eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
سوانح حیات امام البخاری رحمۃ اللہ علیہا
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In History
مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔ ان عظیم شخصیات میں سے ایک امام بخاری بھی ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں انتہائی اختصار کے ساتھ امام بخاری کے حالات زندگی درج کیے گئے ہیں جس میں نام ونسب اور پیدائش‘ کرامات اور ان کا حافظہ‘ ان کے طلب علم کے لیے اسفار‘ ان کی تصانیف ‘ ان کی سیرت وکردار‘ صحیح بخاری کا طریقہ تالیف اور اس پر ائمہ کی آراء وغیرہ درج ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ حیات امام البخاری رحمۃ اللہ علیہا ‘‘ مولانا اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
نقوش عظمت رفتہ
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Arguments
مالک ارض وسما نے جب انسان کو منصب خلافت دے کر زمین پر اتارا تواسے رہنمائی کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات سے بھی نوازا۔ شروع سے لے کر آج تک یہ دین‘ دین اسلام ہی ہے۔ اس کی تعلیمات کو روئے زمین پر پھیلانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ سے لے کر حضرت محمدﷺ تک کم وبیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو مبعوث فرمایا اور اس سب کو یہی فریضہ سونپا کہ وہ خالق ومخلوق کے ما بین عبودیت کا حقیقی رشتہ استوار کریں۔ انبیاء کے بعد چونکہ شریعت محمدی قیامت تک کے لیے تھی اس لیے نبیﷺ کے بعد امت محمدیہ کے علماء نے اس فریضے کی ترویج کی۔۔ زیرِ تبصرہ کتاب میں چند عظیم شخصیات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ جس میں مصنف نے اپنے مسلک کی شخصیات کا تعارف کروانے کے ساتھ ساتھ اصحاب احناف کا بھی تذکرہ کیا ہے اور جن شخصیات کے بارے میں لکھا گیا ہے ان کی زندگی کے تمام پہلوؤں مثلاً عادات واطوار‘ کردارو گفتار کو منقح کیا گیا ہے۔ اور اس میں شخصیات کا تعارف اور ان کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے ۔ اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ اور حالات وواقعات کو معتبر اور مستند کتابوں سے لیا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ نقو ش عظمت رفتہ ‘‘ مولانا اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
محفل دانش منداں
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Knowledge
تذکرہ نگاری ہماری ادبی اور تہذیبی روایت کا حصہ ہے۔مختلف فنون کے صاحبانِ کمال کے تذکرے ہمارے ہاں بہ کثرت لکھے گئے ہیں۔ایسے تذکروں کی بھی کمی نہیں جن میں کسی خاص فن کا نہیں بلکہ لکھنے والے کے مذاق یا تعلق کا لحاظ غالب ہوتا ہے۔ ایسے تذکرے بھی مختلف فنون کی تاریخوں میں اساسی معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بن جایا کرتے ہیں۔ تاریخ نگار سے جس معروضیت کا مطالبہ کیا جاتا ہے تذکرہ نگار عام طور سے ویسی معروضیت سے آزاد ہوتا ہے اور اپنے ربط وتعلق کی روشنی میں موضوع بننے والی شخصیت کا جائزہ لیتا اور قاری کو اس کی تصویر دکھاتا ہے۔ تذکرہ نگار یا شخصیت نگار موضوع میں سے اپنے پسندیدہ نقوش تو چن سکتا ہے لیکن اسے وہ سہولت بہ ہر حال میسر نہیں ہوتی جو ایک کہانی کار کو حاصل ہوتی ہے۔شخصیت نگار کی دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ شخصیت کے وہی خدو خال پیش کرے جو واقعتاً اس میں موجود ہوں۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص شخصیت نگاری کے موضوع پر ہےجس میں مختلف نامور شخصیات کا تعارف دیا گیا ہے۔ اس میں تقریباً بیس سے زائد شخصیات کا تعارف موجود ہے۔ اور ان شخصیات سے ہونے والی گفتگو اور واقعات کو کتاب کے اوراق کی زینت بنایا گیا ہے۔ ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ،دل کش اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’’ محفل دانش منداں ‘‘ محمد اسحاق بھٹی کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں کتب اور بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
