eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
اسلامی اوزان
Authors: فاروق اصغر صارم
In Arguments
فاروق اصغر صارم اپنی قابلیت کے اعتبار سے ایک منجھے ہوئے عالم دین تھے جو کہ اس وقت ایک حادثہ کا شکار ہو کر دنیائے فانی سے کوچ کر گئے ہیں-مصنف کی اس کوشش کے ساتھ ساتھ علم وراثت پر بڑی پختہ گرفت تھی اور مسائل وراثت کے ماہرین میں ان کا شمار ہوتا تھا-زیر تبصرہ کتاب ناپ تول کے اسلامی اوزان اور دور حاضر کے پیمانوں کے درمیان تقابل ، موازنہ وغیرہ کے موضوع پر جامع اور مستند کتاب ہے۔ اور مبتدی ومنتہی جملہ طبقات کے لئے یکساں مفید ہے، جامعیت و وسعت کے اعتبار سے مختلف عہود واَدوار میں عہدِ نبوی کے مطابق ناپ تول وغیرہ کے پیمانوں کو محیط ہے۔ اس کتاب میں اسلامی کرنسی کی تفصیل، ماپنے کے اسلامی پیمانے ، پیمائش کے اسلامی پیمانے، اور کتاب کے آخر میں مسافتِ قصر کی تحدید، سونا، چاندی وغیرہ جیسے اہم مضامین کی تشریح کی گئی ہے۔مصنف نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں پائے جانے والے مختلف اوزان کی موجودہ دور کےمطابق بہترین تشریح کر کے ان اوزان کو دور حاضر کےمطابق واضح کیا ہے جس سے شرعی امور کو سمجھنے میں بہت زیادہ آسانی پیدا ہو گئی ہے-
سلسلہ احادیث صحیحہ نیکی ، اخلاق اور صلہ رحمی کی احادیث
Authors: ناصر الدین البانی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے مسلمانوں کو ایک بڑی دولت اور نعمت سے نوازا ہے، جو پورے دین کو جامع اور اس کی تبلیغ کا بہترین ذریعہ ہے۔ وہ نعمت اور دولت اخلاق ہے، ہمارے نبی حضرت محمد رسول اللہﷺ اخلاق کے اعلیٰ معیار پر تھے ۔آپﷺ نے اپنے ہر قول و فعل سے ثابت کیا کہ آپﷺ دنیا میں اخلاقِ حسنہ کی تکمیل کے لیے تشریف لائے، ارشاد نبوی ہے: ”بعثت لاتتم مکارم الاخلاق“ یعنی ”میں (رسول اللہ ﷺ) اخلاق حسنہ کی تکمیل کے واسطے بھیجا گیا ہوں“۔ پس جس نے جس قدر آپﷺ کی تعلیمات سے فائدہ اٹھا کر اپنے اخلاق کو بہتر بنایا اسی قدر آپﷺ کے دربار میں اس کو بلند مرتبہ ملا، صحیح بخاری کتاب الادب میں ہے، ”ان خیارکم احسن منکم اخلاقا“ یعنی ”تم میں سب سے اچھا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں۔ حضورﷺ کی ساری زندگی اخلاقِ حسنہ سے عبارت تھی، قرآن کریم نے خود گواہی دی ”انک لعلی خلق عظیم“ یعنی ”بلاشبہ آپﷺ اخلاق کے بڑے مرتبہ پر فائز ہیں“۔ آپ ﷺ لوگوں کو بھی ہمیشہ اچھے اخلاق کی تلقین کرتے آپ کے اس اندازِ تربیت کے بارے میں حضرت انس کہتے ہیں۔ رایته یامر بمکارم الاخلاق(صحیح مسلم :6362) میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ لوگوں کو عمدہ اخلاق کی تعلیم دیتے ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’سلسلہ احادیث صحیحہ‘‘امام البانی رحمہ اللہ کی معروف کتاب سلسلہ احادیث صحیحہ میں سے کتاب الاخلاق و البر و الصلۃ کا لفظی و بامحاروہ اردو ترجمہ ہے ۔لفظی ترجمہ النور انٹرنیشنل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نگہت ہاشمی صاحبہ اور بامحاورہ ترجمہ فضیلۃ الشیخ ابو میمون محمد محفوظ اعوان حفظہ اللہ نے کیا ہے افادۂ عام کے لیے اسے کتاب و سنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ (م۔ا)
