eBooks

٢٬٨٤١ Results Found
جمہوریت و شورائیت کا تقابلی جائزہ

Authors: عطاء محمد جنجوعہ

In Knowledge

By Al Noor Softs

یقیناً اس میں شک نہیں کہ نظامِ سیاست وحکومت کے بغیر کسی بھی معاشرے کا پنپنا اور ترقی کی شاہ راہ پر گام زن رہنا تو کجا اس کا وجود تک خطرہ میں پڑ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے دونوں بینادی مآخذ ،قرآن مجید اور حدیث وسنت نبوی ﷺ میں اس بارے میں ٹھوس اساسی اصول وضع کردیئے گے ہیں۔قرآن مجید نے وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُم کے اصول کے ذریعے اسلامی نظام ِ حکومت کے حقیقی خدو خال کا تعین کردیا ہے ۔ مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے’’ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (آل عمران: ١٥٩ ) ‘‘ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں کئی ایک باہمی مشورہ کی مثالیں مو جود ہیں ۔ باہمی مشاورت کا اصول اسلامی ریاست کے نظامِ سیاست وحکومت کی اساس ہے ۔اسی حکم قرآنی سے شورائی نظا م نے ہی جنم نہیں لیا بلکہ اس نے شورائیت کے پورے ڈھانچے کے خدوخال تشکیل دینے میں بھی اہم کرداردار ادا کیا ہےاسی سے ایک ایسا نظام معرض ِ وجود میں آیا جو اپنا جداگانہ تشخص رکھتا ہے۔اسے مزید انفرادیت ان احکامات وتعلیمات نے عطا کی جو قرآن وحدیث میں ہمیں ملتی ہیں۔اور یہی تعلیمات ہمیں بتلاتی ہیں کہ مسلمانوں کی زمامِ کار اور کسی اسلامی ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے والوں کو صادق وامین ہونا چاہیے ۔ زیر نظر کتاب ’’ جمہوریت وشورائیت کا تقابلی جائزہ ‘‘ معروف قلمکار جناب عطا محمد جنجوعہ‘‘ کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے اس کتاب میں دین وسیاست اور نظامِ حکومت کے حوالے سے یہودیوں کی وارداتوں اورگھاتوں کو طشت ازبام کرتے ہوئے امت مسلمہ کے خلاف ان کی گھناؤنی سازشوں کا پردہ چاک کیا ہے۔عالمِ اسلام بالخصوص اسلامیان پاکستان کی کج رویوں کی بھی نشان دہی کی ہے اور انہیں حال کی اندوہناکیوں سے نجات حاصل کر کے تابناک مستقبل کی طرف قدم بڑھانے اور بڑھاتے چلے جانے کا درس دیا ہے ۔اور انہوں نے جمہوریت کو دنیا بھر میں قائم کرنے کے علَم بردار طاقتوں کے بھیانک چہرے کے خدوخال قارئین کے سامنے اجاگر کیے ہیں۔ عطا محمد جنجوعہ صاحب سرکار سکول میں ٹیچنگ کرنے کے ساتھ ساتھ تصنیف وتالیف کا بڑا اچھا ذوق رکھتے ہیں۔ ماہنامہ محدث ،لاہور کے کئی سالوں سے قاری ہیں ان کے رشحات قلم مسلسل مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ مولانا محمد صدیق سرگودھوی ﷫ کے شاگرد رشید شیخ القرآن والحدیث حافظ محمد دین ﷫ کے حیات وتذکرے پر مشتمل ان کی ایک تصنیف ’’ایک عہد ساز شخصیت‘‘اور ایک کتاب ’’ حرم کی پاسبانی‘‘ کے نام سے ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا)

