eBooks
٢٬٨٤١ Results Found
تاریخ مرکزی دار العلوم (جامعہ سلفیہ بنارس)
Authors: محفوظ الرحمن فیضی
In Knowledge
دینی مدارس کے طلباء، اساتذہ ،علمائے کرام، مشائخ عظام اصحاب صفہ او رعلوم نبویﷺ کے وارث اور امین ہیں ۔ یہی مدارس دینِ اسلام کے وہ قلعے ہیں جہاں سے قال اللہ قال الرسول ﷺکی پاکیزہ صدائیں دن رات گونجتی ہیں۔ روزِ اول سے دینِ اسلام کا تعلق تعلیم وتعلم اور درس وتدریس سے رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ پر سب سے پہلے جو وحی نازل ہوئی وہ تعلیم سے متعلق تھی۔ اس وحی کے ساتھ ہی رسول اللہﷺ نے ایک صحابی ارقم بن ابی ارقم کے گھر میں دار ارقم کے نام سے ایک مخفی مدرسہ قائم کیا۔ صبح و شام کے اوقات میں صحابہ کرام وہاں مخفی انداز میں آتے اور قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرتے تھے یہ اسلام کی سب سے پہلی درس گاہ تھی۔ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں جب اسلامی ریاست کاقیام عمل میں آیا تو وہاں سب سے پہلے آپﷺ نے مسجد تعمیر کی جو مسجد نبوی کے نام سے موسوم ہے۔ اس کے ایک جانب آپ نے ایک چبوترا(صفہ) بھی تعمیر کرایا۔ یہاں بیٹھ کر آپﷺ مقامی و بیرونی صحابہ کرام کو قرآن مجید اور دین کی تعلیم دیتے تھے۔ یہ اسلام کاپہلا باقاعدہ اقامتی مدرسہ تھا جو تاریخ میں اصحاب صفہ کے نام سے معروف ہے۔ یہاں سے مسجد اور مدرسہ کا ایسا تلازمہ قائم ہواکہ پھر جہاں جہاں مسجد یں قائم ہوتی گئیں وہاں ساتھ ہی مدرسے بھی قائم ہوتے گئے۔ اسلامی تاریخ ایسے مدارس اور حلقات ِحدیث سے بھری پڑی ہے کہ غلبۂ اسلام، ترویج دین اور تعلیمات اسلامیہ کو عام کرنے میں جن کی خدمات نے نمایاں کردار ادا کیا۔ برصغیر پاک وہند میں بھی اسلام کی ترویج اور تبلیغ کے سلسلے میں مدارس دینیہ اور مَسندوں کی خدمات روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں کہ جہاں سے وہ شخصیا ت پیدا ہوئیں جنہوں نے معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور یہ شخصیات عوام الناس کے لیے منارہ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پاک ہند میں سلفی فکر ومنہج کے حامل مدارس کی اشاعت دین، دعوت وتبلیغ، تصنیف وتالیف، شروح حدیث، درس وتدریس، دینی صحافت میں بڑی نمایاں خدمات ہیں اوران کے اثرات پورے عالم اسلام میں موجود ہیں۔ ان سلفی مدارس میں مسند سید نذیر حسین دہلوی دارالحدیث رحمانیہ، دہلی، جامعہ سلفیہ، بنارس، جامعۃ امام ابن تیمیہ، بہار ہند،جامعہ سلفیہ ،فیصل آباد، جامعہ محمدیہ، گوجرانوالہ، مدرسہ رحمانیہ ؍جامعہ لاہور الاسلامیہ، لاہور،جامعہ اہل حدیث، لاہور، جامعہ ستاریہ اسلامیہ، جامعہ ابی بکر ،کراچی قابل ذکر ہیں۔ ان مدارس کے فاضلین وفیض یافتگان کا شمار عالم اسلام کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تاریخ مرکز دار العلوم ‘‘ جامعہ سلفیہ بنارس کے قیام، احوال خدمات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کو شیخ محفوظ الرحمٰن فیضی﷾ نے مرتب کیا ہے ۔یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصہ میں آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس کی مرکزی دار العلوم کے قیام کی تجویز اورتعمیر کے معلومات درج ہیں۔ دوسرے حصہ 1963ء میں مرکزی دارالعلوم کے سنگ بنیاد وتاسیس کی پر مسرت کی مختصر روداد اور تیسرا حصہ مارچ 1066ءمیں مرکزی دار العلوم کے تعلیمی افتتاح کی پروقار تقریب کی مختصر تفصیل پر مشتمل ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کی ان درس گاہوں کوقائم دائم رکھے۔ (آمین)
تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہئیت و کیفیت
Authors: محفوظ الرحمن فیضی
In Knowledge
نماز دین اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے کلمہ توحید کے بعد ایک اہم ترین رکن ہے۔اس کی فرضیت قرآن و سنت اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ یہ شب معراج کے موقع پر فرض کی گئی ،اور امت کو اس تحفہ خداوندی سے نوازا گیا۔اس کو دن اور رات میں پانچ وقت پابندی کے ساتھ باجماعت ادا کرنا ہر مسلمان پر فرض اور واجب ہے۔نماز دین کا ستون ہے۔ نماز جنت کی کنجی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔ نماز نبی کریمﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ نماز قرب الٰہی کا بہترین ذریعہ ہے۔ نماز اﷲ تعالیٰ کی رضا کاباعث ہے۔ نماز جنت کا راستہ ہے۔ نماز پریشانیوں اور بیماریوں سے نجات کا ذریعہ ہے۔ نماز بے حیائی سے روکتی ہے۔ نماز برے کاموں سے روکتی ہے۔ نماز مومن اور کافر میں فرق کرتی ہے۔ نماز بندے کو اﷲ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رکھتی ہے۔لیکن اللہ کے ہاں وہ نماز قابل قبول ہے جو نبی کریم ﷺ کے معروف طریقے کے مطابق پڑھی جائے۔آپ نے فرمایا:تم ایسے نماز پڑھو جس مجھے پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو۔ زیر نظر کتاب" تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت " انڈیا سے تعلق رکھنے والے عالم دین مولانا محفوظ الرحمن فیضی شیخ الجامعہ جامعہ اسلامیہ فیض آبادکی تصنیف ہے ،جس میں انہوں نے احادیث مبارکہ کی روشنی میں تشہد میں انگشت شہادت سے اشارہ اور اس کی ہیئت وکیفیت کو بیان کیا ہے ،تاکہ تما م مسلمان اپنی نماز یں نبی کریم ﷺ کے طریقے کے مطابق پڑھ سکیں۔اللہ تعالی مولف کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین۔(راسخ)
قرآن اور بائبل کے دیس میں حصہ اول
Authors: محمد مبشر نذیر
اردو ادب میں سفرناموں کو ایک مخصوص صنف کا درجہ حاصل ہوگیا ہے۔ یہ سفرنامے دنیا کے تمام ممالک کااحاطہ کرتے ہیں۔اِن کی طرزِ نوشت بھی دوسری تحریروں سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ سفرنامے کچھ تاثراتی ہیں تو کچھ معلوماتی۔ کچھ میں تاریخی معلومات پر زور دیا گیا ہے تو کچھ ان ملکوں کی تہذیب و ثقافت کو نمایاں کرتے ہیں جہاں کا انسان سفر کرتاہے۔ سفرمیں انسان دوسرے علاقوں کےرہنے والے انسانوں سے بھی ملتا جلتا ہے۔ ان کےرسم ورواج ، قوانین رہن سہن، لائف اسٹائل اور لین دین کے طریقوں سے واقفیت حاصل کرتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعہ سے قدیم دور کے انسان کی زندگی کے انہی پہلوؤں سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔ اور اس میں سیکھنے کے بہت سے پہلو ہوتے ہیں جو انسان کی اپنی عملی زندگی میں کام آتے ہیں۔ جزیرۃالعرب کے سفرنامے زیادہ تر حج و عمرہ کے حوالے سے منظر عام پر آئے ہیں، ان میں بھی بعض کیفیاتی طرز کے ہیں، جب کہ بعض میں علمی اور ادبی پہلو نمایاں ہے۔تاریخی پہلو سے جزیرۃالعرب کے سفرناموں کا جائزہ لیا جائے تو ان میں تین سفرنامے خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان میں سے اہم سفرنامہ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا ’’سفرنامہ ارض القرآن‘‘ ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’قرآن اور بائبل کے دیس میں‘‘ کتاب ہذا کے مصنف جناب مبشر نذیر صاحب کے ان اسفار کی روداد ہے، جو انہوں نے 2006-07 میں سعودی عرب میں دورانِ قیام دنیائے عرب کے مختلف حصوں کی طرف کیے۔ اس کتاب میں ان مبارک جگہوں کاذکر ہے جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی بسر فرمائی۔ نیز مصنف نے ان مقامات کا بھی ذکر کیا ہے جن کاذکر قرآن مجید اور بائبل میں کیا گیا ہے۔ مصنف نے ان مقامات سے متعلق قرآنی آیات، احادیث، اور بائبل کی آیات کےحوالے بھی ساتھ فراہم کردئیے ہیں ۔مزید براں ان مقامات کےسیٹلائٹ نقشے بھی پیش کردئیے ہیں ۔ تاکہ بعد میں مقامات کی سیاحت کرنے والے آسانی سے ان مقامات کوتلاش کرسکیں۔ مبشر نذیر صاحب کادو حصوں پر مشتمل یہ سفرنامہ علومِ قرآنی کے شائقین اور محققین کے لیے ایک گنجینہ علم ہے۔ اس میں سرزمینِ انبیائے کرام کی تفصیل، اقوامِ قدیمہ کی سرگزشت اور ان کے مساکن کے آثار وغیرہ کا تعارف کرایا گیا ہے۔(م۔ا)
قرآنی عربی پروگرام جلد اول
Authors: محمد مبشر نذیر
عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔ زیر تبصرہ کتاب " قرآنی عربی پروگرام "محترم محمد مبشر نذیر صاحب کی دس جلدوں پر مشتمل ایک شاندار تصنیف ہے ،جو اپنے موضوع پر انتہائی مفید اور فروغ لغت عربیہ کے پیش نظر لکھی گئی ہے۔مولف موصوف نے اس میں عربی زبان سیکھنے کے حوالے سے مختلف لیول مقرر کئے ہیں ،پہلے لیول میں بنیادی عربی زبان،دوسرے ،تیسرے اور چوتھے لیول میں متوسط عربی زبان اور پانچویں لیول میں اعلی عربی زبان سکھانے کی ایک منفرد اور شاندار کوشش فرمائی ہے،اور پھر ہر لیول میں ایک ایک کتاب سوالات اور مشقوں پر مشتمل ہے جبکہ دوسری کتاب میں اس کے جوابات دئیے گئے ہیں تاکہ عربی سیکھنے کے شائق حضرات بعد غلطیوں کی تصحیح بھی کر سکیں۔اللہ تعالی مولف ،مترجم اور ناشر سب کو اس عظیم الشان کی طباعت پر اجر عطا فرمائے۔آمین(راسخ)
اسلامی ریاست اور غیرمسلم شہری
Authors: حافظ محمد سعد اللہ
In Knowledge
اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین اسلام دینِ امن وسلامتی ہے اور یہ معاشرے میں رہنے والے تمام افراد کو ،خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب اور رنگ و نسل سے ہو ، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت عطا کرتا ہے ۔ ایک اسلامی ریاست میں آباد غیر مسلم اقلیتوں کی عزت اور جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں پر بالعموم اور اسلامی ریاست پر بالخصوص فرض ہے ۔ غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ جس انداز میں عہد رسالت مآب ﷺاور عہد خلفاے راشدین میں کیا گیا اس کی نظیر پوری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی. حضور ﷺنے اپنے مواثیق، معاہدات اور فرامین کے ذریعے اس تحفظ کو آئینی اور قانونی حیثیت عطا فرما دی تھی۔جس کی تفصیلات کتب تاریخ وسیر اورکتب فقہ میں موجود ہے ۔ زیر نظرکتاب ’’اسلامی ریاست اور غیرمسلم شہری ‘‘ ڈاکٹر حافظ محمد سعد اللہ(ایڈیٹر شبعہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ پنجاب یونیورسٹی ،لاہور ) کے جامعہ پنجاب میں ڈاکٹریٹ کے لیے پیش کے گئے تحقیقی مقالہ کی کتابی صورت ہے فاضل مصنف نے پورے دلائل اور تاریخی شہادتوں اور تقابلی مطالعہ سے اسلامی ریاست میں غیر مسلم رعایا کے تمام بینادی حقوق کے بارے میں اسلام کی فراخدلانہ اور منفرد تعلیمات کو یکجا کر کے پیش کیا ہے۔اور اسلام کے عالمی غالبہ کے زمانے میں بعض اوقات اسلامی حکومتوں کی طرف سے غیر مسلم رعایا پر لباس کی ہیئت اور سواری وغیرہ کے معاملے میں جو پاپندیاں لگائی جاتی رہیں صاحب کتاب نے ان کی حقیقت پرروشنی ڈالتے ہوئے تمام شکوک وشبہات کا ازالہ کیا ہے ۔ علاوہ ازیں غیرمسلموں کے حقوق کے حوالے سے مستشرقین کی طرف سے عاید کیے گئے اہم اعتراضات کا مفصل اور مدلل جواب دینے کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیاتی جائزہ بھی لیا ہے ۔یہ کتاب غیر مسلموں کےحقوق کے حوالے سے اسلامی تعلیمات کی بہت اچھی تحقیقی دستاویز ہے جس کی بنیاد اصلی فقہی مآخذ اور بطور خاص برصغیر پاک وہند کے ہم عصر علماء کے جدید افکار ونظریات پررکھی گئی ہے اللہ تعالیٰ صاحب کتاب کی اس اہم تحقیقی کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازے ۔(آمین)(م۔ا)
غریبوں کا والی ﷺ
Authors: حافظ محمد سعد اللہ
سیرۃ النبیﷺ ایک وسیع وعریض موضوع ہے جس پر گذشتہ چودہ صدیوں سے مسلمان تو مسلمان غیر مسلم بھی سیرت رسولﷺ پر بہت کچھ تحریر کرتے چلے آ رہے ہیں لیکن ابھی تک اس ایک ذات کی صفات کا تذکرہ تکمیل پذیر نہیں ہو سکا اور ہو بھی کیسے ’’ورفعنا لک ذکرک‘‘ کا اعلان تو قیامت تک کے لیے ہے جس کا ظہور یہ ہے کہ ہر زمانے میں آپﷺ کی سیرۃ پاک کے مختلف گوشوں پر مختلف انداز میں آپ کے شیدائی اور نقظہ چین قلم اُٹھاتے رہتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا۔ان شاء اللہ۔ زیرِ تبصرہ کتاب بھی اس سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اس میں نبیﷺ کی حیات مقدسہ کے ایسے واقعات جمع کیے گئے ہیں جن میں آپﷺ کی غریبوں اور بے کسوں سے محبت‘ ان کے لیے ہمدردی اور ان کی کارسازی کے لیے آپﷺ کی بے قرار کا تذکرہ ہے۔