نماز میں عورت کا پردہ اور لباس
Authors: ناصر الدین البانی
عورت کے لیے پردے کا شرعی حکم اسلامی شریعت کا طرۂ امتیاز اور قابل فخر دینی روایت ہے۔ اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دے کر عزت و تکریم کے اعلیٰ ترین مقام پر لاکھڑا کیا ہے۔ پردہ کا شرعی حکم معاشرہ کو متوازن کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور مرد کی شہوانی کمزوریوں کا کافی و شافی علاج ہے۔ اس لیے دخترانِ اسلام کو پردہ کے سلسلے میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کرنے کی بجائے فخریہ انداز میں اس حکم کو عام کرنا چاہیے تاکہ پوری دنیا کی خواتین اس کی برکات سے مستفید ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے عورت پر پردہ فرض عین ہے جس کا تذکرہ قرآن کریم میں ایک سے زائد مقامات پر آیا ہے اور کتبِ احادیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ کئی اہل علم نے عربی و اردو زبان میں پردہ کے موضوع پر متعدد کتب تصنیف کی ہیں۔ زیرتبصرہ کتاب ’’نماز میں عورت کا پردہ اور لباس‘‘ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب "حجاب المرأة المسلمة و لباسها في الصلاة" کا ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے عورت کا نماز میں لباس کیسا ہونا چاہیے اور عورت کے گھر اور گھر سے باہر پردہ کے احکام کو مختصر مگر جامع انداز میں بیان کیا ہے۔ محدث العصر شیخ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی تعلیقات سے اس کتاب کی اہمیت و افادیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کتاب کو مومنات کے لیے نفع بخش بنائے۔ (آ مین ) (م۔ا)
صحیح دعائیں اور اذکار
Authors: ناصر الدین البانی
دعا ایک ایسی عبادت ہے جو انسا ن ہر لمحہ کرسکتا ہے اور اپنے خالق ومالق اللہ رب العزت سے اپنی حاجات پوری کرواسکتا ہے۔مگر یہ یاد رہے انسان کی دعا اسے تب ہی فائدہ دیتی ہے جب وہ دعا کرتے وقت دعا کےآداب وشرائط کوبھی ملحوظ رکھے۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیں سونے جاگنے،کھانے پینے،لباس پہننے،مسجد اور گھر میں داخل ہونے اور باہر جانے بیت الخلاء میں داخل ہونے اور باہرآنے، الغرض ہرکام کرتے وقت کی دعائیں اور آداب بیان فرمائیں ہیں ۔بہت سارے اہل علم نے قرآن وحدیث سے مسنون ادعیہ پر مشتمل بڑی وچھوٹی کئی کتب تالیف کی ہیں۔ زیر نظر کتاب’’صحیح دعائیں اور اذکار‘‘ محمد السید کی مرتب شدہ ہےفاضل مرتب اس کتاب میں علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کتب سے استفادہ کر کے اس میں صحیح دعاؤں اور اذکار کو جمع کیا ہے او ردعاؤں اور اذکار کی مختصر شرح بھی بیان کی ہے اور ان کبار علمائے کرام کی تعلیقات وفوائد کو آخر میں بیان کیاکردیا ہے۔(م۔ا)
مختصر الصلاۃ و مختصر الکبائر
Authors: ناصر الدین البانی