ایک عہد ساز شخصیت حافظ محمد دین 

Authors: عطاء محمد جنجوعہ

In Faith and belief

By Al Noor Softs

تاریخ نویسی ہو یا سیرت نگاری ایک مشکل ترین عمل ہے ۔ اس کےلیے امانت ودیانت او رصداقت کاہونا از بس ضروری ہے۔مؤرخ کے لیے یہ بھی ضروری ہےکہ وہ تعصب ،حسد بغض، سے کوسوں دور ہو ۔تمام حالات کو حقیقت کی نظر سے دیکھنے کی مکمل صلاحیت رکھتاہو ۔ذہین وفطین ہو اپنے حافظےپر کامل اعتماد رکھتا ہو۔حالات وواقعات کوحوالہ قرطاس کرتے وقت تمام کرداروں کا صحیح تذکرہ کیا گیا ہو ۔اس لیے کہ تاریخ ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا ماضی دیکھ سکتاہے اور اسلام میں تاریخ ، رجال اور تذکرہ نگار ی کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور یہ اس کے امتیازات میں سے ہے ۔بے شمارمسلمان مصنفین نے اپنے اکابرین کے تذکرے لکھ کر ان کےعلمی عملی،تصنیفی،تبلیغی اورسائنسی کارناموں کوبڑی عمدگی سے اجاگر کیا ہے۔ یوں تو صدیوں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے لیکن ماضی قریب او ر موجودہ دور میں تذکرہ نویسی اور سوانح نگاری کے میدان میں جماعت اہل حدیث میں اردو مصنفین اور مقالہ نگاروں میں محترم مولانا محمد اسحاق بھٹی،مولانا حافظ صلاحالدین یوسف، مولانا محمد رمصان یوسف سلفی حفظہم اللہ وغیرہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں اللہ تعالی ان بزرگوں کو صحت وعافیت سے نوازے اور ان کےعلم وعمل اضافہ فرمائے ۔آمین ۔ زیر نظر کتاب’’ایک عہد ساز شخصیت‘‘ عطاء محمد جنجوعہ کی تالیف ہے جوکہ مولانا محمد صدیق سرگودھوی ﷫ کے شاگرد رشید شیخ القرآن والحدیث حافظ محمد دین ﷫ کے حیات وتذکرے پر مشتمل ہے ۔ مولانا حافظ محمد دین 24 جنوری 1939ء کو مو ضع کوٹ بھائی ضلع سرگودھا میں پید ا ہوئے ۔ حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد جامعہ علمیہ ،سرگودھا میں داخلہ لیا ۔اور مولانا محمد صدیق سرگودھوی سے دینی حاصل کی اور پھرزندگی بھر دین کی تبلیغ واشاعت کے لیے کام کیا ۔لاتعداد لوگوں کو علوم دینیہ سے آشنا کیا اور ان کو راہ مستقیم پر گامزن کرنے کا باعث ہوئے ۔ وہ شیریں کلام بزرگ تھے او رلوگ بڑے انہماک اور توجہ سے ان کے خطبات ودروس کو سنتے تھے ۔ موصوف نے حدیث کے کچھ اسباق محدث العصر حافظ عبد اللہ محدث روپڑی﷫ سے بھی پڑھے اور روپڑی خاندان سے ان کو بڑی عقیدت تھی ۔ اس کتاب میں صرف حافظ محمد دین  کا تذکرہ ہی نہیں کیا گیا بلکہ اس کے ضمن میں بہت سی شخصیتوں کے تذکار بھی معرض بیان میں آگئے ہیں ۔حافظ صاحب نے جو خدمات سرانجام دیں اور متعدد مقامات میں جو دینی نوعیت کے ادارے قائم کیے اورمسجدیں تعمیر کرائیں مصنف نے ان کی تفصیل کتاب میں وضاحت سے تحریر کردی ہے ۔ مصنف کتا ب جناب عطا محمد جنجوعہ صاحب محدث کے قاری ہیں اور ان کے رشحات قلم مسلسل مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم وعمل میں اضافہ فرمائے (آمین) (م۔ا )

