eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
مآثر ومعارف یعنی پچیس مقالات کا مجموعہ (سلسلہ ندوۃ المصنفین)
Authors: قاضی اطہر مبارکپوری
خدمت ِحدیث وسنت ایک عظیم الشان اور بابرکت کام ہے۔ جس میں ہر مسلمان کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور حصہ ڈالنا چاہیے ،تاکہ اس کا شمار کل قیامت کےدن خدامِ سنت نبوی میں سے ہو۔ اور یہ ایک ایسا اعزاز ہے کہ جس کی قدر وقیمت کااندازہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے پر ہی ہوسکتا ہے۔ احادیثِ رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دی ہیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا۔ ائمہ محدثین کے دور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ محدثین کرام نے احادیث کی جمع و تدوین تک ہی اپنی مساعی کو محدود نہیں رکھا ،بلکہ فنی حیثیت سے ان کی جانچ پڑتال بھی کی ،اور اس کے اصول بھی مرتب فرمائے۔اس کے ساتھ ساتھ ہی انہوں نے کتب حدیث کو بھی مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا اور اس کی خاص اصطلاحات مقرر کر دیں۔چنانچہ صحیحین، سنن اربعہ،اصول خمسہ،اور صحاح ستہ وغیرہ اصطلاحات علماء کے ہاں معروف اور متداول چلی آ رہی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’مآثر و معارف‘‘ مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری کی تصنیف ہے جوکہ ان کے تحریر کردہ مختلف پچیس مقالات کا مجموعہ ہے۔ اولاً یہ مقالات مختلف علمی وتحقیقی رسائل میں شائع ہوچکے ہی۔ ان مقالات میں تدوین حدیث وعلومِ حدیث کی تاریخ ، کتب حدیث وفقہ کاتعارف، اسلامی علوم کاتعلیمی ارتقاء ، مسلمانوں کی علمی سرگرمی، یورپ میں اسلامی علوم وفنون کی ترویج اور کئی اسلامی شخصیات اور علمی کتابوں کا حال وغیرہ مستند طریقے پر درج ہے۔ ان مقالوں میں ہرمقالہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے قیمتی معلومات کا خزانہ ہے۔ (م۔ا)
شجرہ مبارکہ یعنی تذکرہ علماء مبارکپور
Authors: قاضی اطہر مبارکپوری
مبارک پور ضلع اعظم گڑھ بھارت کا ایک مشہور و معروف قصبہ ہے، ریشمی ساڑیوں اور الجامعۃ الاشرفیہ اور کبار علمائے مبارکپور نے قصبہ مبارک پور کو عالمی سطح پر شہرت دلائی ہے۔ یہ قصبہ شہر اعظم گڑھ سے 16 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ علم و ادب، شعر و سخن، اخلاق و کردار، ایثار و قربانی اور اپنی دست کاری کے باعث یہاں کے لوگوں نے ہندوستان بھر میں اپنی ایک شناخت قائم کی ہے۔سیرۃ البخاری کے مصنف مولانا عبد السلام مبارکپوری، شارح جامع ترمذی مولانا عبد الرحمٰن محدث مبارکپوری ،عالمی مقابلہ سیرت میں اول انعام یافتہ مولانا صفی الرحمٰن مبارکپوری ، مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری کا تعلق بھی اسی مبارکپور سے ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شجرۂ مبارکہ یعنی تذکرۂ علماء مبارکپور‘‘مؤرخ اسلام مولانا قاضی اطہر مبارکپوری کی تصنیف ہے ۔ انہوں نے اس کتاب میں ہدوستان کے مشہور علمی ودینی اور صنعتی قبصہ مبارکپور اور اس کے ملحقات کی ساڑھے چاسوسالہ اجمالی تاریخ اور قصبہ و سوا قصبہ کے مشائخ وبزرگان دین علماء، فقہا ، محدثین ومصنفین، شعراء وادباؤ اور دیگر ارباب علم وفضل کے حالات اور ان کے علمی ودینی کارنامے بیان کیے گئے ۔یہ کتاب پہلی دفعہ 1974ءشائع ہوئی زیر تبصرہ اس کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے اس ایڈیشن میں مزید ان علماء کے حالات شامل کردئیے ہیں جو مصنف کی زندگی میں فوت ہو ئے۔اس کے علاوہ بھی اس ایڈیشن میں مفید اضافہ جات کیے گئے ہیں۔جس سے کتاب کی افادیت اور زیادہ ہوگئی ہے۔ مصنف کتاب قاضی اطہر مبارکپوری پہلے ایڈیشن کے شائع ہونے کے 23 سال بعد 1996ء میں فوت ہوئے۔ (م۔ا)
ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت
Authors: قاضی اطہر مبارکپوری
نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور آپ کے سامنے پیش آنے والے واقعات کو حدیث کا نام دیا جاتا ہے، جو درحقیقت قرآن مجید کی توضیح وتشریح ہی ہے۔کتاب وسنت یعنی قرآن وحدیث ہمارے دین ومذہب کی اولین اساس وبنیاد ہیں۔ پھر ان میں کتاب الٰہی اصل اصول ہے اور احادیث رسول اس کی تبیین و تفسیر ہیں۔ خدائے علیم وخبیر کا ارشاد ہے ”وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیّن لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ“ (النحل:44) اور ہم نے اتارا آپ کی طرف قرآن تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے خوب واضح کردیں۔اس فرمان الٰہی سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کی رسالت کا مقصد عظیم قرآن محکم کے معانی و مراد کا بیان اور وضاحت ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے اس فرض کو اپنے قول و فعل وغیرہ سے کس طور پر پورا فرمایا، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ نے اسے ایک مختصر مگر انتہائی بلیغ جملہ میں یوں بیان کیا ہے ”کان خلقہ القرآن“(مسند احمد:24601)یعنی آپ کی برگزیدہ ہستی مجسم قرآن تھی، لہٰذا اگر قرآن حجت ہے (اور بلا ریب وشک حجت ہے) تو پھر اس میں بھی کوئی تردد و شبہ نہیں ہے کہ اس کا بیان بھی حجت ہوگا، آپ نے جو بھی کہا ہے،جو بھی کیا ہے، وہ حق ہے، دین ہے، ہدایت ہے،اور نیکی ہی نیکی ہے، اس لئے آپ کی زندگی جو مکمل تفسیر کلام ربانی ہے آنکھ بند کرکے قابل اتباع ہے ”لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ اُسْوَة حَسَنَةٌ“ (احزاب:21)خدا کا رسول تمہارے لئے بہترین نمونہٴ عمل ہے، علاوہ ازیں آپ صلى الله عليه وسلم کو خداے علی وعزیز کی بارگاہ بے نہایت سے رفعت وبلندی کا وہ مقام بلند نصیب ہے کہ ساری رفعتیں اس کے آگے سرنگوں ہیں حتی کہ آپ کے چشم وابرو کے اشارے پر بغیر کسی تردد وتوقف کے اپنی مرضی سے دستبردار ہوجانا معیار ایمان و اسلام ٹھہرایا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت"مورخ اسلام مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تصنیف ہے، جسے محمد صادق مبارک پوری استاذ جامعہ احیاء العلوم مبارک پور اعظم گڑھ یو پی نے مرتب کیا ہے۔اس میں انہوں نے ہندوستان میں علم حدیث کی اشاعت کے حوالے سے تفصیلات نقل کی ہیں۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔ آمین(راسخ)
خیرالقرون کی درسگاہیں اور ان کا نظام تعلیم و تربیت
Authors: قاضی اطہر مبارکپوری
وحی الہٰی کے نزول کی ابتداءقراءت،علم اور قلم کے ذکر سے ہوئی۔رسول اللہ ﷺمعلم الکتاب والحکمۃ بنا کر مبعوث ہوئے۔قرآن وحدیث میں علمِ دین پڑھنے پڑھانے کی تاکید ،اس کی ضرورت و اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور عہدِ رسالت سے لے کر آج تک مسلمانوں میں تعلیم و تعلم کا مربوط نظام جاری و ساری ہے۔اسلام کے نظامِ تعلیم و تعلم اور مذہب پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے زیر تبصرہ کتاب ’’ خیر القرو ن کی درسگاہیں اور ان کا نظامِ تعلیم و تربیت ‘‘از قاضی اطہر مبارکپوری اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے جس میں فاضل مؤلف نے عہد رسالت میں ہجرت سے قبل اور بعد کی درسگاہوں کا ذکرکرتے ہوئے عہد صحابہ وعہد تابعین کی درسگاہوں اور نظام تعلیم کاتفصیلاً ذکر کرنے بعد مدینہ منورہ کی دینی وعلمی اور ادبی مجالس کا بھی ذکر کیا ہے اللہ تعالیٰ مؤلف کی اس کاوش کو قبول فرمائے (آمین)( م۔ا)
