eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
استخاره

Authors: عبد الہادی عبد الخالق مدنی

In Worship and matters

By Al Noor Softs

ہمارے معاشر ے میں شریعت سے لاعلمی اور ناواقفیت کی بناء پر دینی مسائل سے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں استحارہ کا مسئلہ بھی انہی میں شامل ہے لوگوں کی لاعلمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض دین فروش لوگوں نے اسے ذریعہ معاش بنارکھاہے اوروہ دولت ودنیا کے ساتھ لوگوں کی متاع ایمان بھی چھین رہے ہیں ان حالات میں ای ایسی کتاب کی اشدضرورت تھی جس میں استخارہ کا شرعی تصور اجاگر کیا گیا ہو اور قرآن وسنت کی روشنی میں اس کے صحیح طریقہ کی وضاحت کی گئی ہو زیرنظر کتاب ’’استخارہ‘‘اسی ضرورت کو بحسن خوبی پورا کرتی ہے جس کے مطالعہ سے ایک عام قاری بھی استخارہ کے تمام مسائل سے پوری طرح واقف ہوجاتا ہے اور اسے مزید کسی شے کے دریافت کی ضرورت نہیں رہتی ۔

بدعت کی پہچان اور اس کی تباہ کاریاں

Authors: عبد الہادی عبد الخالق مدنی

In Fiqha

By Al Noor Softs

اللہ عزوجل نے قرآن کریم میں یہ اعلان فرمایا ہے کہ میں نےتمہارا دین (اسلام)مکمل کردیا ہے اسے یہ لازمی نتیجہ نکلتاہے کہ اب اس میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوسکتی ہے او رنہ ہی اضافہ ورنہ تکمیل دۤین کے کوئی معنی نہیں رہتے لکن شیطان انسلان کو گمراہ کرنے کےلیے مختلف حربے استعمال کرتا رہتا ہے انہی میں سے ایک حربہ ’’بدعت‘‘ کا ہے کہ کسی کام کے بارے میں یہ سمجھ لینا کہ یہ تو بڑا اچھا کام ہے جبکہ قرآن وسنت سے اس کا ثبوت نہ ملتا ہو،اسی کو بدعت کہا جاتا ہے یعنی اسے دین کا کام قرار دے دیا جائے علمائ نے بدعت کو عام گناہوں سے زیادہ خطرناک قرار دیا ہے کہ گناہ سے توبہ کی امید ہوتی ہے لیکن تدعتی تو بدعت کو اچھا اور نیک عمل سمجھ کر سرانجام دیتا ہے وہ اس سے توبہ کیسے کرسکتاہے لہذا ضروری ہے کہ اپنے اعمال کا جائزہ لے کر بدعت سے بچاجائے اس سلسلہ میں جناب عبدالہادی عبدالخالق مدنی کی کتاب انتہائی مفید ہے جس کے مطالعہ سے بدعت کی پہچان اور اس کی تباہ کاریوں سے آگاہی حاصل ہوتی ہے