حفظ الرحمٰن سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ

Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

In Knowledge

By Al Noor Softs

ماہ اگست میں جمعیۃ علماء ہند کا ایک نیر تاباں یعنی مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ؒ نے وفات پائی۔ آپ ۱۹۰۰ء ؁ میں سیو ہارہ ضلع بجنور کے ایک تعلیم یافتہ معزز خاندان میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم مدرسہ فیض عام سیوہارہ میں حاصل کی اور دورۂ حدیث کے لئے دارالعلوم دیوبند میں داخل ہوئے ۔ ۱۹۲۲ء ؁ میں سندِ فراغت حاصل کی پھر دار العلوم دیوبند، ڈابھیل اورکلکتہ وغیرہ کے مدرسوں میں تدریس کے فرائض انجام دیئے ۔نو عمری ہی سے آپ کے اندرخدمت خلق کا جذبہ موجزن تھا ،چنانچہ جلد ہی سیاست کی خاردار وادی میں کود پڑے ۔۱۹۳۰ء ؁ میں گاندھی جی کی نمک سازی کی تحریک میں عملی طور پر حصہ لیا، جمعیۃ علماء ہند کے اجلاس امروہہ میں جنگ آزادی میں کانگریس کے ساتھ اشتراک کا ریزیولیوشن پیش کیا جس کو منظور کیا گیا ۔ آپ تا عمر بیک وقت جمعیۃ علماء ہند کے ایک سر گرم کارکن اور کانگریس کے ممبر رہے۔بارہا جیل گئے مگر اپنی مذہبی شناخت کو ہمیشہ بر قرار رکھا ،مدتوں دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے اہم ترین رکن رہے ۔تقریر و خطابت کا خدا داد ملکہ تھا ۔نیز تصنیف و تالیف کے بھی عظیم شہ سوار تھے ۔ ۱۹۳۸ء ؁ میں ’’ ندوۃ المصنفین‘‘ کی بنیاد ڈالی ‘‘بلاغ مبین،اسلام کااقتصادی نظام، فلسفۂ اخلاق اور قصص القرآن (چار جلد) آپ کی بلند پایہ علمی کتابیں ہیں ۔ ۱۹۴۷ء ؁ کی ہیبت ناک فضا میں سر سے کفن باندھ کر اٹھے اور اصلاح حال کی مؤثر تدبیر کی ۔کانگریس کے ٹکٹ پر جنوری ۱۹۵۲ء ؁ میں حلقہ بلاری ضلع مراد آباد سے اور ۱۹۵۷ء ؁ اور ۱۹۶۲ء ؁ میں امروہہ سے پارلیمنٹ کا الیکشن لڑے اور بھاری ووٹوں سے کامیاب ہوئے ۔۲؍اگست ۱۹۶۲ء ؁ کو دہلی میں انتقال ہوا ،اور قبرستان منہدیان میں حضرت شاہ ولی اللہؒ اور ان کے خانوادے کے لوگوں کی قبروں کے قریب تدفین عمل میں آئی۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی ایک سیاسی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری کی تصنیف ہے۔ جس میں مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی کی حالات زندگی کو مفصل طور پر بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی ان کی اس کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔آمین۔ (رفیق الرحمٰن)

شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ایک سیاسی مطالعہ

Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

In Knowledge

By Al Noor Softs

شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور برما وغیرہ پر مشتمل برصغیر کی علمی، دینی، سیاسی، تحریکی اور فکری جدوجہد کے دو عظیم نام ہیں۔ جن کے تذکرہ کے بغیر اس خطہ کے کسی ملی شعبہ کی تاریخ مکمل نہیں ہوتی، اور خاص طور پر دینی و سیاسی تحریکات کا کوئی بھی راہ نما یا کارکن خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا طبقہ سے ہو ان سے راہ نمائی لیے بغیر آزادی کی عظیم جدوجہد کے خد و خال سے آگاہی حاصل نہیں کر سکتا۔شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ دارالعلوم دیوبند کے اولین طالب علم تھے جو اپنی خداداد صلاحیتوں اور توفیق سے اسی مادر علمی کے سب سے بڑے علمی منصب صدر المدرسین تک پہنچے۔ وہ تعلیمی اور روحانی محاذوں کے سرخیل تھے لیکن ان کی نظر ہمیشہ قومی جدوجہد اور ملی اہداف و مقاصد پر رہی۔ حتیٰ کہ ان کا راتوں کا سوز و گداز اور مسند تدریس کی علمی و فنی موشگافیاں بھی ان کے لیے ہدف سے غافل کرنے کی بجائے اسی منزل کی جانب سفر میں مہمیز ثابت ہوئیں۔ اور بالآخر انہوں نے خود کو برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک و قوم کی آزادی کی جدوجہد کے لیے وقف کر دیا۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شیخ الاسلام مولاناحسین احمد مدنی﷫ ایک سیاسی مطالعہ‘‘ ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری کی تصنیف ہے۔ جس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی صاحب کی شخصیت وسیرت، مشاہدات وتاثرات، سیاسی افکار وخدمات، خطوط، مکتوبات اور تاریخی وسیاسی بیان و تقریرات کو بھی مدون کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ مصنف کی اس محنت کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ان کے میزان حسنات میں اضافہ فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

مولانا ابو الکلام آزاد ایک مطالعہ

Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

In Knowledge

By Al Noor Softs

مولانا ابو الکلام 11 نومبر 1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری 1958ء کو وفات پائی۔ مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا ۔ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے۔ مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا ابو الکلام آزاد ایک مطالعہ‘‘ کراچی میں رہائش پذیر معروف سوانح نگار و مصنف کتب کثیرہ مولانا ابو سلمان شاہجانپوری﷾ کی کاوش ہے جو کہ مختلف اصحاب و علم فضل کے مولانا آزاد کے متعلق تحریر کیے گئے مختلف مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ کتاب فاضل مرتب نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریب صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر مرتب کر کے شائع کی ۔موصوف نے مقالات کے اس مجموعہ کومولانا آزاد کی شخصیت اور زندگی کے علمی وعملی اہم پہلوؤں کی تقسیم کے آٹھ ابواب میں مرتب کیا ہے۔ ہرحصہ مولانا کی شخصیت کے ایک ایک پہلو اور اس کے خصائص کے تعارف پر مشتمل ہے۔ (م۔ا)

مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت

Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

مولانا ابو الکلام11نومبر1888ء کو پیدا ہوئے اور 22 فروری1958ءکو وفات پائی۔مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا۔آپ کے والد بزرگوارمحمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا۔ سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپن مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں گزرا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہرمصر چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ مولانا ایک نادر روزگار شخصیت تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان کی ذات میں ایسے اوصاف ومحاسن جمع کردیے تھےکہ انہوں نے زندگی کے ہر دائرہ میں بلند مقام حاصل کیا۔مولانا علم وفضل کے اعتبار سے ایک جامع اور ہمہ گیر شخصیت تھے ۔مولانا ابو الکلام آزاد کو قدرت نے فکر ونظر کی بے شمار دولتوں ، علم وفضل کی بے مثال نعمتوں اور بہت سے اخلاقی کمالات سے نوازا تھا۔ بر صغیر پاک وہند میں موصوف ایک ایسی شخصیت ہیں جن پر سب سے زیادہ لکھا گیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت‘‘ کراچی میں رہائش پذیر معروف سوانح نگار مولانا ابو سلمان شاہجانپوری﷾ کی تصنیف ہے جو انہوں نے مولانا ابو الکلام آزاد کی تقریب صد سالہ یوم پیدائش کے موقع پر مرتب کر کے شائع کی۔ موصوف نے اس کتاب میں مولانا آزاد کی صحافت کے بارے میں تاریخی اور ضروری معلومات جمع کی ہیں او رمولانا کے کارنامۂ صحافت کے تاریخی سفر کے تعارف اور تبصرے کےساتھ ان کے بعض رسائل کے اشاریے بھی شامل کیے ہیں۔ (م۔ا)

مکاتیب ابو الکلام آزاد جلد اول

Authors: ڈاکٹر ابو سلمان شاہجہان پوری

In Worship and matters

By Al Noor Softs

خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے یہ خطوط شائع ہوچکے ہیں اور اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط چھپے اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں زیر نظرکتاب ’’مکاتیب ابو الکلام آزاد‘‘ مولانا ابوالکلام آزا دکےخطوط کے مجموعے کی پہلی جلد ہے۔جسے ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہانپوری نے مرتب کیا ہے ۔ یہ مجموعہ مولانا ابو الکلام کے کےنادر اور نایاب ،منتشر ، غیر مطبوعہ خطوط پر مشتمل ہے۔ مکتوبات کے اس پہلے مجموعے کا دورانیہ 1900ء تا 1902ء پر محیط ہے ۔ اوریہ زمانہ حضرت مولانا کے علمی اور سیاسی کارناموں کا دورِ اول بھی ہے جس میں ان کی بلند فکری اپنی پوری آب وتاب سےنمایا ں ہوچکی تھی۔ مولانا ابو الکلام آزاد کے خطوط مختلف علوم کابیش بہا ذخیرہ ہیں ان خطوط سے قدم قدم پر ان کی وسعتِ مطالعہ او ر اس پر مبنی مختلف مسائل سے متعلق ا ن کی آزادنہ رائے کا اظہار ہوتاہے اور ان خطوط سے مولانا آزاد کی سوانح حیات کی تکمیل میں بہت مدد ملتی ہے خاص کر ان میں ان کی عادات اور خصائل جاننے کے لیے بہت مواد ہے (م۔ا)

