eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
اسلام اور دہشت گردی

Authors: ڈاکٹر خالد علوی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام امن وسلامتی کا دین ہے ۔اسلام کے معنی اطاعت اور امن وسلامتی کے ہیں ۔یعنی مسلمان جہاں اطاعت الٰہی کا نمونہ ہے وہاں امن وسلامتی کا پیکر بھی ہے ۔ اسلام فساد اور دہشت گردی کو مٹانے آیا ہے ۔دنیا میں اس وقت جو فساد بپا ہے اس کا علاج اسلام کے سوا کسی اور نظریہ میں نہیں ۔ بد قسمتی سے فسادیوں اور دہشت گردوں نے اسلام کو نشانہ بنایا ہے اور اس کے خلاف پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے اس مہم کا جواب ضروی ہے ۔یہ جواب فکر ی بھی ہونا چاہیے اورعملی بھی۔زیر نظر کتاب ’’ اسلام اور دہشت گردی‘‘ محترم ڈاکٹر خالد علوی  کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے اختصار کے ساتھ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہےکہ اسلام امن ہے اور کفر فساد ودہشت گردی ہے ۔اللہ تعالی عالم ِاسلام اور مسلمانوں کو کفار کی سازشوں اور فتنوں سے محفوظ فرمائے (آمین)(م۔ا)

اسلام اور عالمگیریت

Authors: ڈاکٹر خالد علوی

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

مسلمانوں کو عالمی سطح پر جو چیلنج درپیش ہے اس کا ایک پہلو عالمگیریت ہے۔عالمی ساہوکاروں اور گلوبل کیپیٹلزم کے منتظمین نے پوری دنیا کو اپنی گرفت میں لینے کا تہیہ کر رکھا ہے۔دنیا کے معاشی وسائل پر کنٹرول اور انسانی معاشروں کو مغربی معاشرت واخلاق کے نمونہ پر ڈھالنا ان کا ہدف ہے۔عالمی میڈیا عالمگیریت کو خوبصورت بنا کر پیش کر رہا ہےاور انسانیت کو یہ یقین دلایا جا رہا ہےکہ اس کی فلاح وبہبود اسی میں مضمر ہے،حالانکہ یہ عالمی استعمار کا دوسرا نام ہے۔چہرے کو روشن کر کے پیش کیا جارہا ہے اور اندرونی تاریکی کو چھپایا جا رہا ہے۔مسلمان اہل علم اور اہل دانش کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمگیریت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کریں۔زیر تبصرہ کتاب (اسلام اور عالمگیریت)ڈاکٹر خالد علوی ﷫ کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے کوشش کی ہے کہ عالمگیریت کی حقیقت کو منکشف کیا جائے اور اس کے اسلامی معاشرے پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کو سامنے لایا جائے۔انہوں نے داعیان اسلام کو یہ دعوت دی ہے کہ وہ کفر کے دام ہمرنگ زمیں کا ادراک کریں اور نئی نئی اصطلاحات اور جدید اظہارات کی تہہ میں پوشیدہ مسلم مخالفت کو سمجھیں۔اللہ تعالی مولف﷫ کی اس گرانقدر خدمت کو قبول ومنظور فرمائے،اور اس کے ذریعے امت کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی توفیق دے۔آمین(راسخ)