مسئلہ رفع الیدین تحریری مناظرہ

Authors: عبد المنان نور پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

اسلام کے ارکانِ خمسہ میں سے عقیدہ توحید و رسالت کے بعد سب سے اہم ترین رکن نماز پنجگانہ ہے۔ جس کو مسنون طریقے سے ادا کرنا ضروری ہے، کیونکہ عقیدہ توحید کے بعد کسی بھی عمل کی قبولیت کے لیے دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ نیت اور طریقۂ رسول ﷺ۔ لہٰذا نماز کے بارے میں آپ ﷺ کا واضح فرمان ہے: ’’نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو‘‘(صحیح بخاری)۔ نماز میں رفع الیدین کرنا رسول اللہ ﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: رفع الیدین کی حدیث کو صحابہ کرام کی اس قدر کثیر تعداد نے روایت کیا ہے کہ شاید کسی اور حدیث کو اس قدر صحابہ نے روایت کیا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے جزء رفع الیدین میں لکھا ہے کہ: رفع الیدین کی حدیث کو انیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے روایت کیا ہے۔ لیکن صد افسوس اس مسئلہ کو مختلف فیہ بنا کر دیگر مسائل کی طرح تقلید اور مسلکی تعصب کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ اثبات رفع الیدین پر امام بخاری رحمہ اللہ کی جزء رفع الیدین کے علاوہ کئی کتابیں موجود ہیں، تقریبا20 کتابیں کتاب و سنت ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’مسئلہ رفع الیدین تحریری مناظرہ‘‘محدث العصر مولانا حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ اور مولانا قاری جمیل احمد حنفی صاحب (مدرس دار العلوم تعلیم القرآن مسجد گنبد والی سرافراز کالونی ،گوجرانوالہ) کے درمیان ہونے والے تحریری مناظرہ کی کتابی صورت ہے۔اس مناظرہ میں مولانا عبد المنان نور پوری رحمہ اللہ نے مسئلہ رفع الیدین کے دلائل اور اس مسئلہ پر پیش کیے جانے والے شبہات کا محققانہ جائزہ پیش کیا ہے۔ (م ۔ا)

خطبات نورپوری

Authors: عبد المنان نور پوری

In Arguments

By Al Noor Softs

اللہ تعالیٰ نے ہر مسلمان کے دوسرے مسلمان پر پانچ حق رکھے ہیں جن کو ادا کرنا اخلاقی اور شرعی فرض بنتا ہے اور انہیں حقوق العباد کا درجہ حاصل ہے۔ان پانچ حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ جب کوئی مسلمان بھائی فوت ہو جائے تو اس کی نمازہ جنازہ ادا کی جائے اور یہ نمازہ جنازہ حقیقت میں اس جانے والے کے لیے دعا ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی اگلی منزل کو آسان فرمائے اس لیے کثرت سے دعائیں کرنی چاہیں۔لیکن عوام الناس میں اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو جنازے کے مسائل تو دور کی بات جنازہ میں پڑھی جانے والی دعائیں بھی یاد نہیں ہوتیں جس وجہ سے وہ اپنے جانے والے عزیز کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتے۔ لیکن مختلف بدعات کو اختیار کر کے مرنے والے کے ساتھ حسنِ سلوک کا رویہ ظاہر کرنا چاہتے ہوتے ہیں جو کہ درست نہیں اور خلاف ِ شریعت ہے۔ زیر نظر کتاب ’’خطبات نورپوری‘‘محدث دوراں حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کے مسائل جنازہ سے متعلق 40 خطباتِ جمعہ کا مجموعہ ہے۔انہوں نے اس میں کتاب و سنت کی روشنی میں جنازہ کے متعلق تمام مسائل کا احاطہ اور معاشرتی بدعات و رسومات کا ردّ کیا ہے ۔حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کے تلمیذ رشید جناب مولانا محمد طیب محمدی حفظہ اللہ نے افادۂ عام کے لیے ان خطبات کی ترتیب و تخریج کا فریضہ انجام دیا ہے ۔ (م۔ا)

فصل الخطاب فی تفسیر فاتحۃ الکتاب

Authors: عبد المنان نور پوری

In Quran and Quranic Sciences

By Al Noor Softs

سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اور سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن(یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ ’’ فصل الخطاب فی تفسیر فاتحۃ الکتاب‘‘ شیخ الحدیث حافظ عبد المنان نورپوری﷫ کے جامعہ محمدیہ میں 1998ءمیں تین ماہ میں دئیے گئے 75 دورس پر مشتمل سورۃ فاتحہ کی منفرد تفسیر ہے ۔جامعہ محمدیہ ،گوجرانوالہ کی انتظامیہ نے حافظ صاحب مرحوم کے ان علمی دروس کومحفوظ کرنے کے لیے باقاعدہ طور پر ٹیپ ریکارڑ کرنے کاانتظام کیا ۔ بعد ازاں جامعہ محمدیہ ،گوجرانوالہ کے ایک مدرس قاری گل ولی صاحب نے ان دروس کوکیسٹ سے سن کر مرتب کیا۔ان دروس میں حافظ صاحب نے سورۃ فاتحہ کی مکمل تفصیلی تفسیر اور اس کے احکام ومسائل کو بڑے علمی انداز میں بیان کیا۔اللہ تعالیٰ صاحب حافظ صاحب مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے ۔(آمین) (م۔ا)

