eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
سیرت محدثین

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کے لیے امانت و دیانت اور صداقت کا ہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہو ۔ذہین و فطین ہو اپنے حافظے پر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات و واقعات کو حوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتا ہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگاری کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بےشمار مسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کے علمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اور سائنسی کارناموں کو بڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب اور موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی رحمہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت و عافیت سے نوازے اور ان کے علم و عمل میں اضافہ فرمائے۔ زیر نظر کتاب ’’ سیرت محدثین‘‘محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔انہوں نے اس کتاب میں ( ائمہ صحاح ستہ ،امام یحییٰ بن معین،امام ابن خزیمہ،امام وکیع بن جراح، امام بن جراح،امام ابن الجارود،امام طلمنکی،امام طبری،امام فلاس، حافظ ساجی، امام دُحیم،حافظ ابن صاعد،امام ابن صاعد،امام ابن حیان،حافظ موسیٰ بن ہارون حمال،امام محمد بن اسحاق سراج،امام ابن جوصا رحمہم اللہ) 22 ائمہ محدثین کا تذکرہ اپنے محققانہ و عالمانہ انداز میں پیش کیا ہے۔اگرچہ یہ کتاب ابھی غير مطبوع ہے۔افادۂ عام کے لیے علامہ امن پوری صاحب کی اس کاوش کو کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور ان کی تدریسی، دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی مساعی کو قبول فرمائے۔(م۔ا)

تبرکات کی شرعی حیثیت

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اولیاء و صالحین ان کے آثار و نشانات اور ان سے متعلق اوقات و مقامات سے برکت حاصل کرنا ، مسائل عقیدہ کا ایک اہم مسئلہ ہے ،اس میں غلو و مبالغہ آرائی اور اس بارے میں راہِ حق سے انحراف کے نتیجہ میں زمانہ قدیم سے لے کر آج تک لوگوں کا ایک بہت بڑا طبقہ شرک و بدعات کی لپیٹ میں آ گیا ہے ۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ بعض چیزوں اور مقامات کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی خیر و برکت سے نوازا ہے اور اِن کو دیگر مخلوق پر ترجیح دی ہے۔لیکن بعض غالی درجہ کے قبر پرست حصول برکت کے لیے قبر کی مٹی سے اپنے جسم کو خاک آلود کرتے ،بسا اوقات مجاوروں کے جسم اور ان کے کپڑوں تک مبارک گردانتے اور ان سے برکت طلبی کرتے ، یہ سارے امور شرعاً حرام بدعات و خرافات کی قبیل سے ہیں ۔اس مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر عرب و عجم کے کئی نامور علماء نے اس موضوع پر گراں قدر کتابیں تصنیف کی ہیں ۔ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی محققانہ زیر نظر کتاب ’’تبرکات کی شرعی حیثیت‘‘بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے ۔ یہ کتاب ادارہ محدث کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں موصول ہوئی ہے ۔افادۂ عام کے لیے اسے کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔(م۔ا)

نماز فجر کی اقامت کے بعد سنتیں

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

فرض نماز کی اقامت کے بعد فرض کے علاوہ سنتیں یا نوافل پڑھنا درست نہیں احادیث صحیحہ میں اقامت کے بعد سنتیں پڑھنے کی سخت ممانعت موجود ہے ، لیکن بعض الناس کا کہنا ہے کہ اس حکم سے فجر کی سنتیں خارج ہیں یعنی اقامت کے بعد بھی فجر کی سنتیں پڑھی جا سکتی ہیں، صحیح و صریح دلائل کے پیش نظر یہ موقف انتہائی کمزور ہے۔ زیر نظر کتابچہ بعنوان ’’نماز فجر کی اقامت کے بعد سنتیں‘‘ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی مسئلہ ہذا کے تمام پہلوؤں کے بارے محققانہ تحریر کی کتابی صورت ہے جس میں انہوں نے کتاب و سنت کے دلائل سے درست مسئلہ کو واضح کیا ہے۔(م۔ا)