آپﷺ نے معاشرے کے گرے پڑے لوگوں کو جس طرح دیگر سوسائٹی کے برابر کرنے پر زور دیا ہے اور اس مسئلہ میں جو تعلیمات اپنی امت کو دی ہیں ان کا اطلاق آپﷺ نے خود کیسے کیا ان سب باتوں کوبیان کیا گیا ہے۔اس کتاب میں چار ابواب قائم کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب’’ غریبوں کا والی ‘‘ حافظ محمد سعد اللہ کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات کا ذخیرہ بنا دے اور اس کا نفع عام فرما دے۔(آمین)( ح۔م۔ا )
حب رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ
Authors: حافظ محمد سعد اللہ
حبِ رسول ﷺ اہل ایمان کے لیے ایک روح افزاءباب کی حیثیت رکھتا ہے۔ حبِ رسول ﷺ کے بروئے شریعت کچھ تقاضے ہیں۔ خود نبی ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھے اپنی جان، مال، اولاد، ماں باپ غرض جمیع انسانیت سے بڑھ کر محبوب نہ سمجھے‘‘۔ محبت رسول ﷺ کا مظہر اطاعتِ رسول ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کےبغیر مومن ہونے کا دعویٰ منافقت کی بیّن دلیل ہے اور حب رسول ﷺ ہی وہ پیمانہ ہےجس سے کسی مسلمان کے ایمان کوماپا جاسکتا ہے۔ دعوائے محبت ہو اوراطاعت مفقود ہو تو دعویٰ کی سچائی پر حرف آتاہے۔ حب رسولﷺ کےتقاضوں میں سے ایک تقاضا تو نبی ﷺ کا ادب و احترام کرنا، آپ سے محبت رکھنا ہے۔ ۔پیغمبر اعظم وآخر الزمان ﷺ کا یہ اعجاز بھی منفرد ہے ہک آپ کے جان نثاروں کی زندگیاں جہاں محبتِ رسول کی شاہکار ہیں وہاں ہر ایک کی زندگی سنت رسولﷺ کی آئینہ دار ہے۔ ان نفوس قدسہ نے دونوں جہتوں میں راہنمائی کا عظیم الشان معیار قائم فرمایا ہے۔ زیر نظر کتاب’’ حب رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام َ‘‘ مجلہ منہاج (دیال سنگھ لائبریری ،لاہور) کےایڈیٹر جناب حافظ سعد اللہ صاحب کی کاوش ہے جوکہ پانچ ابواب پر مشتمل ہے ۔یہ کتاب صحابہ کرام کی پاکیزہ زندگیوں کی ان دو اہم خصوصیات کی جامع ہے ۔ مصوف نے کتب حدیث وسیر سے ایسے واقعات محبتِ رسولﷺ اور اطاعت رسول ﷺ کے ایسے نقوش جمع کر نے کی سعادت حاصل کہ سعید روحیں ان کامطالعہ کرتے وقت جھوم اٹھتی ہیں۔موصوف نے اس کتاب کو مستند مآخذ ومراجع کی مدد سے تالیف کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف موصوف کی اس کاوش کوقبول فرمائے اور ہمیں صحابہ کی طرح نبی کریمﷺ سے محبت اورآپ کی اطاعت کرنے کی توفیق دے (آمین)(م۔ا)
نفاذ شریعت میں تدریج
Authors: حافظ محمد سعد اللہ
کسی بھی نظام کو نافذ کرنے کے دو ہی طریقے ہیں۔انقلابی یا ارتقائی۔اگر کسی نظام کو انقلابی طریقوں سے نافذ کیا جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے اثرات کا ظہور فورا قبول کر لیا جاتا ہے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ معاشرے نے اس نظام کو پوری طرح قبول کر لیا ہے۔حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ہے ، کیونکہ ہر وہ نظام جو معاشرے پر زبر دستی ٹھونسا جائے ، اس کے مخالفانہ جذبات وقتی طور پر دبے رہتے ہیں اور جوں ہی کوئی موقع ملتا ہے وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نمودار ہو جاتے ہیں۔