eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
منشی رام عبد الواحد کیسے بنا؟
Authors: محمد رمضان یوسف سلفی
اسلام کو مکمل صورت اختیار کرنا جتنا مشکل ہے اس سے کہیں دشوار اپنے آبائی مذہب کو ترک کر کے اسلام کی آغوش میں آنا ہے ۔اسلامی تاریخ ایسے لوگوں کےحالات وواقعات سےبھری پڑی ہے کہ جنہیں اسلام کی سچی دولت پانے کے لیے بے پناہ مصائب وآلام اور اذیتوں سے دو چار ہونا پڑا۔ او ر اسلام قبول کرنے کے باعث انہیں زدوکوب کیا گیا۔زیرِنظر کتاب نو مسلم ڈاکٹر عبدالواحد کے تذکرہ پر مشتمل ہے ڈاکٹر صاحب 1920ءمیں ضلع شیخوپورہ کے ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے۔1940 میں مشرف بہ اسلام ہوکر چینیاں والی مسجد میں آگئے اورمولانا سید داؤد غزنوی اوردیگر غزنوی علماء کےزیر نگرانی تعلیم وتربیت کی منزلیں طے کیں ۔انہوں نے نہایت مشکل حالات میں اپنے اسلام وایمان کی حفاظت کی اور صبر استقامت سے ثابت قدم رہے ۔ اسلام کے لیے اپنا گھر،بھائی بہن او روالدہ کوچھوڑ کر سچے دل سے اسلام قبول کیا او رپھر ساری زندگی اسلام کی تبلیغ اور خدمت میں گزاردی۔ اور جنوری2004ء میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے ۔ان کے اسلام میں داخل ہونے کے ایمان افروز واقعات پڑ ھنے کے لائق ہیں ۔ اللہ تعالی ان کے درجات بلند فرمائے (آمین) (م۔ا)
مورخ اہل حدیث مولانا محمد اسحاق بھٹی حیات و خدمات
Authors: محمد رمضان یوسف سلفی
مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں ۔ ان کا شمارعصر حاضر کے ان گنتی کےچند مصنفین میں کیا جاتا ہے جن کے قلم کی روانی کاتذکرہ زبان زدِعام وخاص رہتا ہے تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔زیر نظر کتاب مولانا اسحاق بھٹی ﷾ کی حیات وخدمات کے حوالے اہم کتاب ہے جس میں مولانا محمد یوسف سلفی ﷾ نے بھٹی صاحب کی سوانح حیات کا نہایت دلنشیں انداز میں عمدہ اور پر وقار تذکرہ تعارف پیش کیا ہے مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف قلمکار ہیں ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں۔(م۔ا)
مولانا عبد الوہاب محدث دہلوی اور ان کا خاندان
Authors: محمد رمضان یوسف سلفی
In Knowledge
تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔(آمین) زیر نظرکتاب مولانا محمدرمضان سلفی﷾ کی تصنیف ہے جو کہ بانی جماعت غرباء اہل حدیث مولانا عبد الوہاب محدث دہلوی اوران کےخاندان کے حالات واقعات پرمشتمل ہے ۔مولانا عبدالوہاب محدث دہلوی کی دینی وتبلیغی،تدریسی وتصنیفی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے مولانا سلفی صاحب مولانا عبد الوہاب دہلوی او ران کے خاندان کے علمائےکرام سے بہت متاثر ہیں۔اس کتاب میں آپ نے اس خاندان کے چودہ علمائے کرام کے حالات اوران کی دینی وتبلیغی اور علمی وتصنیفی خدمات کوبڑی تفصیل سے بیان کیا ہے یہ کتاب اپنے مشمولات کےاعتبار سے خاندان عبد الوہاب کےبارے وقیع معلومات کا مجموعہ ہے ۔کتاب ہذا کے مصنف مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ علمی ،دینی اور تعلیمی حلقوں میں محتاجِ تعارف نہیں ہیں جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف مقالہ نگاراورمصنف ہیں۔ان کی تصانیف پران کوایوارڈ دیئے جاتے ہیں اورعلمی ادبی حلقوںمیں ان کو بہت پذیرائی حاصل ہے ۔ ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالی ان کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)
