eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد آٹھ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’مسنون رکعات تراویح دلائل کی روشنی میں ‘‘انڈیا جید عالم دین مولانا ابو الفوزان کفایت اللہ السنابلی﷾ کی تصنیف ہے جس میں انہو ں رکعات تراویح کے سلسلے میں وارد احادیث کی مکمل تحقیق پیش کرتے ہوئے ثابت کیا ہے کہ تعداد رکعات تراویج بشمول وتر کل گیارہ رکعات ہیں اور صحابہ کرام ﷢کا عمل بھی اسی پر تھا نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔(م۔ا)

بیس رکعات تراویح سے متعلق روایات کا جائزہ

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

صحیح احادیث کے مطابق نبی کریم ﷺ کا رمضان او رغیر رمضان میں رات کا قیام بالعموم گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں ہوتا تھااور حضرت جابر﷜ کی روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام﷢ کوتین رات جو نماز پڑہائی وہ گیارہ رکعات ہی تھیں او ر حضرت عمر ﷜ نے بھی مدینے کے قاریوں کو گیارہ رکعات پڑہانے کا حکم دیاتھا اور گیارہ رکعات پڑھنا ہی مسنون عمل ہے ۔امیر المومنین حضر ت عمر بن خطاب ، حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابی بن کعب اور حضرت عبد اللہ بن مسعود سے 20 رکعات قیام اللیل کی تمام روایات سنداً ضعیف ہیں ۔زیر نظر کتابچہ میں شیخ کفایت اللہ السنابلی نے بیس رکعات سے متعلق جو روایات پیش کی جاتی ہیں دلائل کی روشنی میں ان کا جائزہ پیش کرکے ثابت کیا ہے کہ بیس رکعات تراویح پڑہنا نہ تو نبی ًﷺ سے اور نہ ہی کسی صحابی سے ثابت ہے اس کے برعکس نبیﷺ اور صحابہ کرام ﷢ سے آٹھ رکعات تراویح ہی ثابت ہے ۔(م۔ا)

ربنا لک الحمد آہستہ پڑھیں یا اونچی آواز میں؟

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے نماز سےمتعلق بہت سے مسائل(رفع الیدین ،آمین بالجہر یا بالسر،قراءت فاتحہ خلف الامام ، بسم اللہ الرحمن الرحیم بالجہر یا بالسر ) میں اختلاف زمانہ قدیم سے چلا آرہا ہے لیکن عصر میں اسی نوعیت کے ایک مسئلے کا اضافہ ہوگیا ہے او ر وہ ہے امام ومقتدی کا دعاء قومہ یعنی ربنا لک الحمد بالجہر یا بالسر پڑہنا۔زیر نظر کتابچہ اسی موضوع پر مولانا کفایت اللہ السنابلی ﷾(انڈیا) کی ایک علمی وتحقیقی کاوش ہے جس میں انہوں نے قرآنی آیات ،احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت کیا ہے کہ ربنا لک الحمد کو آہستہ پڑہنا ہی راحج ہے اور سلف صالحین صحابہ وتابعین،متقدمین محدثین وفقہاء اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہ تھا بلکہ یہ عصر کے علماء کی پیدا وار ہے ۔اللہ تعالی اس کتاب کو قرآن وحدیث کو سمجھنے اور اس سے صحیح استدلال کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

حادثہ کربلا اور سبائی سازش

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دور حاضرمیں حادثہ کربلا کے موضوع پر کچھ لکھنا یابولنا بڑا نازک او ر مشکل کام ہے، کیوں کہ اس بارے بہت افراط وتفریط پایا جاتا ہے ۔سانحۂ کربلا اسلامی تاریخ کا ایک انتہائی المناک باب ہے۔ اس سانحۂ کے بعد ایک گروہ یزید بن معاویہ کو لگاتار برا بھلاکہنے پر مصر ہے۔جبکہ دوسری جانب یزید کے جنتی ہونے کےبارے میں نبی ﷺ کی اس بشارت کا تذکرہ کیا جاتاہے، جس میں شہر قیصرکی طرف سب سے پہلے حملہ آور لشکر کےمغفور لہم ہونے کی خوشخبری دی گئی ہے۔ ائمہ اسلا ف میں سےامام ابن تیمیہ،حافظ ابن حجر ،علامہ قسطلانی ، ابن کثیر﷭ وغیرہ نے یزید ین معاویہ کو اس پہلے لشکر کا سالار قرار دیا ہے، جس نے تاریخ اسلامی میں سب سے پہلے قسطنطنیہ پر حملہ کیا ہے تھا۔زیر تبصرہ کتاب مؤلف کا وہ خطاب ہے، جوانہوں نے جامع مسجد اہل حدیث ممبئ میں ارشاد فرمایا تھا۔جسے احباب کے اصرار پر کتابی شکل میں شائع کر دیا گیا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے تاریخی لحاظ سے اس موضوع پر بحث کی ہے ، اور مختلف اہل علم کی تحریروں او رمستند تاریخی روایات سے یہ ثابت کیا ہے کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ یزید ہی نےکیا تھا، او رحادثہ کربلا سے قبل امت مسلمہ کے خلاف جو سازشیں کی گئیں، اور متعددعظیم شخصیات شہید ہوئیں۔ ان کے پیچھے جس گروہ کا ہاتھ تھا، وہی گروہ میدان کربلا میں بھی اہل حق کا دشمن تھا۔ جس نے کربلا کے بعد اہل بیت کی محبت کا سہارہ لے کر خو د کو روپوش کر لیا ہے۔فاضل مصنف نے آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ ﷺ او ر آثار صحابہ کی روشنی میں یزید بن معاویہ کی شخصیت وسیرت کوبھی بیان کیاہے ۔اللہ تعالی مؤلف کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین(م۔ا)

