eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
حزب الرسول
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
شریعتِ اسلامیہ میں دعا کو اایک خاص مقام حاصل ہے ۔او رتمام شرائع ومذاہب میں بھی دعا کا تصور موجود رہا ہے مگر موجود شریعت میں اسے مستقل عبادت کادرجہ حاصل ہے ۔صرف دعا ہی میں ایسی قوت ہے کہ جو تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔دعاؤں کے احکام وآداب کے حوالے سے کئی جید علماء کرام نے کتب مرتب کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’ حزب الرسول ‘‘از مولانا محمد صادق سیالکوٹی بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔انہوں نے مسلمان بھائیوں اوربہنوں کی خیر خواہی کےلیے رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں وردوں اوروظیفوں کو ایک جگہ اکٹھا کردیا ہے اور اس کا مجموعہ کانام حزب الرسول ہے رکھا ہے۔ مرتب نے اس میں سب سے پہلے قرآنی دعائیں اور پھر رحمت عالم ﷺ کی فرمودہ دعائیں جمع کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی تمام دینی خدمات کو قبول فرمائے۔ (آمین)
انوار الزکوٰۃ
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
دینِ اسلام کا جمال وکمال یہ ہے کہ یہ ایسے ارکان واحکام پر مشتمل ہے جن کا تعلق ایک طرف خالق ِکائنات اور دوسری جانب مخلوق کےساتھ استوار کیا گیا ہے۔ دین فرد کی انفرادیت کا تحفظ کرتے ہوئے اجتماعی زندگی کوہر حال میں قائم رکھنے کاحکم دیتاہے۔اس کے بنیادی ارکان میں کوئی ایسا رکن نہیں جس میں انفرادیت کے ساتھ اجتماعی زندگی کو فراموش کیا گیا ہو ۔انہی بینادی ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن زکوٰۃ ہے۔ عربی زبان میں لفظ ’’زکاۃ‘‘ پاکیزگی ،بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔جبکہ شریعت میں زکاۃ ایک مخصوص مال کے مخصوص حصہ کو کہا جاتا ہے جو مخصوص لوگوں کو دیا جاتا ہے ۔اور اسے زکاۃ اس لیے کہاجاتا ہے کہ اس سے دینے والے کا تزکیہ نفس ہوتا ہے اور اس کا مال پاک اور بابرکت ہوجاتا ہے۔ نماز کے بعد دین اسلام کا اہم ترین حکم ادائیگی زکاۃ ہے ۔اس کی ادائیگی فر ض ہے اور دینِ اسلام کے ان پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک ہے جن پر دین قائم ہے۔زکاۃ ادا کرنےکے بے شمار فوائد اور ادا نہ کرنے کے نقصانات ہیں ۔قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں تفصیل سے اس کے احکام ومسائل بیان ہوئے۔ جو شخص اس کی فرضیت سےانکار کرے وہ یقینا کافر اور واجب القتل ہے۔ یہی وجہ کہ خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیق نے مانعین ِزکاۃ کے خلاف اعلان جنگ کیا۔اور جو شخص زکاۃ کی فرضیت کا تو قائل ہو لیکن اسے ادا نہ کرتا ہو اسے درد ناک عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔جس کی وضاحت سورہ توبہ کی ایت 34۔35 اور صحیح بخاری شریف کی حدیث نمبر1403 میں موجود ہے۔ اردو عربی زبان میں زکوٰۃ کے احکام ومسائل کےحوالے سے بیسیوں کتب موجود ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’انوار الزکاۃ ‘‘ بھی اسی سلسلہ ایک کڑی ہے ۔جو کہ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا محمد سیالکوٹی کی زکوۃ کےموضوع پر آسان فہم جامع کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے زکاۃ او رصدقات کےتمام مسائل قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیے ہیں ۔اللہ تعالیٰ مولانا کی تمام تبلیغی وتصنیفی خدمات کوقبول فرمائے اور اس کتاب کو عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے۔ آمین(م۔ا)