فتاویٰ امن پوری قسط 01 تا 25

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سے متعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کے جواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کے اندر بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے۔فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کا سلسلہ رسول ﷺ کے مبارک دور سے چلا آ رہا ہے برصغیر پاک و ہند میں قرآن کی تفاسیر، شروح حدیث، حواشی و تراجم کے ساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہلحدیث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔ تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’فتاویٰ امن پوری ‘‘محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے موصوف کے یہ فتاویٰ جات 150 اقساط اور 2757 صفحات پر مشتمل ہیں۔ ادارہ محدث کو یہ فائل کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کرنے کے لیے پی ڈی ایف کی صورت میں ملی ہے ۔ اس پی ڈی ایف فائل کا سائز زیادہ تھا اس لیے اس کو 6 جلدوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے ۔25قسطوں پر ایک جلد مشتمل ہے۔ اگرچہ اس میں ابھی تبویب و ترتیب اور صفحات کی ترقیم کا کام کرنا باقی ہے اور غیر مطبوعہ ہے۔افادۂ عام کے لیے علامہ امن پوری صاحب کی اس کاوش کو کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے، اسے امت مسلمہ کی اصلاح کا ذریعہ بنائے اور ان کی تدریسی، دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی مساعی کو قبول فرمائے۔(م۔ا)

فَاسْئَلُوا أهْلَ الذِّكْرِ (فتاویٰ امن پوری)

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام میں فتویٰ نویسی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ بذات خود اسلام۔ فتویٰ سے مراد پیش آمدہ مسائل اور مشکلات سے متعلق دلائل کی روشنی میں شریعت کا وہ حکم ہے جو کسی سائل کے جواب میں کوئی عالم دین اور احکامِ شریعت کے اندر بصیرت رکھنے والا شخص بیان کرے۔ فتویٰ پوچھنے اور فتویٰ دینے کا سلسلہ رسول ﷺ کے مبارک دور سے چلا آ رہا ہے برصغیر پاک و ہند میں قرآن کی تفاسیر شروح حدیث، حواشی و تراجم کے ساتھ فتویٰ نویسی میں بھی علمائے اہلحدیث کی کاوشیں لائق تحسین ہیں تقریبا چالیس کے قریب علمائے حدیث کے فتاویٰ جات کتابی صورت میں شائع ہو چکے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’فَاسْئَلُوا أهْلَ الذِّكْرِ ‘‘ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ موصوف نے یہ فتاوی بیان کرنے میں اختصار اور جامعیت سے کام لیا ہے ،حسب ضرورت دلائل اور استدلال کا ذکر کر دیا ہے ۔بعض مسائل میں دلائل ذکر نہیں کیے گئے، لیکن ان کی تفصیل ’’فتاویٰ امن پوری‘‘میں ذکر کر دی گئی ہے۔اگرچہ اس میں ابھی تبویب کا کام کرنا باقی ہے اور غير مطبوع ہے۔افادۂ عام کے لیے علامہ امن پوری صاحب کی اس کاوش کو کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ علامہ امن پوری صاحب کی اس کاوش کو قبول فرمائے اور اسے امت مسلمہ کے لیے نفع بخش بنائے اور ان کی تدرسی، دعوتی ،تحقیقی و تصنیفی مساعی کو قبول فرمائے۔(م۔ا)

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

متنازعہ مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ بارہ ربیع الاول کو میلاد النبی ﷺ منانے کا ہے۔ بہت سارے مسلمان ہر سال 12 ربیع الاول کو عید میلاد النبی ﷺ اور جشن میلاد مناتے ہیں۔ لیکن اگر قرآن و حدیث اور قرونِ اولیٰ کی تاریخ کا پوری دیانتداری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ قرآن و حدیث میں جشن عید یا عید میلاد کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ نبی کریم ﷺ نے اپنا میلاد منایا اور نہ ہی اسکی ترغیب دلائی، قرونِ اولیٰ یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، تبع تابعین کا زمانہ جنہیں نبی کریم ﷺ نے بہترین لوگ قرار دیا ان کے ہاں بھی اس عید کا کوئی تصور نہ تھا اور نہ ہی وہ جشن مناتے تھے۔ اسی طرح بعد میں معتبر ائمہ دین کے ہاں بھی نہ اس عید کا کوئی تصور تھا، نہ وہ اسے مناتے تھے اور نہ ہی وہ اپنے شاگردوں کو اس کی تلقین کرتے تھے بلکہ نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے جشن منعقد کرنے کا آغاز نبی ﷺ کی وفات سے تقریبا چھ سو سال بعد کیا گیا۔ عید میلاد النبی جشن میلاد کی حقیقت کو جاننے کے لیے اہل علم نے بیسیوں کتب تصنیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ عید میلاد النبیﷺ کی شرعی حیثیت‘‘محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں جشن عید میلاد النبی ﷺ کے بارے میں اسلاف امت کے طرز عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا کسی کا یوم ولادت بطور عید منایا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ پھر محققانہ انداز میں مذکورہ سوال کا جواب ڈھونڈ کر نوک قلم سے گزار دیا ہے اور رحمت الٰہی کے زیر سایہ منہج سلف کی نشاندہی کر دی ہے۔ ( م۔ا)