ناموس رسالت ﷺ کا قانون اور اظہار رائے کی آزادی

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے محبت وعقیدت مسلمان کے ایمان کا بنیادی جزو ہے اور کسی بھی شخص کاایمان اس وقت تک مکمل قرار نہیں پاتا جب تک رسول اللہ ﷺ کو تمام رشتوں سے بڑھ کر محبوب ومقرب نہ جانا جائے۔فرمانِ نبویﷺ ہے:’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اسے رسول اللہﷺ کے ساتھ ماں،باپ ،اولاد اور باقی سب اشخاص سے بڑھ کر محبت نہ ہو۔‘‘یہی وجہ ہے کہ امتِ مسلمہ کاشروع دن سے ہی یہ عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی سے محبت وتعلق کےبغیر ایمان کا دعویٰ باطل اور غلط ہے۔ دورِ نبوی ﷺ میں صحابہ کرام ﷢ اور بعد کے ادوار میں اہل ایمان نے آپ ﷺ کی شخصیت کے ساتھ تعلق ومحبت کی لازوال داستانیں رقم کیں۔اور اگر کسی بدبخت نے آپﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی کوشش کی تو مسلمانوں کے اجتماعی ضمیر نے شتم رسولﷺ کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا ۔برصغیر پاک وہند میں بہت سے شاتمینِ رسولﷺ مسلمانوں کے ہاتھوں جہنم کا ایدھن بنے ۔عصر حاضر میں بھی بہت سے شاتمین رسول شانِ رسالت مآبﷺ میں گستاخیاں کررہے ہیں اور مغرب انہیں آغوش میں لیے ہوئے ہے۔اہل مغرب کو اس قبیح حرکت سے بعض رکھنے اور شاتمین رسولﷺ کو عبرتناک سزا دینے کے لیے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ نبی کریم ﷺ کی توہین کرنے والے کی سز ا قتل کے حوالے سے کتبِ احادیث اورتاریخ وسیرت میں بے شمار واقعات موجود ہیں ۔اور اہل علم نے تحریر وتقریر کے ذریعے بھی ناموس ِرسالت کا حق اداکیا ہے شیخ االاسلام اما م ابن تیمیہ ﷫نے اس موضوع پر ’’الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ ‘‘کے نام سے مستقل کتاب تصنیف فرمائی۔ اوائل اسلام سے ہی ہر دور کی باطل قوتوں نے آپ ﷺکی بڑھتی ہوئی دعوت کو روکنے کے لیے ہزار جتن کیے لیکن ہر محاذ پر دشمنان ِرسول کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ماضی قریب میں سلمان رشدی ،تسلیمہ نسرین جیسے ملعون بد باطنوں کی نبی رحمت ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی اسی مکروہ سلسلہ کی کڑی ہے ۔ 30 ستمبر 2005ء کوڈنمارک، ناروے وغیرہ کے بعض آرٹسٹوں نے آپ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں خاکے بنا کر آپﷺ کامذاق اڑایا۔جس سے پورا عالم ِاسلام مضطرب اور دل گرفتہ ہوا ۔تونبی کریم ﷺ سے عقیدت ومحبت کے تقاضا کو سامنے رکھتے ہواہل ایما ن سراپا احتجاج بن گئے ۔ علماء ،خطباء حضرات اور قلمکاروں نے بھر انداز میں اپنی تقریروں اور تحریروں کےذریعے نبی کریمﷺ کے ساتھ عقیدت ومحبت کا اظہار کیا ۔اور بعض رسائل وجرائد کے حرمت ِرسول کے حوالے سے خاص نمبر ز اور کئی نئی کتب بھی شائع ہوکر عوام کے ہاتھوں میں پہنچ چکی ہیں یہ کتاب بھی اسے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت اور مستشرقین کے اعتراضات کے جواب میں بے شمار کتابیں اور مضامین لکھے جاچکے ہیں جن میں ناموس رسالت اور قانون توہینِ رسالت کے موضوع پر خوب کام ہوا ہے۔لیکن آزادئ اظہار رائے کے بہانے توہین رسالت کی ناپاک جسارت پر کتابی صورت میں کوئی خاص تفصیلی کام نہیں ہواکہ جس میں آزادئ اظہار رائے کی وضاحت ، اس کےحدود کا تعین، مختلف ممالک میں اس کی تعریف اور غلط استعمال پر سزائیں، آزادئ اظہاررائے کے بہانے ،گستاخی کی مختلف صورتوں او ران کےتدارک کے قانونی پہلوؤں کو سامنے رکھ کا م ہوا ہو۔ زیر نظر کتاب ’’ ناموس رسالتﷺ کا قانون اور اظہارِ رائے کی آزادی‘‘وطنِ عزیز کی معروف شخصیت کہنہ مشق صحافی رانا محمد شفیق خاں پسروی﷾(مرکزی رہنمامرکزی جمعیت اہلحدث ،رکن اسلامی نظریاتی کونسل،پاکستان) کے ایم فل کے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے ۔انہوں نے اس کتاب میں آزادئ اظہار کے بہانے گستاخی کرنے والوں کے جال اور سازشوں کے تدارک وسدباب کے لیے ایک مؤثر علمی وتحقیقی کام پیش کیا ہے۔یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔باب اول ناموس رسالت ، تعارف وجائزہ کے عنوان پر مشتمل ہے۔ باب دوم توہین رسالت وقانون توہین ماموس رسالت اور بین الاقوامی قوانین (آزادی اظہار رائے کے تناظر میں )کے متعلق ہے۔ اور باب سوم آزادئ اظہار رائے حدود وضوابط۔ باب چہارم آزادئ اظہار رائے کے نام پر گستاخی۔باب پنجم آزادئ اظہار کے نام پر توہین کا تدارک اور عملی اقدامات کے متعلق ہے۔یہ کتاب ناموس رسالت کے معانی ومفاہیم، تاریخ وشواہد ، اس کی نزاکت ،حساسیت اور ایمان کی بنیادوں پر دلائل سے بھر پور ہے۔اسی طرح اظہارِ رائے کیا ہے ؟،اس کا دائرہ کار کہاں تک ہے،یورپ وامریکہ میں اس کی ازادی کی حدود کیا ہیں ؟ان تمام سوالات او ردیگر اہم اشکلات پر علمی وتحقیقی ابحاث اس کتاب میں موجود ہیں ۔الغرض یہ کتاب اپنے موضوع میں انتہائی جامع کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ راناصاحب کی جماعتی ، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی جہود کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔(آمین)(م۔ا)