چار اللہ کے ولی
Authors: محمد رمضان یوسف سلفی
مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ علمی ،دینی اور تعلیمی حلقوں میں مختاج تعارف نہیں ہیں جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف مقالہ نگار اور مصنف ہیں۔ان کی تصانیف پر ان کوایوارڈ دیئے جاتے ہیں اورعلمی ادبی حلقوں میں ان کو بہت پذیرائی حاصل ہے ۔ ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں سلفی صاحب کتاب ہذا کے علاوہ تقریبا 8 کتب کے مصنف ہیں ۔اللہ تعالی ان کے زورِ قلم میں مزید اضافہ فرمائے اور ان کی خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے(آمین) ۔ زیر نظر کتاب اللہ کے چار ولی ''مولانا سلفی کی تصنیف ہے جوکہ جماعت غرباء اہل حدیث کے بانی او رامام اول مولانا عبد الوہاب صدری دہلوی ،امام ثانی مولانا عبد الستار دہلوی ،امام ثالث مولانا عبد الغفار سلفی اور مولانا عبد الجلیل خان جھنگوی کے حالات پر مشتمل ہے (م۔ا)
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات
Authors: محمد رمضان یوسف سلفی
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم کردیا، اوراسلام کو بحیثیت دین بھی مکمل کردیا، اور اسے تمام مسلمانوں کے لیے پسندیدہ قرار دیا ہے۔ یہی وہ عقید ہ ہے جس پر قرون اولیٰ سے لیکرآج تک تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے ۔ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔حضورﷺ کےبعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے، اور اس میں مسلمانوں کا کوئی بھی اختلاف نہیں رہا کہ جو شخص حضرت محمدﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے، او رجو اس کے دعویٰ کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے ۔آنحضرت ﷺ نے متعدد احادیث میں اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ میں خاتم النبین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ برطانوی سامراج نے برصغیر پاک وہند میں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے اور دین اسلام کے بنیادی اصول احکام کو مٹانے کے لیے قادیان سے مزرا احمد قادیانی کو اپنا آلہ کار بنایا۔ مرزا قادیانی نے انگریزوں کی حمایت میں جہاد کو حرام قرار دیا، اورانگریزوں کی حمایت اور وفاداری میں اتنا لٹریچر شائع کیا کہ اس نے خود لکھا کہ میں نے انگریزی حکومت کی حمایت اوروفاداری میں اس قدرلٹریچر شائع کیا ہے کہ اس سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔ اس نے جنوری 1891ء میں اپنے مسیح موعود ہونے کا اعلان اور 1901ء میں نبوت ورسالت کا دعویٰ کردیا جس پر وہ اپنی موت تک قائم رہا۔قادیانی فتنہ کی تردید میں پاک ہند کے علمائے اہل حدیث نے جو تحریری وتقریری خدمات سر انجام دی ہیں،اور اس وقت بھی دے رہے ہیں وہ روزورشن کی طرح عیاں ہیں ۔