غنچہ نماز

Authors: عبد المنان نور پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

نماز انتہائی اہم ترین فریضہ اور سلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے جوکہ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ کلمہ توحید کے اقرار کےبعد سب سے پہلے جو فریضہ انسان پر عائد ہوتا ہے وہ نماز ہی ہے ۔اسی سے ایک مومن اور کافر میں تمیز ہوتی ہے ۔ بے نماز ی کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے ۔ قیامت کےدن اعمال میں سب سے پہلے نماز ہی سے متعلق سوال ہوگا۔ فرد ومعاشرہ کی اصلاح کے لیے نماز ازحد ضروری ہے ۔ نماز فواحش ومنکرات سےانسان کو روکتی ہے ۔بچوں کی صحیح تربیت اسی وقت ممکن ہے جب ان کوبچپن ہی سےنماز کا پابند بنایا جائے ۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین کی گئی ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر اور میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس موضوع پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی ۔او ر ہمارے لیے نبی اکرم ﷺکی ذات گرامی ہی اسوۂ حسنہ ہے ۔انہیں کے طریقے کےمطابق نماز ادا کی جائے گئی تو اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔جیساکہ اس بات میں شبہ نہیں کہ نماز ارکان ِاسلام سے ایک اہم ترین رکن خیر وبرکات سے معمور ، موجب راحت واطمینان ، باعثِ مسرت ولذات اور انسان کے گناہ دھوڈالنے ، اس کے درجات بلند کرنے والی ایک بہترین عبادت ہے مگر یہ امر بھی واضح رہے کہ نمازی اس کی خیر وبرکات سے کما حقہ مستفید اور اس کی راحت ولذت سے پوری طرح لطف اندوز تبھی ہوسکتاہے جب وہ اس کے معانی ا ور مطالب سے واقف ہو ۔اسی ضرورت کے پیش نظر معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا عبد المنان نوری ﷫ نےآج سے 35 سال قبل زیر تبصرہ مختصر رسالہ ’’غنچہ نماز ‘‘ لکھا تاکہ وہ لوگ جو عربی زبان سے ناآشنا ہیں اس چھوٹے سے رسالہ کی مدد سے نمازکو بہ آسانی سمجھ لیں۔اور وہ اپنی معاشرتی اور اخلاقی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ نمازکی مناجات کے ثمرات اور اس کی روحانی لذات سےاچھی طرح محظوظ ہونے کے قابل بھی بن سکیں۔ اللہ تعالیٰ مولانا نور پوری﷫ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی تدریسی وتعلیمی اور تصنیفی وتبلیغی خدمات کو قبول فرمائے (آمین) (م۔ا)