ارمغان حدیث
Authors: محمد اسحاق بھٹی
کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺدینِ اسلامی کے بنیادی مآخذ ہیں۔ احادیث رسول ﷺ کو محفوظ کرنے کے لیے کئی پہلوؤں اور اعتبارات سے اہل علم نے خدمات انجام دیں۔ تدوینِ حدیث کا آغاز عہد نبوی سے ہوا او ر صحابہ وتابعین کے دور میں پروان چڑھا ۔ ائمہ محدثین کےدور میں خوب پھلا پھولا ۔مختلف ائمہ محدثین نے احادیث کے کئی مجموعے مرتب کئے۔ان ضخیم مجموعہ جات سے استفتادہ عامۃ الناس کےلیے انتہائی دشوار ہے ۔عامۃ الناس کی ضرورت کے پیش نظر کئی اہل علم نے مختصر مجموعات حدیث تیار کیے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ ارمغان حدیث ‘‘ وطن عزیز کی معروف سوانح نگار مولانا محمد اسحاق بھٹی کی مرتب شدہ ہے ۔ موصوف نے اس مجموعۂ حدیث میں آداب واخلاق اور حقوق ومعاملات سےمتعلق ایک سو احادیث مبارکہ کو متن اور ترجمہ وتشریح کے ساتھ جمع کیا ہے ۔دنیا وآخرت کی زندگی کو معطر کرنے والا احادیث رسول ﷺ کایہ ایک خوبصورت گلدستہ ہے ۔جس سے روشن خیالی کے اندھیروں سے نجات کی راہ ہموار ہوگی ۔ ان شاء اللہ (۔م۔ا)
تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی رحمۃ اللہ علیہ حالات خدمات خاندان
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Biography
برصغیر بالخصوص پنجاب میں دین اسلام کی نشرو اشاعت، دعوت وتبلیغ، سماجی ورفاہی خدمات لکھوی خاندان کا طرۂامتیاز رہا ہے۔ بے شمار لوگ ان کے بزرگوں کی تبلیغی مساعی کے نتیجے میں توحید وسنت کی روشنی سے فیض یاب ہوئے۔عوامی خدمت کے اسی جذبے کے تحت یہ نصف صدی سے زائد عرصے سے سیاست میں بھی ہیں۔اگرچہ اس خاندان سے علمی وروحانی وابستگان کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا ہو ا ہے، تاہم ضلع قصور کاحلقہ این اے 140 ان کی انتخابی سیاست کا مرکز ہے، جہاں سے مولانا معین الدین لکھویؒ تین بار قومی اسمبلی کے رکن رہے ۔ ۔1951ءمیں پنجاب میں ہونے والے پہلے انتخاب میں مولانا معین الدین کے بڑے بھائی اور معروف اسلامی سکالر پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے والد گرامی مولانا محی الدین لکھوی تحصیل چونیاں سے ایم این اے منتخب ہوئے ۔ لکھوی خاندان بالخصوص مولانا معین الدین لکھوی اور مولانا محی الدین لکھوی کے متعلق کئی رسائل وجرائد میں متعدد مضامین شائع ہوئے ہیں جو مختلف جگہ پر منتشر ہیں مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھی نے اس کتاب’’ تذکرہ مولانا محی الدین لکھوی ‘‘ میں تفصیل سے مولانا محی الدین لکھوی کی حیات ، خدمات کے ضمن میں لکھوی خاندان کا تفصیلی تعارف کو یکجا کردیا ہے ۔ اس کتاب میں شامل پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی ﷾ کے تفصیلی مقدمہ سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے ۔یہ کتاب مولانا محی الدین لکھوی اور لکھوی خاندان کے تعارف وخدمات کے سلسلے میں ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے ۔ (م۔ا)
استقبالیہ و صدارتی خطبات
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Arguments