جب مرزا غلام احمد نے 1891ء میں مسیح موعود نے کا اعلان کیا تو سب سے پہلے علمائے اہل حدیث میدان عمل میں آئے اورمرزا صاحب کی تردید میں تحریر وتقریر کے ذریعہ سدباب کیا علمائے اہل حدیث نے اس فتنے کی تردید وبیخ کنی میں تحریک ختم نبوت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں پیش پیش رہ کر گراں قدر خدمات سرانجام دی اس سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی بے مثال خدمات کی چند اولیات یہ ہیں ۔1901ء میں جب مرزا نے نبوت کا دعویٰ کیا تو سب پہلے مشہور اہل حدیث عالم مولانا محمد حسین بٹالوی نے نے برصغیر کے دوصد علماء سے مرزا قادیانی کی تکفیر پر فتویٰ حاصل کر کے شائع کیا اس فتویٰ پر سب سے پہلے سید نذیرحسین محدث دہلوی نے دستخط فرمائے۔مرزا قادیانی سے مقابلے کے لیے سب سے پہلے مولانا ثناء اللہ امرتسری نے قادیا ن جاکرمرزا کو للکارا، لیکن وہ مقابلے کے لیے نہیں نکلا ،مرزائیوں سے مناظروں اور مباحثوں کا سلسلہ سب سے پہلے مولانا محمدحسین بٹالوی اور مولانا ثناء اللہ امرتسری نے شروع کیا،مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مرزائیوں سے سب سے زیادہ مناظرے کیے، مرزا قادیانی کو مباہلے کا چیلنج سب سے پہلے اہل حدیث علماء نے دیا،مسلمانان برصغیر کی طرف سے فاتح قادیان کا لقب مولانا ثناء اللہ امرتسری کو ہی دیا گیا ،مرزا قادیانی کی تردید میں اولین کتاب قاضی سلیمان منصورپوری نے ’’غایت المرام‘‘ کے نام سے لکھی ، قیام پاکستان کے بعد سے ملک کے دستور میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ تحریری صورت میں سب سے پہلے مولانا حنیف ندوی نے کیا۔ اس سے ہمار ا مقصد علمائے اہل حدیث کی خدمات کو اجاگر کرنا ہے نہ کہ کسی کی تنقیص۔ مولانا محمد رمصان یوسف سلفی ﷾ جماعت اہل حدیث پاکستان کےمعروف قلمکار ہیں ان کے مضامین ومقالات مختلف موضوعات پر ملک کے مؤقر رسائل وجرائد میں شائع ہوتے ہیں رہتے ہیں ۔سلفی صاحب کی اس کتاب کے علاوہ تقریبا چار کتابیں اوربھی ہیں۔ سلفی صاحب نے زیرتبصرہ کتا ب ’’ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ میں علمائے اہل حدیث کی مثالی خدمات‘‘ میں قادیانی فتنہ کی ترید میں علماء اہل حدیث کی خدمات اور جہود ومساعی کو بڑے احسن انداز سے ایک لڑی میں پرو دیا ہے۔ یہ کتاب یقینا شائقینِ مطالعہ اورا ہل علم کے لیے ایک دستاویز اور گراں قدرعلمی تحفہ ہے ۔(م۔ا)
احکام سلام
Authors: عبد الغفور اثری
دنیا میں بسنے والےتمام لوگ ملاقات کے وقت اپنے اپنے مذہب ، تہذیب وتمدن اور اطوار اوخلاق کی بنا پر ایک دوسرے کے لیے نیک جذبات کا اظہار مختلف انداز سے کرتے ہیں ۔لیکن دین اسلام کی تعلیمات انتہائی اعلیٰ اور ممتاز ہیں۔ اسلام نے ملاقات کے وقت’’السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ او رجواباً وعلیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہنے کا حکم دیا ہے ۔ اسلامی تَحِیّہ (سلام) میں ایک عالمگیر جامعیت پائی جاتی ہے ۔اس میں اللہ کا تعالیٰ کا ذکربھی ہے ۔ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ اسے آپس میں پھیلائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے :’’ایک مسلمان کادوسرے مسلمان پر حق ہے کہ وہ اس کے سلام کا جواب دے (صحیح بخاری) سلام کے جہاں اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کرنے کے لیے دعائیہ کلمات ہیں وہاں آپس میں محبت واخوت بڑھانے کا ذریعہ اوراجنبیت کو ختم کرنے کا باعث بھی ہیں۔