Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
شہریت اور اس سے متعلق مسائل

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اللہ تعالی نے کائنات کی یہ وسیع وعریض بستی اپنے تمام بندوں کے لئے بسائی ہے۔انسان کے علاوہ اللہ تعالی کی دوسری مخلوقات نے عملی طور پر اس آفاقیت کو باقی رکھا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ایک ملک کے شیر کو کو دوسرے ملک میں جانے کی اجازت نہ ہو، یا ایک خطے کے جانوروں اور پرندوں کو دوسرے ملک میں جانے کے لئے ویزہ لگوانا پڑے۔لیکن انسان کی فطرت میں کچھ ایسی تنگ نظری واقع ہوئی ہے کہ اسے اپنے ہی ہم جنسوں کا وجود گوارہ نہیں ہے۔اسی لئے تو اس نے دنیا کو براعظموں، ملکوں اور صوبوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔اور اسی نام نہاد تقسیم سے شہریت کا مسئلہ پیدا ہو ا ہے۔ہر ملک کے لوگوں نے اپنی سرحدوں کو باہر کے لوگوں کے لئے بند کر رکھا ہے۔سرحد سے باہر کے لوگ چاہے ایک ہی زبان بولنے والے ہوں، ایک ہی نسل سے تعلق رکھتے ہوں اور ایک ہی مذہب کو ماننے والے ہوں،انہیں سرحد پار کرنے کی اجازت نہیں ہےاور نہ ہی انہیں سرحد کے اس پار رہنے والوں کے مماثل حقوق واختیارات حاصل ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب" شہریت اور اس سے متعلق مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کے 23 ویں فقہی سیمینار منعقدہ جمبوسر (گجرات) بتاریخ 28،29 ربیع الثانی ویکم جمادی الاولی 1435ھ بمطابق 1تا 3 مارچ 2014ء میں شہریت کے مسائل کے موضوع پر پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عقد استصناع سے مراد یہ ہے کہ کسی سے آرڈر پر سامان تیار کروانا۔منجملہ مالی معاملات میں سے ایک اہم ترین صورت عقد استصناع کی ہے۔اس کے بارے میں اگرچہ نصوص میں بھی اشارات ملتے ہیں، لیکن فقہاء کے بیان کے مطابق اس کی اصل بنیاد عرف وعادت اور تعامل ہے۔یوں تو استصناع بھی عقد معاوضہ ہی کی ایک شکل ہے، لیکن اس عقد کا امتیازی پہلو یہ ہے کہ سلم کی طرح یہ بھی بیع معدوم کی ممانعت سے مستثنی ہےاور مزید ایک اہم بات یہ ہے کہ اس میں عوضین کو ادھار رکھا جا سکتا ہے۔اس لئے معاملات میں اس عقد کو خصوصی اہمیت حاصل ہے، موجودہ دور میں اسلامی مالیاتی ادارے اس کو تمویل و استثمار کی ایک شکل کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " عقد استصناع سے متعلق بعض مسائل " ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلامک فقہ اکیڈمی کےتیئسویں فقہی سیمینار مؤرخہ1 تا 3 مارچ 2014ء بمطابق 28 ربیع الثانی تا یکم جمادی الاول منعقدہ جامعہ علوم القرآن جمبوسر گجرات انڈیا میں عقداستصناع کے بارے میں پیش کئے گئے علمی، فقہی اور تحقیقی مقالات ومناقشات کے مجموعے کو جمع کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

