلا فتویٰ جاری کرنے والے شیخ الکل فی الکل حضرت میاں نذیر حسین دہلوی کی شخصیت، اس حوالے سے ان کی خدمات، ان کے عظیم شاگردوں کی مساعی اور دیگر بے شمار اہل حدیث علماء کرام کی اسی حوالے سےمحنتوں کو بہترین انداز میں متعارف کرایا ہے۔یقیناً یہ کتاب مسلک اہل حدیث کے حاملین پر ایک احسان ِعظیم ہے۔ ڈاکٹر بہاؤالدین ﷾اس کتاب کی 70 جلدیں تیار کرچکے ہیں جن میں 40 جلدیں ’’ مکتبہ اسلامیہ، لاہور ‘‘ سے شائع ہوچکی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’احتساب قادیانیت ‘‘ یعنی ردّ قادیانیت پر مجموعہ رسائل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے عظیم کاوش ہے ۔یہ کتاب 60 مجلدات پر مشتمل ہے ۔اس عظیم کتاب میں مولانا لال حسین اختر ، مولانا ادریس کاندھلوی ، علامہ محمد انور شاہ کشمیری، مولانااشرف علی تھانوی ، مولانا بدر عالم میرٹھی ، علامہ شبیر عثمانی ،مولانا سید محمد علی مونگیری، معروف سیرت نگار مولانا قاضی محمد سلمان منصور پوری ، پروفیسر یوسف سلیم چشتی ،فاتح قادیان شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری ،بابو پیر بخش لاہوری مولانا مفتی محمد شفیع صاحب ،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ،علامہ شمس الحق افغانی ، مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا محمد منظور نعمانی ، مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹی، مولانا نظام الدین ،مولانا احمد علی لاہوری،مفتی محمود غلام غوث ہزاروی، ، شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ،مولانا عبد الرحیم اشرف، مولانا یوسف بنوری ،مولانا ظہور احمد بگوی، مولانا انوار اللہ خان حیدرآبادی ، مولانا ایم ایس خالد وزیر آبادی ،مولانا عبد اللطیف مسعود، مولانا محمد عالم آسی امرتسری،آغا شورش کاشمیری،منشی محمد عبد اللہ معمار،ڈاکٹر غلام جیلانی ، غلام احمد پرویز ، مولانا سرفراز خان صفدر، مولانا عبد القادر آزاد، مولانا حافظ ایوب دہلوی، مولانا ابراہیم کمیر پوری، مولانا جعفر تھانیسری، مولانا محمد عاشق الہی بلند شہری، امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد، سید ابو الحسن علی ندوی ، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی وغیرہم جیسے نامور علماء کرام کے فتنہ قادیانیت کے رد میں لکھے گئے رسائل ومقالات اور کتب کے مکمل متون کو یکجا کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس عظیم کتاب کو مرتب کرنے میں شامل تمام احباب گرامی وناشرین کی اس گرا ں قدر کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے ۔آمین اس کتاب ’’ احتساب قادیانیت ‘‘ کی مکمل جلدیں اگرچہ مختلف ویب سائٹس پر موجود ہیں جنہیں وہاں سے ڈاؤن لوڈ کیاجاسکتا ہے ۔اب قارئین وناظرین ’’کتاب وسنت سائٹ ‘‘ کے لیے بھی ’’ احتساب قادیانیت‘‘ کی مکمل جلدوں کو اس سائٹ پر پبلش کیا جارہا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس سائٹ کے منتظمین ومعاونین کی تمام جہود کو شرف ِقبولیت سے نوازے ۔ آمین ( م۔ا)
ہر سوال کا جواب
Authors: مختلف اہل علم