مسلمانوں کا آپس ملاقات کے وقت زبان سےسلام کہنے کے ساتھ ہاتھ سے مصافحہ کرنا ایسی عظیم سنت ہے کہ اس پر عمل کرنے سے دل سے حسد ،بغض، اور کینہ وغیرہ دورہو جاتاہے۔ جس کی بدولت معاشرے میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ باہمی بھائی چارے اور محبت کو فروغ دینے میں اہم ترین عنصر ایک دوسرے کو سلام کہنا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے مسلم معاشرے اس قسم کی بہت سی اقدار سے تہی نظر کرتے آنے لگے ہیں۔ اپنے جاننے والے کی حد تک سلام دعا باقی ہے لیکن اجنبی کو سلام کی روش متروک ہوتی جا رہی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’احکام سلام ‘‘ مولانا عبد الغفور اثری کی تصنیف ہے۔اس کتاب میں فاضل مصنف نے اہمیت سلام ، فضائل سلام، سلام کے مفصل احکام ومسائل، مصافحہ کی اہمیت اور فضلیت معانقہ کا معنیٰ اوراس کاشرعی حکم، کسی کے گھر میں داخل ہونے سے قبل اجازت لینے کا حکم شرعی اور اس کے احکام ومسائل، قیام تعظیم کی شرعی حیثیت جیسی مباحث کو بڑی تحقیق وجستجو اور عرق ریزی سے قرآن مجید اور کتب تفاسیر وکتب احادیث و غیرہ کے حوالہ جات سے مزین مفصل اور نہایت سلجھے ہوئے انداز میں پیش کیا ہے ۔(م۔ا)
احسن الکلام فی الصلوٰۃ والسلام علی النبی خیر الانام
Authors: عبد الغفور اثری
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رسول اکرمﷺ کی حیات طیبہ کے بلاشبہ بے شمار پہلو ہیں اور بنی نوع انسان کی ہدایت اورراہنمائی کے اعتبار سےہر پہلو اپنے اندر بحر بیکراں رکھتا ہے۔ دعوت اورتبلیغ کے اعتبار سے آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا سب سے نمایاں اور امتیازی پہلو آپ ﷺ کا اپنی امت کےلیے رحمت بن کر تشریف لانا ہے ۔ نبوت سے پہلے بھی آپ ﷺ یقینا لوگوں کے لیے سراپا رحمت تھے مکہ میں صادق اور امین کے لقب سے مشہور ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ منصب رسالت پر سرفراز ہونے کےبعد رسول اللہﷺ نےاپنی امت تک دین پہنچانے کےلیے جس صبر و تحمل، بردباری اور شفقت ورحمت کاطرزِ عمل اختیار فرمایا وہ آپ ﷺ کی سیرت طیبہ کا ایک ایسا عظیم الشان پہلو ہے جس کی رفعتوں اور بلندیوں کا احاطہ کرنا کسی مؤرخ و سیرت نگار کے بس کی بات نہیں۔ نبی کریمﷺ نے اپنی امت تک دین پہنچانے کےلیے بہت سی تکالیف کا سامنا کیا مصائب و آلائشوں کو برداشت کیا۔ آپ ﷺ نے تو اپنا فرض اورتبلیغ دین کی ذمہ داری امت محمدیہ تک بڑے احسن اور کامل انداز سے نبھا دی تھی اب امت محمدیہ کا پر یہ فرض اور واجب ہے کہ وہ آپؐ کی اتباع کو لازم پکڑے اور آپؐ کی تعلیمات کو اپنا حرز جان بنائے۔ اس کے علاوہ اللہ رب العزت نے آپﷺ پر درود و سلام کی تلقین بھی فرمائی ہے اپنے کلام مجید میں ارشاد ربانی ہے"یاایھا الذین اٰمنوا صلوا علیہ وسلموا تسلیما"(الاحزاب)۔ زیر نظر کتاب"احسن الکلام فی الصلوۃ والسلام علی النبی خیر الانام" مولانا عبد الغفور اثری کے خطبات کو کتابی شکل دی گئی ہے۔ جس میں مولانا صاحب نے آپ ﷺ پر درود و سلام کی اہمیت و فضیلت، آداب، قعدہ کی حالت میں سلام بھیجنے کا حکم، درود کے مسنون کلمات اور درود و سلام کے متعلق دیگر احکام و مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوش کو شرف قبولیت سے نوازے۔ آمین(عمیر)