چاند پر اختلاف کیوں ؟ ( مسئلہ رویت ہلال ، تحقیقی و تنقیدی جائزہ )

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Knowledge

By Al Noor Softs

اسلام ایک ایسا دین ہے جو زندگی کے تمام شعبوں کے متعلق رہنمائی فراہم کرتا ہے۔روزہ شروع کرنےاور عید منانے کے مسئلے میں شریعت مطہرہ نے جو معیار مقرر کیا ہے وہ یہ ہے کہ چاند دیکھ کرعید منائی جائے او رچاند دیکھ کر ہی روزہ کی ابتداء کی جائے ۔اور اگر گرد وغبار اور ابر باراں کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو رواں مہینے کےتیس دن مکمل کر لیے جائیں بالخصوص شعبان اوررمضان المبارک کے ۔ مذکورہ قاعدہ کلیہ تمام مسلمانوں کیلئے ہے خو اہ وہ عربی ہو یا عجمی ۔دور حاضر ہو یا دور ماضی ۔ایک وقت تک مسلمان اس اصول وقاعدہ کے پابند رہےمگر پھر آہستہ آہستہ فقہائے دین و ائمہ مجتہدین اور ان کے مقلدین کی دینی خدمات کے نتیجے میں امت مسلمہ مختلف آراء میں بٹ گئی ۔اس سلسلے میں دو رائے پائی جاتی ہیں ۔ایک نقطۂ نظر کےمطابق مطالع کا اختلاف معتبر نہیں ہے اور ایک جگہ کی رؤیت پوری دنیا کے لیے ہے۔اور دوسرے نقطۂ نظر کے حاملین کے نزدیک اختلاف مطالع معتبر ہے لہٰذا ہر علاقہ کی رؤیت اس علاقہ کے لیے معتبر ہوگی ۔ قرآن وحدیث کے دلائل وبراہین کے مطابق اختلافِ مطالع معتبر ہونے کی رائے راجح ہے۔ وطنِ عزیز پاکستان میں سال کےبارہ مہینوں میں زیادہ اختلاف شوال یا عید الفطرکےچاند پر ہوتا ہے۔باقی دس ماہ کے چاند ہمارے ملک میں تقریبا متفقہ ہوتے ہیں ۔اس مسئلے کے متعلق پاک وہند میں مختلف سیمینار بھی منعقد ہوئے ہیں اور مختلف اہل علم نے اس موضوع پر کتب بھی تصنیف کی ہیں یہ کتاب بھی اسی سلسلہ کی ا یک اہم کاوش ہے ۔ زیرنظر کتاب ’’ چاند پر اختلاف کیوں؟ مسئلہ رؤیت ہلال تحقیقی وتنقیدی جائزہ ‘‘وطن عزیز کی معروف شخصیت کہنہ مشق صحافی رانا محمد شفیق خاں پسروی﷾(مرکزی رہنمامرکزی جمعیت اہلحدث ،رکن اسلامی نظریاتی کونسل،پاکستان) کی کاوش ہے ۔موصوف نے کتاب کے آغاز میں خلاصۃً بات کو خوب واضح کردینے کے بعد روزنامہ پاکستان فورم میں اس موضوع پر منعقد ہونے والے ایک علمی سیمینار میں علماء کرام اور ماہرین کے بیانات کے خلاصہ کو درج کیا ہے ۔مفسرقرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کاایک عمدہ مضمون اور چند مفتیان کرام کے فتاویٰ جات بھی اس کتاب کا حصہ ہیں ۔رانا صاحب نےاس موضوع سے متعلقہ مضامین کاتجزیہ کر کے بات کو خوب سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے پشاور سے اس موضوع پر اختلاف کرنےوالے احباب کے نقطۂ نظر پر نقد بھی کیا ہے ۔دوران تحریر اس ارشاد نبوی ﷺ ’’چاند دیکھ کرروزےرکھو اور چانددیکھ ہی روزے چھوڑو۔‘‘کی روشنی میں اس موقف کاجواب بھی آگیا ہے کہ پوری دنیا میں ایک ہی رؤیت ممکن نہیں ہے اور چاند پر موقوف معاملات اکٹھے نہیں ہوسکتے ۔اللہ تعالیٰ راناصاحب کی جماعتی ، دعوتی ،تحقیقی وتصنیفی جہود کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔(آمین)(م۔ا)