چار دن قربانی کی مشروعیت

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

عیدالاضحیٰ کے ایام میں اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کے لیے بہیمۃ الانعام میں سے کوئی جانور ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ قربانی دین اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے اس کی مشروعیت کتاب اللہ اور سنت نبویہ ﷺ اور مسلمانوں کے اجماع سے ثابت ہے۔ قربانی کرنے کے دنوں کی تعداد کے حوالے سے فقہاء کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک تین اور بعض کے نزدیک چار دن ہیں۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ قربانی کرنے کے کل ایّام چار ہیں۔ یوم النحر(عیدالاضحیٰ کا دن، دس تاریخ) اور ایام تشریق( یعنی گیارہ، بارہ اور تیرہواں دن) جس کا ثبوت قرآن اور صحیح احادیث سے ملتا ہے۔ زیر نظر رسالہ ’’ چار دن قربانی کی مشروعیت ‘‘ مولانا کفایت اللہ السنابلی حفظہ اللہ کی تالیف ہے، جس میں شیخ حفظہ اللہ نے چار دن قربانی کرنے کی مشروعیت کو قرآن و حدیث سے دلائل دیتے ہوئے ثابت کیا ہے ۔اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کے دلائل کا بھی تحقیقی جائزہ لیا ہے جو صرف تین دن قربانی کے قائل ہیں۔ رسالہ کل تین ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں چار دن قربانی کرنے کی مشروعیت پر قرآن وصحیح احادیث سے دلائل بیان کیے گئے ہیں۔ اور ساتھ اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ چار دن قربانی والا قول کئی ایک صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف منسوب ہے۔ نیز قیاس صحیح اور دلالت لغت سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہے۔ دوسرے باب میں چار دن قربانی سے متعلق اقوال تابعین وآئمہ محدثین کو پیش کیا گیا ہے۔ اور تیسرے باب میں جو علماء صرف تین دن قربانی کے قائل ہیں۔ ان کے دلائل کا جائزہ لیا گیا ہے۔(ک۔ح)

ماہ ربیع الاول اور عید میلاد

Authors: ابو الفوزان کفایت اللہ سنابلی

In Faith and belief

By Al Noor Softs

مسلمانوں کی اصل کامیابی قرآن مجیداور احادیث نبویہ پر عمل کرنے میں ہے۔ مسلمانوں کوعملی زندگی میں قرآن وحدیث ہی کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ اور دین میں نئی نئی بدعات گھڑ کر اسے دین بنا لینے سے احتراز کرنا چاہئے۔دین میں گھڑی گئی متعدد بدعات میں سے ایک بدعت بارہ ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ منانےکی ہے۔ بہت سارے مسلمان ہرسال بارہ ربیع الاول کو عید میلادالنبی ﷺ او رجشن مناتے ہیں ۔عمارتوں پر چراغاں کیا جاتا ہے ، جھنڈیاں لگائی جاتی ہیں، نعت خوانی کےلیے محفلیں منعقدکی جاتی ہیں اور بعض ملکوں میں سرکاری طور پر چھٹی کی جاتی ہے۔ لیکن اگر قرآن وحدیث اور قرون اولی کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہےکہ قرآن وحدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا او رنہ ہی اسکی ترغیب دی۔ قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام ﷺ ،تابعین، اورتبع تابعین﷭ کا زمانہ جسے نبی کریم ﷺ نے بہترین زمانہ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا۔ معتبر ائمہ دین کےہاں بھی نہ اس عید کا کو ئی تصور تھا اور نہ وہ اسے مناتے تھے او ر نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتےتھے ۔ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا ہے ۔زیر نظر کتابچہ مولانا کفایت اللہ سنابلی کی کاوش ہے جس میں انہوں نے عید میلاد کی تاریخ ،اس کی شرعی حیثیت ،عیدِ میلاد منانے والوں کے دلائل کا کتاب وسنت کی روشنی میں جائزہ وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر قلم اٹھایا ہے، اور ثابت کیا ہے کہ عہد نبوی ،عہد صحابہ اوربعدکے ادوار میں اس مروجہ جشن میلا النبی ﷺ کا کو ئی ثبوت نہیں ملتا،اس کو منانا بدعت ہے ۔ اللہ تعالی اس کتابچہ کو عوام الناس کےلیے نفع بخش بنائے (آمین)(م۔ا)