اس کے برعکس ارتقائی طریقہ ذرا سست رفتار ہوتا ہے ، اس کے اثرات کا ظہور فوری طور پر نہیں ہوتا ہے۔لیکن اس طریقے میں نظام کی اقدار معاشرے کے باطن میں رس رس کر پیوست ہو جاتی ہیں، اور انسانی ضمیر کی تہہ میں بیٹھ جاتی ہیں پھر انہیں نکالنا کسی طرح بھی ممکن نہیں رہتا ہے۔نظام اسلام کا طریقہ ابتدائے اسلام میں ارتقائی ہی رہا اور یہ بہت مفید اور موثر ثابت ہوا۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ شدید خواہش رکھتے تھے کہ تمام لوگ اسلام قبول کر لیں ، لیکن آپ ﷺ نے کسی پر جبر نہیں کیا اورقرآن مجید نے تو صریح الفاظ کے ساتھ یہ اعلان کر دیا کہ"دین کو قبول کرنے کے سلسلے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ "زیر تبصرہ کتاب " نفاذ شریعت میں تدریج "محترم حافظ سعد اللہ صاحب ریسرچ اسسٹنٹ مرکز تحقیق دیال سنگھ لائبریری ٹرسٹ کی کاوش ہے ، جس میں انہوں نےنفاذ اسلام کے حوالے سے اسلام کےاسی تدریجی طرز عمل پر اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی راہیں ہموار کرے اور ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے سرفراز فرمائے۔آمین(راسخ)
رشوت ایک لعنت
Authors: حافظ محمد سعد اللہ
اسلام نے ہر اس ذریعہ اکتساب کو منع اور حرام قرار دیا ہے جس میں کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ کمایاجائے۔انہی حرام ذرائع میں سے ایک نہایت قبیح ذریعہ اکتساب رشوت ہے، جو شریعت کی نظر میں انتہائی جرم ہے اور یہ جرم آج ہمارے معاشرے میں ناسور کی مانند پھیل چکا ہے، جس کا سد باب مسلمان معاشرے کے لئے ضروری ہے۔رشوت انسانی سوسائٹی کا وہ بد ترین مہلک مرض ہے جو سماج کی رگوں میں زہریلے خون کی طرح سرایت کر کے پورے نظام انسانیت کو کھوکلا اور تباہ کر دیتا ہے ۔ رشوت ظالم کو پناہ دیتی ہے ۔ اور مظلوم کو جبراً ظلم برداشت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔ رشوت کے ہی ذریعے گواہ ، وکیل اور حاکم سب حق کو ناحق اور ناحق کو حق ثابت کرتے ہیں ۔ رشوت قومی امانت میں سب سے بڑی خیانت ہے ۔اسلامی شریعت دنیا میں عدل و انصاف اور حق و رحمت کی داعی ہے ۔ اسلام نے روزِ اول سے ہی انسانی سماج کی اس مہلک بیماری کی جڑوں اور اس کے اندرونی اسباب پرسخت پابندی عائد کی ۔ اور اس کے انسداد کے لیے انتہائی مفید تدابیر اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جن کی وجہ سے دنیا ان مہلک امراض سے نجات پا جائے ۔ زیرتبصرہ کتابچہ ’’رشوت ایک لعنت‘‘ حافظ محمدسعد اللہ ﷾ (سابق ریسرچ سکالر مرکز تحقیق دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری) کی کاوش ہے جس میں انہوں نے بڑی محنت اور کاوش سے رشوت اور اس سے پیدا ہونے والی برائیوں کا مختصرا تذکرہ کرنے کےعلاوہ ان تدابیر کوبھی بیان کیا ہے جن پر عمل پیرا ہونے سے بڑی حدتک اس برائی کا انسداد ہوسکتاہے ۔اللہ تعالیٰ مصنف کی اس کاوش کو قوم وملک کے لیے نافع ومفید بنائے (آمین) (م۔ا)