اللہ رب العزت نے دنیا میں کسی بھی چیز کو بے کار نہیں پیدا کیا یا ایسا نہیں کہ فضول اشیاء پیدا کی ہوں بلکہ ہر ایک کے پیدا کرنے کا کوئی نا کوئی مقصد ضرور ہے اور ہر ایک کے ذمہ کچھ نا کچھ کام ضرور ہیں کہ جن کا ادا کرنا ان کے لیے ضروری ہے۔ دنیا وما فیہا میں بہت سے مخلوقات زندگی بسر کر رہی ہیں اور ہر ایک کے بارے میں یا چند ایک کے بارے میں کوئی معلومات حاصل کرنا عام افراد کے لیے مشکل ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب میں کئی ایک مخلوقات کے حوالے سے معلومات جمع کی گئی ہیں اور کتاب نہایت عمدگی کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے اور اہم ترین اور کسی حد تک مستند معلومات کو کتاب کا زینہ بنایا گیا ہے اور ہر ایک کے کچھ اوصاف اور اس کے نقصانات بھی بیان کیے گئے ہیں اور تصاویر بھی پیش کی گئی ہیں اور ہر ایک مخلوق کی الگ سے دنیا مصنف نے بنائی ہے اور ان کے بارے میں دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں اور کوشش کی گئی ہے کہ کتاب اختصار اور سوال وجواب کے دلچسپ انداز میں ہو۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ ہرسوال کا جواب ‘‘شاذیہ اسلام کی تصنیف کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلفہ وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
طویل مدتی قرض اور موجودہ کرنسی
Authors: مختلف اہل علم
معاشی نظام کے بقا واستحکام میں زر یعنی کرنسی کو بڑا دخل ہے ایک زمانہ میں کرنسی سونے اور چاندی کو بنایا جاتا تھا جس کی خود ایک قیمت اور اہمیت تھی اور آدمی کےبس کی بات نہیں تھی کہ جتنے سکے چاہے ڈھال لے کیونکہ ان سکوں کی ڈھلائی کےلیے قیمتی دھالت مطلوب ہوتی تھی ۔کرنسی یا سکّہ یا زر سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جس کے بدلے دوسری چیزیں خریدی یا بیچی جا سکیں۔ اور اگر یہ چیز کاغذ کی بنی ہو تو یہ کاغذی کرنسی، کاغذی سکّہ یا زر کاغذ کہلاتی ہے۔ ماضی میں کرنسی مختلف دھاتوں کی بنی ہوتی تھی اور اب بھی چھوٹی مالیت کے سِکّے دھاتوں سے ہی بنائے جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی موجودہ دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ ہے۔کہا جاتاہے کہ اہلِ چین نے 650ء سے 800ء کے درمیان کاغذ کے ڈرافٹ بنانے شروع کیے تھے ، انہی ڈرافٹ نے آگے چل کرکرنسی
اسلام پاکستان اور جدید دنیا ( لازمی )
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
اسلام کسی ایسے مذہب کا نا م نہیں جو صرف روحانیت پر زور دیتا ہو نہ ہی اسلام رہبانیت کی تعلیم دیتا ہے ۔ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جو انسانی زندگی کے جملہ اعتقادی ، فکری ،اخلاقی اور عملی پہلوؤں کو پوری طرح گھیرے ہوئے ہے ۔اسلام کے پیروکار ایک ایسے معاشرے سےتعلق رکھتے ہیں جو دیگر معاشروں سے سفارتی روابط رکھتے ہوئے اپنی علیحدہ واقدار زندگی اور الگ تہذیب کے وارث ہوتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام او رپاکستان او رجدید دنیا‘‘ ایس ایم شاہد کی مرتب شدہ ہے یہ کتاب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کےبی ایڈ کے نصاب میں شامل ہے۔ یہ کورس 9 یونٹوں پر مشتمل ہے اوراس کا کوڈ نمبر 652 ہے۔اس میں اسلام کی منفرد اقدار کو واضح کر نے کے لیے اسلام کے لغوی واصطلاحی مفہوم بیان کیا گیا ہے اور اس کےعقائد وارکان ، امتیازی اوصاف اور سیاسی ،معاشرتی ، معاشی اور اخلاقی نظام کے بارے میں مختصراً بحث کی گئی ہے(م۔ا)