نماز مقبول مع نورانی نماز
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
مسلمانوں کا امتیازی وصف دن اور رات میں پانچ دفعہ اپنے پروردگار کےسامنے باوضوء ہوکر کھڑے ہونا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنا اور اپنے رب سے اس کی رحمت طلب کرنا ہے ۔نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اورا سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمۂ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ نماز بے حیائی اور برائی کے کاموں سے روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قدر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے۔اس لیے ہرمسلمان مرد اور عورت پر پابندی کے ساتھ وقت پر نماز ادا کرنا لازمی ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’نمازمقبول مع نورانی نماز‘‘نماز کےموضوع پر معروف اورمقبول عام کتاب ’’ صلاۃ الرسول‘‘ کےمصنف مولانا محمد صادق سیالکوٹی کے نماز کے متعلق دو چھوٹے چھوٹے کتابچے ہیں جنہیں یکجا کر کےشائع کیا گیا ہے۔نماز مقبول نامی کتابچہ مولانا موصوف نے صلاۃ الرسول کے بعد چھوٹے بچے اور بچیوں کے لیے لکھا اور اس میں آسان فہم انداز میں نبی ﷺ کی مسنون نما ز کو اختصار کے ساتھ پیش کیا ۔اور نورانی نماز میں نماز میں پڑھی جانے والی دعاؤں کا صرف لفظی ترجمہ تحریرکیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولاناکی تمام خدمات کو شرف قبولیت سے نوازے (آمین)(م۔ا)
نماز جنازہ
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
موت کی یاد سے دنیوی زندگی کی بے ثباتی اور ناپائیداری کا احساس ہوتا ہے اور آخرت کی حقیقی زندگی کے لئے حسنِ عمل کا جذبہ اور رغبت پیدا ہوتی ہے۔ یادِ موت کا اہم ذریعہ زیارتِ قبور ہے۔ شہرِ خاموشاں میں جاکر ہی بدرجۂ اتم یہ احساس ہوتا ہے کہ موت کتنی بڑی حقیقت ہے جس کا مزہ ہر شخص چکھے گا۔ ابتدائے آفرینش سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا۔ جلیل القدر انبیاء ؑ مبعوث ہوئے اور باری باری موت کا مزہ چکھتے رہے۔ اسی طرح بزعمِ خویش خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی آئے، دارا و سکندر جیسے بادشاہ بھی گزرے لیکن موت کی آہنی گرفت سے کوئی بھی بچ نہ سکا۔ اگر اتنے نامور لوگوں کو بھی موت نے نہ چھوڑا تو ہم اور تم اس کے تصرف سے کیسے چھوٹ سکتے ہیں۔اسلام نے جہاں زندگی کے بارے میں احکام ومسائل بیان کئے ہیں وہیں موت کے احکام بھی بیان کر دئیے ہیں۔