مقالات نور پوری

Authors: عبد المنان نور پوری

In Arguments

By Al Noor Softs

حافظ عبد المنان نور پور ی﷫(1941ء۔26فروری2012؍1360ھ ۔3ربیع الثانی 1433ھ) کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔آپ زہد ورع اورعلم وفضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے اقران معاصر میں ممتاز تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم وتقویٰ کی خوبیوں اور اخلاق وکردار کی رفعتوں سے نوازا تھا ۔ آپ کا شمار جید اکابر علماء اہل حدیث میں ہوتاہے حافظ صاحب بلند پایا عالمِ دین اور قابل ترین مدرس تھے ۔ حافظ صاحب 1941ءکو ضلع گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے اور پرائمری کرنے کے بعد دینی تعلیم جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ سے حاصل کی ۔ حافظ صاحب کوحافظ عبد اللہ محدث روپڑی ،حافظ محمد گوندلوی ، مولانا اسماعیل سلفی ﷭ وغیرہ جیسے عظیم اساتذہ سے شرفِ تلمذ کا اعزاز حاصل ہے۔ جامعہ محمدیہ سے فراغت کے بعد آپ مستقل طور پر جامعہ محمدیہ گوجرانوالہ میں مسند تدریس پر فائز ہوئے پھر اسی ادارہ میں درس وتدریس سے وابسطہ رہے اور طویل عرصہ جامعہ میں بطور شیخ الحدیث خدمات سرانجام دیتے رہے ۔ اوائل عمرہی سے مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونےکی وجہ سےآپ کو علوم وفنون میں جامعیت ،عبور اور دسترس حاصل تھی چنانچہ علماء فضلاء ،اصحا ب منبرومحراب اہل تحقیق واہل فتویٰ بھی مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ بے شمار طالبانِ علومِ نبوت نے آپ سے استفادہ کیا حافظ صاحب علوم وفنون کے اچھے کامیاب مدرس ہونےکے ساتھ ساتھ اچھے خطیب ،واعظ ، محقق ،ناقد اور محدثانہ بصیرت اور فقاہت رکھنے و الے مفتی ومؤلف بھی تھے عربی اردو زبان میں آپ نے علمی و تحقیقی مسائل پر کئی کتب تصنیف کیں۔آپ انتہائی مختصر اور جامع ومانع الفاظ میں اپنا مدعا بیان کرنے کےماہر،اندازِ بیان ایسا پر اثر کہ ہزاروں سوالوں کاجواب انکے ایک مختصر سےجملہ میں پنہاں ہوتا ،رعب وجلال ایسا کہ بڑے بڑے علماء ،مناظر او رقادر الکلام افراد کی زبانیں بھی گویا قوت گویائی کھو بیٹھتیں۔حافظ صاحب نے واقعی محدث العصر حافظ محمدگوندلوی﷫ کی علمی مسند کے صحیح وارث اورحقیقی جانشین ہونے کا حق ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے(آمین) زیر تبصرہ کتاب ’’مقالات نورپوری ‘‘ مولانا حافظ عبد المنان نورپوری ﷫ کے ان خطبات ومقالات کا مجموعہ ہے جو وہ جامعہ محمد یہ چوک اہل حدیث میں جمعہ کے روز نماز عصر کے بعد ماہوار درس دیا کرتے تھے ۔ حافظ صاحب مرحوم کے نامور شاگرد رشید جناب مولانا محمد طیب محمدی﷾ (مدیر ادارہ تحقیقات سلفیہ،گوجرانوالہ)نے حافظ صاحب کے ان خطبات کو احاطۂ تحریر لاکر موضوعات کے لحاظ مرتب کر کے حافظ صاحب سے نظر ثانی کروا کر حسن طباعت سےآراستہ کیا ہے ۔۔ان خطبات ومقالات میں خطباء وعلماء کےلیے علمی مواد موجود ہے ۔ مرتب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے حافظ عبدالمنان نورپوری ﷫ کے خطبات وغیرہ کو مرتب کر کےشائع کرنےکے علاوہ حافظ صاحب کی حیات وخدمات پر ایک ضخیم کتاب مرتب کر کے بھی شائع کی ہے ۔اللہ تعالیٰ محترم محمد طیب محمدی ﷾ کو جزائے خیرسے نوازے کہ انہوں نے رقم کی توجہ پر اپنی مطبوعات کا ایک سیٹ ادارہ محدث کی لائبریری کے لیے ہدیۃً عنایت فرمایا۔(آمین) (م۔ا)