مسئلہ رفع الیدین

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Faith and belief

By Al Noor Softs

اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے عقیدہ توحید و رسالت کے بعد سب سے اہم ترین رکن نماز پنجگانہ ہے۔ جس کو مسنون طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے، کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ، لہٰذا نماز کے بارے میں آپ ﷺ کا واضح فرمان ہے: ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘(صحیح بخاری)۔ نماز میں رفع الیدین کرنا رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید کسی اور حدیث کو اس قدر صحابہ نے روایت کیا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے کہ: رفع الیدین کی حدیث کو انیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اثبات رفع الیدین پر امام بخاری رحمہ اللہ کی جزء رفع الیدین کے علاوہ کئی کتابیں موجود ہیں، تقریبا20 کتابیں کتاب و سنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مسئلہ رفع الیدین‘‘محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ انہوں نےاس کتاب میں مسئلہ رفع الیدین کے دلائل اور اس مسئلہ پر پیش کیے جانے والے شبہات کا محققانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ (م ۔ا)

الحق المبین فی الجھر بالتامین

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Tafseer Zia Ul Quran

By Al Noor Softs

نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہنا بالاتفاق مسنون ہے، علماء کا اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ سرّی اور انفرادی نمازوں میں آمین آہستہ کہی جائے گی۔ جن نمازوں میں بالجہر (بلند آواز) سے قراءت کی جاتی ہے، (جیسے مغرب، عشاء، فجر) ان میں سورہ فاتحہ ختم ہوتے ہی امام و مقتدی دونوں کا با آواز بلند آمین کہنا مشروع و مسنون ہے، اس کا ثبوت احادیث مرفوعہ صحیحہ صریحہ اورآثار صحابہ کرام اور اجماع صحابہ سے ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب امام "غیر المغضوب علیہم ولا الضالین" کہے تو تم آمین کہو کیوں کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ آمین کہی اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ زیر نظر رسالہ بعنوان ’’الحق المبین فی الجهر بالتأمین‘‘ محقق العصر علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کاوش ہے۔ انہوں نے اس رسالہ میں محققانہ دلائل سے ثابت کیا ہے کہ جہری نمازوں میں امام اور مقتدی دونوں کے لیے اونچی آواز سے آمین کہنا سنت ہے۔ جس کے ثبوت کے لیے متواتر احادیث، آثار صحابہ اور ائمہ محدثین کی تصریحات شاہد ہیں۔ اللہ تعالیٰ فاضل مصنف کی دعوتی و تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی اور تدریسی جہود کو قبول فرمائے ۔آمین (م ۔ا)

غنیۃ الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ

Authors: غلام مصطفی ظہیر امن پوری

In Fiqha

By Al Noor Softs

سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺکے چچا ابو طالب کے بیٹے تھے اور بچپن سے ہی حضور ﷺ کے زیر سایہ تربیت پائی تھی بعثت کے بعد جب حضور ﷺ نے اپنے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سیدنا علی نے سب سے پہلے لبیک کہا اور ایمان لے آئے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ما سوائے تبوک کے تمام غزوات حضور ﷺ کے ساتھ تھے ۔ زير نظر كتاب ’’ غنیۃ الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب رضی اللہ ‘‘محقق دوراں علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی مرتب کردہ ہے ۔ موصوف نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فضائل و مناقب میں کتب حدیث سے صحیح احادیث کا انتخاب کر کے اس کتاب میں تحقیق و تخریج کے ساتھ جمع کر دی ۔ (م۔ا)