شریعت کے دائرہ میں انشورنس ( تکافل ) کی صورت
Authors: مختلف اہل علم
اسلام نے بڑے صاف اور واضح انداز میں حلال اور حرام کے مشکل ترین مسائل کو کھول کھول کر بیان کردیا ہے اس کےلیے کچھ قواعد و ضوابط بھی مقرر فرمائے ہیں جو راہنما اصول کی حیثیت رکھتے ہیں ایک مومن مسلما ن کے لیے ضروری ہے کہ تاحیات پیش آمدہ حوائج وضروریات کو اسی اصول پر پر کھے تاکہ اس کا معیارِ زندگی اللہ اور اس کے رسول کریم ﷺ کی منشا کے مطابق بن کر دائمی بشارتوں سے بہر ہ ور ہو سکے۔سیدنا ابو ہریرہسے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ آدمی اس بات کی پروا نہیں کرے گا کہ جو مال اس کے ہاتھ آیا ہے وہ حلا ل ہے یا حرام(صحیح بخاری:2059) دور حاضر میں حرام مال کمانے کی بہت سی ناجائز شکلیں عام ہو چکی ہیں اور لوگ ان کے حرام یا حلال ہونے کے متعلق جانے بغیر انہیں جائز سمجھ کر اختیار کرتے جا رہے ہیں۔جن میں انعامی سکیمیں ،لاٹری،انشورنس،اور مکان گروی رکھنے کی مروجہ صورت وغیرہ ہیں۔علمائے اسلام اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ بینک اور انشورنش کمپنی جیسے اداروں کا اسلامی متبادل پیش کیا جائے تاکہ مسلمان حرام سے بچ سکیں اور حلال طریقہ پر اپنی ضرورت پوری کرسکیں۔ انشورنش کے لیے ایسے اسلامی متبادل کو علماء نے ’’ تکافل‘‘ سے تعبیر کیا ہے کیونکہ انشورنش یعنی تیقن دینا مخلوق کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’شریعت کے دائرہ میں انشورنش (تكافل) كی صورت‘‘ اسلامک فقہ اکیڈمی کے زیر اہتمام منعقد کیے گئے اکیسویں سیمینار’’ بعنوان ’’ اسلام کانظام تکافل‘‘ میں’’ تکافل ‘‘ کے متعلق علماء کرام مفتیان عظام کی طرف سے پیش کیے گئے مقالات کی کتابی صورت ہے ۔اسلامک فقہ اکیڈمی کے شعبہ علمی کے رفیق جناب مفتی احمد نادر القاسمی نے ان مقالات کو بڑی خوش اسلوبی سے مرتب کیا ہے ۔ تاکہ فقہاء اور ارباب افتاء اوراسلامی معاشیات کے ماہرین اس سے استفادہ کرسکیں۔(م۔ا)
نئے سال کی آمد اور چند اہم امور و سال نو کا جشن اور مسلمان
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
دنیا کےتمام مذاہب اور قوموں میں تہوار اور خوشیاں منانے کے مختلف طریقے ہیں ۔ہر ایک تہوار کا کوئی نہ کوئی پس منظر ہے اور ہر تہوار کوئی نہ کوئی پیغام دے کر جاتا ہے جن سےنیکیوں کی ترغیب ملتی ہے اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت ملتی ہے ۔ لیکن لوگوں میں بگاڑ آنےکی وجہ سے ان میں ایسی بدعات وخرافات بھی شامل ہوگئی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی فوت جاتا ہے ۔جیسے جیسے دنیا ترقی کی منازل طے کرتی گئی انسانوں نےکلچر اور آرٹ کےنام سے نئے نئے جشن اور تہوار وضع کیےانہی میں سے ایک نئے سال کاجشن ہے ۔ نئے سال کےجشن میں دنیا بھر میں رنگ برنگی لائٹوں اور قمقمو ں سے اہم عمارات کو سجایا جاتا ہے اور 31؍دسمبر کی رات میں 12؍بجنے کا انتظار کیا جاتا ہے۔ 