کالمیات شفیق پسروری

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Knowledge

By Al Noor Softs

رانا شفیق خاں پسروری﷾(فاضل جامعہ ستاریہ اسلامیہ ،کراچی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین، معروف خطیب ، منجھے ہوئے تاریخ دان او رایک بے مثال مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔کئی سال سے مسلسل لاہورکی سب سے قدیمی مسجد چینیانوالی رنگ محل میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہیں ۔اسی مسجد میں کبھی سید داؤد غزنوی ﷫اورشہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدجمعۃ المبارک کےخطبات میں علم کے موتی بکھیرا کرتے تھے ۔راناصاحب خطابت کےساتھ ساتھ علمی رسائل وجرائد اور اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں اور کئی سال سے مستقل روزنامہ پاکستان کے کالم نگار ہیں ۔روزنامہ پاکستان میں ’’آج کی ترایح میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کی تفہیم ‘‘ کے نام سے تراویح میں پڑھےجانے والےپارہ کا خلاصہ بھی شائع ہوتا رہا ہے ۔زیرتبصرہ کتاب ’’ کالمیات شفیق پسروری ‘‘ جناب رانا شفیق خان پسروری ﷾کے ان کالموں کا مجموعہ ہے جو انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف رسائل وجرائد میں مختلف واقعات ، مختلف بیانات اور مختلف موضوعات پر لکھے۔رانا صاحب کےاس مجموعہ میں شامل اکثر کالم 1987ء-1986ء کے تحریر کردہ ہیں اور ان میں کئی کالم ایسے بھی جن پر شہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر ﷫ نے پسروری صاحب کو انعام سے نوازا تھا اللہ تعالیٰ رانا صاحب کی جہود کو قبول فرمائے ۔ رانا صاحب کے ان کالموں کو جناب احمد ساقی چھتوی صاحب نے کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)

