Al Noor Softs

( Joined منذ سنة )

"My Main mission is that to promote the love of our beloved Holy prophet Muhammad SAW ".

Books by Al Noor Softs

٢٬٨٤٠ Books found
دعوت اہل حدیث ( ختم نبوت نمبر )

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا اوراسلام کو بحیثیت دین بھی مکمل کردیا اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے یہی وہ عقید ہ جس پر قرون اولیٰ سے آج تک تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ کہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں قرآن مجید سے یہ عقیدہ واضح طور سے ثابت ہے کہ کسی طرح کا کوئی نبی یا رسول اب قیامت تک نہیں آسکتا جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ماکان محمد ابا احد من رجالکم وولکن رسول الله وخاتم النبین (الاحزاب:40) ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘‘ حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس میں مسلمانوں میں کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نہیں ۔برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا مرزا قادیانی نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے خود لکھا کہ میں نے انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں اس نے جنوری 1891ء میں اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہا۔قادیانی فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے علمائے اہل حدیث نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں اور اس وقت بھی دے رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں مرزا قادیانی نے جیسے ہی پر پرزے نکالنے شروع کیے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے کھڑے کردیئے جنہوں نے اسے ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے اس کا جھنڈ ا معروف سلفی عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی ﷫ نے اٹھایا پھر مولانا ثناء اللہ امرتسری ،قاضی سلیمان منصورپور ی،مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،حافظ عبد القادر روپڑی ، حافظ محمد گوندلوی ،علامہ احسان الٰہی ظہیر﷭ وغیرہ کے علاوہ بے شمار علماء ختم نبوت کی چوکیداری کےلیے اپنے اپنے وقت پر میدان عمل میں اترتے رہے ۔موجودین میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ڈاکٹر بہاء الدین ﷾ کی خدمات سب سے نمایاں ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے اور انہیں صحت وتندرستی سے نوازے ۔(آمین)اور اسی طرح اہل حدیث صحافت کی بھی نمایاں خدمات ہیں ۔دعوت اہل حدیث،سندھ، اور ضیائے حدیث،لاہور کی اشاعت خاص قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ ’’دعوت اہل حدیث ختم نبوت نمبر‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جوکہ رد قادیانیت کے سلسلے میں جید علمائے اہل حدیث کے 30 علمی وتحقیقی مضامین ومقالات پر مشتمل ہے۔جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں قادیانیت کی حقیقت کو خوب واضح کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کےایڈیٹر حافظ عبد الحمید گوندل ﷾ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے بڑی محنت سے معروف علماءکرام سے مضامین حاصل کرکے ان کو گیارہ مختلف موضوعات میں تقسیم کیا اور حسن طباعت سے آراستہ کیا ۔(م۔ا)

دعوت اہل حدیث ( ختم نبوت نمبر )

Authors: مختلف اہل علم

In Fiqha

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا اوراسلام کو بحیثیت دین بھی مکمل کردیا اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے یہی وہ عقید ہ جس پر قرون اولیٰ سے آج تک تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ کہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں قرآن مجید سے یہ عقیدہ واضح طور سے ثابت ہے کہ کسی طرح کا کوئی نبی یا رسول اب قیامت تک نہیں آسکتا جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے ماکان محمد ابا احد من رجالکم وولکن رسول الله وخاتم النبین (الاحزاب:40) ’’محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں البتہ اللہ کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں‘‘ حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے اور اس میں مسلمانوں میں کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں میرے بعد کوئی نہیں ۔برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا مرزا قادیانی نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے خود لکھا کہ میں نے انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں اس نے جنوری 1891ء میں اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا جس پر وہ اپنی وفات تک قائم رہا۔قادیانی فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے علمائے اہل حدیث نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں اور اس وقت بھی دے رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں مرزا قادیانی نے جیسے ہی پر پرزے نکالنے شروع کیے اسی وقت سے اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے کھڑے کردیئے جنہوں نے اسے ناکوں چنے چبانے پر مجبور کردیا۔ سب سے پہلے اس کا جھنڈ ا معروف سلفی عالم دین مولانا محمد حسین بٹالوی ﷫ نے اٹھایا پھر مولانا ثناء اللہ امرتسری ،قاضی سلیمان منصورپور ی،مولانا ابراہیم میر سیالکوٹی ،حافظ عبد القادر روپڑی ، حافظ محمد گوندلوی ،علامہ احسان الٰہی ظہیر﷭ وغیرہ کے علاوہ بے شمار علماء ختم نبوت کی چوکیداری کےلیے اپنے اپنے وقت پر میدان عمل میں اترتے رہے ۔موجودین میں تحریک ختم نبوت کے سلسلے میں ڈاکٹر بہاء الدین ﷾ کی خدمات سب سے نمایاں ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر میں برکت فرمائے اور انہیں صحت وتندرستی سے نوازے ۔(آمین)اور اسی طرح اہل حدیث صحافت کی بھی نمایاں خدمات ہیں ۔دعوت اہل حدیث،سندھ، اور ضیائے حدیث،لاہور کی اشاعت خاص قابل ذکر ہیں۔ زیر تبصرہ ’’دعوت اہل حدیث ختم نبوت نمبر‘‘ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جوکہ رد قادیانیت کے سلسلے میں جید علمائے اہل حدیث کے 30 علمی وتحقیقی مضامین ومقالات پر مشتمل ہے۔جس میں قرآن وحدیث کی روشنی میں قادیانیت کی حقیقت کو خوب واضح کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ماہنامہ دعوت اہل حدیث کےایڈیٹر حافظ عبد الحمید گوندل ﷾ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے بڑی محنت سے معروف علماءکرام سے مضامین حاصل کرکے ان کو گیارہ مختلف موضوعات میں تقسیم کیا اور حسن طباعت سے آراستہ کیا ۔(م۔ا)

ماہنامہ ترجمان الحدیث لاہور ( علامہ احسان الٰہی شہید نمبر )

Authors: مختلف اہل علم

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

شہید ملت علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒسیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔علامہ صاحب ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ بچپن ہی سے بڑے ذہین او ر فطین ثابت ہوئے۔درس نظامی کی تکمیل کے بعد حصول تعلیم کےلیے آپ مدینہ یونیورسٹی تشریف لے گئے وہاں شیخ ناصر الدین البانی ،شیخ ابن باز ،شیخ شنقیطی وغیرہم جیسے کبار اہل علم سے شرف تلمذ حاصل کیا ۔ مدینہ یونیورسٹی میں شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی ،حافظ عبد الرحمن مدنی ،ڈاکٹر محمد لقمان سلفی حفظہم اللہ آپ کے ہم کلاس رہے ۔علامہ صاحب وہاں سے سند فراغت حاصل کرکے وطنِ عزیز میں واپس تشریف لے آئے اور زندگی بھر اسلام کی دعوت وتبلیغ ،نفاذ اسلام کی جدوجہد ، فرق باطلہ کارد او رمسلک حق اہل حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ آپ پر صحیح معنوں میں اہلحدیثیت کا رنگ نمایاں تھا۔آپ ایک تاریخ ساز شخصیت کے حامل تھے۔ آپ میدان خطابت کےشہسوار تھے ۔شیخ الحدیث مولانا حافظ اسماعیل سلفی ؒ نے آپ کو مولانا سید دائود غزنوی ؒ کی اور اہلحدیثوں کی قدیم تاریخ ساز مسجد ’’جامع مسجد چینیانوالی اہلحدیث ‘‘ کی مسند میں لا کر کھڑا کر دیا۔ آپ 16کتابوں کے مصنف بھی تھے ۔ علامہ شہید ؒ مسلک اہلحدیث کے ماتھے کا جھومر تھے۔ ۔ علامہ صاحب ؒ نے قادیانیت ، شیعیت فتنے کو آڑے ہاتھوں لیا ۔ آپ نےتصنیف وتالیف اور تحریر کے علاوہ جمعۃ المبارک کےخطبات اور تاریخ ساز اجتماعات میں بھی قادنیت و شیعیت کے پرخچے اُڑانے شروع کر دئیے۔آپ نے تحریک نظام مصطفی ٰ،تحریک استقلال، تحریک ختم بنوت ،سقوط ڈھاکہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کا شمار مرکزی قائدین میں ہونے لگا۔ ۔ اسی طرح جب جنرل ضیا ء نے 90 دن کا کہہ کر 11سال تک اقتدار پر قبضہ جمائے رکھا تو اس نے 5 شرعی حدود کا نفاز کیا لیکن عملاکسی کو عملی جا مہ نہیں پہنا یا ۔تو علامہ احسان الہٰی ظہیر شہید ؒ ضیا ء الحق کی آمرانہ اور منافقانہ پالیسیوں کیخلاف گرجتے رہے۔ آپ نے اہلحدیث نوجوانوں اور علمائے کرام کو ایک پلیٹ فارم جمع کرنا شروع کیا۔ نفاذ اسلام اور اسلام کی سر بلندی ،محمد عربی ﷺ کی عظمت کے لیے ملک بھر میں تاریخ ساز جلسے کر کے اہلحدیثوں کو پوری دنیا میں روشناس کر وا دیا۔ 23 مارچ1987کو قلعہ لچھمن سنگھ راوی روڈ لاہورمیں ’’سیرت النبی ﷺ ‘‘ کے عنوان سے جمعیت و اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ جلسے سے مولانا محمد خان نجیب شہیدؒ ، مولانا عبد الخالق قدوسی شہید،علامہ حبیب الرحمن یزدانی شہیدؒ کے علاوہ دیگر علما ئے کرام نے خطاب کیا ۔ جن کے بعد آپ کا خطاب شروع ہوا تو ایک ہولناک دھماکہ ہوا۔مولانا محمد خان نجیب ،مولانا عبدالخالق قُدوسی ،علامہ حبیب الرحمن یزدانی موقع پر ہی جام شہادت نوش کر گئے جبکہ علامہ صاحب ؒ شدید زخمی حالت میں میو ہسپتال داخل ہوئے ۔اسی اثناء میں شاہ فہد مرحوم نے اپنے خصوصی طیارے کے ذریعے آپ کو سعودی عرب علاج کیلئے بلوا لیا ۔یہاں پر آپ کا علاج سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض کے ملٹری ہسپتال میں ہوتا رہا لیکن ہو تا وہی جو اللہ کو منظور ہوتا ہے عالم ِاسلام کے عظیم مجاہدِ ملت30مارچ1987 کی درمیانی شب کو شہادت جیسےعظیم رتبے پر فائز ہو گئے۔ آپ کی نمازِ جنازہ ریاض میں آپ کے شفیق اُستاد شیخ ابن باز ﷫نے پڑھائی اور جنت البقیع میں سیدنا امام مالک ؒ کے پہلو میں سپرد خاک کیاگیا۔علامہ مرحوم نے نومبر1969ء کو ایک علمی وتحقیقی مجلہ ماہنامہ کا اجراء کیا جو مارچ 1987ء تک باقاعدگی کے ساتھ علامہ شہید کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔موصوف کی شہادت سے تعطل کاشکار ہوگیا تھا۔ایک سال بعد پروفسیر ساجد میر ﷾ کی ادارت میں دوبارہ ترجمان الحدیث کی اشاعت شروع ہوئی۔ زیرنظر مجلہ ترجمان الحدیث (مارچ ۔اپریل1988ء) پروفسیر ساجدمیر ﷾ کی ادارت میں شائع ہونے والا پہلا شمارہ ہےجوکہ شہدائے اہل حدیث (شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ، مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید،مولانا عبد الخالق قدوسی شہید اور مولانا محمد خاں نجیب شہید) کےتذکرے وسوانح حیات وخدمات کے سلسلے میں ملک کے نامور کالم نگاروں ،سوانح نگار وں کےرشحات قلم کےعلاوہ شہداءکےعزیرواقارب،دوست احباب کے تاثرات وغیرہ پر مشتمل ہے۔اس اشاعت ِخاص کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔حصہ اول شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ،حصہ دوم مولانا حبیب الرحمن یزدانی شہید ، حصہ سوم مولاناقدوسی شہیداور حصہ چہارم محمد خاں نجیب شہید کے متعلق ہے۔اللہ تعالیٰ تمام شہدائے اہل حدیث کی شہادتوں کوقبول فرمائے (آمین) (م۔ا )

تفہیم الاسلام اشاعت خاص (قاری عبد الوکیل صدیقی )

Authors: مختلف اہل علم

In Faith and belief

By Al Noor Softs

قاری عبد الوکیل خانپوری ﷫ (1955۔2013ء)رفیع المرتبت عالم دین اور جماعت اہل حدیث کا عظیم سرمایہ تھے۔ اصلاً وہ ہری پوری ضلع ہزارہ کے رہنے والے تھے۔ تحصیل علم کے بعد تقریبا 1975ءمیں خانپور تشریف لائے اور پھر خانپوری کا لا حقہ ہی ان کے نام کا حصہ بن گیا ایک چھوٹی سی مسجد اہل حدیث سے اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز کیا۔ تفسیر، حدیث اور فقہی مسائل سے ان کو آگاہی تھی، توحید ، سنت ، اتباع رسولؐ فضائل صحابہ ؓ اور جماعت اہل حدیث کے امتیازی مسائل پر انہیں عبور حاصل تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے ان کو علم و حکمت سے بھی خواب نوازا تھا، دل میں اشاعتِ دین کا جذبہ تھا، اخلاص و للھٰیت کی دولت سے مالا مال تھے، گفتگو کا سلیقہ اور اپنی بات کو لوگوں کو سمجھانے کا فن جانتے تھے۔ جس دور میں انہوں نے خانپور کو اپنی دعوتی و تبلیغی سرگرمیوں کا محور بنایا تو اس علاقے میں احناف کے معروف عالمِ دین مولانا عبد اﷲ درخواستی کا بڑا اثر و رسوخ تھا لیکن پھر مولانا قاری عبد الوکیل ﷫کے توحید و سنت پر مبنی و عظ و تقاریر سے متاثر ہو کر لوگ جو ق در جوق مسلک اہل حدیث پر عمل پیرا ہو تے گئے۔ قاری صاحب نے مسلک اہل حدیث کے فروغ میں خانپور اور اس کے گردونواح میں بڑا کام کیا اور انہوں نے اس مشن میں اپنی عمر کھپادی اور آج خانپور کے علاقے میں ان کی اس تبلیغی مساعی کے نشان واضح دیکھے جا سکتے ہیں۔ خانپور میں سالانہ اہل حدیث کانفرنس کا انعقاد قاری صاحب کا بہت بڑا کارنامہ تھا جس میں ملک اور بیرون ملک سے علمائے کرام کو دعوت دی جاتی اور عوام ان علمائے کرام کے مواعظ عالیہ سے متاثر ہو کر توحید و سنت کی دولت سے اپنے دامن بھرتے۔ اس کانفرنس کے اس علاقے میں بڑے اچھے اثرات مرتب ہو ئے۔ 1989 میں قاری صاحب نے جامعہ محمدیہ کے نام سے خانپور میں ایک عظیم الشان ادارہ قائم کیا۔ جس کا سنگ اساسی فضیلۃ الشیخ عبد اﷲ بن السبیل رحمۃ اﷲ علیہ نے رکھا تھا۔ اب تک اس سے کئی نامی علماء اور خطیب پیدا ہو چکے ہیں جو دعوت و تبلیغ کے میدان میں سر گرم عمل ہیں۔ ۔ مارچ2011 ء میں انہوں نے خانپور سے سہ ماہی نداء الا یمان جاری کیا۔ بلاشبہ قاری عبد الوکیل صدیقی ﷫ کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ جماعت کے اس عظیم عالم دین نے یکم مارچ2013 کی صبح لاہور کے ایک ہسپتال میں اٹھاون سال کی عمر میں وفات پائی اور رات کو ہری پوری ہزارہ میں مولانا ارشاد الحق اثری صاحب کی اقتداء میں ان کی نما زجنازہ ادا کی گئی۔ اﷲ تعالیٰ قاری صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ (آمین) زیر تبصرہ ’’مجلہ تفہیم الاسلام‘‘ کی اشاعت خاص قاری عبد الوکیل صدیقی ﷫ کی سوانح حیات ،تذکرہ ، افکار وآثار پر مشتمل مختلف اہل علم کے مضامین ومقالات کا مجموعہ ہے ۔(م۔ا)

مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)

مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)

مقالات سیرت النبی ﷺ، قومی سیرت کانفرنس 2001ء (برائے خواتین)

Authors: مختلف اہل علم

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

اس روئے ارض پر انسانی ہدایت کے لیے حق تعالیٰ نے جن برگزیدہ بندوں کو منتخب فرمایا ہم انہیں انبیاء ورسل﷩ کی مقدس اصلاح سے یاد رکرتے ہیں اس کائنات کے انسانِ اول اور پیغمبرِاول ایک ہی شخصیت حضرت آدم ﷤ کی صورت میں فریضۂ ہدایت کےلیے مبعوث ہوئے۔ اور پھر یہ کاروانِ رسالت مختلف صدیوں اور مختلف علاقوں میں انسانی ہدایت کے فریضے ادا کرتے ہوئے پاکیزہ سیرتوں کی ایک کہکشاں ہمارے سامنے منور کردیتاہے ۔درخشندگی اور تابندگی کے اس ماحول میں ایک شخصیت خورشید جہاں تاب کی صورت میں زمانےاور زمین کی ظلمتوں کو مٹانے اورانسان کےلیے ہدایت کا آخری پیغام لے کر مبعوث ہوئی جسے محمد رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں۔ آج انسانیت کےپاس آسمانی ہدایت کا یہی ایک نمونہ باقی ہے۔ جسے قرآن مجید نےاسوۂ حسنہ قراردیا اور اس اسوۂ حسنہ کےحامل کی سیرت سراج منیر بن کر ظلمت کدۂ عالم میں روشنی پھیلارہی ہے ۔حضرت محمد ﷺ ہی اللہ تعالیٰ کے بعد ،وہ کامل ترین ہستی ہیں جن کی زندگی اپنے اندر عالمِ انسانیت کی مکمل رہنمائی کا پور سامان رکھتی ہے۔ سیرت النبی ﷺ کی ابتدائی کتب عربی زبان میں لکھی گئیں پھر فارسی اور دیگرزبانوں میں یہ بابِ سعادت کھلا ۔ مگر اس ضمن میں جو ذخیرۂ سیرت اردوو زبان میں لکھا اور پیش کیا گیا اس کی مثال اور نظیر عربی کےعلاوہ کسی دوسری زبان میں دکھائی نہیں دیتی۔اردو زبان کی بعض امہات الکتب ایسی ہیں کہ جن کی نظیر خود عربی زبان کے ذخیرے میں مفقود ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں میں اس ہادئ کامل ﷺ کی سیرت وصورت پر ہزاروں کتابیں اورلاکھوں مضامین لکھے جا چکے ہیں ۔اورکئی ادارے صرف سیرت نگاری پر کام کرنے کےلیےمعرض وجود میں آئے ۔اور پورے عالم اسلام میں سیرت النبی ﷺ کے مختلف گوشوں پر سالانہ کانفرنسوں اور سیمینار کا انعقاد کیا جاتاہے جس میں مختلف اہل علم اپنے تحریری مقالات پیش کرتے ہیں۔ پاکستان میں بھی سالانہ قومی سیرت کانفرنس کاانعقاد کیا جاتا ہے جس میں اہل علم اورمضمون نگار خواتین وحضرات اپنے مقالات پیش کرتے ہیں ۔ جن کوبعد میں کتابی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ زیر نظر کتاب ’’مقالات قومی سیرت کانفرنس‘‘ 2001 میں ’’ خواتین کے حقوق وفرائض تعلیمات نبوی ﷺ کی روشنی میں ‘‘ کےعنوان پر خواتین کی قومی سیرت کانفرنس میں پیش کیے گئے مقالات کا مجموعہ ہے ۔جس میں مذکورہ موضوع پر میں ملک بھر سے 32 خواتین کے مقالات شامل ہیں جسے وزارت مذہبی امور پاکستان نے مرتب کر کے طباعت سے آراستہ کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو سیرت رسولﷺ کے مطابق زندگی گزارنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ (آمین) سیرت النبی ﷺ (م۔ا)

عصر حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابل عمل صورتیں

Authors: مختلف اہل علم

In Faith and belief

By Al Noor Softs

فقہ اسلامی میں اجتہاد کا موضوع بیک وقت نہایت نازک اور نہایت اہم ہے ۔ اجتہاد کی ضرورت ہر دور میں مسلم رہی ہے اوردورِ جدید میں اس ضرورت کے بڑھ جانے کا احساس شدید سے شدید تر ہوتاچلاجارہا ہے ۔ تاہم اس باب میں انتہائی احتیاط کو ملحوظ رکھنا بھی اتناہی ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’عصر حاضر میں اجتہاد اوراس کی قابل عمل صورتیں ‘‘شیخ زاید اسلامک سینٹر،لاہور،کراچی اور پشاور کی بیس سالہ تقریبات کے ضمن میں شیخ زائد اسلامک سینٹر،لاہور کےتحت ’’عصر حاضر میں اجتہاد اور اس کی قابل عمل صورتیں‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا ۔اس سیمینار میں ملک کے نامور علماء اور ارباب فکر نے شرکت فرمائی اور مقالات پیش کیے ۔ ان مقالات میں اجتہاد کے موضوع پر بعض نہایت فکر انگیز نکتے سامنے آئے ۔ان مقالات کی اہمیت کے پیش نظر ڈاکٹر حافظ عبد القیوم صاحب نے محمود احمد غازی،مولانا زاہد الراشدی،ڈاکٹر محمد یوسف فاروقی اور ڈاکٹر طاہر منصوری کے مقالات کو مرتب کیا اورشیخ زاید اسلامک سینٹرلاہور نے دس سال قبل اسے کتابی صورت میں شائع کیا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کوطباعت کے لیے تیار کرنے والوں اور ناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)