نماز دین ِ اسلام کا دوسرا رکن ِ عظیم ہے۔ قرآن وحدیث میں نماز کو بر وقت اور باجماعت اداکرنے کی بہت زیاد ہ تلقین ہے ۔نماز کی ادائیگی اور اس کی اہمیت اور فضلیت اس قد ر اہم ہے کہ سفر وحضر ، میدان ِجنگ اور بیماری میں بھی نماز ادا کرنا ضروری ہے ۔نماز کی اہمیت وفضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ذخیرۂ حدیث میں موجود ہیں او ر بیسیوں اہل علم نے مختلف انداز میں اس پر کتب تالیف کی ہیں ۔ نماز کی ادائیگی کا طریقہ جاننا ہر مسلمان مرد وزن کےلیے ازحد ضروری ہے کیونکہ اللہ عزوجل کے ہاں وہی نماز قابل قبول ہوگی جو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق ادا کی جائے گی اسی لیے آپ ﷺ نے فرمایا صلو كما رأيتموني اصلي لہذا ہر مسلمان کےلیے رسول للہ ﷺ کے طریقۂ نماز کو جاننا بہت ضروری ہے۔ زیر نظر کتاب’’ مختصر الصلاۃ ‘‘ علامہ ناصرالدین البانی رحمہ اللہ کی مسنون نماز کے موضو ع پر جامع کتاب ’’ تلخیص صفۃ صلاۃ النبی ‘‘ کا اردو ترجمہ ہے شیخ البانی رحمہ اللہ نےاس مختصر کتاب میں تکبیر تحریمہ سے سلام پھیرنے تک نماز کے تمام مسائل کو سنت نبوی کے مطابق بیان کیا ہے ۔کتاب ہذاکے ساتھ علامہ ذہی کی ’’الکبائر‘‘ کی تلخیص ’’مختصر الکبائر‘‘ کا اردو ترجمہ بھی شامل اشاعت ہے ۔اس کتاب کے مطالعہ سے گناہ کبیرہ کا سرسری علم ہوسکتاہے اور ان سے کلی اجنتاب کرکے اللہ تعالیٰ کی رحمت ومغفرت کامستحق بنا سکتاہے ۔(م۔ا)
اسلام میں سنت کا مقام ( البانی )
Authors: ناصر الدین البانی
قرآن کریم تمام شرعی دلائل کا مآخذ ومنبع ہےقرآن مجید نے سنت نبویہ کو شریعت ِاسلامیہ کا مصدرِ ثانی مقرر کیا ہے ۔ قرآن مجید کے ساتھ سنت نبویہ کوقبول کرنےکی تاکید وتوثیق کے لیے قرآن مجید میں بے شمار قطعی دلائل موجود ہیں۔اہل سنت الجماعت کا روزِ اول سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی سنت کی ایک مستقل شرعی حیثت ہے ۔حدیث سے انکا ر واعراض قرآن کریم سے انحراف وبُعد کازینہ اور سنت سے اغماض ولاپرواہی فہم قرآن سے دوری ہے ۔جس طر ح عبادات(نماز ،روزہ، حج وغیرہ) میں اتباع سنت مطلوب ہے اسی طرح اخلاق وکردار ،کاروبار، حقوق العباد اور دیگر معاملات میں بھی اتباع سنت مطلوب ہےالغرض اتباعِ سنت جزو ایمان ہے۔ زیر نظر کتابچہ’’اسلام میں سنت کا مقام ‘‘ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی کی اہمیت سنت کے متعلق مایہ ناز کتاب مزلة النسة في الإسلام کا اردو ترجمہ ہے ۔شیخ البانی نے اس رسالہ میں سنت کی اہمیت اور اس کی تشریعی حیثیت کو کتاب وسنت کےدلائل کی روشنی میں واضح کیا ہے۔ جناب ع الولی عبدالقوی﷾(مکتب دعوۃوتوعیۃالجالیات،سعودی عرب )نے اس رسالہ کی افادیت کے پیش نظر اسے اردو قالب میں ڈھالنے کے علاوہ اس رسالہ کی تلخیص بھی کی ہے تاکہ عام قارئین بھی بآسانی مستفید ہوسکیں اور سنت کے تشریعی مقام سے روشناس ہوسکیں۔ (م۔ا)
مختصر قیام رمضان
Authors: ناصر الدین البانی
نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ زیر کتابچہ’’ مختصر قیام رمضان ‘‘علامہ ناصر الدین البانی کی ’’ صلاۃالتراویح‘‘ کے اختصار کا اردو ترجمہ ہے یہ اختصار بھی علامہ البانی نے خود ہی کیا تھا اختصار میں علامہ مرحو نے اعتکاف وغیرہ سےمتعلق بعض مفید باتوں کا اضافہ بھی کیا ہے ۔علامہ موصوف نے اس کتاب میں نماز تراویح کی آٹھ رکعات کو ثابت کرنے کے علاوہ یہ بھی ثابت کیا ہے جو سیدنا عمرفاروق کے مشہور ہے کہ انہوں نے بیس رکعت تراویح کی بنیاد رکھی وہ بالکل غلط ہے نہ توسیدنا عمرفاروق نے بیس رکعت کا حکم دیا اورنہ آپﷺ نےخود بیس رکعت تراویح پڑھی اورنہ ہی آپ کے زمانے میں بیس رکعت تراویح پڑھی گئی ، بلکہ علامہ مرحوم نے تو یہاں تک ثابت کیا کہ کسی بھی بڑے صحابی سےبیس رکعت پڑھنا ثابت نہیں اور سیدنا عمرفاروقنے نبی کریم ﷺ کی سنت کےمطابق گیارہ رکعت ہی پڑھانے کا حکم دیا تھا ۔اللہ تعالیٰ مترجم وناشرین کی اس کاوش کو قبول فرمائے اورمحدث العصر ناصر الدین البانی کی مرقد پر اپنی رحمت کی برکھا برسائے ۔(آمین) (م۔ا)
تراویح اور اعتکاف
Authors: ناصر الدین البانی
نمازِ تراویح نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے اورصحیح احادیث سے ثابت ہے۔سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ایک رات مسجد میں نماز اداکی، لوگوں نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپﷺنے دوسری رات نماز پڑھی اور لوگوں کی بھی کثیر تعداد نے آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی، پھر لوگ اسی طرح تیسری یا چوتھی رات میں بھی جمع ہوئے لیکن رسول اللہﷺتشریف نہ لائے اور جب صبح ہوئی تو آپ ﷺنے فرمایا:’’تم لوگوں نے جو کیا میں نے اسے دیکھا ہے اور گھر سے میں اس لیے نہیں نکلا کہ مجھے یہ خدشہ لاحق ہوا کہ کہیں اس نماز کو تم پر فرض قرار نہ دے دیا جائے۔صحیح احادیث کے مطابق رکعاتِ تراویح کی مسنون تعداد بشمول وتر گیارہ ہے ۔مسنون تعداد کا مطلب وہ تعداد ہےجو اللہ کے نبی ﷺ سے بسند صحیح ثابت ہے ۔ رکعات تراویح کی مسنون تعداد اوررکعات تراویح کی اختیاری تعداد میں فرق ہے ۔ مسنون تعداد کا مطلب یہ ہے کہ جو تعداد اللہ کےنبی ﷺ سے ثابت ہے او راختیاری تعداد کا مطلب یہ ہے کہ وہ تعداد جو بعض امتیوں نے اپنی طرف سے اپنے لیے منتخب کی ہے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نفل نماز ہے اس لیے جتنی رکعات چاہیں پڑھ سکتے ہیں۔اور رمضان میں اعتکاف سنت ہے۔ نبی کریمﷺنے اپنی حیات مبارکہ میں اعتکاف فرمایا اور آپ کے بعد ازواجِ مطہرات بھی اعتکاف فرماتی رہی تھیں۔اہل علم نے بیان کیا ہے کہ اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ اعتکاف مسنون ہے لیکن ضروری ہے کہ اعتکاف اس مقصد سے ہو جس کے لیے اسے مشروع قرار دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ انسان مسجد میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت کے لیے گوشہ نشین ہو، دنیا کے کاموں کو خیر باد کہہ کر اطاعتِ الٰہی کے لیے کمر باندھ لے اور دنیوی امور سے بالکل دست کش ہو کر انواع و اقسام کی اطاعت و بندگی بجا لائے، نماز اور ذکر الٰہی کا کثرت سے اہتمام کرے۔ رسول اللہﷺ لیلۃ القدر کی تلاش و جستجو کے لیے اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ مسنون رکعات تراویح اور اعتکاف کے احکام ومسائل کتب حدیث وفقہ میں موجود ہیں اوراس کے متعلق ائمہ محدثین اورعلمائے عظام کی بیسیوں کتب موجود ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تراویح اور اعتکاف‘‘ محدث العصر شیخ ناصر الدین البانی کی قیام رمضان اور اعتکاف کے موضوع ایک شاندارکتاب بعنوان’’ قیام رمضان والاعتکاف‘‘ کا اردو ترجمہ ہے ۔