حرمت رسول ﷺ اور آزادیٔ رائے

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ہم پر اللہ رب العزت ٰ کے بے شمار احسانات ہیں جن میں سے سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ہماری دنیا وآخرت کی ہر قسم کی اصلاح وفلاح اور نجات کے لیے نبوت ورسالت کا ایک مقدس اور پاکیزہ سلسلہ شروع کیا جو کہ ہمارے نبی جناب محمدالرسولﷺ پر آ کر ختم ہوا‘پیارے نبی‘رسول رحمتﷺ کی ذاتِ مقدسہ ومبارکہ فضیلت وشوکت کے اعلیٰ ترین مقام ومرتبہ پر ہے۔ساری عزتیں ان کی عزت وتوقیر کے سائے میں رکھ دی گئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کےذکر کو رفعت واشرافیت کی انتہاؤں سے نوازا ہے اور حدِ ادراک سے وسیع وسعتوں سے ہم کنار کیا ہے۔اس موضوع پر جن سیرت نگار وں نے بہت عمدہ لکھا ہے ان میں سے ایک زیرِ تبصرہ کتاب کے مؤلف بھی ہیں۔ اُن کی یہ کتاب اُن کے ایسے کالموں اور مضامین پر مشتمل ہے جو انہوں مغربی ممالک کی طرف سے ہادی عالم اور محسن کائنات کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کے جواب میں اور ان کے متعلق تحریر کئے ہیں۔ اس کتاب میں توہین رسالت ایکٹ سے لے کر مغربی ممالک میں ہلاس فیمی کے موجود قوانین کا جائزہ اور اُن کا تجزیہ کیا گیا ہے‘ اور توہین رسالت کے خوفناک انجام اور عواقب سے آگاہ کیا گیا ہے۔ اور اس کے علاوہ بیش بہا معلومات کا بھی ذخیرہ ہے اور قارئین کے لیے ایک تحفے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور یہ کتاب’’حرمت رسول اور آزادی رائے‘‘ مولانا رانا محمد شفیق خان پسروری﷾ کی تحقیقی کاوش کا نتیجہ ہے۔ آپ﷾ خط وکتابت کے ساتھ ساتھ خطیب‘ صحافی اور کالم نگار بھی ہیں۔عام معلوماتی کالموں کے علاوہ دینی موضوعات پر بھی ان کے کالم’’روز نامہ پاکستان‘‘ میں باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف ﷾کی خدماتِ دین کو قبول فرمائے اور ان کے لیے ذریعہ نجات بنا ئے اور عوام کے لیے نفع عام فرمائے (آمین)( ح۔م۔ا )

لقب اہل حدیث

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

مسلک اہل حدیث ایک نکھرا ہوا اور نترا ہوا مسلک ہے۔جو حقیقتا خاصے کی شے اور پاسے کا سونا ہے۔اس کا منبع مصدر کتاب وسنت ہے۔مسلک اہل حدیث کوئی نئی جماعت یا فرقہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک مکتب فکر اور تحریک کا نام ہے ۔ تمام اہل علم اس بات کو اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب و سنت ہے اور جب سے کتاب و سنت موجود ہے تب سے یہ جماعت موجود ہے۔اسی لیے ان کا انتساب کتاب و سنت کی طرف ہے کسی امام یا فقیہ کی طرف نہیں اور نہ ہی کسی گاؤں اور شہر کی طرف ہے۔یہ نام دو لفظوں سے مرکب ہے۔پہلا لفظ"اہل"ہے۔جس کے معنی ہیں والے صاحب دوسرا لفظ"حدیث" ہے۔حدیث نام ہے کلام اللہ اور کلام رسولﷺ کا۔قرآن کو بھی حدیث فرمایا گیا ہے۔اور آپﷺ کے اقوال اور افعال کے مجموعہ کا نام بھی حدیث ہے۔پس اہل حدیث کے معنی ہوئے۔”قرآن و حدیث والے” جماعت اہل حدیث نے جس طریق پر حدیث کو اپنا پروگرام بنایا ہے اور کسی نے نہیں بنایا۔اسی لیے اسی جماعت کا حق ہے۔کہ وہ اپنے آپ کو اہل حدیث کہے۔مسلک اہلحدیث کی بنیاد انہی دو چيزوں پر ہے اور یہی جماعت حق ہے۔ اہل حدیث مروّجہ مذہبوں کی طرح کوئی مذہب نہیں، نہ مختلف فرقوں کی طرح کوئی فرقہ ہے، بلکہ اہل حدیث ایک جماعت اور تحریک کا نام ہے۔ اور وہ تحریک ہے زندگی کے ہر شعبے میں قرآن وحدیث کے مطابق عمل کرنا اور دوسروں کو ان دونوں پر عمل کرنے کی ترغیب دلانا، یا یوں کہ لیجئے کہ اہل حدیث کا نصب العین کتاب وسنت کی دعوت اور اہل حدیث کا منشور قرآن وحدیث ہے۔اور اصلی اہل سنت یہی ہیں۔اہل حدیث ایک تحریک ہے، ایک فکر ہے، جو دنیا کے کونے کونے میں پھیل رہی ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہو گئی ہے کہ قرآن وسنت ہی شریعت کے اصلی مصادر ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " لقب اہل حدیث "مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے راہنما رانا محمد شفیق خاں پسروری صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں اہل حدیث لقب اختیار کرنے کی وجہ بتائی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف موصوف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)