73 فرقوں والی حدیث کا حقیقی مفہوم

Authors: ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

In Worship and matters

By Al Noor Softs

7 جون 1988ء کو روزنامہ نوائے وقت کے ایک کالم نگار نے اپنے کالم بعنوان ’’ بات در بات ‘‘ کے ضمن میں نبی کریمﷺ کی نجی زندگی کے متعلق کچھ جھوٹی احادیث پیش کر کے اس بات کو اجاگر کرنے کی ناکام کوشش کی کہ اس سے تو نبی رحمت ﷺ کی نجی زندگی متصادم نظر آتی ہے۔ تو ڈاکٹر رانا محمد اسحاق رحمہ اللہ نے زیر نظر کتابچہ بعنوان ’’ 73 فرقوں والی حدیث کا حقیقی مفہوم‘‘ میں نوائے وقت کے مذکورہ مضمون میں پیش کی گئی جھوٹی احادیث کا علمی و تحقیقی پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ یہ کتابچہ اپنے موضوع میں بہترین دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ (م۔ا)

نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت

Authors: ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

In Worship and matters

By Al Noor Softs

دعا عبادت کا مغز ہے یا عین عبادت ہے۔ دعا کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے اور اللہ تعالی سے اس کی مدد مانگی جا سکتی ہے۔لیکن فرض نمازوں کے بعد دعا مانگنے کے حوالے سے اہل علم کے درمیان دو رائے چلی آ رہی ہیں اور دونوں ہی غلو،مبالغے اور تشدد پر مبنی ہیں۔کچھ لوگ فرض نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کو بدعت قرار دیتے ہیں تو کچھ لوگ فرض نماز کے بعد دعا مانگنے کو ضروری اور فرض قرار دیتے ہیں۔یہ دونوں موقف ہی غلو اور تشدد پر مبنی ہیں۔دعا کرنا بھی اللہ تعالی کی عبادت کرنا ہے۔جس پر کوئی بھی کسی قسم کی پابندی لگانا جائز نہیں ہے۔جس وقت کوئی چاہے، جب چاہے،جس طرح چاہے دعا کرے۔انفرادی دعا یا اجتماعی دعا اس پر کوئی مثبت یا منفی پابندی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" نماز کے بعد اجتماعی دعا کی شرعی حیثیت "محترم ڈاکٹر رانا محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے، جس کی تحقیق وتخریج محترم مولانا خالد مدنی صاحب نے فرمائی ہے۔مولف موصوف نے اس کتاب میں دعا کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت

Authors: ڈاکٹر رانا محمد اسحاق

In Worship and matters

By Al Noor Softs

شریعتِ اسلامیہ میں نماز بہت بڑا اور اہم رکن ہے اور اس پر مواظبت لازم قرار دی گئی ہے بلکہ کفر وایمان کے درمیان نماز ایک امتیاز ہے۔عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کےلیے دو چیزوں کاہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ ۔لہٰذا نماز کے بارے میں آپ کاﷺ واضح فرمان ہے ’’ نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘ (بخاری) رکوع میں جاتے ہوئے اور رکوع سے کھڑا ہوتے وقت ہاتھوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا (یعنی رفع الیدین کرنا) نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے۔آپ ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام تک اس سنت پر عمل کیا ہے۔نماز میں رفع الیدین رسول اللہ ﷺ سے متواتر ثابت ہے۔امام شافعی﷫ فرماتے ہیں کہ رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید اور کسی حدیث کواس سے زیادہ صحابہ نے روایت نہ کیا ہو۔ او رامام بخاری ﷫ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے ہے کہ رفع الیدین کی حدیث کوانیس صحابہ نے روایت کیا ہے ۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ۔اثبا ت رفع الیدین پر امام بخاری کی جزء رفع الیدین ،حافظ زبیر علی زئی  کی نور العینین فی مسئلۃ رفع الیدین وغیرہ کتب قابل ذکر ہیں۔اثبات رفع الیدین پر کتا ب ہذا کے علاوہ تقریبا 10 کتابیں کتاب وسنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتابچہ ’’نماز میں رفع الیدین کرنے کی شرعی حیثیت ‘‘ ڈاکٹر محمد اسحاق رانا﷫ کا تصنیف شدہ ہے۔اس کتابچہ میں انہوں نےایسی 37 صحیح ترین احادیث جمع کردی ہیں جن سے رسول اللہ ﷺ کا نماز میں رفع الیدین کرنے کا پورا نقشہ ان کے ارشادات واعمال سے ثابت ہے ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے اس سلسلہ میں جہلاء کے اعتراضات کے ٹھوس دلائل موجود ہیں جو معروف علمی طریقہ سے پیش کردیئے گئے تاکہ حقائق پوری دیانتداری سے واضح ہوسکیں۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام مساعی جمیلہ کوشرف قبولیت سےنوازے (آمین)(م۔ا)