اس مختصر کتابچہ میں شیخ نے دونوں عبادتوں کی جملہ جزئیات کو کتاب وسنت کی روشنی میں نہایت سادہ ، آسان اور عام فہم انداز میں سمجھایا ہے۔جناب مولانا اشفاق سجاد سلفی (استاد جامعہ ابن تیمیہ، بہار) نے اس رسالہ کی اہمیت کے پیش نظراردو قارئین کےلیے اس کا آسان فہم اردوترجمہ کیا ہے اس کتابچہ کو نیٹ سے ڈاؤن لوڈ کرکے کتاب وسنت سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔(م۔ا)
چھوٹے اعمال بڑا ثواب
Authors: ناصر الدین البانی
انسان کی فوز فلاح کےلیے ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ کا ہونا بھی لازمی امر ہے۔ اگر ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ نہیں ہونگے تو ایمان بھی فائدہ نہ دے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید جہاں بھی کامیاب ایمان والوں کاذکر کیا ہے ساتھ ہی بطور شرط اعمال صالحہ کا بھی ذکرکیا ہے ۔اور انسانی طبیعت کا یہ خاصہ ہےکہ وہ کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنا چاہتی ہے ۔اور شریعتِ اسلامیہ میں دینی احکام ومسائل پر عمل کی تاکید کے ساتھ ساتھ ان اعمال کی فضیلت وثواب بیان کرتے ہوئے انسانی نفوس کو ان پر عمل کرنے کے لیے انگیخت کیا گیا ہے ۔یہ اعمال انسانی زندگی کے کسی بھی گوشہ سے تعلق رکھتے ہوں خواہ مالی معاملات ہوں، روحانی یا زندگی کے تعبدی معاملات مثلاً نماز، روزہ، حج زکوٰۃ ودیگر عباداتی امور۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ اعلیٰ مقام دینے کے لیے کتنے ہی چھوٹے چھوٹے اعمال کا اجر قیام ، صیام، حج وعمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ جیذسی بڑی بڑی عبادات کے اجر کے برابر قراردیا ہے ۔تھوڑے وقت میں چھوٹے اعمال جوبہت بڑے ثواب کا با عث بنتے ہیں بڑی فضیلتوں کے حامل ہوتے ہیں انسان ان کو ڈھونڈتا پھرتا ہے ۔کیونکہ کسی عمل کی فضیلت،اجر و ثواب اورآخرت میں بلند مقام دیکھ کر انسانی طبیعت جلد اس کی طرف راغب ہوجاتی ہے اوران پر عمل کرنا آسان معلوم ہوتا ہے دین اسلام میں کئی ایسے چھوٹے چھوٹے اعمال بتائے گئے ہیں جن کا اجروثواب اعمال کی نسبت بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مختلف اہل علم نے ایسے اعمال پر مشتمل کتب بھی مرتب کی ہیں ۔ زیر نظر کتابچہ ’’ چھوٹے اعمال بڑا ثواب ‘‘ فضیلۃ الشیخ محترم یحییٰ عارفی﷾ کا مرتب شدہ ہے ۔ فاضل مرتب نے اس مختصر کتابچہ میں ان اعمال صالحہ کوجودکھنے میں معمولی نوعیت کےنظرآتے ہیں ، لیکن اجراوثواب کےلحاظ سے عظیم عبادات کے برابر ہیں یکجا کر کے ان اعمال کو بجا لانے کی طرف توجہ مبذول کروائی ہے جو اجر میں قیام ، صیام، حج وعمرہ اور جہاد فی سبیل اللہ کےبرابر ہیں ۔ مولانا یحییٰ عارفی صاحب کی یہ کاوش یقیناً لائق تحسین وقابل تعریف ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی تمام مساعی حسنہ کو قبول فرمائے اور ان کےمیزان ِحسنات میں اضافے کا باعث بنائے ۔آمین(م۔ا)