مضامین شفیق پسروری

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

رانا شفیق خاں پسروری﷾(فاضل جامعہ ستاریہ اسلامیہ ،کراچی )مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ممتاز عالم دین، معروف خطیب ، منجھے ہوئے تاریخ دان او رایک بے مثال مقرر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔کئی سال سے مسلسل لاہورکی سب سے قدیمی مسجد چینیانوالی رنگ محل میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہیں ۔اسی مسجد میں کبھی سید داؤد غزنوی ﷫اورشہید ملت علامہ احسان الٰہی ظہیر شہیدجمعۃ المبارک کےخطبات میں علم کے موتی بکھیرا کرتے تھے ۔راناصاحب خطابت کےساتھ ساتھ علمی رسائل وجرائد اور اخبارات میں مضامین بھی لکھتے رہے ہیں اور کئی سال سے مستقل روزنامہ پاکستان کے کالم نگار ہیں ۔روزنامہ پاکستان میں ’’آج کی ترایح میں پڑھے جانے والے قرآن پاک کی تفہیم ‘‘ کے نام سے تراویح میں پڑھےجانے والےپارہ کا خلاصہ بھی شائع ہوتا رہا ہے ۔ زیرتبصرہ کتاب جناب رانا شفیق خان پسروری ﷾کے ان مضامین کی کتابی صورت ہے جو انہوں نے پاکستان کے مختلف موقر ہفت روزہ وپندرہ روزہ رسائل وجرائد اورماہناموں کے ساتھ ساتھ روزناموں میں مختلف اوقات میں مختلف عنوانات کے تحت لکھے ہیں۔رانا صاحب کے یہ تمام مضامین بہترین اسلوب، اصلاحی انداز میں موثر کن اور ایک بہت بڑا دبی وعلمی خزانہ ہے۔جن میں سے بعض مضامین پر تو رانا صاحب داد وتحسین کے ساتھ ساتھ انعامات بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ان مضامین کی اہمیت وافادیت کے پیش نظر جناب احمد ساقی چھتوی صاحب نے ان کو کتابی صورت میں مرتب کیا ہے ۔(م۔ا)

سواد اعظم اور اہل حدیث

Authors: رانا محمد شفیق خاں پسروری

In Hadith & science of hadith

By Al Noor Softs

1977ء کی تحریک نفاذ اسلام ایک قومی تحریک تھی جس میں تمام مکاتب فکر کے افراد نے حصہ لیا تھا ور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کےلیے قربانیاں دی تھیں۔مگر نوارانی میاں اور ا ن کے ساتھیوں نے اُس وقت اس تحریک سے علیحدگی اختیار کر کے اور سواد اعظم کانعرہ لگا کر ملک میں فرقہ واریت کو ہوادی اور قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کردیا۔اس تحریک کی کامیابی کے فوراً بعد نورانی میاں اور ان کے ساتھیوں نے قومی اتحاد کوچھوڑ کر ’’سواداعظم ‘‘ ہونے کا اعلان کیا اور جلسوں، جلوسوں اوراخبارات میں ایک طوفان بیان بازی برپا کردیا کہ ہم سواد اعظم ہیں اور پاکستان میں سواد اعظم کی مرضی نافذ ہوگئی۔تو اس وقت جناب رانا شفیق خاں پسروری﷾ نے سواد اعظم کے حقیقی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے ایک مفصل مضمون لکھا تھا جو مختلف جرائد ورسائل میں شائع ہوا اورقارئین نے اسے بڑا پسند کیا۔ کتابچہ ہذا’’ سواد اعظم اوراہل حدیث‘‘ اسی مضمون کی کتابی صورت ہے۔(م۔ا)