موت کے احکام میں سے کفن ودفن اور نماز جنازہ وغیرہ کے احکام ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "نماز جنازہ"جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین اور بے شمار کتابوں کے مصنف محترم مولانا محمد صادق سیالکوٹی صاحب کی تصنیف ہے، جس میں انہوں نے موت اور اس کے متعلقات نیز موت کے بعد پیش آنے والے حقائق کو نبی کریم ﷺ اور خدائے قدوس کے فرامین کی روشنی میں پیش کیا ہے۔اس کتاب کی خوبی یہی ہے کہ جس منزل سے ہر انسان نے گزرنا ہے اسے مجمل مگر مدلل طور پر پیش کرتی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مولف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(راسخ)
ساقی کوثر ﷺ
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
حوض کوثر جنت میں شفاف پانی کا ایک چشمہ ہے جو نہایت وسیع ہے ۔ جنتی افراد قیامت اور محشر کے مراحل کو طے کرنے کے بعد جنت میں جائیں گے ۔ وہ بلافاصلہ حوض کوثر پر پہنچ کر اپنی پیاس بجھا ئیں گے اور بے حد لطف اندوز ہوں گے۔اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، گلاب اور مشک سے زیادہ خوشبودار، سورج سے زیادہ روشن اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے۔ اس کے پینے کے برتن ستاروں کی مانند چمکدار اور بکثرت ہیں، آنحضورﷺاپنے دستِ مبارک سے جام بھر بھر کر پلائیں گے جو ایک بار پی لے گا پھر میدانِ حشر میں پیاسا نہ ہو گا مرتد و کافر و مشرک حوض کوثر کے پانی سے محروم رہیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک گمراہ فرقے بھی اس نعمت سے محروم رہیں گے۔ جب نبی ﷺ کے پیارے بیٹے عبد اللہ فوت ہوئے تو مشرکین مکہ نے کہا اب محمد ﷺ ابتر ہوگیا ہے ۔تواللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مغموم پاکر تسلی کےلیے سورۃ کوثر نازل کر کے بیٹے کی جدائی کے زخم کو کوثر کے آب حیات سے مندمل کیا ۔علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ کوثر کثرت سے ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے اعلیٰ درجہ کی خیر اور بہتری بکثرت حضورﷺ کو عطا کی ہے ۔ اور نہرکوثر بھی اسی خیر کثیر میں داخل ہے۔ اللہ تعالی ٰ نے رسول اکرم ﷺ کو اس قدر خیر کثیر عطا کی ہے کہ کو ئی اس شمار نہیں کرسکتا ہے۔ زیر تبصرہ رسالہ ’’ساقی کوثر‘‘ معروف عالم دین مولانا محمد صادق سیالکوٹی کی کاوش ہے جس میں انہوں نبی اکرم ﷺ کے مرتبہ ومقام کو بیان کرتے ہوئے دلائل سے اس بات کو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سید البشر حضرت محمد ﷺ کو حوضِ کوثر کی دولت عطا کرنے کے علاوہ ہر قسم کی خیر وخوبی ، نیکی اور بھلائی کی وہ کثرت اوربرکت بھی بخشی ہے جو دوسرے انبیاء کو عطاء نہیں کی گئی۔ اللہ تعالیٰ روزِ محشرتمام موحدین اہل ایمان کو حوضِ کوثر کا جام نصیب فرمائے فرمائے (آمین) ( راسخ )
حج مسنون ( صادق سیالکوٹی )
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