انسائیکلو پیڈیا اثبات رفع الیدین
Authors: خالد گھرجاکھی
نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سےکلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ شب معراج کے موقع پر امت محمدیہ کو اس تحفہ خداوندی سے نوازہ گیا۔ نماز کفر و ایمان کے درمیان ایک امتیاز ہے۔ دن اور رات میں پانچ مرتبہ باجماعت نماز اداکرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ لیکن نماز کی قبولیت کی اول شرط یہ ہےکہ وہ نبی کریمﷺ کی نماز کے موافق ہو۔ آپﷺ نے فرمایا: "تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھو"(الحدیث)۔ نماز پر مواظبت ہر مسلمان مرد عورت پر فرض اور واجب ہے۔ نماز کے مختلف فیہ مسائل میں سے ایک معرکۃ الآراء مسئلہ 'رفع الیدین' بھی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب "انسائیکلو پیڈیا اثبات رفع الیدین" جو کہ فضیلۃ الشیخ مولانا خالد گرجاکھیؒ کی ایک تحقیقی تصنیف ہے۔ جس میں 50 راویان صحابہ، 400 احادیث و آثار سے رفع الیدین کو جواز کو ثابت کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ مانعین رفع الیدین کے دلائل کا منصفانہ جائزہ بھی لیا ہے کہ ان کے دلائل کس حد تک حجت بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مولانا کو غریق رحمت کرے اور ان کی تصانیف کو صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین(عمیر)
فاتحہ خلف الامام
Authors: خالد گھرجاکھی
نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔ اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شبِ معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔ لیکن نماز کی قبولیت کے لئے سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نماز کے موافق ہو۔نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا ۔ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے،نمازی خواہ منفرد ہو، امام ہو یا مقتدی ہو۔ کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نا مکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میںفاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔ دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ) پڑھے بغیر نماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔ یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’فاتحہ خلف الامام‘‘ معروف سلفی عالم مولانا خالد گھر جاکھی کی تالیف ہے۔ اس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ کتاب وسنت کی روشنی فرضیت فاتحہ کو احادیث نبویہ، اقوال صحابہ وتابعین، اور ائمہ کی روشنی میں نہایت مختصر مگر جامع انداز میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ مقلدین کے طرف سے جو اعتراضات کیے جاتے ہیں ان اعتراضات وشکوک کے موصوف نے باحسن طریق جوابات دئیے ہیں۔ یہ کتاب فرضیت فاتحہ خلف الامام پر ایک کامیاب علمی وتحقیقی کاوش ہے۔۔ (م۔ا)
بابرکت رزق اور موجودہ دور کے فتنے
Authors: خالد گھرجاکھی
یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان نے اس دھرتی پر اپنی ضرورتیں لے کر قدم رکھا۔ کھانے کے لیے غذا، پینے کے لیے پانی، پہننے کے لیے لباس،گرمی،سردی، بارش، طوفان سے بچنے کےلیے گھر انسان کی بنیادی ضرورتیں ہیں۔اور اس کے زندہ رہنے کا دارومدار ان ضرورتوں پر ہےاسی طرح حسن پسندی کی حس بھی انسانی فطرت میں شامل ہے، جس کے تحت وہ ہر چیز میں حسن و خوبی کو پسند کرتا ہے۔ایسے ہی سہولت اور آسائش پسندی بھی انسانی مزاج کاحصہ ہے،جس کے لیے وہمیشہ بہتر سےبہتر کی تلاش میں رہتا ہے۔اسلامی تعلیمات کے مطابق خالق کائنات میں سب بنیادی ضرورتیں، سہولتیں، آسائشیں، زیبائش کی ہر چیز اس کائنات میں پیدا کر رکھی ہے۔ اب انسان کو چاہیے کہ وہ ان آسائشوں سے اسلام کی تعلیمات کے مطابق فائدہ اٹھائے۔ مگر انسان عجلت میں آکر حلال وحرام کی تمیز کو پس پشت ڈال دیتا ہے اور ہوس و لالچ کا شکار ہوتے ہوئے دنیا و آخرت میں خسارے کا سامان تیارکرتا ہے۔ زیر بحث کتاب"بابرکت رزق اور موجودہ دور کے فتنے"خالد گھرجاکھی کی تالیف کردہ ہے۔جس میں کسب حلال کی ترغیب دی گئی ہےاور وہ اسباب جن سے تجارت حرام ہوجاتی ہے ان کابڑے احسن انداز سے ذکر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ موصوف کو اجر عظیم سے نوازے اور بنی نوع کو کسب حلال کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)
میں اہلحدیث کیوں ہوا
Authors: خالد گھرجاکھی
اہل حدیث کوئی نئی جماعت نہیں، تمام اہل علم اس کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کا نصب العین کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف نہیں ہے۔ "اہلحدیث "ایک فکر اور تحریک کا نام ہے جو سنت کو مدار عمل ٹھہرانے میں نہایت حریص اور رد بدعات میں نہایت بے باک ہیں۔اس کا مطح نظر فقط عمل بالقراٰن والحدیث ہے معاشرے میں پھیلے ہوئے رسوم و رواج کو یہ جماعت میزان نبوی میں پرکھتی ہے۔جوبات قرآن و سنت کے مطابق ہو اس کو قبول کرنا اس جماعت کا خاصہ اور امتیاز ہے۔ مسلک اہل حدیث وہ دستور حیات ہے جو صرف قرآن وحدیث سے عبارت ہے،بزرگان دین کی عزت سکھاتا ہے مگر اس میں مبالغہ نہیں۔"امرین صحیحین" کے علاوہ کسی کو بھی قابل حجت اور لائق تعمیل نہیں مانتا۔ زیر نظر کتاب"میں اہل حدیث کیوں ہوا "خالد گرجاکھی کی تصنیف ہےجس میں مولانا عبدالرحمن فاضل دارلعلوم دیوبند کا اہل حدیث ہونے کا مکمل سفر اور درپیش مسائل کو ایک تحریری قالب میں ڈھالا گیاہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اور تمام مسلک اہل حدیث اختیار کرنے والوں کو صبرو استقامت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین(عمیر)
معراج النبی ﷺ
Authors: خالد گھرجاکھی
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو بے شمارآیات و معجزات سے نوازاہے،تاکہ لوگ ان معجزات کے سامنے سر تسلیم خم کر دیں اور آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آئیں۔ان میں سے ایک سب سے بڑا اور اہم ترین معجزہ واقعۂ معراج ہے،جو درحقیقت ایک مجموعۂ معجزات ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو متعددآیات کبریٰ کا مشاہدہ کروایاہے اور آپ کو جنت وجہنم کی سیر کروائی تاکہ آپ کا ایمان عین الیقین کی حد تک پختہ ہو جائے۔معراج میں جہاں نبی کریم ﷺ کی عظمت وشان کا اظہار ہے وہیں اس میں بہت سے فوائد و اسباق بھی ہیں۔ اردو زبان میں اس موضوع پر جو کچھ لکھا گیا ہے،وہ یا تو ضخیم کتب کے اندر ہے یا پھر مستند و غیر مستند اور صحیح و ضعیف و موضوع روایات کی تمیز اور واقعات کی صحت و ضعف کی تحقیق کے بغیر ہے۔ نیز فوائد کے استنباط میں بھی توحید و شرک،سنت و بدعت اور منہج سلف کی تمیز روا نہیں رکھی گئی ہے، الا ماشاء اللہ۔ زیر تبصرہ کتاب" معراج النبیﷺ " جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین مولانا خالد گرجاکھی صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے صحیح و مستند روایات نیز مقبول و معتبر احادیث وآثار ہی کو جگہ دی ہے، جس کی وجہ سے اس کتاب کی اہمیت و افادیت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)