500 سو سوال و جواب برائے خواتین

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

روز مرہ زندگی میں خواتین کو بہت سارے خصوصی مسائل کاسامنا کرنا پڑتا ہے جن میں سے بیشتر کاتعلق نسوانیت کے تقاضوں،عبادات اور معاشرتی مسائل سے ہوتا ہے عموماً خواتین ان مسائل کوپوچھنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں جبکہ ان مسائل کا جاننا پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے انتہائی ضروری ہے کیونکہ پاکیزگی او رطہارت کسی بھی قوم کا طرۂ امتیاز ہے معاشرے اور خاندان میں عورت کی اہمیت او رمقام مسلمہ ہے اگر آپ معاشرہ کو مہذب دیکھناچاہتے ہیں تو عورت کومہذب بنائیں۔رسول اللہ اکرمﷺ کی زندگی ہر مسلمان ، خواہ مردہو یا عورت ، کے لیے اسوۂ حسنہ ہے۔ یقیناً یہ اسلامی تعلیمات کا اعجازی پہلو ہے کہ نبی کریم ﷺ کی تعلیمات میں مردو زن ہرایک کےلیے یکساں طور پر احکا م ومسائل کابیان ملتا ہے ۔ کیونکہ دین اسلام کی نگاہ میں شرعی احکام کے پابند اور مکلف ہونے نیز اجروثواب کے اعتبار سےمرد وزن میں کوئی فرق نہیں ہے۔خواتین کے متعلقہ احکام ومسائل کوجس تفصیل ووضاحت اور جامعیت کےساتھ قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا ہے یہ بھی ہمارے دین کی ایسی امتیازی خوبی ہے جس میں کوئی دوسرا مذہب اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے ۔ اور یہ تعلیمات ایسی کامل واکمل ہیں کہ تا قیامت پیدا ہونے والے پچیدہ اور دشوار مسائل کا حل بھی انہیں تعلیمات میں موجود ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’500سوال وجواب برائے خواتین‘‘ سعودی عرب کے کبار علماء ومفتیان عظام کےخواتین کے متعلق 500احکام ومسائل پر مشتمل عربی کتاب 500 جواب فی أحکام المرأۃ کا اردو ترجمہ ہے۔اس کتاب میں خواتین کے پیش آمدہ مسائل کا قرآن وسنت کی روشنی میں حل پیش کیا گیا ہے ۔اس کتاب کی خصوصیت یہ ہےکہ اس میں عالم اسلام کے نامور علماء کے فتاویٰ کو یکجا کیاگیا ہے جو کسی امتی کے اقوال پر مبنی نہیں بلکہ خالصتاً کتاب وسنت کی بنیاد پر تحریر کیے گئے ہیں۔اس مجموعے کی ایک امیتازی صفت یہ بھی ہے کہ اس میں صرف صحیح اور ثابت احادیث پر اعتماد کیاگیا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو خواتین اسلام کے لیے نفع بخش بنائے ۔(آمین) (م۔ا)

اسلام اور امن عالم

Authors: مختلف اہل علم

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اسلام ایک امن وسلامتی والا مذہب ہے ،جو نہ صرف انسانوں بلکہ حیوانوں کے ساتھ بھی نرمی کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس عظیم دین کا حسن دیکھئے کہ اسلام ’’سلامتی‘‘ اور ایمان ’’امن‘‘ سے عبارت ہے اور اس کا نام ہی ہمیں امن و سلامتی اور احترام انسانیت کا درس دینے کیلئے واضح اشارہ ہے۔نبی کریمﷺ کی حیاتِ طیبہ ، صبر و برداشت، عفو و درگزر اور رواداری سے عبارت ہے۔اسلام امن وآشتی اور صلح وسلامتی کا مذہب ہے، اس نے انسانی زندگی کی حرمت کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ایک شخص کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے، اور اگر کسی مسلمان ملک میں غیر مسلم اقلیت آباد ہو تو اس کی جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے اور انہیں اپنی نجی زندگی میں اپنے مذہب پر چلنے کی آزادی دی گئی ہے۔اسلام نے ظلم وتعدی سے منع کیا ہے، بلکہ ظلم کے جواب میں بھی دوسرے فریق کے بارے میں حد انساف سے متجاوز ہونے کو ناپسند کیا ہے اور انتقام کے لئے بھی مہذب اور عادلانہ اصول وقواعد مقرر کئے ہیں۔لیکن افسوس کہ دشمنان اسلام نے اسلام اور دہشت گردی کو ایک ساتھ جوڑ دیا ہے۔چنانچہ ضروری تھا کہ اعدائے دین کی ان سازشوں کو طشت ازبام کیا جاتا اور ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب"اسلام اور امن عالم" ایفا پبلیکیشنز، نئی دہلی کی شائع کردہ ہے، جس میں اسلام اور امن عالم کے موضوع پر متعدد اہل علم کے مقالات جمع کر دئیے گئے ہیں۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ایفا پبلیکیشنز والوں کی اس خدمت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