حج اسلام کے ارکانِ خمسہ میں اسے ایک رکن ہے ۔ بیت اللہ کی زیارت او رفریضۂ حج کی ادائیگی ہر صاحب ایمان کی تمنا اور آرزو ہے ہر صاحب استطاعت اہل ایمان کے لیے زندگی میں ایک دفعہ فریضہ حج کی ادائیگی فرض ہے اور اس کے انکار ی کا ایمان کامل نہیں ہے اور وہ دائرہ اسلام سےخارج ہے اجر وثواب کے لحاظ سے یہ رکن بہت زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔اور جس طرح نماز ،روزہ ، زکوٰۃ ،اسلام کے ارکان اور فرائض ہیں اسی طرح حج دین کا بہت بڑا رکن اور فیع الشان فریضہ ہے نماز اور روزہ صرف بدنی عبادت ہے ۔ زکوٰۃ صرف مالی عبادت ہے ۔ لیکن حج اپنے اندر بدنی اور مالی دونوں قسم کی عبادتیں سموئے ہوئے ۔ یعنی حا جی گھر سے چل کر مکہ مکرمہ ،عرفات اورمدینہ منورہ سے ہو کر لوٹتا اور ساتھ ہی مال بھی خرچ کرتا ہے تو گویا دونوں قسم کی بدنی اور مالی عبادتوں کا شرف حاصل کرتا ہے ۔حج کرنے سے پہلے حج کے طریقۂکار سےمکمل آگاہی ضرور ی ہے ۔ تمام كتب حديث وفقہ میں اس کی فضیلت اور احکام ومسائل کے متعلق ابو اب قائم کیے گئے ہیں اور تفصیلی مباحث موجود ہیں ۔حدیث نبویﷺ ہے کہ آپ نےفرمایا الحج المبرور لیس له جزاء إلا الجنة ’’حج مبرور کا ثواب جنت سوا کچھ اور نہیں ۔اس موضوع پر اب تک اردو و عربی زبان میں چھوٹی بڑی بیسیوں کتب لکھی جاچکی ہیں اور ہنوذ یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’حج مسنون ‘‘ معروف عالم دین مصنف کتب کثیرہ مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی کی تصنیف ہے ۔ اس کتاب میں انہوں نے فریضہ حج کو سنت رسول ﷺ کے مطابق بیان کرتے ہوئے گھر سے چل کر کعبۃ اللہ ، عرفات اور مدینہ طیبہ تک پہنچنا اور پھر واپس آنے کے سارے احوال کو احادیث نبویہ کی روشنی میں تحریر کیا ہے اور اس دوران پاک وہند میں رواج پا جانے والی خرابیوں کی نشاندہی بھی کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ مولانا صادق سیالکوٹی کی تقریری وتحریری کاوشوں کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے (آمین) (م۔ا)
جمال مصطفٰی ﷺ
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
In History
دینِ اسلام کاابلاغ او راس کی نشر واشاعت ہر مسلمان پر فرض ہے۔ لہذا اس انعام الٰہی کی وجہ سےایک عام مسلمان کی ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں کہ اصلاحِ انسانیت کےلیے اللہ تعالیٰ نےامت مسلمہ کو ہی منتخب فرمایا ۔اور ہر دور میں مسلمانوں نےاپنی ذمہ داریوں کومحسوس کیا اور دین کی نشر واشاعت میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔دور ِحاضر میں ہر محاذ پر ملت کفر مسلمانوں پر حملہ آور ہے او راسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ اور نفرت انگیز رویہ اپنائے ہوئےہیں او ر آئے دن نعوذ باللہ پیغمبر اسلام کی ذات کوہدف تنقید کا نشانہ بنا کر انٹرنیشنل میڈیا کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے۔ تو یقینا ایسی صورت حال میں رحمت کائناتﷺ کےاخلاقِ عالیہ اور آپﷺ کےپاکیزہ کردار اور سیرت کے روشن ،چمکتے اور دمکتے واقعات کو دنیا میں عام کرنے کی شدید ضرورت ہے تاکہ اسے پڑھ کر امت مسلمہ اپنے پیارے نبیﷺ کے اخلاق حسنہ اور اوصاف حمیدہ سے آگا ہ ہوسکے اور آپ کی سیرت وکردارکوروشنی میں اپنی آنے والی نسل کی تربیت کر سکے ۔ زیر نظر کتاب ’’جمال مصطفیٰ‘‘ مولانا محمد صادق سیالکوٹی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے نبی کریم ﷺ کی صفات، خوبیوں ،فضائل ومناقب، اوصاف اور آپ کی سیرت صورت کو بڑے عمدہ انداز میں بیان کیا ہے ۔اللہ تعالی ٰ مولانا کی تبلیغی و تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے اورانہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا کرے ۔ (م۔ا)