داڑھی

Authors: عبد المنان نور پوری

In Arguments

By Al Noor Softs

اللہ تعالی نے انسان کو جوڑا جوڑا پیدا کیا ہے ،اور مرد وعورت میں ظاہری تمیز کرنے کے لئے مرد کو داڑھی جیسے خوبصورت زیور سے مزین کیا ہے۔داڑھی مرد کی زینت ہے ،جس سے اس کا حسن اور رعب دوبالا ہو جاتا ہے۔داڑھی خصائل فطرت میں سے ہے ۔ تمام انبیاء کرام داڑھی کے زیور سے مزین تھے۔یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو داڑھی بڑھانے اور مونچھیں کاٹنے کا حکم دیا ہے۔اللہ تعالی کی عطا کردہ اس فطرت کو بدلنا اپنے آپ کو عورتوں کے مشابہہ کرنا اوراللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنا ہے ،جو بہت بڑا گناہ ہے۔زیر نظر کتابچہ(داڑھی) جماعت اہل حدیث کے معروف عالم دین شیخ الحدیث مولانا عبد المنان نور پوری صاحب ﷫کی کاوش علمیہ ہے ،جس میں انہوں نے قرآن وسنت کے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ داڑھی رکھنا فرض اور واجب ہے اور داڑھی کاٹنا یا مونڈنا ناجائز اور حرام عمل ہے۔یہ کتاب اپنے موضوع پر ایک مفید اور بڑی شاندار تصنیف ہے،جو موضوع سے متعلق تمام محتویات پر مشتمل ہے۔بارگاہ الہی میں دعا ہے کہ وہ شیخ محترم کی اس جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان کے میزان حسنات میں اضافے کا باعث بنائے۔آمین(راسخ)

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل ۔جلد 1

Authors: عبد المنان نور پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

فضیلۃ الشیخ حافظ عبدالمنان نور پوری حفظہ اللہ تعالی کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ۔آپ زہدو ورع اور علم و فضل کی جامعیت کے اعتبار سے اپنے اقران و اماثل میں ممتاز ہیں۔اللہ تعالی نے جہاں آپ کو علم و فضل کے دروہ عُلیا پر فائز کیا ہے ،وہاں آپ کو عمل و تقویٰ کی خوبیوں اور اخلاق و کردار کی رفعتوں سے بھی نوازا ہے ۔علاوہ ازیں اوائل عمر ہی سے مسند تدریس پر جلوہ افروز ہونے کی وجہ سے آپ کو علوم و فنون میں بھی جامعیت یعنی معقول اور منقول دونوں علوم میں یکساں عبور اور دسترس حاصل ہے ۔تدریسی و تحقیق ذوق ،خلوص وللّٰہیت اور مطالعہ کی وسعت گہرائی کی وجہ سے آپ کے اندر جو علمی رسوخ ،محدثانہ فقاہت اور استدلال و استنباط کی قوت پائی جاتی ہے ،اس نے آپ کو مرجع خلائق بنایا ہوا ہے۔چنانچہ عوام ہی نہیں خواص بھی،ان پڑھ ہی نہیں علماء فضلاء بھی ،اصحاب منبر و محراب ہی نہیں الہ تحقیق و اہل فتویٰ بھی مسائل کی تحقیق کے لیے آپ کی طرف رجوع کرتےہیں اور آپ تدریسی و تصنیفی مصروفیات کے با وصف سب کو اپنے علم کے چشمہ صافی سے سیراب فرماتے ہیں ۔جزاہ اللہ عن الاسلام والمسلمین خیر الجزاء۔ زیر نظر کتاب انہی سینکڑوں سوالات کے جوابات پر مستمل ہے جو ملک کے اطراف وجوانب سے بذریعہ خطوط آپ سے کیے گئے ۔اس میں عقائد سے لے کر زندگی کے تمام معاملات تک کے مسائل شامل ہیں ۔ہر سوال کا جواب قرآن وحدیث کی روشنی میں دیا گیا ہے جس سے فاضل مؤلف کے قرآن و حدیث پر عبور ،نصوص کے استخصا ر ،تفقہ و استنباط کے ملکہ اور قوت استدلال کا اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