مسجد اقصٰی ہمارے دلوں میں

Authors: مختلف اہل علم

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے ہجرت کےبعد 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔ مسجد اقصٰی خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔نبی کریم ﷺسفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے: ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے‘‘ (سورہ الاسراء )۔ احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔سیدنا عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس کو فتح کیا تو سیدنا عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغِ اسلام اور اشاعتِ دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔صلاح الدین نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں ۔اسلام اور ملتِ اسلامیہ کے خلاف یہودیوں کی دشمنی تاریخ کا ایک مستقل باب ہے ۔یہودِ مدینہ نے عہد رسالت مآب میں جو شورشیں اور سازشیں کیں ان سے تاریخِ اسلام کا ہر طالب علم آگاہ ہے ۔ گزشتہ چودہ صدیوں سے یہود نے مسلمانوں کےخلاف بالخصوص اور دیگر انسانیت کے خلاف بالعموم معادانہ رویہ اپنا رکھا ہے ۔بیسویں صدی کےحادثات وسانحات میں سب سے بڑا سانحہ مسئلہ فلسطین ہے ۔ یہود ونصاریٰ نےیہ مسئلہ پیدا کر کے گویا اسلام کےدل میں خنجر گھونپ رکھا ہے ۔1948ء میں اسرائیل کے قیام کےبعد یورپ سے آئے ہو غاصب یہودیوں نے ہزاروں سال سے فلسطین میں آباد فلسطینیوں کو ان کی زمینوں اور جائدادوں سے بے دخل کر کے انہیں کمیپوں میں نہایت ابتر حالت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور کردیا ہے۔21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگادی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب کیا تھا۔ ۔ دراصل یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گراکر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا ۔گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ کے دوران اسرائیلی یہودیوں کی جارحانہ کاروائیوں اور جنگوں میں ہزاروں لاکھوں فلسطینی مسلمان شہید ، زخمی یا بے گھر ہوچکے ہیں اورلاکھوں افراد مقبوضہ فلسطین کے اندر یا آس پاس کےملکوں میں کیمپوں کے اندر قابلِ رحمت حالت میں زندگی بسر کررہے ہیں۔اوراقوام متحدہ اوراس کے کرتا دھرتا امریکہ اور پورپ کےممالک یہودیوں کے سرپرست اور پشتیبان بنے ہوئے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب’’ مسجد اقصیٰ ہمارے دلوں میں ‘‘ دولۃالکویت سے شائع ہونے والے عربی مجلہ’’ الواعی الاسلامی ‘‘ میں بیت المقدس کے متعلق شائع ہونے والے مختلف شخصیات کے مضامین کے مجموعہ کا ترجمہ ہے ان مضامین کو جناب ڈاکٹر جاسم محمد مطر شہاب نے مرتب کیا ہے اور پھر مولانا ضیاء الدین قاسمی ندوی خیرآبادی نے اسے اردو داں طبقہ کے اردو زبان میں منتقل کیا ہے ۔ (م۔ا)