انوار التوحید
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
دنیا میں جتنے بھی انبیاء ورسل تشریف لائے ان کی ہدایت کا نقطۂ آغاز توحید سے ہوا انسان کے لیے راس المال توحید ہی ہے جسے ہر زمانے میں اللہ کے بندوں نے مضبوط ہتھیاروں سے محفوظ رکھا۔ شرک اپنے رنگ وروپ بدل بدل کر نئے نئے ہتھاروں میں ملبوس ہمیشہ آتا رہا ہے او رآج بھی آرہا ہے اور وارثانِ نبو ت عقیدہ توحید کی حفاظت کےلیے ہر طرح کی خدمات پیش کرتے رہے ۔زیر تبصرہ کتاب ''انوار التوحید '' مولانا محمد صادق سیالکوٹی کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے مشرکانہ عقائد او ربدعتوں کی خوب قلعی کھولی ہے اور فاضل مصنف نے آیات قرآنی اور احادیث کے حوالے سے بتایا ہے کہ توحید کے اصل تقاضے کیا ہیں اور مسلمان جن خرافات میں الجھے ہوئے ہیں وہ خرافات کس قدر بے اصل او ردین کی روح کے مخالف اور توحید کی ضد ہیں ۔اور اس کتاب میں ایمان کی حقیت ،اللہ کی صفات،اور اسمائے حسنی کی بڑی تفصیل سے تشریح کی گئی ہے اور دین میں نکالی ہوئی بعض نئی باتوں(بدعات)کو حنفی فقہ کی کتب سے غلط ثابت کیا ہے ۔یہ کتاب اسلامی عقائد وتعلیمات سے واقفیت حاصل کرنے میں کافی معاون ثابت ہوسکتی ہے اس کتاب میں تقریبا ساڑھے تین صد مختلف نکات پرروشنی ڈالی گئ ہے اللہ تعالیٰ مولانا سیالکوٹی کے درجات بلند فرمائے اور ان کی مرقد پراپنی رحمتوں کا نزول فرمائے (آمین)(م۔ا)
اصلاح معاشرہ (اضافہ شدہ ایڈیشن )
Authors: محمد صادق سیالکوٹی
In Arguments
ہر صاحب عقل یہ بات بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ معاشروں کی اصلاح وتعمیر میں قوموں کی فلاح وکامیابی وترقی چھپی ہے۔ تاریخ گواہ ہےکہ ماضی میں جب تک مسلمانوں نےاپنے معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنائے رکھا ،اس وقت تک مسلم قوم سر بلند رہی ،او رجیسے جیسے معاشرہ تباہ ہوگیاہے ویسے ویسے امتِ مسلمہ بھی اخلاقی زبوں حالی کا شکار ہوتی چلی گئی، چنانچہ معلوم ہوا کہ فوز وفلاح وکامیابی کے لیے اپنے معاشرے کی اصلاح کرنا انتہائی ضرروی ہے ۔ معاشرےکی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریقوں اور اصولوں کو اپنانا چاہیے او راسی پاک اوربے عیب ذات سے اصلاح طلب کرنی چاہیے۔سرور کائنات ﷺ کی بعثت کے وقت عرب معاشرہ جن گھناؤنے اعمال کامرتکب تھا، قرآن وحدیث ہی کا نورتھا جس نے تاریک معاشرے کو روشن کردیا،اور ان کی برائیوں کونیکیوں میں تبدیل کردیا ۔ لوگ شرافت،دیانت،محبت ،اخوت، شرم وحیا اوراخلاق فاضلہ کے مجسمے بن گئے۔ ترقی کے زینے چڑہتے چڑہتے وہ اوج ثریا پر جا پہنچے اور قرآن نے انہیں نجات ِآخرت کی بشارتیں سنائیں۔زیرنظر کتاب ’’ اصلاح معاشرہ‘‘ معروف عالم دین مولانا حکیم محمد صادق سیالکوٹی کی تصنیف ہے ، جس میں انہوں نے قرآن واحادیث کی روشنی میں انسانی زندگی میں پیش آمدہ مختلف مسائل پر سلیس او ر عام فہم انداز میں بحث کی ہے، جس پر عمل کرکے ان شاء اللہ ہمارے معاشرےکی اصلاح ممکن ہوسکتی ہے۔(م۔ا)