پاکستان میں امام حرمین کی آمد اور پاک سرزمین میں نعرہ توحید
Authors: عبد الغفور اثری
In Knowledge
پاکستان اور سعودی عرب لازوال دینی و ملی رشتے میں جڑے ہوئے ہیں۔سعودی عرب اور پاکستان میں اخوت کا رشتہ روز بروز توانا ہو رہا ہے۔ حرمین شریفین میں روزانہ پاکستان کی سلامتی و استحکام کی دعائیں ہوتی ہیں۔ پاکستان کا دشمن سعودیہ کا دشمن اورپاکستان کا دوست سعودیہ کا دوست ہے۔حکومت اور پاکستانی عوام کا سعودی عرب کے ساتھ پیار اور محبت کا رشتہ ہے جو ان شاء اللہ ہمیشہ قائم و دائم رہے گا۔سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیزجب سے برسراقتدار آئے ہیں سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ وہ بہت متحرک اور امت مسلمہ کیلئے درد دل رکھنے والے انسان ہیں۔ایک طرف وہ دہشت گردی کا نام ونشان مٹانے کیلئے پرعزم ہیں، تو دوسری جانب شاہ فیصل شہید کی طرح وہ مسلم ممالک کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان اور سعودی عرب سمیت دیگر مسلم ملکوں کو اس وقت فتنہ تکفیر کا شکار گروہوں سے سخت خطرات درپیش ہیں۔ مغربی ممالک دنیا بھر میں اسلام کی پھیلتی ہوئی دعوت اور میدانوںمیں کامیابیوں سے بوکھلا کرمسلم ملکوں میں اس فتنہ کو پروان چڑھا رہے ہیں جس پر کئی نوجوان گمراہیوں کا شکار ہو کر اپنے ہی ملکوں میں ہتھیار اٹھا رہے ہیں اور مسلمان ملکوں کوعدم استحکام سے دوچار کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔تعلقات کو مزید مضبوط اور بہتر کرنے کے لئے حرمین شریفین کے ائمہ کرام جا بجا پاکستان کا دورہ کرتے رہتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب"پاکستان میں امامین حرمین کی آمد اور پاک سر زمین میں نعرہ توحید" محترم حافظ عبد الغفور اثری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں پاکستان کا دورہ کرنے والے امام کعبہ سماحۃ الشیخ محمد بن عبد اللہ السبیلاور امام مسجد نبوی سماحۃ الشیخ عبد العزیز بن صالح کے دورے کی تفصیلات کو بیان کیا ہے۔اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
ہم اہلحدیث کیوں ہیں؟
Authors: قاضی مجاہد الاسلام قاسمی
اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث" ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔ اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔ جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے، بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔ "امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔ اہل حدیث ہی وہ فرقہ ہے جو خالص کتاب وسنت کا داعی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ہم اہل حدیث کیوں ہوئے" مولانا عبد الغفور اثری کی تالیف ہے۔ اس کتاب میں موصوف نے لقب اہل حدیث کی وجہ تسمیہ، اہل حدیث کبار ائمہ کی نظر میں، اور صحیح احادیث و آثار سے ثابت کیا ہے کہ اہل حدیث ہی وہ طائفہ منصورہ ہے جس کے متعلق سرور کائنات نے اپنی احادیث مبارکہ میں امت کو پیشین گوئی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے اللہ رب العزت موصوف کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(عمیر)