برصغیر اور عرب مورخین

Authors: خورشید احمد فاروق

In History

By Al Noor Softs

ہندوستانی موضوعات پرلکھنے والے عہد وسطی کے عرب مصنفین ہندوؤں کو علم ودانش سے آراستہ قوم قرارد یتے ہیں۔ ان مصنفین نےہندو زندگی سے متعلق موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔عربوں نےقدیم ہندوستان کے بارے میں کیا اور کتنا لکھا یہ بتانا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ ان کی بہت سے اور بالخصوص معرکۃ الآراء کتابیں تنگ ذہن علماء کےتعصب ،بے اعتنائی ، باہمی مسلکی او رمذہبی نزاع اور دوسرے آسمانی حوادث کی نذر ہوگئی ہیں۔ مسلمانوں نےاپنے ابتدائی دور میں سندھ کو ایک نئی تہذیب او ر کلچر سے آشنا کیاتھا ۔ اس کی تفصیل مختلف مؤرخوں کے بیانات سے ملتی ہے۔ جناب خورشید احمد فاروق کی زیر کتاب ’’ برصغیر او رعرب مؤرخین‘‘ مختلف مؤرخوں کےایسے ہی بیانات کا مجموعہ ہے۔ نیزیہ کتا ب محمود غزنوی سے پہلے کے ہندوستان (نویں،دسویں صدی عیسوی) کے مذہب ، تمدن ، علوم ، تاریخ اور تجارت وغیرہ سے متعلق عرب مؤلفوں کے بیانات پر مشتمل ہے۔تاکہ اس سے وہ محققین مستفیض ہوسکیں جو یا تو عربی نہیں جانتے یا پھر جن کےلیے مختلف عربی ماخذات تک رسائی حاصل کرنا نہایت مشکل ہے ۔(م۔ا)

حضرت عمر ؓکے سرکاری خطوط

Authors: خورشید احمد فاروق

In Faith and belief

By Al Noor Softs

خطوط لکھنے اورانہیں محفوظ رکھنے کاسلسلہ بہت قدیم ہے قرآن مجید میں حضرت سلیمان ؑ کا ملکہ سبا کو لکھے گئے خط کا تذکرہ موجود ہے کہ خط ملنے پر ملکہ سبا حضرت سلیمان ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔خطوط نگاری کا اصل سلسلہ اسلامی دور سے شروع ہوتا ہے خود نبیﷺ نے اس سلسلے کا آغاز فرمایا کہ جب آپ نے مختلف بادشاہوں اور قبائل کے سرداروں کو خطوط ارسال فرمائے پھر اس کے بعد خلفائے راشدین﷢ اور اموی وعباسی خلفاء نے بھی بہت سے لوگوں کے نام خطوط لکھے جو مختلف کتب سیر میں موجود ہیں ان میں سے کچھ مکاتیب تو کتابی صورت میں بھی شائع ہوچکے ہیں ۔اہل علم اپنی تحریروں او رتقریروں میں ان کے حوالے دیتے ہیں ۔برصغیرکے مشاہیر اصحاب علم میں سے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، سید ندیر حسین محدث دہلوی، سیرسید ،مولانا ابو الکلام آزاد، علامہ اقبال ، مولانا غلام رسول مہر اور دیگر بے شمار حضرات کے خطوط کتابی صورت میں مطبوع ہیں اور نہایت دلچسپی سے پڑ ھےجاتے ہیں۔ابتدائے اسلام کے خطوط میں سے کسی ایک کے بارے میں یقین کے ساتھ یہ کنہا مشکل ہے کہ و ہ اپنی لفظی ومعنوی شکل میں ویسا ہی ہے کہ جیسا ان کو لکھا گیا تھا۔اس میں شک نہیں کہ یہ خطوط ہمارے پاس مکتوب ومدون شکل میں آئے ہیں لیکن قید تحریر میں آنے سے پہلے بہت عرصہ تک وہ سینہ بہ سینہ اور زبان بہ زبان نقل ہوتے رہے ۔سینہ بہ سینہ انتقال کے دوران بعض خطوط کے مضمون بڑھ گئے اور بعض کے گھٹ گے اور بعض کے بدل گئے ۔ زیر تبصرہ کتاب’’حضرت عمرفاروق ﷜ کے سرکاری خطوط‘‘ ڈاکٹر خورشید احمد فاروق کی مرتب شدہ ہے اس میں خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروق﷜کے 454 خطوط ہیں۔ فاضل مصنف نے ان خطوط کو مختلف کتب سیر وتاریخ سے تلاش کر کے اس میں بحوالہ جمع کیا ہے ۔ سیدنا عمر کے ان خطوط کی ثقاہت جاننے کے لیے فاضل مصنف کا تمہیدی مقدمہ پڑھنا ضروری ہے ۔ جو کتاب کے صفحہ نمبر 42 سے شروع ہوتا ہے ۔ ۔نیٹ پر ان کو محفوظ کرنے کی خاطر سائٹ پر پبلش کیا گیا ہے ۔ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن 1959ء میں شائع ہوا تھا۔موجودہ ایڈیشن اس کتاب کا تیسرا ایڈیشن ہے۔اس ایڈیشن میں خطوط اور ان کے مقدموں پر نظر ثانی کی ہے اور ان کو ادبی وتحقیقی اور معنوی اعتبار سے پہلے سے زیادہ بہتر بنانے کی کوشش کی ہے اور کچھ مزید خطوط اورسیدنا عمر فاروق﷜ کے تعارف کا اضافہ کیا گیا ہے ۔(م۔ا)