صرف پانچ منٹ کا مدرسہ جلد اول

Authors: مختلف اہل علم

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خطابت اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ،خاص استعداد وصلاحیت کا نام ہے، جس کےذریعے ایک مبلغ اپنے مافی الضمیر کے اظہار ،اپنے جذبات واحساسات کودوسروں تک منتقل کرنے اور عوام الناس کو اپنے افکار ونظریات کا قائل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ایک قادر الکلام خطیب اور شاندار مقرر مختصر وقت میں ہزاروں ،لاکھوں افراد تک اپنا پیغام پہنچا سکتا ہے اوراپنے عقائد ونظریات ان تک منتقل کرسکتا ہے۔خطابت صرف فن ہی نہیں ہے بلکہ اسلام میں خطابت اعلیٰ درجہ کی عبادت اورعظیم الشان سعادت ہے ۔خوش نصیب ہیں وہ ہستیاں جن کومیدانِ خطابت کے لیے پسند کیا جاتا ہے۔شعلہ نوا خطباء حالات کادھارا بدل دیتے ہیں،ہواؤں کےرخ تبدیل کردیتے ،معاشروں میں انقلاب بپا کردیتے ہیں ۔تاریخ کےہر دورمیں خطابت کو مہتم بالشان اور قابل فخر فن کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اقوام وملل او رقبائل کے امراء وزعما کے لیے فصیح اللسان خطیب ہونا لازمی امرتھا۔قبل از اسلام زمانہ جاہلیت کی تاریخ پر سرسری نگاہ ڈالیں تو اس دور میں بھی ہمیں کئی معروف ِ زمانہ فصیح اللسان اور سحر بیان خطباء اس فن کی بلندیوں کو چھوتے ہوئے نظرآتے ہیں۔دورِ اسلام میں فنِ خطابت اپنے اوج کمال تک پہنچ گیا تھا ۔نبی کریم ﷺ خود سحرآفرین اور دلنشیں اندازِ خطابت اور حسنِ خطابت کی تمام خوبیوں سے متصف تھے۔ زیرتبصرہ کتاب"صرف پانچ منٹ کا مدرسہ" مختلف علماء کرام کی مشترکہ کاوش ہے، جس میں انہوں نے خطباء اور واعظین کے لئے پورے عربی سال کے حساب سے تین سو ساٹھ دروس اکٹھے کر دئیے ہیں اور ان میں طریقہ کار یہ اختیار کیا ہے کہ ہر درس میں دس عنوانات بنائے ہیں،جنہیں آدمی پانچ منٹ میں مقتدیوں، طلبہ اور بچوں کے سامنے پڑھ سکتا ہے۔یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے جن میں سے پہلی جلد محرم تا جمادی الثانی تک جبکہ دوسری جلد رجب سے ذی الحجہ تک مشتمل ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

سیرت الصحابیات مع اسوہ صحابیات

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اسلام کی قدیم تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اور اصلی نمونہ پیش کرتی ہے اور آج جب کہ زمانہ بدل رہا ہے مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے دور حاضر میں مغربی تہذیب وثقافت سے متاثر مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزید خواتین کوچھوڑ کر راہِ راست سے ہٹی ہوئی خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں اسلام کے ہردور میں اگرچہ عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے لیکن ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ ان تمام حیثیات کی جامع ہیں اور ہمار ی عورتوں کے لیے انہی کے دینی ،اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے اسوۂ حسنہ بن سکتے ہیں اور موجودہ دور کےتمام معاشرتی او رتمدنی خطرات سے ان کو محفوظ رکھ سکتےہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’سیر الصحابیات مع اسوۂ صحابیات ‘‘ صحابیات کے حوالے سے تین مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے ۔ اسوۂ صحابیات مولانا سعید انصاری ، سیر الصحابیات مولانا عبدالسلام ندوی اور مسلمان عورتوں کی بہادری علامہ سید سلیمان ندوی کی مشترکہ تصنیف ہے انہوں نے اس کتاب میںدور حاضر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے ازواج مطہرا ت طیباتؓ ، اکابر صحابیات ؓاو ر نامور مسلمان بہادرخواتین کے مستند اور مؤثر واقعات کا ایک مجموعہ مرتب کردیا ہے تاکہ دور حاضرین کی خواتین اورلڑکیاں صحابیا ت ؓ کی اخلاقی،معاشرتی اوربہادری کے واقعات کو اپنے لیے نموہ بنا سکیں۔(م۔ا )

تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں

Authors: مختلف اہل علم

In Knowledge

By Al Noor Softs

14 اگست 1947ء وہ تاریخ ساز دن ہے جب برصغیر کے مسلمانوں کا ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا خواب حقیقت سے شناسا ہوا ور دنیا کے نقشے پر اپنے وقت کی سب سے بڑی مملکت معرض وجود میں آئی۔انسانی تاریخ میں ہجرت مدینہ کے بعد ہجرت پاکستان غالبا سب سے بڑی ہجرت تھی، جس میں مسلمانوں نے ایک نظریہ اور مقصد کی خاطر بننے والی مملکت کے لئے اپنے آبائی گھر چھوڑے اور جان ومال اور عزتوں کی لازوال قربانیاں دیں۔پاکستان کی آئندہ تمام نسلیں اپنے ان اسلاف کی احسان مند اور مقروض رہیں گی جن کی مساعی اور بے پناہ قربانیوں کے نتیجہ میں پاکستان وجود میں آیا۔مسلمان ایک الگ مسلم قومیت کے حامل تھے۔اسی مسلم قومیت کے تصور نے ایک اسلامی مملکت پاکستان کی خواہش پیدا کی۔جب برصغیر کے مسلمان حصول پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو دو قومی نظریہ کی بنیاد پر ان کے اغراض ومقاصد واضح اور اہداف متعین تھے۔قائدین وبانیان پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح، علامہ ڈاکٹر محمد اقبال،نواب بہادر یار جنگ، علامہ شبیر احمد عثمانی، نواب زادہ لیاقت علی خان اور چوہدری رحمت علی وغیرہ نے متعدد مواقع پر پاکستان کے اسلامی تشخص کا برملاء اظہار فرمایا۔ زیر تبصرہ کتاب" تصور پاکستان بانیان پاکستان کی نظر میں"شریعہ اکیڈمی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کی شائع کردہ ہے۔جس میں بانیان پاکستان کی نظر میں پاکستان کے تصور کو اجاگر کیا گیا ہے، تاکہ پاکستان کی نئی نسل کو مقاصد پاکستان سے روشناس کروایا جا سکے۔(راسخ)

سہ ماہی ’’العاصم‘‘، 2016 (قراءات نمبر)

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

اللہ رب العزت نے اپنے نبیﷺ کو عظیم نعمت قرآن مجید سےنوازا اور اس کی حفاظت کا ذمہ بھی خود لیا۔ اور اس کتاب کو پڑھنے اور پڑھانے والے کو نبی آخر الزماں نے بہترین لوگ قرار دیا ہے۔قراءت اور علوم قراءت دینی علوم میں بنیادی اور ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ حالات میں دینی علوم کی نئی نئی تشریحات اور توضیحات ہو رہی ہیں۔ علوم قراءت میں بھی نت نئی تالیفات اور تصنیفات منظر عام پر آرہی ہیں اور دینی علوم پڑھنے اور پڑھانے والوں کے لیے قراءات اور دیگر علوم کا جاننا ازحد ضروری ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ایک سہ ماہی مجلہ ہے جو خاص علم قراءت نمبر ہے۔ اور کسی بھی علم کو محفوظ کرنا اس کی کتابت کے ذریعے ممکن ہے اور کتابت کے بعد پھر خاص کسی ایک موضوع پر کسی مجلہ کا شائع ہونا اس کی اہمیت وفوقیت پردال ہوتا ہے۔ اس مجلہ میں طویل ابحاث سے گریز کرتے ہوئے اسے اختصار کی زینت دی گئی ہے اور اس میں دیے جانے تمام مضامین خاص طور پر قراءت کی اہمیت اور قواعد وغیرہ سے متعلقہ ہی ہیں۔ یہ کتاب’’ مجلہ العاصم’قراءت نمبر‘‘‘ قاری عبد الواحد ان کے مدیر ہیں اور المدرسۃ العالیہ تجوید القرآن ادارہ ہے۔ ۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ادارے اوروجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )