Books by Al Noor Softs
٢٬٨٤٠ Books found
خارجی فرقے کی پہچان
Authors: مختلف اہل علم
In Fiqha
پیش نظر مختصر سے رسالہ میں سعودی عرب کے معتبر مفتیان کے فتاوٰی کی روشنی میں شیعی عقائد پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ فتاوی جات میں جہاں شیعہ کے متعدد فرقوں کے بارے میں قیمتی آراء کا اظہار کیا گیا ہے وہیں شیعہ کے سب سے بڑے گمراہ فرقے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ فتاوی جات میں ثابت کیا گیا ہے کہ اہل سنت اور شیعہ میں اختلافات اصولی ہیں اور شیعہ ایک نو ایجاد مذہب ہے۔ ایک سوال کے جواب میں خمینی کے نظریات کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے۔
الاعتصام ۔حجیت حدیث نمبر
Authors: مختلف اہل علم
ہر زمانہ میں اہل علم نے کتاب وسنت کی ترویج اور نشر واشاعت کے ساتھ ساتھ ان کے دفاع کا بھی کام کیا ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں بھی ایک طبقہ ایسا پیدا ہو گیا ہے جو اللہ کے رسول ﷺ کی احادیث اور سنن مبارکہ کی حجیت کا قائل نہیں ہے یا اگر قائل ہے تو اس کے استخفاف کے فتنہ میں مبتلا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں مولانا محمد اسحاق بھٹی صاحب کی ادارت میں ہفت روزہ ’الاعتصام‘کا حجیت حدیث پر ایک خاص نمبر شائع ہوا جس میں برصغیر پاک وہند کے منکرین حدیث کے اعتراضات کا مدلل علمی انداز میں جواب دیا گیا ہے۔ہفت روزہ ’الاعتصام‘ جماعت اہل حدیث کا ایک قدیم اور مستند علمی ترجمان شمار ہوتا ہے۔ اس رسالہ کا اجرا ۱۹۴۹ء میں مولاناعطاء اللہ حنیف کی سرپرستی میں ہوا۔ اس رسالہ نے ’حجیت حدیث‘ کے علاوہ ’تحریک آزادی‘ اور ’اسلامی آئین‘ اور ’حافظ محمد گوندلوی‘ اور ’مولانا محمد حنیف‘ اور ’مولانا عطاء اللہ حنیف‘ وغیرہ پر بھی خاص نمبرز شائع کیے ہیں۔’الاعتصام‘ کے حجیت حدیث نمبر میں مختلف مسالک کے نمائندہ علماء کے مقالہ جات شائع کیے گئے ہیں۔ اس رسالہ کی اہمیت کے پیش نظر اسے ۲۰۱۰ء میں دوبارہ شائع کیا گیاہے۔ اس رسالہ میں مولانا داؤد غزنوی، مولانا اسحاق بھٹی، مولانا محی الدین قصوری، مولانا محمد اسماعیل سلفی، مولانامحمد حنیف ندوی، علامہ محمد اسد، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، ڈاکٹر حمید اللہ ، مولانا عطاء اللہ حنیف، مولانا محمد ادریس کاندھلوی، مولانا ہدایت اللہ ندوی، قاضی عبد الرحیم، پروفیسر عبد القیوم، مولانا رئیس احمد جعفری اور مولانا ہدایت اللہ سوہدروی وغیرہ کی تحریریں شامل ہیں۔ ان جلیل القدر علماء کے ناموں ہی سے اس رسالہ کی اہمیت اور علمی مقام کا ایک ہلکا سا اندازہ ہو سکتا ہے۔ افادہ عام کے لیے اس رسالہ کو پی۔ ڈی۔ ایف فارمیٹ میں اپ لوڈ کیا جا رہا ہے تا کہ منکرین حدیث کے جواب میں ایک مصدر کا کام دے۔
الاعتصام اشاعت خاص (بیاد مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی)
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
مولانا محمد عطاء اللہ حنیف ؒ کی ذات متنوع صفات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی علمی و تحقیقی، ملی، سیاسی اور مسلکی خدمات خود ان کا تعارف ہیں۔ ہفت روزہ الاعتصام نے مولانا کی انھی خدمات کے باوصف ایک خاص ضخیم نمبر بیاد ’مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی‘ نکالا ہے۔ جس کے صفحات 1200 سے زائد ہیں۔ رسالے کو مختلف عناوین میں تقسیم کیا گیا ہے سب سے پہلے آپ کی سوانح کے ذیل میں متعدد مضامین یکجا کی گئے ہیں جس میں علیم ناصری اور مولانا اسحاق بھٹی جیسے مصنفین کے مضامین شامل ہیں۔ پھر ’شخصیت‘ کے نام سےعنوان قائم کیا گیا ہے جس میں حافظ ثناء اللہ مدنی، حافظ صلاح الدین یوسف اور حافظ محمد اسحاق صاحب جیسے متعدد علمائے کرام نے آپ کی شخصیت سے متعلق بہت سے گوشوں کا احوال بیان کیا ہے۔ اس کےبعد آپ کی علمی و تحقیقی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا محمد عزیر شمس، عبدالغفار حسن، ڈاکٹر مقتدی حسن ازہری، حافظ صلاح الدین یوسف اور دیگر نے اظہار خیال کیا ہے۔ مولانا کو تدریس کا خاص شغف تھا آپ نے اپنی زندگی میں تیس، پینتیس برس تدریس کا فریضہ انجام دیااسی کے پیش نظر تدریسی کے عنوان سے آپ کی تدریسی خدمات کا تذکرہ موجود ہے۔ آپ کی ملی، سیاسی، مسلکی اور صحافتی خدمات تذکرہ کرتے ہوئےآخر میں آپ کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔ (عین۔ م)
المسلمات
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت اس وقت متعدد ادارے کام کر رہے ہیں۔ اس کے مردانہ ونگ میں مجلس تحقیق الاسلامی، جامعہ لاہور الاسلامیہ، جامعہ بیت العتیق اور کتاب و سنت ویب سائٹ وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ اس کے خواتین ونگ میں بھی بہت سے علمی، رفاہی اور تبلیغی منصوبے جاری ہیں۔ جس میں ایک سالہ تعلیم دین کورس، ہفت روزہ ورکشاپس، مختلف اسلامی علوم کے شارٹ کورسزاور بہت سے تبلیغی منصوبہ جات شامل ہیں۔ خواتین ونگ کی تمام دوڑ دھوپ مسز رضیہ مدنی نے سنبھالی ہوئی ہے جو حافظ عبدالرحمٰن مدنی کی اہلیہ اور کتاب وسنت ڈاٹ کام کے مدیر حافظ انس نضر مدنی صاحب کی والدہ محترمہ ہیں۔ زیر نظر رسالہ ’المسلمات‘ محترمہ کے زیر سرپرستی چلنے والے ادارے کی طالبات اور ٹیچرز نے نہایت محنت سے ترتیب دیاہے۔ رسالے کو متعدد حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ آب حیات کے عنوان کے تحت طالبات اور ٹیچرز کے مضامین و کالم جمع کیے گئے ہیں۔ بزم آرائیاں کے تحت حافظ عبدالرحمٰن مدنی، حافظ سعید وغیرہم کی بیگمات کے انٹرویوز شائع کیے گئے ہیں۔ رسالے کا ایک حصہ افسانوں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامک ویلفیئر ٹرسٹ کے تحت جاری منصوبوں کا تعارف بھی شامل اشاعت ہے۔(ع۔م)
علوم الحدیث مطالعہ وتعارف
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
استخفاف و انکار حدیث کا فتنہ بڑی تیزی کے ساتھ مسلم معاشروں میں اپنے پنجے گاڑ رہا ہے۔ خصوصاً برصغیر میں اس ذہن کو کافی حد تک تقویت حاصل ہو رہی ہے۔ اس کی سب سے بنیادی وجہ حدیث اور علوم الحدیث سے عدم واقفیت اور ناشناسائی ہے۔ اسی کے پیش نظر جمعیت اہل حدیث علی گڑھ انڈیا کے زیر اہتمام 1998ء میں ایک سیمینار منعقد کیا گیا، جس کا عنوان ’علوم الحدیث: مطالعہ و تعارف‘ تھا۔ جس میں صاحب علم و فضل شخصیات نے موضوع سے متعلقہ اپنے وقیع مقالات پیش کیے۔ یہی مقالات یکجا کتابی صورت میں زیر مطالعہ ہیں۔ ان مقالات میں حدیث و سنت کا تعارف بھی ہے اور اس کی حجیت اور تشریعی حیثیت پر تفصیلی گفتگو بھی۔ تدوین حدیث کی مرحلہ وار تاریخ بیان کرتے ہوئے ان غلط فہمیوں کا ازالہ کیا گیا ہے جو تدوین حدیث کے سلسلہ میں پائی جاتی ہیں۔ ضعیف حدیث کی تشریعی حیثیت بڑا حساس موضوع ہے، ایک مقالہ میں تفصیل کے ساتھ فریقین کے دلائل کا جائزہ لے کر اس کے اسباب و محرکات اور نتائج و اثرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ فقہ اہل الحدیث اور فقہ اہل الرائے کے درمیان موازنہ ایک بڑا دلچسپ موضوع ہے، بعض محدثین اور شارحین حدیث کے درمیان تقابل کرتے ہوئے اس موضوع کو نمایاں کیا گیا ہے۔ علاوہ بریں اور بہت سے اہم موضوعات پر مقالہ جات موجود ہیں۔ (ع۔م)
حافظ عبد المنان نورپوری ؒ
Authors: مختلف اہل علم
In Biography
تاریخ نام ہی اس چیز کا ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنےوالوں کی زندگیوں کو محفوظ کرنا تاکہ تاریخ ساز زندگیاں آئندہ آنے والی نسلوں کےلیے مشعل راہ بن سکیں اور مقصودومنزل آسان ہوجائے۔اور یہ بات بالکل عیاں ہے کہ کسی طے شدہ پروگرام اور نمونے کےمطابق کام کرنا آسان ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پہلی قوموں کے واقعات کو محفوظ کردیا گیا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی تقسیم بھی کچھ اس طرح کی ہے کہ اس میں جنت وجہنم، بعث بعدالموت اور پہلی قوموں انبیاء وصالحین وغیرہ کے تذکرے موجود ہیں۔ لہذا نیک لوگوں کی خوبیوں اور جامع کمالات شخصیتوں کے کارناموں کا ذکر سنت ربانی ہے۔اسی بات کو سامنے رکھتے ہوئےمحدثین اور اہل علم نے اس فن میں سینکڑوں کتب تصنیف کی ہیں۔جن میں صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین رحمہم اللہ اجمعین اور بہت سے اہل اللہ کی زندگیوں کے کارنامے ثبت اور محفوظ کردیئے گئے ہیں۔جو ہر وقت لوگوں کےلیے جشمۂ ہدایت اور مینارہ نور ہیں۔اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے ادارہ مجلہ المکرم ایک خصوصی شمارہ خاندان سلفیہ کے جشم وچراغ حضرت مولانا اسعد محمود سلفی ﷾ کے حکم سے حافظ عبدالمنان نور پوری ؒ کی سوانح سے متعلق شائع کررہا ہے۔جس میں حافظ صاحب کی زندگی کے مختلف گوشوں پر قارئین کےلیے معلومات پیش کی جارہی ہیں۔ اور آپ کی خدمات علمیہ کو خراج تحسین پیش کیا جارہا ہے۔خصوصی اشاعت کےسلسلہ میں جن احباب نے مجلہ کی ادارتی ٹیم کےساتھ اس کی تیار ی میں تعاون فرمایا ہے تہہ دل سے ان کے شکر گزار ہیں۔اور اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں دنیا وآخرت کی بھلائیوں سے نوازے۔آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
مقالات تربیت
Authors: مختلف اہل علم
In Knowledge
مرکز التربیۃ الاسلامیہ نے 2004ء میں پختہ کار علما اور سلیم الفکر مصلحین سے علمی و فکری استفادے کے لیے ایک تربیتی اجتماع کا انعقاد کیا۔ جس میں بہت سے علمائے کرام نے اپنی گہری بصیرت اور علم و فہم کے ساتھ بہت قیمتی دروس ارشاد فرمائے۔ ان علما میں حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی رحمۃ اللہ علیہ، ڈاکٹر عبدالرشید اظہر رحمۃ اللہ علیہ، مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ، پروفیسر عبدالجبار شاکر حفظہ اللہ، حافظ مسعود عالم حفظہ اللہ، حافظ محمد شریف حفظہ اللہ اور پروفیسر نجیب اللہ طارق حفظہ اللہ جیسے علمانے بھی شرکت کی اور اپنے قیمتی دروس سے عوام و خواص کو مستفید فرمایا۔ حافظ یحییٰ عزیز میر محمدی ؒ نے ’دعوت کی اہمیت اور داعی کی صفات‘ پر اپنے قیمتی خیالات کا اظہار فرمایا۔ ’عقیدہ، فقہ اور سیاست میں محدثین کا منہج‘ کے موضوع پر حافظ عبدالرشید اظہر ؒ نے تفصیلی اور علمی انداز میں، جو کہ ان کا طرہ امتیاز تھا، خطاب فرمایا۔ دیگر علمائے کرام نے بھی اس علمی اور اصلاحی مجلس میں اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ ڈالا۔ ان قیمتی دروس کو افادہ عام کے لیے کتابی صورت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ان مقالات کے عناوین پر ایک نظر ڈالنے سے ان کی اہمیت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ان مقالات میں فکر و نظر کی بہت سی بحثوں کو حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ تحریک اسلامی کے مخلص کارکنان اور علما و دعاۃ کے لیے کئی نئے ابواب اور میادین عمل کھلتے ہوئے نظر آتے ہیں جن میں کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں علما کے ان فرمودات میں طلبا و علما میں ایک نیا حوصلہ، ولولہ اور جذبہ عمل پیدا کرنے کی مخلصانہ کاوش کی گئی ہے۔ (ع۔م)
انسانی حقوق اور اسلامی نقطہ نظر
Authors: مختلف اہل علم
اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ دو باتیں ہیں ۔اللہ تعالی کی بندگی و اطاعت اور اللہ کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک اسی لیے جیسے شریعت میں ہمیں اللہ تعالی کے حقوق ملتے ہیں اسی طرح ایک انسان کے دوسرے انسان پر بھی حقوق رکھے گئے ہیں ۔ اسلام میں انسانی حقوق کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ اسی لیے اسلام نے ان حقوق کو بہت واضح طور پر پیش کیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے ، انسان ایک سانپ کی طرح تنہا کسی بل میں اور ایک شیر کی طرح تنہا کسی غار میں زندگی نہیں گزار سکتا ، وہ سماج اور خاندان کا محتاج ہے اور بہت سے رشتے داروں کے حصار میں زندگی بسر کرتا ہے ۔ چناچہ اس نسبت سے بھی انسان کے اوپر بہت سے حقوق عائد ہوتے ہیں ۔ والدین اور اولاد کا حق ، بیوی ، بھائیوں اور بہنوں کا حق اور پڑوسیوں کے حقوق وغیرہ یہ تمام حقوق اصل اسلامی حقوق کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس لئے شریعت میں انسانی حقوق کا دائرہ بہت وسیع ہے اور انہیں بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔ زیر مطالعہ کتاب در اصل انڈیا میں منعقد سمینار میں دیے گئے لیکچرز کا مجموعہ ہے ۔ جس میں اس موضوع کے حوالے سے تقریبا تمام پہلو آچکے ہیں ۔ یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک جامع اور فکر انگیز کتاب ہے ۔ اللہ ان تمام لوگوں کی محنت کو ان کے لیے ذریعہ نجات بنائے جنہوں نے اس کے لیے کاوش فرمائی ہے۔(ع۔ح)
اقلیتوں کےحقوق اور اسلاموفوبیا
Authors: مختلف اہل علم
In Arguments
چندصدیاں پہلے مختلف مذہبی اور نسلی اکائیاں الگ الگ بود و باش اختیار کرتی تھیں اور ان کے درمیان اختلاط و اشتراک بہت کم پایا جاتا تھا ۔ اس لئے اقلیتوں کا وجود کم ہوتا تھا ۔ سترویں صدی کے انقلاب اور جمہوری نظام حکومت کے ارتقاء کے باعث صورتحال میں تبدیلی آئی ۔ اور کثیر مذہبی ، کثیر لسانی ، کثیر تہذیبی اور کثیر نسلی سماج کو ارتقاء حاصل ہوا ۔ چناچہ آج بحثیت مجموع دنیا میں اقلیتیں زیادہ ہیں ۔ خود مسلمانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ دنیا میں مسلمان اقلیتوں کا تناسب پچاس فی صد ہے ۔ ان حالات نے عالمی سطح پر اقلیتوں کے حقوق کے مسلہ کو اہم بنا دیا ہے ۔ بین الاقوامی قوانین میں بھی اس کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔ انسانی حقوق کے چارٹ میں اس کو شامل کیا گیا ہے ۔ اور اسی طرح دنیا کے تمام ممالک کے ملکی قوانین میں بھی اس کی رعایت کی گئی ہے ۔ کیونکہ اکثریت کا استبداد بعض اوقات اقلیت کے لئے معاشرہ کو ظلم و جور کی بھٹی بنا دیتا ہے ۔ اسی لئے اسلام میں اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانوں نے اپنے اقتدار اور غلبہ کے دور میں بڑی حد تک اس کو ملحوظ رکھا ہے ۔ درج ذیل کتاب اسی حوالے سے انڈیا میں منعقد کرائے گئے ایک سیمینار میں کئے گئے مختلف خطابات کا مجموعہ ہے ۔ جس میں متعلقہ موضوع کے تمام پہلووں کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئ ہے ۔ (ع۔ح)