12؍بجتے ہی ایک دوسرے کو مبارک باد دی جاتی کیک کاٹا جاتا ہے ، ہرطرف ہیپی نیوائیر کی صدا گونجتی ہے،آتش بازیاں کی جاتی ہے اور مختلف نائٹ کلبوں میں تفریحی پروگرام رکھا جاتا ہےجس میں شراب وشباب اور ڈانس کابھر پور انتظام رہتا ہے اس لیے کہ ان کی تفریح صرف دوچیزوں سےممکن ہے شراب اور عورت۔دراصل نئے سال کا جشن عیسائیوں کاایجاد کیا ہے۔ان کے عقیدے کےمطابق 25؍دسمبر کو سید نا عیسی کی پیدائش ہے اسی خوشی میں کرسمس ڈے منایا جاتا ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہی کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے ۔آج عیسائیوں کی طرح بہت سے مسلمان بھی نئے سال کے منتطر رہتے ہیں اور 31؍دسمبر کا بے صبری سے انتظار رہتا ہے ۔ مسلمانوں نے اپنی اقدار اورروایات کو کم تر اور حقیر سمجھ کر نئے سال کا جشن منانا شروع کردیا ہے ۔جب کہ یہ عیسائیوں کا ترتیب دیا ہوا نظام تاریخ ہے ۔ مسلمانوں کااپنا قمری اسلامی نظام تاریخ موجود ہے جو نبی کریم ﷺ کی ہجرت سے مربوط ہے جس کا آغاز محرام الحرام سے ہوتا ہےیہی اسلامی کلینڈر ہے لیکن افسوس تو یہ ہےکہ ہم میں سےاکثرکو اس کاعلم بھی نہیں ہو پاتا۔اور مسلمان سیدنا عبداللہ بن ہشام مروی اس ضعیف حدیث کی بنا پر نئے سال کی مبارک باد دینے کو جائز سمجھتے ہیں ۔ كان أصحاب النبي صلی الله علیه وآله وسلم يتعلمون هذا الدعاء إذا دخلت السنة أو الشهر: اللهم أدخله علينا بالأمن والإيمان، والسلامة و الإسلام، و رضوان من الرحمن، و جواز من الشيطان.(الطبراني الأوسط: 6241) ’’نئے سال یا مہینے کی آمد پہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک دوسرے کو یہ دعا سکھاتے تھے: اے اللہ! ہمیں اس میں امن، ایمان، سلامتی اور اسلام کے ساتھ داخل فرما۔ شیطان کے حملوں سے بچا اور رحمن کی رضامندی عطاء فرما۔‘‘ نیا سال منانے والے اور اسکی مبارک باد دینے والے الله کے نبی کی یہ حدیث یاد رکھیں’’جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ کل قیامت کے دن انہیں میں شمار ہوگا‘‘(ابو داؤد) نئے سال کا تہوار عیسایئوں کا ہےمسلمانوں کا نیا سال محرم سے شروع ہوتا ہے. زنظرکتابچہ ’’ نئے سال کی آمد اور چند اہم امور‘‘ فضیلۃالشیخ حسین بن عبدالعزیز آل الشیخ کی عربی تحریر ’’مواقف وتأملات (عند إشراق العام الجديد)‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔WWW.islamfort.com نے اس کا ترجمہ کروا کر اسے آن نشر کیا ہے ۔ دو دن قبل نئے سال کے جشن کی شرعی حیثیت کے متعلق چار مختلف مضامین پی ڈی ایف کی صورت میں راقم کو واٹس اپ پر موصول ہوئے افادۂ عام کے لیے ان چاروں مضامین کی ایک ہی پی ڈیف ایف فائل بنا کر کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا ہے ۔ ان چاروں مضامین کے عنوانات حسب ذیل ہیں۔اللہ ان مضامین کو مسلمانوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔آمین)(م۔ا) نئے سال کی آمد اور چند اہم امور ؍الشیخ حسین بن عبد العزیز آل الشیخ رواں سال کی رخصتی اور سال نو کی آمد؍عبد العریز السدحان(مترجم: عبد المجید بن عبد الوہاب المدنی ) اسلامک سنٹر، الاحساء سال نو کا جشن اور مسلمان؍محمد حذیفہ ہردے پوری مدرس قاسم العلوم ، مظفرنگر یوپی(مطبوع مجلہ دار العلوم نومبر2016ء نئے سال کی آمد کی دعا ایک تحقیقی جائزہ ؍ حافظ اکبر علی اختر علی سلفی ،اسلامک انفارمیشن سنٹر، ممبئی