قیامِ پاکستان کے بعد مسلک کے عنوان پر سب سے پہلی غیر سیاسی تنظیم مرکزی جمعیت اہل حدیث ہے ۔جس کے تحت سال دو سال کے بعد کسی شہر میں ایک کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جاتا ۔کانفرنس کی صدارت کے لیے ہر دفعہ ملکی سطح کی کسی اہم علمی اور خاندانی شخصیت کو منتخب کر کے ان کی خدمت میں صدارت قبول کرنے کی درخواست کی جاتی ۔صدارت کا اعزاز قبول کرنے والے حضرات ِ گرامی کانفرنس میں خطبہ صدارت ارشاد فرماتے جس میں وہ مسلک کی حقانیت ، محدثین سے تعلق اور ان کی خدمات کا تذکرہ بھی فرماتے۔جماعت اہل حدیث کی اشاعتی خدمات ، رسائل و جرائد تو تاریخ میں محفوظ ہو چکے ہیں ۔لیکن اس کی تبلیغی خدمات کو محفوظ کرنے کی ضرورت تھی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’استقبالیہ و صدارتی خطبات‘‘ میں مولانا محمد اسحاق بھٹی نے دعوت و تبلیغ کی غرض سے مرکزی جمعیت کے تحت منعقد کی جانے والی تمام سالانہ کانفرنسوں کے خطبہ ہائے صدارت و استقبالیہ کو جمع کر دیا ہے موصوف نے اولاً ان خطبات کو تلاش کیا مطبوعہ اور غیر مطبوعہ خطبات میں طباعتی اغلاط درست کیں۔ پھر اپنی نگرانی میں ان کو کمپوز کرایا اور دوبارہ سہ بارہ ان کی تصحیح کی تب کہیں جا کر یہ تاریخی دستاویز تیار ہوئی ہیں۔( م۔ا)
چمنستان حدیث
Authors: محمد اسحاق بھٹی
مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی شخصیت تعارف کی محتاج نہیں آپ برصغیر پا ک وہند کے اہل علم طبقہ میں او رخصوصا جماعت اہل میں ایک معروف شخصیت ہیں آپ صحافی ،مقرر، دانش ور وادیب ،یاسات حاضرہ سے پوری طرح باخبر اور وسیع المطالعہ شخصیت ہیں عہد حاضر کے ممتاز اہل قلم میں ان کا شمار ہوتا ہے ۔ تاریخ وسیر و سوانح ان کا پسندیدہ موضوع ہے او ر ان کا یہ بڑا کارنامہ ہے کے انہوں نے برصغیر کے جلیل القدر علمائے اہل حدیث کے حالاتِ زندگی او ر ان کےعلمی وادبی کارناموں کو کتابوں میں محفوظ کردیا ہے مولانا محمداسحاق بھٹی ﷾ تاریخ وسیر کے ساتھ ساتھ مسائل فقہ میں بھی نظر رکھتے ہیں مولانا صاحب نے تقریبا 30 سے زائدکتب تصنیف کیں ہیں جن میں سے 26 کتابیں سیر واسوانح سے تعلق رکھتی ہیں مولانا تصنیف وتالیف کےساتھ ساتھ 15 سال ہفت روزہ الاعصتام کے ایڈیٹر بھی رہے الاعتصام میں ان کےاداریے،شذرات،مضامین ومقالات ان کے انداز ِفکر او روسیع معلومات کے آئینہ دار ہیں الاعتصام نے علمی وادبی دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے اس کی ایک وجہ محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی ﷾ کی انتھک مساعی اور کوششیں ہیں ۔برصغیر پاک وہند کے ا ہل حد یث علما ء نے ہر میدان میں گراں قدر خدمات سرانجام دی ہیں جن کا بھٹی صاحب نے اپنی کتب میں تذکرہ کیا ہے۔ تدوین قرآ ن سےلےکر اس کے اعراب وتشکیل،تجویدوقراء ات تراجم وتفسیر،اعجاز القرآن،علوم القرآن اور دیگر بیسیوں عنوانات پر ہر دور میں علمائے امت نے ضخیم کتابیں تالیف کی ہیں کررہے اور کرتے رہیں گے ۔ان شاءاللہ زیر تبصرہ کتاب ’’ چمنستان حدیث‘‘ مؤرخ اہل حدیث مولانا اسحاق بھٹی کی تصنیف ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے اپنی دیگر کتابوں کی طرح برصغیر کے اہل حدیث علمائے ذی وقار کے حالات کی نقاب کشائی کی ہے ۔یہ وہ بوریا نشیں اور درویشانِ خدامست ہیں جنہوں نےزندگی کے ہرموڑ پر اپنے آپ کو قرآن وحدیث کی خدمت کے لیے وقف کیے رکھا۔اس کتاب میں بھٹی صاحب نے ایک سو علمائے کرام کے سوانح حیات درج کیے ہیں ۔ جن میں پندرہ حضرات کا تعلق تلمذ سید نذیر حسین محدث دہلوی سے ہے اور 33 ان کا حضرات کا تذکرہ ہے جو حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی کے شاگردوں کےشاگرد ہیں۔ او رباون وہ حضرات ہیں حو اللہ کے حیات ہیں او رمختلف مقامات پر تصنیفی وتدریسی خدمات سرانجام ردے رہے ہیں ۔لیکن ان کا سلسلہ بھی بالآخر حضرت میاں صاحب کے شاگردوں کی لڑی سے جاملتا ہے۔اللہ تعالیٰ مولانا اسحاق بھٹی کی مرقد پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کی خدمات کوقبول فرماکر انہیں جنت الفرودس میں اعلی ٰ مقام عطافرمائے۔ (آمین) (م۔ا)
تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Biography
تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب اور موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا عبد الرشید عراقی مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔آمین زیر تبصرہ کتا ب’’تذکرہ مولانا غلام رسول قلعوی‘‘ پاکستان کے نامور مؤرخ وسوانح نگار مولانا محمد اسحاق بھٹی کی تصنیف ہے ۔اس کتاب میں انہوں نے سید نذیر محدث دہلوی کے سامنے زانوے تلمذ تہہ کرنے والے مولانا غلام رسول قلعوی کےسوانح حیات نہیں بلکہ اس عہد کی پوری تاریخ سمودی ہے۔مولانا بھٹی مرحوم نے مولانا قلعوی کا خاندانی پس منظر،ان کی ولادت ، تحصیل علم ، اساتذہ کرام ، مولانا کی دعوتی وتبلیغی اور خدمات، مولانا کے مکاتیب،1857ء کی جنگ آزادی میں مولانا کی گرفتاری،مولانا غلام رسول کے چند معاصرین اور تلامذہ کاذکرخیر اور مولانا غلام رسول کے تمام واقعات کو نہایت دل نشیں انداز اور انتہائی عمدگی کے ساتھ الگ الگ ابواب میں ترتیب دیا ہے۔کتاب کے اخر میں چند ابواب مولانا غلام رسول کےاخلاف کے متعلق بھی شامل ہیں جن میں مولانا کی اپنی اولاد ،ان کےبھائیوں، بیٹوں ، بیٹیوں کی اولاد کاتذکرہ بھی شامل ہے۔یہ ابواب مولانا عصمت اللہ کے تحریرشدہ ہیں۔مولانا بھٹی مرحوم نے فقہائے ہند کی ایک جلد میں بھی 60 صفحات پر مشتمل مولانا غلام رسول قلعوی کے حالات کا تذکرہ کیا ہے جو کہ 1989ء میں شائع ہوئی ۔ بعد ازاں 2009ء میں مولانا غلام رسول قلعوی کے پڑپوتے حافظ حمید اللہ اور ان کے رفقاء کے اصرار پر مولانا بھٹی مرحوم نےیہ کتاب تصنیف کی جو تقریباً 550 صفحات پر مشتمل ہے ۔اس کتاب کو بڑے خوبصورت انداز میں مولانا علام رسول ویلفیئر سوسائٹی نے 2012ء میں شائع کیا ہے۔(م۔ا)
60 باکمال خواتین
Authors: محمد اسحاق بھٹی
In Biography
اسلامی تاریخ ہمارے سامنے مسلمان عورت کابہترین اورپاکیزہ نمونہ پیش کرتی ہے۔ آج جب زمانہ بدل رہا ہے، مغربی تہذیب و تمدن او رطرزِ معاشرت ہمارے گھروں میں سرایت کررہا ہے، تہذیب مغرب کی دلدادہ مسلمان خواتین او رلڑکیاں اسلام کی ممتاز اور برگزیدہ خواتین کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر گمراہ اور ذرائع ابلاغ کی زینت خواتین کواپنے لیے آئیڈل سمجھ رہی ہیں۔ ہمیں اپنے اسلاف کی خدمات کو پڑھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلام کے ہردور میں عورتوں نےمختلف حیثیتوں سے امتیاز حاصل کیا ہے ،اور بڑے بڑے عظیم کارنامے سر انجام دیئے ہیں۔ ازواجِ مطہرات طیباتؓ اور اکابر صحابیاتؓ، تابعیات، صالحات کی زندگیاں ہمارے لئے بہترین نمونہ ہیں۔ان کے دینی، اخلاقی معاشرتی اور علمی کارنامے نہ صرف دنیا وآخرت دونوں جہانوں میں نجات کا ذریعہ ہیں، بلکہ موجودہ دور کے تمام معاشرتی خطرات سے محفوظ رکھنے کے بھی ضامن ہیں۔ اسلامی تاریخ میں ایسی خواتین بھی گزری ہیں جن کے سامنے اچھے اچھے سیاستدان اور حرب وضرب کے ماہر اپنے آپ کے بے بس پاتے تھے ان کی زبان کی کاٹ تلوار سے تیز تھی اوربعض کے اشعار دشمن کے لیے شمشیر برہنہ سے کم نہ تھے۔ ایک بہادر خاتون نے بنوامیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ خلافت کے حق دار نہیں ہیں اور اتنا بڑا اعزاز انہیں زیب نہیں دیتا۔تاریخ میں ایسی خواتین کا ذکر بھی ملتا ہے جنہوں نے شاہی غیظ وغضب کی بھی پرواہ نہیں کی اور شاہی خاندان کے بعض خودسر افراد کے غرور وتمکنت کا جنازہ نکال دیا۔ زیر تبصرہ کتاب مؤرخ اسلام مولانا اسحاق بھٹی کی ایک شہرۂ آفاق کتاب کا منتخب حصہ ہے جسے مکتبہ فہیم انڈیا کے مدیر نے ’’ساٹھ باکمال خواتین‘‘ کے نام سے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 10 بہادر صحابیات اور 50 دیگر نامور تابعیات وصالحات کے دلنشیں تذکرہ پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)